تازہ تر ین

”بھارت اور افغانستان کی سازشوں کا ثبوت مل گیا“ نامورتجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ احسان اللہ احسان نے کوئی نئی بات نہیں کی ماسوائے اس کے کہ ملک میں اب تک جو دہشتگردی ہو چکی ہے اس میں جو ہمارے خدشات تھے کہ اس میں افغانستان کا بھی ہاتھ ہے لیکن سب سے زیادہ بھارت اور اس کی ایجنسی ”را“ ملوث ہے جبکہ مشرف و زرداری دور میں متعدد بار یہ ثابت بھی ہو چکا ہے۔ رحمان ملک نے بار بار کہا تھا کہ بلوچستان میں بھارت براہ راست مداخلت کر رہا ہے۔ وہاں پر بھارت دہشتگردوں کو اسلحہ اور پیسوں سے امداد کرتا ہے۔ اس وقت رحمان ملک سے سوال کیا تھا کہ اگر اتنے ثبوت موجود ہیں تو یو این او میں کیوں نہیں جاتے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وزارت داخلہ کا کام پکڑنا ہے، بھارت کے خلاف احتجاج سمیت دیگر معاملات اب وزارت خارجہ کا کام ہے۔ تجزیہ کار نے کہا کہ عمران خان کا 10 ارب روپے کی پیش کش کا الزام سمجھ سے بالاتر ہے۔ بہتر ہوتا کہ وہ کوئی ثبوت بھی پیش کرتے۔ جب ان کی طویل جدوجہد کے بعد سپریم کورٹ نے پانامہ پر جے آئی ٹی بھی بنا دی ہے تو ایسے حالات میں اب شہباز شریف ہوں یا کوئی اور وہ 10 ارب روپے دے کر کیا حاصل کر سکتے ہیں۔ عمران خان مان بھی جائے تو بھی فیصلہ ابھی آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیوز لیکس پر جب تک حکومتی رپورٹ نہیں آ جاتی، کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ میڈیا نے شور مچا رکھا ہے کہ پرویز رشید بے قصور جبکہ راﺅ تحسین و طارق فاطمی قصوروار ہیں۔ پرویز رشید کے بارے تو میں نے بھی بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ وہ بے قصور ٹھہرائے جائیں گے اور دوبارہ وزارت اطلاعات کا قلمدان سنبھالیں گے لیکن میڈیا پر طارق فاطمی کے استعفیٰ نہ دینے کی خبریں سمجھ سے بالاتر ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ انہیں استعفیٰ دینے کا کہا گیا اور انہوں نے انکار کر دیا ہو حالانکہ انہیں ایک نوٹی فکیشن سے بھی فارغ کیا جا سکتا ہے۔ آئین کے مطابق وزیراعظم کا استحقاق ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں سے جس کو چاہے وفاقی وزیر، مشیر یا وزیر مملکت بنا دے، اسی طرح ان کو عہدوں سے ہٹایا بھی جا سکتا ہے۔ سابق وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ بھارت کا مائنڈ سیٹ ہمارے خلاف ہے۔ جس احسان اللہ احسان نے انکشافات کئے ہیں، میں ہمیشہ اپنی تقاریر و بیانات میں اس کا نام لیتا تھا کہ یہ دو ٹکے کے بکنے والے ظالمان کا نمائندہ ہے، جتنا نقصان اس نے ملک کو پہنچایا کسی نے نہیں پہنچایا۔ یہ وہی احسان اللہ احسان ہے جو دہشتگردی کے واقعات کے بعد ذمہ داری قبول کرتا تھا۔ سابق افغان صدر کرزئی سے کہا تھا کہ ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارت نے افغانستان میں کیمپ لگائے ہوئے ہیں، جہاں بلوچستان کے لوگوں کو تربیت دے کر واپس بھیجا جاتا ہے، پھر جو دہشتگردی ہوتی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ ان سے کہا تھا کہ چمن بارڈر پر چیک پوسٹ بنا کر سیٹلائٹ مانیٹرنگ کرتے ہیں، ان کے وزیرداخلہ نے آنے کی حامی بھی بھری لیکن جب چیک پوسٹ تیار کر لی گئی تو ان کے وزیرداخلہ نہیں آئے بلکہ 4 سے 5 دنوں میں اس کو تباہ کر دیا گیا جو ریکارڈ کا حصہ ہے۔ کرزئی سے کہا تھا کہ آپ پاکستان کے نہیں بلکہ بھارت کی فیور میں ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نیوز لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ نہیں دیکھی اس لئے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا البتہ ایک پیشگوئی کرتا ہوں کہ اس میں کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔البتہ چھوٹی موٹی کارروائی ہو سکتی ہے۔ پانامہ کیس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بطور انویسٹی گیٹر کنفیوژ ہوں 60 دنوں میں جے آئی ٹی کیسے رپورٹ پیش کرے گی کیونکہ جائیداد باہر، آف شور کمپنی کا ریکارڈ حاصل کرنا ناممکن، فلیٹس جن کے نام ہیں وہ بھی بیرون ملک اور جس نے فون کیا وہ ڈپلومیٹ ہے، رائل فیملی سے تعلق رکھتا ہے اس کو انویسٹی گیٹ نہیں کر سکتے۔ دیکھنا ہے کہ عدالت جے آئی ٹی کی کس طرح نگرانی کرتی ہے۔ بظاہر تو یہ حکومت ککی نگرانی میں ہی دکھائی دیتی ہے۔ کوئی بھی بڑی سے بڑی جے آئی ٹی 60 دنوں میں اتنی بڑی تحقیقات نہیں کر سکتی۔ تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے کہا ہے کہ عمران خان کو 10 ارب روپے کی پیش کش سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے آئی تھی۔ کہا گیا تھا کہ اپنا رویہ نرم کر لیں اور پانامہ کے حوالے سے جو بھی فیصلہ آئے اسے تسلیم کر لیںاور احتجاج نہ کریں۔ یہ پیش کش کوئی حیران کن بات نہیں، نون لیگ نے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے ہمیشہ پیسہ استعمال کیا۔ وہ برسوں سے ایسی ہی سیاست کرتے آ رہے ہیں۔ انتخابات کے قریب آتے ہی ہر حلقے میں اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں، حکومتی اعداد و شمار کے مطابق روزانہ 7 ارب روپے کا قرضہ لیا جا رہا ہے۔ عمران خان نے مجھے اس پیش کش بارے 15 دن پہلے بتایا تھا اورخوب ہنسے تھے لیکن اب پانامہ کا ماحول بہت گرم ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یقین ہے کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں جے آئی ٹی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کر سکے گی۔ امید ہے کہ اس کی روزانہ کی کارروائی میڈیا سے چھپ نہیں سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ رمضان سے پہلے 6,5 جلسے کریں گے، بنیادی مطالبہ وزیراعظم کا استعفیٰ ہے کیونکہ وہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر کے جے آئی ٹی کی کارروائی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain