لاہور(خصوصی رپورٹ)لاہور ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا سے توہین آمیز مواد ہٹانے کے لئے متعلقہ حکام کو 4 ماہ کی مہلت دے دی،عدالت نے وزارت اطلاعات، وزارت خارجہ اور آئی ٹی حکام سے رپورٹ بھی طلب کر لی۔منگل کولاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاطر محمود نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کے خلاف درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل نے بتایاکہ عدالتی احکامات کے باوجود سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد نہیں ہٹایا گیا،عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سوشل میڈیا پر موجود توہین آمیز مواد ہٹانے کا حکم دیا جائے جس پر عدالت نے 4 ماہ میں توہین آمیز مواد ہٹانے کا حکم جاری کر دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے فیس بک اور ٹوئٹر سمیت دیگر سوشل میڈیا پر جعلی اکاو¿نٹس بنانے کیخلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے کے بارے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے ایڈووکیٹ اشتیاق چوہدری کی درخواست پر سماعت کی جس میں سوشل میڈیا پر جعلی اکاو¿نٹس بنانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔ جسٹس عاطر محمود نے پلاسٹک کی بوتلوں کے استعمال کے خلاف درخواست پروفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔ مقامی شہری طارق خان کی درخواست میں پلاسٹک کی بوتلوں کے استعمال کو چیلنج کیا گیا۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے عدالت میں جواب داخل کرایا گیا جس میں اس بات کی تروید کی گئی ہے کہ پلاسٹک کی بوتلوں کا استعمال مضر صحت ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق برطانوی لیبارٹری نے پلاسٹک کی بوتلوں کو قابل استعمال قرار دیا ہے۔






































