فیصل آبا د (سٹاف رپورٹر)فیصل آباد میں ”چکن پاکس“ کا مرض ”بے قابو“ ہونے لگا ہے رواں سال کے دوران اب تک ہلاکتوں کی تعداد 12اور متاثرین کی تعداد بڑھ کر 58تک جا پہنچی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام کی غفلت اور لا پرواہی کے باعث چکن پاکس کی وباءبڑے پیمانے پر پھیلنے سے مزید ہلاکتوں اور متاثرین کی تعداد بڑھنے کا خدشہ، جبکہ فیصل آباد میں ڈینگی وائرس بھی پھر سے سر اٹھانے لگا ہے رواں سال میں پہلا کیس سامنے آیا ہے کراچی کی رہائشی 65سالہ خاتون شمیم بی بی شاہکوٹ میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں آئی تھی کہ اسے الائیڈ ہسپتال لایا گیا۔ جہاں اس میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہو گئی اور چکن پاکس کا مرض تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ رواں سال میں اب تک چکن پاکس کے مرض میںمبتلا 12مریضوں کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور رواں ماہ میں چکن پاکس کے مریضوں کی تعداد 47ہو گئی تھی جو کہ اب بڑھ کر 58تک جا پہنچی ہے۔ گزشتہ دنوں میں مزید 11مریضوں کو الائیڈ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے مریضوں کی تعداد 58سے تجاوز ہونے کا خدشہ،مگر حکومت پنجاب نہ ہی ضلعی انتظامیہ اور نہ ہی محکمہ صحت کے حکام کی طرف سے کوئی مو¿ثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر نوازش نے اس بارے میں شہریوں میں آگاہی مہم شروع کرنے کا ایک منعقدہ اجلاس میں اعلان کیا تھا جو کہ صرف کمرہ اجلاس تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اعلان کے باوجود چکن پاکس بیماری کی آگاہی مہم شروع نہ کی جا سکی ہے اور چکن پاکس مرض کے علاوہ ڈینگی وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلاﺅ کا خدشہ لاحق ہے۔ اس امر پر شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر ومشیر صحت،چیف سیکرٹری ہیلتھ پنجاب، ڈی سی او ہیلتھ اتھارٹی فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹس لےکر چکن پاکس کے مرض اور ڈینگی وائرس کی روک تھام کرنے کےلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔






































