لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیاشاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیاشاہد نے کہا ہے کہ ہر اس حکومتی اقدام جس سے عوام کو سہولت ملے کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ پنجاب میں گیس کنکشنز کے حوالے سے شہریوں کو بڑی شکایات ہیں، اب حکومت نے اگر گیس کنکشنز پر سے پابندی اٹھا لی ہے تو یہ بات خوش آئند ہے۔ گیس لوڈشیڈنگ بھی ختم کی جائے۔ اورنج ٹرین کیس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی نے کہا کہ ہمارے یہاں عدالتی طریقہ کار اتنا طویل ہے کہ لوگ غیرضروری معاملات کو بھی عدالت میں لے جاتے ہیں۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہر بڑے منصوبے کو مکمل کرنے کےلئے تھوڑی بہت قربانی تو دینا ہی پڑتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ کوئی بڑا بیراج تعمیر کرنا ہو تو کیا لاتعداد دیہات اس کی لپیٹ میں نہیں آ جاتے۔ اسی طرح اورنج ٹرین بھی ایک بڑا قومی پراجیکٹ ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس سے کوئی عمارت متاثر نہ ہو اور کسی کو بھی شکایت نہ ہو۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ایک قومی منصوبہ اس طرح تاخیر کا شکار ہو گا تو پھر معاملات کہاں جائینگے۔ پنجاب حکومت خود فریق تھی لیکن پھر بھی یہ کیس کتنی تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ چند روز قبل نیب چیئرمین سے ملاقات میں ان سے کہا کہ آپ کے ادارے بارے تاثر ہے کہ بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے سے ہچکچاتا ہے تو قمر زمان چودھری نے جواب میں مجھے ایک کاغذ بھجوایا جس میں حدیبیہ پیپر ملز بارے تفصیلات درج تھی۔ لکھا تھا کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں جتنی بھی شکایات تھیں انہیں ختم کر دیا تھا۔ نیب کا مو¿قف تھا کہ اگر سپریم کورٹ ایک مقدمے کو ختم کر دیتی ہے تو ہم کیسے ری اوپن کر سکتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ رعایت برتی جائے تاہم نیب اگر کسی معاملہ میں دلیل دیتی ہے تو اسے سنا ضرور جانا چاہیے۔ عزیر بلوچ کیس کے حوالے سے سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ رینجرز یا پولیس ایک ملزم کو پکڑتی ہے جے آئی ٹی بنائی جاتی ہے بڑے بڑے الزامات سامنے آتے ہیں پھر ایک دم سے خاموشی چھا جاتی ہے۔ سال گزر جاتے ہیں اور خاموشی چھائی رہتی ہے اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ کیا کارروائی ہو رہی ہے۔ پھر یکدم ہی کہیں سے جیسے اشارہ ہوتا ہے کہ اس کی کلی مروڑ دو تو ملزم کی کلی مروڑ دی جاتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ہر دہشتگرد اور بدمعاش کے پیچھے مددگاروں کی لمبھی لائن ہوتی ہے۔ سہولت کار، مددگار، فنانسر اور سیاستدان یا کوئی بڑا آدمی اس کی پشت پر ہوتا ہے تبھی تو گینگ مکمل ہوتا ہے۔ عزیر بلوچ کو جب پاکستان لایا گیا تو مجھے اس وقت ہی یقین تھا کہ اس کے تعلقات دہشتگردوں سے ہیں اور ”را“ سے بھی تعلق نکلے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں بڑے منظم انداز میں جرائم ہو رہے ہیں اور ان کے پیچھے کوئی سیاستدان، فنانسر یا غیر ملکی ایجنسیاں نہ ہوں ایسا ممکن نہیں ہے۔ بدمعاش کہیں الگ تھلگ نہیں رہ سکتا بلکہ وہ پلتا ہی کسی بڑے آدمی کی گود میں ہے۔ کسی ادارے کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ عزیر بلوچ کی ضمانت ہو گئی ہے اس لئے فیصلہ ہوا ہو گا اور اسے ملٹری ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ سرگودھا میں 20 آدمیوں کو قتل کرنے والے نام نہاد پیر کے بڑے اور اصل پیر کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں پیر صاحب سامنے بیٹھے مقامی ایم پی اے اور ڈی ایس پی کو غلیظ ننگی گالیاں دے رہے ہیں اور دونوں بڑے مو¿دب ہو کر سن رہے ہیں یہ وہی ڈی ایس پی ہیں جن کا اپنا بیٹا بھی بہیمانہ انداز میں پیر کے ہاتھوں قتل ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ اور آئی جی سے درخواست ہے کہ اس ڈی ایس پی کو تو فوری محکمہ سے نکالا جائے کیا یہ شخص پولیس افسر بننے کے قابل ہے۔ پنجاب حکومت کا مرنے والوں کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی عجیب ہے کیونکہ یہ لواحقین تو مدعی بھی بننے کو تیار نہیں ہیں۔ سینئر صحافی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بندوں کے غائب ہونے پر آواز بلند کریں اور بطور وزیرداخلہ چودھری نثار کی پوری ذمہ داری ہے کہ وہ جواب دیں۔ ان کی خاموشی کوئی جواب نہیں ہے، خاموشی کی دھند میں تو معاملات مزید مشکوک ہو جاتے ہیں۔ ”خبریں“ نے حیدر آباد کے بیورو چیف کی سٹوری چھاپی ہے اگر پیپلز پارٹی اس حوالے سے جواب دینا چاہے تو ”خبریں“ حاضر ہے۔ مظفر ٹپی سے لیکر شرجیل میمن تک آصف زرداری کے سارے دوست کس حوالے سے مشہور ہیں یہ تو ساری دنیا جانتی ہے۔






































