کراچی (خصوصی رپورٹ) لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے اعتراف کیا کہ آصف زرداری کے لیے شوگر ملوں پر قبضے کرکے ان کے حوالے کیے، دُبئی میں ایرانی انٹیلی جنس آفیسر کو حساس معلومات دیں، اہم تنصیبات کے داخلی و خارجی راستوں کی نشاندہی کرائی۔ فریال تالپور کو ایک کروڑ روپے ماہانہ بھتہ جاتا تھا، ارشد پپو، اس کے بھائی اور ساتھی کو پولیس موبائل کے ذریعے اغوا کرکے سرتن سے جدا کیے، پھر ان کے سروں سے فٹ بال کھیلی۔ یہ اعتراف 24 اپریل 2016ءکو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو کیے۔ پولیس نے ملزم کو پیش کیا تھا ۔ عدالت کے روبرو ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 164 کے تحت بیان قلمبند کراتے ہوئے عزیر بلوچ نے اعتراف کیا کہ 2003ءمیں رحمن ڈکیت گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی اور 2008ءتک اس کے ساتھ مل کر جرائم کیے۔ قادر پٹیل، سنیٹر یوسف بلوچ و دیگر اعلیٰ افسران میرا اور ساتھیوں کا خیال رکھتے تھے اور کسی بھی واردات کے بعد گرفتاری عمل میں نہیں لاتے تھے۔ اگست 2010ءمیں جیل وارڈن لالہ امین شیر افضل و دیگر 2 افراد کو ذاتی انتقام پر قتل کیا اور عارم عرف انڈا کو قتل کیا جبکہ نائب ناظم ملک محمد خان کو امن بلیدی کے ذریعے قتل کروایا تھا۔ مارچ 2003ءمیں انسپکٹر یوسف بلوچ، چاند خان نیازی اور دیگر پولیس افسران کے ذریعے ارشد پپو، اس کے بھائی یاسر عرفان، ساتھی شیرا پٹھان کو پولیس موبائل کے ذریعے اغوا کیا تھا اور لیاری کے آدم گودام میں لے جاکر ان کے سر تن سے جدا کرکے ان کے سروں سے فٹ بال کھیلی اور اجسام کو آگ لگاکر راکھ گٹر میں بہادی۔ پولیس افسر اسلم چودھری سے متعدد پولیس مقابلے کی، پولیس اہلکاروں کو قتل کیا۔ سرکاری محکموں سے بھتے وصول کیے۔ فشریز سے 20 لاکھ روپے بھتہ ملتا۔ جنرل الیکشن 2013ءمیں سنیٹر یوسف بلوچ اور فریال تالپور کے رابطے میں تھا۔ 2013ءمیں کراچی آپریشن میں تیزی آئی تو فریال تالپور نے مجھے قادر پٹیل، یوسف بلوچ کے ذریعے اپنے گھر جو ڈیفنس میں واقع تھا بلوایا۔ اس موقع پر شرجیل انعام میمن اور نثار میمن بھی موجود تھے۔ فریال تالپور نے لیاری گینگ وار و دیگر معاملات میں بات چیت کی۔ اس نے ذاتی اسلحہ گولہ بارود چھپانے کو کہا اور انتظامی معاملات شرجیل انعام میمن اور نثار مورائی کے حوالے کرنے جبکہ لیاری کے معاملات قادر پٹیل اور سنیٹر یوسف بلوچ کے حوالے کیے اور مجھے فریال تالپور نے بیرون ملک جانے کو کہا تھا۔ میں نے پارٹی کے لیے متعدد غیرقانونی کام کیے۔ سنیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر 5 جرائم پیشہ افراد کو نوکریاں دلوائیں۔ آصف علی زرداری کے کہنے پر 20 جرائم پیشہ اور خطرناک افراد بلاول ہاو¿س بھیجے جنہوں نے بلاول ہاو¿س کے گردونواح میں لوگوں کو ہراساں کرکے بنگلے اور فلیٹ زبردستی خالی کرائے اور آصف زرداری کے حوالے کیے۔ آصف زرداری نے ان کے مالکان کو معمولی رقم دے کر بنگلے اپنے نام کرائے۔ مجھے بیرون ملک جانے کو کہا تھا، میں نے ایران میں ایرانی خفیہ اداروں کے دوستوں سے رابطے کیے جب کراچی میں میرے لیے مشکلات بڑھ گئیں تو ایرانی ناصر جو ایرانی خفیہ ایجنسی کا نمائندہ تھا اور اس کا پاکستان آنا جانا تھا، کے گرین سگنل پر ایران کا بارڈر کراس کیا اور حاجی ناصر ایران بارڈر سے مجھے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ ایرانی خفیہ اداروں کے افسران سے ملا جنہوں نے میری حفاظت کی ضمانت دی اور انہیں معلومات فراہم کرنے پر رضا مندی ظاہر کی اور تجویز دی کہ ایران سے بہتر دُبئی میں بیٹھ کر کام میں آسانی ہوگی اور دُبئی میں بیٹھ کر میں نے ایرانی انٹیلی جنس افسر کو کراچی میں موجود آرمڈ فورسز کے اعلیٰ افسران اور اہم تنصیبات کے نام بتائے۔ 5 کور، کراچی نیول کمانڈر کے نام بتائے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی افسران جنہیں میں جانتا تھا ان کے نام بتائے، میں نے ایرانی انٹیلی جنس افسر کو 5 کور ہیڈکوٹر رہائش گاہ کمانڈر 5 کور، نیول ہیڈکوارٹر، کارساز اور امینشن ہیڈکوارٹر کے نقشے فراہم کیے، میں نے اہم تنصیبات کے داخلی و خارجی راستوں کی نشاندہی کرائی۔ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے دوران حراست سنسنی خیز انکشافات کئے ،عزیر بلوچ نے بتایا کہ ایک اہم سیاسی شخصیت کی جانب سے ہاکس بے ، مواچھ گوٹھ اور ناردرن بائی پاس سے متصل زمینوں پر قبضے کروانے پر تقریبا ایک کروڑ روپے ملے ، ماڑی پور 500 کوارٹر کے نزدیک سیاسی شخصیت کے قبضے میں رخنہ نہ ڈالنے کے عوض عزیر بلوچ نے 60 لاکھ روپے وصول کئے ، دو ہزار گیارہ میں عزیرکو ایک صوبائی وزیر کی جانب سے دو مختلف پراپرٹیز کا تنازع حل کرانے کی ہدایت ملی جس کیلئے موصوف کو 50 لاکھ اور عزیر بلوچ کو 40 لاکھ روپے ملے ۔سندھ کے بااثر ترین سیاسی رہنما نے کلفٹن میں اربوں روپے کے 40 بنگلے اونے پونے خریدنے کیلئے عزیر بلوچ کا استعمال کیا۔
عزیربلوچ






































