اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 146 فیصد ریکارڈ اضافے کے بعد ارکان کی تاحیات پنشن‘ انشورنس اور ہیلتھ کارڈ کے اجراءکی تیاری شروع کردی ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ارکان پارلیمنٹ کی مراعات میں اضافے کی یقین دہانی کروا دی۔ انشورنش‘ ہیلتھ کارڈ اور پنشن مقرر ہونے سے قومی خزانے پر سالانہ 3 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔ ارکان پارلیمنٹ ملک کے کسی بھی نجی ہسپتال سے علاج کروائیں گے جبکہ بل قومی اسمبلی یا سینٹ سیکرٹریٹ ادا کرے گا۔ پانچ سال پورے کرنے والے رکن کو تاحیات پنشن دی جائے گی۔ غریب عوام کے منتخب نمائندوں کی تنخواہوں میں وفاقی حکومت نے اکتوبر 2016ءسے 146 فیصد ریکارڈ اضافہ کیا تھا۔ وزارت پارلیمانی امور کی دستاویز کے مطابق پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور مراعات میں اضافے کا بل جمع کروایا جس کی پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کے اراکین نے حمایت کی۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور میاں عبدالمنان کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار ارکان پارلیمنٹ کے وفد کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پنشن‘ ہیلتھ کارڈ اور انشورنس پالیسی منظور کروانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے مطلوبہ فنڈز جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کرچکے ہیں۔ ارکان کی مراعات میں اضافہ کا معاملہ جلد تین وزارتوں کی مشترکہ قائمہ کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یکم اکتوبر 2016ءسے اضافہ سے بعض ارکان پارلیمنٹ ایک لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ سپیکر قومی اسمبلی 2 لاکھ 5 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں۔






































