اسلام آباد، نئی دہلی (نیٹ نیوز) مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو جس نے پاکستان کو غیرمستحکم اور بالخصوص بلوچستان میں شرپسندوں کو فنڈز کی فراہمی سمیت دیگر تخریبی سرگرمیوں کا اعتراف کرلیا تھا، پاکستان کی جانب سے اسے سزائے موت دیئے جانے کے فیصلے کو منصفانہ اور قانون کے مطابق قرار دیئے جانے کے مو¿قف کو بین الاقوامی سطح پر اُجاگر کرنے کے لیے گزشتہ روز وزارت خارجہ میں اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ اُمور سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی، سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سمیت دیگر اداروں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں کلبھوشن یادیو کو سزائے موت دیئے جانے کے حوالے سے ردّعمل کے بارے میں حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے اہم سفارتخانوں کو اس سلسلے میں ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت سے سزائے موت کے فیصلہ کے بعد سندھ اور حساس علاقوں کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے ہائی الرٹ کردیا گیا۔ حساس اداروں کے مطابق اس کے بعد ری ایکشن کے طور پر مخصوص علاقوں میں دہشت گردی، تخریب کاری کی وارداتیں ہوسکتی ہیں جس پر وفاقی حکومت نے ریلوے لائنوں، بلوچستان، سندھ اور فاٹا کے علاقوں میں ہائی الرٹ کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو بھارتی حکام کی جانب سے کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے بعد سخت بیانات سامنے آرہے ہیں جس پر احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ بھارت کی جانب سے (آج منگل) کے روز 12 پاکستانی ماہی گیروں کو چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ بھارتی وزارت داخلہ نے سزائے موت کے فیصلے کے بعد ان کی رہائی روک دی ہے جبکہ سزا پوری کرنے والے پاکستانی قیدیوں کو ھی رہا کرنے سے انکار کردیا ہے۔ مودی سرکار کے اہم رہنما آپے سے باہر ہوگئے اور پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کردیا گیا ہے۔ سابق بھارتی فوجی افسران کی جانب سے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کلبھوشن کی پھانسی کا بدلہ لینے کیلئے پاکستان پر سرجیکل سٹرائیکس کی جائیں۔کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کی خبرہندوستانی میڈیا نے بریکنگ نیوز کے طور پر جاری کی ،مختلف ٹی و ی چینلز اور سیاسی جماعتوں نے واویلا مچانا شروع کر دیا ۔بھارتی میڈیا اپنے جاسوس کے حق میں سامنے آگیا اور اسے بچانے کیلئے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپگینڈے شروع کردیئے ۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے پاس ابھی اپیل کی گنجائش ہے،اس کی پھانسی میں ابھی دو سے تین ماہ کا وقت ہے،فیصلے کے خلاف 7روز میں اپیل کی جا سکتی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کے پاکستان کی ثا لمیت کے خلاف جرائم ثابت ہوگئے ہیں،پاکستان کی سا لمیت کے خلاف کام سے بڑا جرم اورکیا ہوسکتاہے۔بھارت کا رد عمل فطری ہے ،اس کو دیکھ کر کچھ کہنا ہوگا،یہ معاملہ اگر یک طرفہ ہوتا تو کب کا ختم ہوگیا ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ آئین پاکستان کے تحت قائم ہونے والی فوجی عدالتوں نے انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت دے کر بین الاقوامی اہمیت حاصل کرلی ہے۔ فوجی عدالتوں نے القاعدہ، داعش اور طالبان کے بعد پہلی بار انڈین آرمی آفیسر کو ٹرائل کے بعد سزا سنادی ہے۔ فوجی عدالتوں میں کلبھوشن یادیو کو سزا دینے سے قبل وکلاءکی سہولت بھی دی گئی۔ ملزم نے ضابطہ فوجداری کے قاعدہ کے تحت مجسٹریٹ کے وبرو پاکستان میں فتنہ و فساد پھیلانے، انڈیا کی طرف سے پاکستان کو کمزور کرنے، ایران و افغانستان کے راستہ دہشت گرد داخل کرانے اور بلوچستان میں بعض گروپوں کی فنڈنگ کے ذریعے فورسز پر حملے کرانے کا اعتراف کرلیا۔ وکلاءکے ذریعے ملزم بطور آرمی آفیسر رعایت حاصل ہونے اور مقدمہ قابل سماعت نہ ہونے کے دلائل دیتا رہا۔ فوجی عدالتوں سے سزا کے بعد اب عملدرآمد کی گیند حکومت کے کورٹ میں آ جائے گی۔ ملزم نے اپنا نام حسین مبارک پاٹیل رکھ لیا تھا۔ ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اس نے پاکستان آنے سے قبل اسلام کا بھی گہرائی سے مطالعہ کیا تھا۔ اسے پاکستان کے تمام اہم فقہوں کا تمام علم حاصل تھا جس کے بعداس نے پاکستان میں ایسے عناصر کی سرپرستی کی جو فرقہ وارانہ فسادات برپا کراسکتے تھے۔ ملزم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس کے بلوچ لبریشن آرمی کے علاوہ کئی دیگر افراد سے رابطے تھے۔ دوران سماعت ملزم نے خود مجسٹریٹ کے سامنے اپنے مکروہ اور خوفناک جرائم کا اعتراف کرلیا تاہم ملزم نے اپنی لیگل ٹیم کے ذریعے دلائل دیئے کہ چونکہ وہ انڈین نیول آفیسر ہے اس لیے اسے ٹرائل سے استثناءحاصل ہے جبکہ فوجی آفیسر ہونے کے حوالے سے اسے مراعات دیئے جانے کا بھی حق حاصل ہے۔ ایک سال تک فوجی عدالت میں جاری رہنے والے اس ٹرائل کے بعد بالآخر فوجی عدالت نے ملزم کو گزشتہ روز سزائے موت سنادی ہے۔ ذرائع کے مطابق 2003ءمیں 14سالہ سروس کے بعد کلبھوشن باقاعدہ طور پر بھارتی جاسوس ایجنسی ”را“ میںشامل کر لیا گیا جہاں اسے ایران کے علاقہ چاہ بہار میں ایک فرضی کاروبار کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ اس دوران پاکستان میں انتشار اور دہشتگردانہ کارروائیوں کیلئے ایک مضبوط نیٹ ورک بنایا جس میں بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر نے والے علیحدگی پسند اور کراچی سے تعلق رکھنے والے قوم پرست افراد سے تعلقات بنائے جن کے ذریعے اس نے بلوچستان اور کراچی میں بہت سی دہشتگردی کی وارداتیں سرانجام دیں ۔ کلبھوشن یادیو نے خود پاکستانی حکام کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کے حوالے سے بھارت سے ”را“کے افسران کی جانب سے ہدایات ملتی تھیں اور وہ ہی اس بارے میں فنڈنگ بھی مہیا کرتے تھے جبکہ اس نے 2003ءاور 2004ءمیں کراچی میں دہشتگردانہ کارروائیاں کروانے کا بھی از خود اعتراف کیا تاکہ کراچی کے امن کو سبوتاژ کیا جاسکے اور اس بار ے میں اپنی سرگرمیوں کا تفصیلی حال بھی اس نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ اس کا اصل ہدف پاکستانی بندر گاہ گوادر ،پسنی جیوانی اور دیگر حساس تنصیبات کی معلومات بھارتی ایجنسی تک پہنچانا تھا اور ان کارروائیوں کا مقصدعلیحدگی پسندافراد کے اذہان کو مجرمانہ سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا تھا تاکہ پاکستان میں بے امنی پھیلائی جاسکے۔بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کا اعلان ہوتے ہی سوشل میڈیا پر طوفان آگیا۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے فیصلے کو سراہتے ہوئے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ ٹویٹس نے دلچسپ صورتحال پیدا کردی ہے۔ٹویٹر پر چند افراد نے کلبھوشن کی سزائے موت فیصلے کی مخالفت کی تو صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیاٹویٹر صارفین نے کلبھوشن کی پھانسی براہ راست نشر کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔ ایک ٹویٹر صارف کا کہنا ہے کہ ”کلبھوشن کی پھانسی براہ راست نشر ہونی چاہیے تاکہ ہمارے دشمنوں کو یہ پتہ چل جائے کہ جاسوسی کا انجام کیاہوتا ہے۔ایک اور صارف نے نہایت دلچسپ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”بھائی کہا بھی ہے، بالی وڈ کی فلم سمجھ کر مت آیا کرو پاکستان میں۔“جبکہ ایک ٹویٹر صارف نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ”بھارت! کل بھوشن یادیو کی سزائے موت کی صورت میں ملنے والا پیغام بہت واضح اور صاف ہے کہ یہ 1971ءنہیں۔“ ایک نجی ٹی وی کے مطابق کل بھوشن یادیو بھارت کا پہلا جاسوس نہیں جو پاکستان سے پکڑا گیا، اس سے پہلے سربجیت سنگھ 1981ءمیں پاکستان میں گھسا لیکن پکڑا گیا۔بدنامی سے بچنے کیلئے بھارت حکومت نے سربجیت سنگھ سے لاتعلقی ظاہر کر دی، سرجیت سنگھ نے بھارتی قومی ٹی وی پر اعتراف کیا کہ وہ ”را“ کا ایجنٹ تھا۔بھارتی جاسوس کشمیر سنگھ35 برس پاکستان میں قید رہنے کے بعد 2008ءمیں بھارت واپس پہنچا، دوران قید تو اس نے سچ اگل دیا، نعرہ لگا کر بتایا کہ وہ بھارتی جاسوس تھا۔ 1975ءمیں ”را“ میں شمولیت اختیار کرنے والے روندرا کوشک کو بھی بارڈر پار جاسوسی کیلئے بھیجا گیا، اس خطر ناک جاسوس نے کراچی میں گریجویشن کی، اردوسیکھی اور پھر پاکستان آرمی میں بھی شامل ہوگیا، 1983ءمیں راز فاش ہونے پر روندرا کو گرفتار کر لیا گیا، جو 16سال جیل میں رہا۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ کل بھوشن کی پھانسی کا فیصلہ قانون کے عین مطابق ہوا ہے۔سینٹ کے اجلاس میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ کل بھوشن کی پھانسی پر عمل درآمد کب ہو گا اور اس پر بھارتی رد عمل کیا ہو گا اس بارے میں بھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
کلبھوشن پھانسی






































