تازہ تر ین

زرداری کا لاپتہ دوست, 200افراد کے قتل کا ملزم نکلا

کراچی (خصوصی رپورٹ) یہ بات تو پاکستانی سیاست میں عام کہی اور سنی جاتی ہے کہ آصف زرداری دوستوں کے دوست ہیں لیکن اس کا دوسرا حصہ یہ بھی ہے کہ وہ دشمنوں کے دشمن بھی ہیں۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اس کی واضح مثال ہیں۔ آصف زرداری اپنے دوستوں کو دل کھول کر نوازتے ہیں اور جب اپنی مرضی اور ضد پر آتے ہیں تو انہیں دل کھول کر برباد کرتے ہیں۔ اس کی مثال انجم شاہ کی ہے جس نے طالبعلمی کے زمانے سے لے کر 93ءتک آصف زرداری کے ناز نخرے اٹھائے اور جب ان سے دشمنی کی تو پھر انجم شاہ کو برباد کر کے رکھ دیا۔ اویس مظفر ٹپی پر رحم کیا کہ ان سے سب کچھ چھین کر ان کو دبئی میں ایک فلیٹ اور ایک جنرل سٹور دے دیا جہاں وہ اللہ اللہ کرکے زندگی کی گاڑی کو دھکا دے رہے ہیں۔ آصف زرداری نے دوستی‘ دشمنی کا آغاز انجم شاہ سے کیا جس نے آصف زرداری کو چھوٹے بھائیوں کی طرح پالا پوسا اور جب ناراض ہوئے تو انجم شاہ پر اتنے مقدمات بنائے کہ ان کو کنگال کر دیا۔ 88ءمیں ستار کیریو کی شکل میں آصف زرداری کے نئے فرنٹ مین سامنے آئے اور ان کے نام اربوں روپے کی ملکیت خریدی۔ 2008ءمیں جب آصف زرداری ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے تو سب سے پہلے ستار کیریو کو محفوظ مقام پر منتقل کیا‘ ان سے سب کچھ چھین کر انہیں آزاد کر دیا۔ پھر ریاض لال جی کو بڑی کمال مہارت سے دبئی سے کراچی لائے اور ان کے بھی اغوا کا ڈرامہ رچایا اور دوسری شام ریاض لال جی کو مواج گوٹھ سے بازیاب کرانے کا ڈرامہ کر کے قصہ ہی ختم کر دیا۔ ریاض لال جی سے اگلے پچھلے حساب لے کر واپس دبئی بھیج دیا گیا اور پھر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سے شوگر ملز چھین لیں۔ خالد شہنشاہ نے آصف زرداری کے کہنے پر بہت بڑے کام کئے‘ پھر ایک دن رحمان ڈکیت نے خالدشہنشاہ کو مار ڈالا۔ آگے چل کر رحمان ڈکیت کو چودھری اسلم نے ”مقابلہ“ میں مار دیا اور چودھری اسلم بھی پراسرار دھماکہ میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اویس مظفر ٹپی نے 2013ءکے عام الیکشن میں وزیراعلیٰ بننے کیلئے ٹھٹھہ سے الیکشن جیتا‘ اس کو 20گاڑیوں کا پروٹوکول ملتا تھا۔ اس نے کھربوں روپے کی جائیداد بنا ڈالی‘ ایک دن ان کو حفاظتی تحویل میں لے کر ان سے سب کچھ چھین لیا گیا۔ بس یہ احسان کیا گیا کہ دبئی میں ان کو ایک فلیٹ اور ایک جنرل سٹور دے دیا گیا۔ بلال شیخ چیف سکیورٹی گارڈ تھے۔ ایک دن پراسرار حملہ میں مارے گئے لیکن آج تک ان کا کیس آگے نہیں بڑھ سکا۔ محمد علی شیخ بھی اچانک اٹھالئے گئے، چار ماہ تک وہ بھی حفاظتی تحویل میں رہے۔ سب کچھ چھین کر اس کو امریکہ کا راستہ دکھا دیا گیا، حضور بخش کلوڑ، آفتاب پٹھان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ سب کچھ لے کر انہیں چھوڑ دیا گیا۔ اب نواب لغاری‘ اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کو چار روز میں پراسرار طور پر اٹھا لیا گیا ہے۔ نواب لغاری کون ہے؟ اس بارے میں حقائق کی چھان بین کی گئی تو حیرت انگیز انکشافات ہوئے۔ 30 دسمبر 1988ءمیں حیدر چوک حیدر آباد میں ایک درجن مسلح افراد نے شام کے وقت فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ نواب لغاری اس کیس کے ملزم تھے، آگے چل کر نواب لغاری آصف زرداری کیمپ میں چلے گئے۔ اسٹیل ملز کے چیئرمین سید سجاد حسین کے قتل کیس، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس راشد عزیز کے بیٹے عمران عزیز پر قاتلانہ حملے، عالم بلوچ کے قتل کیس سمیت ہائی پروفائل مقدمات میں نواب لغاری کا نام بطور ملزم سامنے آیا۔ پچھلے سال جب ڈاکٹر نثار مورائی کو گرفتار کیا گیا تو اس نے جے آئی ٹی کے سامنے ہائی پروفائل مقدمات کا ذکر کیا تو پھر کیس میں نواب لغاری کا نام سامنے آیا۔ اب ان کو اسلام آباد سے اٹھالیا گیا ہے، عین اسی روز کراچی اور حیدرآباد کے درمیان اور منی گروپ میں مالی معاملات کے انچارج اشفاق لغاری کو اٹھا لیا گیا۔ یہ اتفاق نہیں طے شدہ منصوبہ بندی تھی ابھی یہ معاملہ ایک طرف ہوا ہی نہیں تھا کہ ٹنڈواللہ یار کے زمیندار غلام قادر مری کو بھی حیدرآباد سے اٹھا لیا گیا۔ اسی طرح آصف زرداری کے تین ساتھی چار روز میں اٹھالئے گئے۔ تعجب کی بات ہے کہ بلاول ہاﺅس نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان تینوں کے اٹھائے جانے سے آصف زرداری خاموش ہیں اور پانچ روز بعد خورشید شاہ اور مراد علی شاہ بول پڑے ہیں کہ تینوں افراد کو رہا کیا جائے۔ حکومت سندھ ان افراد کی بازیابی کے لئے کوشش کر رہی ہے لیکن ہماری اطلاع ہے کہ جس طرح اوپر سے پولیس پر کوئی دباﺅ نہیں ہے اس لئے پولیس بھی اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کی بازیابی کے لئے کوئی کوشش نہیں کر رہی ہے تاہم نواب لغاری کی اسلام آباد سے گمشدگی پر ان کی اہلیہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain