اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) آصف علی زرداری کے دوست کے پاور پلانٹ کو گیس فراہمی کیلئے پیپلزپارٹی نے سندھ کارڈ کھیلا‘ گیس کے عام صارفین کو گیس معمول کے مطابق مل رہی ہے تاہم انورمجید کے نوری آباد پاور پلانٹ کی طرف سے سوئی سدرن کو سکیورٹی ڈیپازٹ کی مد میں ایک ارب روپے ادا کئے جانے پر گیس نہیں دی جا رہی‘ آصف علی زرداری کے دوست کے پاور پلانٹ کو فائدہ پہنچانے کیلئے پیپلزپارٹی نے پہلے وزیراعلیٰ کے ذریعے بیان دلوایا پھر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے وفاق کو دھمکی دے کر ملک بھر میں کھلبلی مچا دی۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کی طرف سے گیس کی عدم فراہمی کو بنیاد بنا کر سندھ حکومت اور وفاق ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے دھمکی آمیز بیان پر وفاقی وزارت پٹرولیم کا کہنا ہے کہ گیس کی فراہمی کیلئے کسی بھی صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جا رہا۔
کراچی (خصوصی رپورٹ) سندھ حکومت کی وفاقی حکومت پر تلملاہٹ کی وجہ سندھ کے شہریوں کو درپیش مشکلات نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف زرداری کے دست راست اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کی شراکت میں بننے والے نوری آباد پاور پلانٹ کو گیس کی عدم فراہمی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تو ملک بھر کی گیس بند کرنے کی دھمکی دے دی مگر وفاق کا کہنا ہے کہ پاور پلانٹ کی انسپکشن این ٹی ڈی سی کے ماہین سے کرائی جائے جس کے بعد پلانٹ کی بجلی کو نیشنل گرڈ میں شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔ دوسری جانب سوئی گیس کمپنی کا مو¿قف ہے کہ آرٹیکل 158 کے تحت ہی بجلی اور گیس کے کنکشن کے لئے کچھ تقاضے پورکرنا ہوتے ہیں جسے سندھ حکومت پورا کرنے کو تیار نہیں۔ بیس ایم ایم سی ایف ڈی گیس کے لئے زر ضمانت ایک ارب بنتا ہے جسے بینک گارنٹی یا سکیورٹی ڈپازٹ کے تحت پورا کیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ اومنی گروپ کے پاور پلانٹ کو فعال کرنے اور اومنی گروپ کی ساکھ بچانے کیلئے پچھلے چار ماہ سے پھرتیاں دکھا رہے ہیں۔ جب دال نہ گلی تو ایوان میں خوب واویلا کیا مگر یہ نہیں بتایا کہ نوری آباد پاور کمپنی کا بڑا حصہ انور مجید کا اومنی گروپ ہے۔ یہ وہی اومین گروپ ہے جس کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے تھے۔ جب پچھلے برس آصف زرداری وطن واپس لوٹے تھے جبکہ اومنی گروپ کے ایڈوائزر اور زرداری کے قریبی دوست اشفاق لغاری ان تین افراد میں شامل ہیں جو ان دنوں غائب ہیں۔ نوری آباد پاور پلانٹ ابتدائی طور پر پچاس میگاواٹ کا تھا اور اس وقت کی پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے 20 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کرنے کی منظوری دی۔ اس وقت کے خزانہ سندھ مراد علی شاہ نے نیشنل بینک اور سندھ بینک سے تقریباً دو ارب 81 کروڑ کی بینک گارنٹی کا بھی انتظام کیا اور پلانٹ کی تعمیر شروع کردی گئی۔ جنوری 2014ءمیں سندھ حکومت نے موجودہ پاور پلانٹ کی پیداواری صلاحیت کو سومیگاواٹ تک بڑھا دیا اور اب پلانٹ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کا کہا گیا۔جس کے بعد اومنی گروپ کی شراکت دار سندھ نوری آباد پاور کمپنی نے کے الیکٹرک سے سپلائی کا معاہدہ کرلیا جس کے تحت اس نے اپریل 2017ءمیں کے الیکٹرک کو سو میگاواٹ بجلی فراہم کرنا تھی۔






































