اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے افغانستان میں 10 ٹن وزنی بم گرایا ہے جبکہ روس کے پاس 45 ٹن وزنی بم موجود ہے۔ امریکیوں کو یہ بم استعمال کرنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ وہ داعش اور طالبان سے رات کے اندھیرے میں لڑائی نہیں کر سکتے۔ کوریا اور امریکہ کی جنگ لفظی دکھائی دیتی ہے کیونکہ کوریا کے پیچھے نہ تو روس کھڑا ہے نہ چین۔ پاکستان اور بھارت کی ایٹمی ٹیکنالوجی میں کوئی موازنہ نہیں۔ بھارت اپنی دھمکیوں اور نعروں کے مطابق 10 فیصد بھی پرفارم کر کے نہیں دکھا پایا۔ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے چینل ۵ کے پروگرام ”نیوز ایٹ 8“ میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں جو بڑا بم استعمال کیا ہے وہ نیوکلیئر بم نہیں تھا۔ اس کا وزن تقریباً 10ٹن کے قریب بنتا ہے۔ امریکہ نے یہ بم اس وقت اس لئے استعمال کیا ہے کہ وہ افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور طالبانائزیشن کو روکنا چاہتے ہیں۔ امریکیوں کے خیال میں وہ رات کے وقت غاروں سے نکلتے ہیں اور ان سے میدان میں مقابلہ ممکن نہیں۔ یہ بم زمین سے خاص فاصلے پر پھٹ جاتا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا بم روس کے پاس ہے۔ اس کا وزن 45 ٹن ہے۔ اس امریکی بم سے ریڈی ایشن خارج ہوتی ہیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ وہ غار میں چھپے ہوئے افراد کو ٹارگٹ کر سکے۔ اس بم کا اثر تقریباً 6 کلومیٹر تک جاتا ہے۔ اس قسم کے بمبوں سے پاکستان کو کوئی اثر نہیں ہوگا۔ امریکہ ایسے بم کو پاکستان میں استعمال نہیں کرسکتا۔ وہ جانتا ہے کہ ہم ایک نیوکلیئر اسٹیٹ ہیں اس قسم کے بم کو (سی130)جیسے جہازوں سے اس وقت گرایا جاتا ہے جب یقین ہو کہ نیچے سے کوئی جہاز کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ساﺅتھ کوریا کھلے عام امریکیوں کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ ہم اس پر ایٹم بم گرائیں گے۔ امریکہ کافی حد تک اس سے خوفزدہ ہے۔ کوریا نے بہت بڑی تعداد میں میزائلوں کا تجربہ بھی کر رکھا ہے۔ کوریا اور امریکہ کی لفظی جنگ نظر آتی ہے۔ کیونکہ کوریا کے پیچھے نہ تو روس کھڑا ہے اور نہ ہی چین۔ بھارت پاکستان کے خلاف جو بھی بات کرتا ہے آج تک وہ اپنی دھمکیوں کا 10فیصد بھی شو نہیں کر سکا۔ کسی نے اس کے میزائل درست لگتے نہیں دیکھے۔ کسی بھی ملک یا گواہ کے پاس ایسے شواہد موجود نہیں کہ اس کا ”اگنی“ میزائل درست ٹارگٹ پر لگا ہو۔ دنیا بھی بھارت کے ایٹمی پروگرام کو اتنا سنجیدہ نہیں لیتی۔ تمام بڑے ممالک پاکستان کی ٹیکنالوجی سے بھارت کی ٹیکنالوجی کا موازنہ کرتے ہی نہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان کی ٹیکنالوجی بہت بہتر اور قابل ہے جبکہ بھارت ابھی تک کوئی بھی ایسے ثبوت دینے میں ناکام رہا ہے جس کے ذریعے اس نے اپنی ٹیکنالوجی ٹیسٹ کر کے دکھائی ہو۔






































