تازہ تر ین

مردان نونیورسٹی واقعہ مشال خان کے دوست نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

پشاور(ویب ڈیسک)چند روز قبل مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین رسالت کے الزام میں بے دردی سے قتل کئے جانے والے نوجوان مشال خان کے دوست نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی سختی سے تردید کر دی ہے۔مشال خان کے دوست عبداللہ نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے جس میں اس نے اپنے اوپر لگنے والے توہین آمیز کلمات کے حوالے سے لگنے والے الزامات کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ عبداللہ کا کہنا ہے کہ مجھے دوستوں نے فون کر کے گھر سے بلایا اور جب یونیورسٹی پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ مجھ پر توہین آمیز کلمات کا الزام ہے، مجھے چیرمین کے کمرے میں بند کیا گیا، میں نے کلمہ پڑھ کر سنایا تو مجھے کہا گیا کہ مشال کے خلاف گواہی دو کہ اس نے توہین آمیز کلمات ادا کئے ہیں لیکن میں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا جس پر مجھے اساتذہ کی موجودگی میں ایک واش روم میں بند کر دیا گیا، میں سمجھا کہ اساتذہ نے مجھے بچانے کے لئے یہ اقدام اٹھایا ہے لیکن تھوڑی دیر پر ایک مشتعل ہجوم واش روم میں گھس آیا اور مجھ پر تشدد شروع کر دیا گیا، پولیس اہلکاروں نے مجھے متشعل ہجوم سے بچا کر اسپتال منتقل کیا۔
عبداللہ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ مشال خان انتہائی ذہین اور ہونہار طالبعلم تھا اور اسے انگریزی پر عبور حاصل تھا، میری مشال سے گزشتہ 2 ماہ سے گہری دوستی تھی اور اس کے منہ سے کبھی توہین آمیز گفتگو نہیں سنی۔ عبداللہ نے مزید کہا کہ مشال اکثر یونیورسٹی انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف بھی آواز اٹھاتا رہتا تھا جس کی وجہ سے شبہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ بھی اس معاملے میں ملوث ہو سکتی ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain