اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم محمد نوازشریف نے گستاخانہ مواد کے بارے میں مسلم امہ کا متفقہ موقف پیش کرنے کیلئے وزیر داخلہ کی طرف سے اسلام آباد میں او آئی سی خصوصی وزارتی اجلاس منعقد کرنے کیلئے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کو بھجوائی گئی تجویز کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رسول اللہ سے محبت اور عقیدت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ انہوں نے یہ بات وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جنہوں نے بدھ کو ان سے یہاں ملاقات کی۔ وزیراعظم آفس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ گستاخانہ مواد کا ارتکاب کرنے والوں کو کسی استثنیٰ کے بغیر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو گستاخانہ مواد کے خصوصی حوالے سے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں آگاہ کیا جو گزشتہ چند ہفتوں سے سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ملک میں دفاعی صنعت کے فروغ کیلئے پاکستان آرڈننس فیکٹری کی افرادی قوت کی غیر معمولی خدمات اور مادر وطن کے دفاع کے حوالے سے مسلح افواج کیلئے ان کے اہم کردار کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیر داخلہ نے 1965ءاور 1971ءکی جنگوں کے دوران پی او ایف کی افرادی قوت کے تاریخی کردار کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ پی او ایف ملازمین کیلئے ان کے دورے کے وقت اعلان کردہ مراعاتی پیکیج پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم نے وزیر دفاعی پیداوار کی سربراہی میں وزیر داخلہ اور وزیرخزانہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیدی جو ایک ہفتے کے اندر حتمی سفارشات کو مرتب کر کے پیش کرے گی۔ وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو یقین دلایا کہ پی او ایف کے ان کے دورے کے دوران کئے جانے والے اعلانات کی ہر قیمت پر پاسداری کی جائے گی۔






































