لاہور (وقائع نگار) پاکستان کے علاقہ چمن سے گرفتار ہونے والا بھارتی بحریہ کا جاسوس افسر کلبھوشن یادیو نے 1987ءمیں انڈین نیوی کی انجینئرنگ برانچ سے کمیشن حاصل کیاجس کے بعد 2001ءتک وہ بھارتی بحریہ میں باقاعدہ طور پر کام کرتا رہا ۔بھارتی شہر ممبئی کے رہائشی کا پہلا مشن اپنے ہی ملک میں ہونے والے پارلیمنٹ حملے کے بعد اس حوالے سے معلومات اکھٹی کرنا تھا جبکہ 2003ءمیں 14سالہ سروس کے بعد اسے باقاعدہ طور پر بھارتی جاسوس ایجنسی “را”میںشامل کر لیا گیا جہاں اسے ایران کے علاقہ چاہ بہار میں ایک فرضی کاروبار کرنے کا ٹاسک دیا گیا جسے بعد یہ مختلف اوقات میں پاک ایران سرحدی علاقوں اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے ذریعے مختلف کاروائیوں میں ملوث رہا ۔اس دوران پاکستان میں انتشار اور دہشتگردانہ کاروائیوں کیلئے ایک مضبوط نیٹ ورک بنایا جس میں بلوچستان میں دہشتگردی کی کاروائیاں کر نے والے علحدگی پسند اور کراچی سے تعلق رکھنے والے قوم پرست افراد سے تعلقات بنائے جن کے ذریعے اس نے بلوچستان اور کراچی میں بہت سی دہشتگردی کی وارداتیں سرانجام دیں ۔ کلبھوشن یادیو نے خود پاکستانی حکام کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسے پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں کے حوالے سے بھارت سے “را”کے افسران کی جانب سے ہدایات ملتی تھیں اور وہ ہی اس بارے میں فنڈنگ بھی مہیا کرتے تھے ۔ اس نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اب بھی انڈین نیوی کا حاضر سروس افسر ہے اور اسکی ریٹائر منٹ 2022ءمیں ہونی ہے جبکہ اس نے 2003اور 2004ءمیں کراچی میں دہشتگردانہ کاروائیاں کروانے کا بھی از خود اعتراف کیا تاکہ کراچی کے امن کو سبوتاژ کیا جاسکے اور اس بار ے میں اپنی سرگرمیوں کا تفصیلی حال بھی اس نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ اس کا اصل حدف پاکستانی بندر گاہ گوادر ،پسنی جیوانی اور دیگر حساس تنصیبات کی معلومات بھارتی ایجنسی تک پہنچانا تھا اور ان کاروائیوں کا مقصدعلیحدگی پسندافراد کے اذہان کو مجرمانہ سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا تھا تاکہ پاکستان میں بے امنی پھیلائی جاسکے ۔میں اپنی کاروائیوں کیلئے سراوان بارڈر کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوتا رہا ہوں اور اسی طرح کی ایک کاروائی کیلئے بلوچستان میں داخل ہوتے ہوئے 3مارچ 2016ءکو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروںنے گرفتار کیا ۔ اس بار بھی میرا مقصد علیحدگی پسندوں سے ملاقاتیں کرنا تھا جو کہ ایک طویل عرصے سے ہمارے رابطے میں تھے۔






































