اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ اور بائیومیٹرک مشینوں کی خریداری کیلئے مجموعی طور پر 90سے 100ارب روپے کا تخمینہ ہے۔ قانون سازی کے بعد خریداری کیلئے ایک سال کا عرصہ درکار ہو گا جس کی وجہ سے آئندہ الیکشن میں اس کا استعمال ممکن نہیں ہے‘ تاہم الیکشن کمیشن جون کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ کا تجربہ کرنا چاہتا ہے۔ کمیشن پائلٹ پراجیکٹ پر یقین رکھتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کو آہستہ آہستہ متعارف کرانا ہی مناسب ہو گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے 100بائیومیٹرک اور 150الیکٹرانک مشینوںکی خریداری کا ٹینڈر جاری کردیا ہے۔ پڑوسی ملک بھارت میں 14لاکھ مشینوں کے ذریعے سات مراحل میں 80کروڑ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔ یہ مشینیں بھارت میں ہی بنائی جاتی ہیں جس کی لاگت 300ڈالر ہے۔ پاکستان ہالینڈ سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں منگوا رہا ہے جو 1600سے 1800ڈالر میں فی مشین پڑے گی جبکہ بائیومیٹرک مشین 1000سے 1200ڈالر میں آئے گی۔ ہمیں الیکشن میں تین لاکھ بائیومیٹرک اور تین لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں درکار ہوں گی۔ بائیو میٹرک مشینیں بنانے والی یہ کمپنیاں فرانس‘ جرمنی‘ ہالینڈ اور جاپان سے تعلق رکھتی ہیں جہاں الیکشن بیلٹ پیپر پر ہوتا ہے تاہم بھارت‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا اور برازیل‘ وینزویلا سمیت امریکہ میں الیکٹرانک ووٹنگ تاحال جاری ہے۔






































