لاہور (کرائم رپورٹر) نصیر آباد تھانے کی پولیس کی جا نب سے ملزمان پر تشدد کی ویڈیو کا معاملہ ،انویسٹی گیشن پولیس 4ملزمان کو تشدد کا نشانہ بناتی رہی ، ایس ا یچ او نصیر آباد نے تمام حقائم ایس پی ماڈل ٹاﺅن کو بتادیے ، ایس ا یس پی انویسٹی گیشن نے اے ایس آئی اور2 پولیس اہلکاروں کو معطل اور انچارج انویسٹی گیشن کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روزتھانہ نصیر آباد میں پولیس تشدد کی وڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف کی جانب سے ایس پی ماڈل ٹاﺅن اسماعیل کھاڑک کو واقعے کی انکوائری کر نے کے احکامات جاری کیئے تھے جس پر ایس پی ماڈل ٹاﺅن کی جانب سے ایس ایچ او عمران قمر پنڈانہ سے جب واقعے کے متعلق پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ یہ تشدد آپریشن پولیس نے نہیں بلکہ انویسٹی گیشن پولیس نے کیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تشدد ان افراد پر کیا گیا تھا جن کو آپریشن پولیس مختلف ہوٹلوں سے پکڑ کر تھانے لائی اور مقدمات درج کر کے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا تھا جہاں انویسٹی گیشن والے رات بھر ان کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور ان کے ہمرا گرفتار ہونے والی لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ خانی کر تے رہے ۔ویڈیو میں چھترول کا شکار بننے والوں میں اکبر علی ولد غلام رسول ،طلحہ ولد محمد سلیم ، عدنان سلیم ولد محمد سلیم خان اور ارشد خان شامل ہیں ۔واقع میں انویسٹی گیشن اہلکاروں کی جانب سے تشدد کیئے جانے کا علم ہوتے ہی ایس ایس پی انویسٹی گیشن غلام مبیشر میکن نے نوٹس لیتے ہوئے اے ایس آئی صادق ،کانسٹیبل مجاہد اور شبیر کو معطل کر دیا جبکہ انچارج انوسٹی گیشن کو شوکاز نوٹس دے دیا۔






































