مالاکنڈ (نمائندہ خبریں ) سابق صدر آصف علی زرداری نے مشال خان کے قتل کی ذمہ داری وزیر اعظم نوازشریف پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”مشال خان کے قتل کا ذمہ دار وزیر اعظم کے فلسفے کو ٹھہراتا ہوں “۔ موجودہ حکمرانوں کو سی پیک کی سمجھ ہی نہیں ہے۔ ججز نے بھی کہ دیا ہے کہ گو نوا زگو جبکہ بچے بچے کی زبان پر بھی یہی نعرے ہے۔”آپ کتنے بچوں کو جیلوں میں ڈالو گے “۔مالاکنڈ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے عمران خان کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نعرے لگائے کہ گو عمران گو ، گو جعلی خان گو۔”جعلی خان لوگوں کو بیوقوف بنا رہا ہے اور ان کو بھی کہتا ہوں گو جعلی خان گو۔”اگر میرے دور میں امریکا اتنا بڑا بم گراتا تو میں امریکہ پہنچ جاتا اور ان سے بات کرتا “۔انہوں نے کہا کہ جب شریف برادران جیلوں میں تھے تو معافی نامے دیکر چلے گئے ، جب جا رہے تھے تو میں نے ان سے کہا تھا کہ تم جا سکتے ہو مگر میں نہیں جا سکتاکیونکہ میں نے اپنی عوام کیساتھ رہنا ہے اور اپنے ورکرز کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔سابق صدر آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے عوام کو این ایف سی ایوارڈز کا تحفہ دیا مگر شبہازشریف خیبر پختونخوا کا این ایف سی کا حصہ بھی کھا رہا ہے تاہم ہم ان کے پیٹ سے یہ پیسہ واپس نکالیں گے۔عطا ئ آباد جھیل نہ بناتے تو سی پیک کیسے بنتا۔پیپلز پارٹی نے ہمیشہ غریب عوام کے مسائل اور دھڑکن پر ہاتھ رکھا۔ہم اقتدار میں آکر فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کریں گے۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکمرانوں کو سی پیک کی کوئی سمجھ نہیں ہے اور نہ ہی انہیں غریب کا کوئی درد ہے ، اقتدارمیں آکر لٹیروں کے پیٹ سے سب کچھ نکالوں گا۔ہم نے خیبر پختونخوا کے لوگوں کو شناخت دی اور عوام کی خدمت کی قسم کھا رکھی ہے۔سی پیک میں نے بلوچستان اور آپ لوگوں کیلئے بنایا تھا ، عوام کیساتھ مذا ق نہیں چلے گا۔انہوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”میاں صاحب آپ ضیائ الحق کی سیاست کر رہے ہیں “، حکمرانوں کی خارجہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے ، خیبر پختونخوا کے عوام کو کہتا ہوں کہ اپنے حق کیلئے کھڑے ہو جائیں کیونکہ جاتی امرائ والوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے۔یہ سمجھتے ہیں کہ جب یہ اور انکے دوست امیر ہونگے تو ملک امیر ہو گامگر ہم سمجھتے ہیں کہ جب عوام کے حالات بہتر ہونگے تو ملک امیر ہو گا۔ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکمران مرغی اور انڈوں سے لے کر بجلی تک کا کاروبار کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین نے کہا کہ میاں صاحب جب جیل میں تھے تو رو رو کر ان کی حالت خراب تھی، معافی نامے لکھ کر جدہ کے محل چلے گئے، میں نے گڑھی خدابخش میں عوام کی خدمت کی قسم اٹھائی ہے، بدین میں کہا تھا کہ اب تمام صوبے اسلام آباد سے نیا چارٹر چاہتے ہیں، میں اپنے کارکنوں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتا اور اگر وقت آیا تو اپنے کارکنوں کے ساتھ ہی شہید بھی ہونا ہے، میرا وعدہ ہے کہ پاکستان کو امیر ملک بناکر دوں گا اور میں نے پہلے بھی اپنے تمام وعدوں کو پورا کیا ہے۔آصف زرداری نے مزید کہا کہ شہباز شریف پختونوں کا پیسہ کھارہے ہیں، لیویز جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑرہے ہیں مگر یہ تنخواہ نہیں دیتے، پختون جہاں بھی چاہیں رہیں پورا پاکستان ان کا ہے،لاکھوں پختونوں کے شناختی کارڈ بلاک کردیے لہٰذا پختون کھڑے ہوجائیں اور حکمرانوں سے اپنا حق لیں۔






































