اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جب تک ڈان لیکس کی رپورٹ کا آفیشل سطح پر اعلان نہیں کیا جاتا میڈیا ذرائع کے حوالے سے خبریں چلانے سے گریز کرے۔ مریم نواز کا اس رپورٹ میں کوئی تذکرہ نہیں ہے لیکن اپوزیشن کی جانب سے اس رپورٹ کو ان سے جوڑے جانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو افسوسناک ہے، پاناما لیکس پر مریم نواز کا میڈیا ٹرائل کرنے والوں کو معافی مانگنی چاہیے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس کے بارے میں ذرائع کے نام پر ادا ہونے والا کردار افسوسناک ہے، ڈان لیکس کی رپورٹ کا آفیشل اعلان بھی نہیں کیا گیا لیکن اپوزیشن نے اسے مریم نواز سے جوڑنا شروع کردیا ہے۔ جب تک وزیر داخلہ اعلان نہیں کرتے اس وقت تک ڈان لیکس پر ذرائع کے حوالے سے رپورٹنگ نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے الزامات لگانے کی روایت ختم ہونی چاہیے، پاناما لیکس میں مریم نواز کا کہیں بھی نام نہیں ہے لیکن اپوزیشن مریم نواز سے خوفزدہ ہے اور اسے کسی نہ کسی طرح اس سارے معاملے میں پھنسانا چاہتی ہے۔ پاناما لیکس میں جس مریم کو ایک سال اور سترہ دن ٹی وی سکرینز پر گول دائرے لگا لگا کر دکھایا گیا اس پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا جس پر معافی مانگی جانی چاہیے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے سی پیک شروع کرنے کے دعووں پر اظہار خیال کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ زرداری کے دور میں تو پاکستانی اپنی جیبیں اور پیسے چھپاتے تھے یہ تو پھر پاک چین اقتصادی راہداری ہے۔ قبل ازیں وزیرمملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے چینی کلچرل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین نے دنیا کے 65 ممالک کو اپنی دوستی سے اکٹھا کردیا، پاک چین کلچرل سینٹر کا افتتاح بھی باہمی تعلقات کی صورت میں سی پیک کا حصہ ہے پاکستان کوجب بھی کسی چیلنج کا سامنا ہوا چین کو پاکستان کے ساتھ کھڑا پایا۔ کلچرل چینی سنٹر دونوں ممالک کی دوستی کا ثبوت ہے، اس سنٹر سے نوجوانوں کو چینی ثقافت سے ہم آہنگ ہونے میں مدد ملے گی۔
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک) انگریزی اخبار ڈان میں مبینہ طور پر قومی سلامتی کے منافی خبر شائع ہونے کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق منگل کو جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا پر مشتمل یک رکنی کمیشن کی یہ رپورٹ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیراعظم نواز شریف کو پیش کی۔ذرائع کے مطابق وزیراعطم نواز شریف نے وفاقی وزیر داخلہ کی موجودگی میں مشیر برائے خارجہ امور طارق فاطمی کو طلب کر کے ان سے وضاحت بھی طلب کی ہے۔تاحال حکومت کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا اس رپورٹ کو کب منظرعام پر لایا جائے گا اور اس میں تعین کردہ افراد کے خلاف کیا کارروائی ہو گی۔تحقیقاتی رپورٹ میں ان ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے جنھوں نے اس قومی سلامتی سے متعلق اجلاس کی کارروائی کے بارے میں مقامی انگلش اخبار ڈان کے صحافی سرل المائڈا کو معلومات فراہم کی تھیں۔گذشتہ برس اکتوبر میں شائع ہونے والی خبر میں غیر ریاستی عناصر یا کالعدم تنظیموں کے معاملے پر فوج اور سول حکومت میں اختلاف کا ذکر کیا گیا تھا تاہم حکومت اور فوج دونوں نے اس خبر کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔اس کے بعد وزیراعظم کی جانب سے گذشتہ برس اکتوبر میں وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کو اس خبر کی اشاعت رکوانے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا نہ کرنے پر ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔پرویز رشید کو عہدے سے ہٹانے سے ایک دن پہلے وزیراعلی پنجاب، وفاقی وزیر خزانہ اور وفاقی وزیر داخلہ نے اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی تھی جس میں انھیں قومی سلامتی کے اجلاس سے متعلق لیک ہونے والی خبر کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات سے آگاہ کیا۔ ڈان لیکس معاملے پر انکوائری کمیٹی نے معاون خصوصی طارق فاطمی کو ہٹانے کی سفارش کر دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم نے سفارشات کی منظوری بھی دے دی۔ذرائع کے مطابق ڈان لیکس پر انکوائری کمیٹی کی رپورٹ آئندہ24 سے 48گھنٹوں میں آنے کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات میں 15سے زائد صحافیوں ، متعلقہ اخبار کی انتظامیہ، ایڈیٹرز اور دیگر افراد سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ وزیراعظم کو پیش کی گئی رپورٹ میں موبائل ڈیٹا کی فرانزک رپورٹ سیف سٹی پروگرام سے حاصل تصاویر بھی لگائی گئی ہیں۔ جبکہ رپورٹ میں خبر کو پلانٹڈ نیوز کہا گیا اور ڈان اخبار کے خلاف کارروائی کے معاملے کو اے پی ا ین ایس کے سپرد کرنے کی سفارش کی گئی، رپورٹ میں عسکری قیادت کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا۔






































