اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کا فیصلہ درست ہے مکمل حمایت کرتے ہیں، میرے دوستوں کے اغواءمیں وفاقی حکومت کا ہاتھ ہے، چوہدری نثار بے بس ہیں تو عہدہ چھوڑ دیں۔ وہ نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کا فیصلہ درست ہے۔ کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں تباہی پھیلاہی اسی بھارتی جاسوس کو اگر ہم اپنی سرزمین سے پکڑیں گے تو سزا تو دینگے۔ سوال یہ ہے کہ کلبھوشن پاکستان آیا ہی کیوں۔ بھارتی جاسوس کو سزا دینا ہمارا حق ہے۔ ملک دشمنوں کو پھانسی کی سزا کے حق میں ہےں۔ ملک کے دشمن کو میں نے بھی پھانسی دی حالانکہ باقی پھانسیاں روک دی تھیں۔ ہماری پارٹی کی جنرل پالیسی یہ ہے کہ ملک کے شہری کو پھانسی نہ دی جائے عمر قید دے دی جائے تاہم غیر ملکی جاسوس کو سزا دینا بلکہ جائز ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت میرے دوستوں کو اغواءکررہی ہے اس اغواءمیں وفاقی وزیرداخلہ کا ہاتھ ہے۔ انہیں کے خلاف ایف آئی آر کٹواﺅں گا۔ چوہدری نثار بے بس ہیں تو عہدہ چھوڑ دیں۔
حیدرآباد (بیورو رپورٹ) پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے تین انتہائی قریبیساتھیوں کی گمشدگی تاحال معمہ بنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی قیادت اضطرابی کیفیت کا شکار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پراسرار طور پر غائب ہونے والے تینوں افراد آصف زرداری کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ غلام قادر مری ضلع ٹنڈوالہیار کی اہم شخصیت تصور کئے جاتے ہیں، ان کا پیپلز پارٹی سے واجبی مگر آصف زرداری سے گہرا تعلق بتایا جاتا ہے، وہ سابق صدر کے ہم راز تصور کئے جاتے ہیں۔ غلام قادر مری کی اہم ترین ذمہ داری آصف علی زرداری کی ٹنڈوالہیار میں موجود زرعی زمینوں کی دیکھ بھال ہے، انہیں آصف زرداری کے کاروباری معاملات کا نگراں بھی تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گرفتاری پر پیپلز پارٹی سیخ پا نطر آتی ہے۔ دوسری جانب نواب لغاری کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ڈاکٹر قادر مگسی کے قریبی ساتھی رہے ہیں اور سندھ ترقی پسند پارٹی کے طلبہ ونگ کے اہم ذمہ دار کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ حیدرآباد کی تاریخ کے بدترین سانحہ 30ستمبر میں وہ گرفتار رہے ہیں، دورانِ قید ان کے مراسم آصف علی زرداری سے قائم ہوئے جو مضبوط رفاقت میں تبدیل ہوگئے۔ ان کی گمشدگی کو آصف زرداری کے لئے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جارہا ہے، وہ سندھ کابینہ میں مشیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ پراسرار طور پر غائب ہونے والی تیسری شخصیت اشفاق لغاری اومنی گروپ کے کنسلٹنٹ رہے ہیں، وہ بھی آصف رزداری کے قریبی ساتھیوں میں شامل ہیں اور ان کی کاروباری ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔






































