پہلی فلم ریلیز ہونے کے بعد عینی جعفر مشکلات میں گھِر گئیں

لاہور(کلچرل رپورٹر)پہلی فلم کے فلاپ ہونے سے پروڈیوسراداکارہ عینی جعفری کو کاسٹ کرنے سے گریزکرنے لگے،بڑی سکرین پرکام کرنے کا خواب بکھرگیا۔ ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ و ماڈل عینی جعفری نے چندماہ قبل ریلیز ہونے والی فلم” بالو ماہی“کے ذریعے سلورسکرین پرانٹری دی لیکن یہ فلم بری طرح فلاپ رہی جس کے بعد ایسے بہت سے پروڈیوسر جو پہلے عینی جعفری سے رابطے کررہے تھے انہیں کاسٹ کرنے سے گریز کرنے لگے۔اس بارے میں ذرائع نے بتایا ہے کہ عینی جعفری خود بھی مزیدفلموں میں کام کرنے کے لئے دلچسپی لے رہی تھیں ۔جبکہ کئی لوگوں سے ان کے رابطے بھی تھے لیکن جیسے ہی ان کی فلم فلاپ ہوئی سب نے خاموشی اختیار کرلی جس کے بعد اب عینی جعفری صرف فیشن اور ٹی وی پر ہی کام کررہی ہیں۔

اے بی ڈویلیئرکے بیٹے ابراہم کی نیٹ پریکٹس کی ویڈیو نیٹ پر وائرل

ممبئی (سپورٹس ڈیسک) دنیا ئے کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی اے بی ڈویلیئر نے اپنے بیٹے ابراہم کو چھوٹی عمر میںہی نیٹ پریکٹس شروع کرادی ،باپ بیٹے کی ویڈیو نیٹ پر وائرل ہوئی تو سوشل میڈ یا صارفین نے دونوں کو دل کھول کر داد دی۔تفصیل کے مطابق اے بی ڈویلیئر اس وقت بھارت میں موجود ہیں اور وہ آئی پی ایل کی فرنچائز رائل چیلنجز بنگال کی طرف سے کھیل رہے ہیں۔آئی پی ایل کے حالیہ سیز ن میں اے بی ڈویلیئر نے محض تین میچوں میں 137رنز بنائے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی 141.23ہے.سٹار کرکٹر کی عمدہ پرفارمنس کا راز یہ ہے کہ وہ گرا?نڈ کو اپنا زیادہ سے زیادہ وقت دیتے ہیں اور کئی کئی گھنٹے مسلسل بیٹنگ پریکٹس کرتے ہیں۔ان ہی پریکٹس سیشنز کی ایک ویڈیو نیٹ پر وائرل ہو گئی جس میں اے بی ڈویلیئر اپنے بچے کو کرکٹ کے گڑ بھی سکھا رہے ہیں جبکہ ابراہم اپنے باپ کو نیٹ پریکٹس کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے ،اے بی ڈویلیئر اپنے بیٹے کو آر سی بی کے نعرے بھی لگوا ر ہے ہیں ،سوشل میڈ یا صارفین نے باپ بیٹے کے ان خصوصی لمحات کی ویڈیو کو خوب سراہا۔

جے آئی ٹی کو آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کیلئے پانامہ تک رسائی نہیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثوں کے حوالے سے تحقیقات کیلئے ممکنہ طور پر تشکیل دی جانے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) ٹیکس معاملات میں مشترکہ انتظامی اسسٹنس پر کثیر جہتی کنونشن کے ذریعے دیگر ممالک سے ستمبر 2018 تک معلومات لینے سے قاصر ہے۔ پاکستان اپریل 2017 میں 109 ممالک پر مشتمل معاشی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کا باقاعدہ حصہ بنا تھا، اس تنظیم کے قیام کا مقصد رکن ممالک کے درمیان ٹیکس اور مالی معاملات کی معلومات شیئر کرنا ہے، اس تنظیم کا حصہ بننے کے بعد آئندہ سال سے پاکستان کو اسے اثاثوں کی تفصیلات خود بہ خود ملنا شروع ہوجائیں گی۔ اس کثیر جہتی کنونشن کے تحت پاکستان کو اپنے شہریوں کے بیرون ملک فنڈز کی تفصیلات موصول ہونا شروع ہوجائیں گی اور پاکستان کو بھی تنظیم کے رکن ممالک کے شہریوں کے بینک اکانٹس کی ایسی ہی معلومات جولائی 2018 سے دینا ہوں گی۔ اس حوالے سے غیر رہائشی افراد کی تفصیلات جولائی 2017 سے جون 2018 کے درمیان شیئر کی جائیں گی اور ان بینک اکانٹس کی معلومات بھی دی جائیں گی جو اس عرصے سے قبل کھولے گئے۔ اس کے بدلے میں پاکستان بھی اس عرصے میں پاکستانیوں کے اثاثوں کی معلومات مذکورہ 109 ممالک سے حاصل کرسکے گا۔ خیال رہے کہ اس عمل کا آغاز پاکستان میں بہت دیر سے ہورہا ہے کیونکہ وہ او ای سی ڈی کا رکن بننے والا آخری ملک تھا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز اپنے ایک فیصلے میں جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا تھا جو 60 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی اور 13 سوالوں کے جواب تلاش کرے گی، جن کی تحقیقات ہونی چاہیے اور ان کے جواب تلاش کیے جانے چاہیے۔ یہ بھی یاد رہے کہ پاناما پیپرز اور باہاماس لیکس میں 444 آف شور کمپنیوں کے مالکان، جن میں وزیراعظم کے بیٹے بھی شامل ہیں، کے انکشاف کے بعد ستمبر 2016 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے باقاعدہ طور پر اس لیکس کی تفتیش کا آغاز کردیا تھا۔ ایک افسر نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ اگر ضرورت محسوس کی گئی تو جے آئی ٹی بیرون ملک میں موجود متبادل مقامی اور ذاتی ذرائع سے کیس کی تحقیقات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تاہم اس وقت تک جے آئی ٹی وزیراعظم اور ان کے بیٹے کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات پر ہی انحصار کرے گی۔ لیکن پاکستان کے پاس دنیا کے 9 ایسے مقامات، جو ٹیکس بچانے کیلئے جنت سمجھے جاتے ہیں، سے ایسا کوئی دو طرفہ معاہدہ نہیں ہے کہ ان سے ڈبل محصولات کے ثبوت حاصل کیے جاسکیں، یا یہ معاہدے ان ممالک کو ایسی معلومات کی فراہمی کا پابند کرسکیں۔ ایف بی آر کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق 444 افراد کے نام لیکس میں موجود ہیں جنھوں نے ان دنیا کے 9 مقامات، برطانوی ورجن جزائر (271)، باہاماس (25)، پاناما (84)، سے شیلز (44)، نیو (10)، ساموا (4)، ماریشس (3)، انگویلا (2)، جرسی (ایک) میں کمپنیوں کے مالکان ہیں خیال رہے کہ ان 9 میں سے دو علاقے باہاماس اور نیو، او ای سی ڈی کنویشن کا حصہ نہیں ہیں جبکہ دیگر 7 بلا واسطہ اور بل واسطہ اس کنویشن کے دائرے میں آتے ہیں۔ ان میں سے 3 علاقے براہ راست برطانیہ کے کنٹرول میں ہیں، جن میں ورجن جزائر، انگویلا اور جرسی شامل ہیں، ان 444 افراد میں سے 274 نے ان تین مقامات پر کمپنیاں قائم کررکھی ہیں۔ مارچ 2014 میں برطانیہ نے او ای سی ڈی کا دائر کار ان تینوں مقامات تک بڑھا دیا تھا۔ واضح رہے کہ جو کمپنیاں وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کی ملکیت میں ہیں وہ بیشتر برطانوی ورجن جزائر میں قائم ہیں۔ ان 9 مقامات سے آف شور کمپنیوں کی معلومات کیلئے ایف بی آر کو وزارت خارجہ کے ذریعے رسائی حاصل کرنا ہوگی۔ ایک عہدیدار نے نجی ٹی وی کو یہ تصدیق کی کہ ان تمام 9 مقامات سے معلومات حاصل کرنے کیلئے 18 اکتوبر 2016 کو ایک خط لکھا جاچکا ہے، جس میں ان کے ریونیو حکام سے ضروری معلومات اور دستاویزاتی ثبوت مانگے گئے تھے۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ 17 فروری 2017 کو ایف بی آر نے اس معاملے پر وزارت خارجہ کو ایک یاد دہانی بھی کراوئی تھی، ‘ہمیں ساموا سے ایک جواب بھی آیا، جنھوں نے پاکستان کے ساتھ ایسی کوئی بھی معلومات شیئر کرنے سے انکار کردیا’، عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ساموا کا موقف تھا کہ پاکستان اور ان کے درمیان مشترکہ ڈبل ٹیکسیشن کا معاہدہ موجود نہیں ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ اس وقت سے ایف بی آر نے ساموا سے مذکورہ معاہدے کیلئے کام کا آغاز کردیا ہے،’ہم دیگر علاقوں سے بھی دو طرفہ معاہدوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں’۔ ایف بی آر کے انٹیلی جنس ڈائرکٹریٹ کے مطابق بورڈ پاناما پیپرز میں نشاندہی کی جانے والی کمپنیوں کے مالکان کو 344 نوٹسز جاری کرچکی ہے۔ ان کے ذریعے کمپنیوں کی ملکیت، ان مالی تفصیلات اور دیگر ٹیکس معاملات کی معلومات طلب کی گئی تھیں۔ ایف بی آر ڈائریکٹریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) کو 250 افراد کی جانب سے جواب موصول ہوئے جن میں سے 72 افراد نے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کی تصدیق کی۔ عہدیدار کے مطابق 12 افراد کی موت کی وجہ سے ان کی بیواں نے جواب دیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ 55 افراد نے دعوی کیا ہے کہ پاناما پیپرز میں نشاندہی کی جانے والی آف شور کمپنیوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس حوالے سے 9 افراد نے اپنے جواب میں کہا کہ وہ پاکستانی حکام کی حدود میں نہیں آتے کیونکہ پاکستان میں مقیم نہیں ہیں۔ اس حوالے سے 72 کیسز میں مختلف وجوہات کی وجہ سے تحقیقات خارج کرنا پڑیں جبکہ 84 کیسز میں مذکورہ افراد کا پتہ نہ ہونے کی وجہ سے نوٹسز جاری نہ کیے جاسکے۔ریونیو عہدیدار کے مطابق پاناما پیپز میں 155 افراد 600 کمپنیوں کے ڈائریکٹر بتائے گئے تھے، ‘ ان میں سے بیشتر نے محصولات ادا نہیں کیے’۔

جینا مرنا ، اوڑھنا بچھونا ، عوام کی خدمت …. وزیر اعلی پنجاب نے بڑا اعلان کر دیا

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ ہمارا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہے اور اوڑھنا بچھونا عوام کی خدمت ہے – وزیراعظم کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے منشور کے مطابق عوامی خدمت کا ایجنڈا کامیابی سے آگے بڑھایا ہے – پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 2013ءکے انتخابات میں عوام کے دیئے گئے مینڈیٹ کی لاج رکھی ہے اور عوام سے کئے گئے ہروعدے کی تکمیل کی جانب بڑھ رہے ہیں – رواں سال وعدوں کی تکمیل کا سال ہے – جاری توانائی منصوبوں کی تکمیل سے اس سال کے آخر تک ملک سے ہمیشہ کیلئے اندھیرے چھٹ جائیں گے – پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت وزیر اعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں بے لوث عوامی خدمت کا سفر جاری رکھے گی اور محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان دنیا کا عظیم ترین ملک بنے گا -باشعور عوام ترقی و خوشحالی کی مخالفت کی سیاست کرنے والوں کا 2018ءکے عام انتخابات میں محاسبہ کریں گے – وزےراعلیٰ محمد شہبازشرےف نے ان خےالات کا اظہار مسلم لےگ(ن) کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کےا۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے وسائل کے درست اور شفاف استعمال کو یقینی بنایا ہے – ماضی کے 70برس کے دوران قومی وسائل کو بے دردی سے لوٹا گےااوروسائل کی بندر بانٹ کر کے قوم کے ساتھ سنگےن مذاق کےاگےا۔ انہوںنے کہا کہ وسائل کا شفاف اور دیانتدارانہ استعمال ےقےنی بنا کرپاکستان مسلم لےگ(ن) نے نئی تارےخ رقم کی ہے اور قومی وسائل کی پائی،پائی ایمانداری سے فلاح عامہ کے پروگراموں پر صرف کی گئی ہے – انہوںنے کہا کہ سابق حکمرانوں نے قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹا اور غریب قوم کا حق چھینا – قوم کو اندھیرو ںمیں دھکیلنے کے مجرم بھی سابق حکمران ہی ہیں – غریب قوم کی خون پسینے کی کمائی پر ہاتھ صاف کرنے والے خائنوں کے کڑے احتساب کا وقت آگیا ہے اورقومی دولت لوٹنے والے خائنوں کابے رحم احتساب ہونا چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا نصب العین صرف اور صرف عوام کی بے لوث خدمت ہے – پاکستان میں الزام تراشی کی نہیں بلکہ صرف خدمت کی سیاست ہو گی -مفاد عامہ کے منصوبوں پر بلا جواز تنقید کرنے والے عوام کی خوشیوں کے قاتل ہیں – انہوںنے کہا کہ فلاح عامہ کے منصوبوں میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو غریبوںکی محرومیوں کا خاتمہ گوارا نہیں – قومی وسائل کی لوٹ مار کرنے والوں کے کڑے احتساب سے ہی الزامات کی سیاست ختم ہو گی- انہوںنے کہا کہ قومی وسائل لوٹنے والے پارسائی کے دعوے کریں اور کرپشن کے خاتمے پر لیکچر دیں ، یہ قابل افسوس ہے – اربوں روپے کے قرضے معاف کرانےوالوں نے بھی غریب قوم کا خون چوسا ہے – قرض معاف کرانے والوں کو بھی کٹہرے مےں لانا ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ باشعور عوام لوٹ مار کر کے قوم کو کنگال اوردھرنے دے کر معیشت کا دھڑن تختہ کرنے والوں کوہرموقع پر مسترد کرچکے ہےں- دور آمریت کے حکمرانوںنے قومی وسائل کی لوٹ مار اور اپنی سیاہ کاریوں میںکوئی کسر نہ چھوڑی- مشرف کے حواریوں نے چنیوٹ کے خزانوں کا ٹھیکہ اپنی من پسند کمپنی کو بغیر ٹینڈرنگ دے کر بد ترین ڈاکہ زنی کی – انہوںنے کہا کہ ان حکمرانوں نے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر زمینو ںکا کاروبار کیا اور پنجاب بنک پر اربوں روپے کا ڈاکہ ڈالا- ان لٹیروں نے قومی وسائل پر بدترین ڈاکہ زنی کر کے امیر قوم کو غریب کر دیا ہے – وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ہیلتھ کیئر سسٹم کی بہتری کیلئے اٹھائے گئے اقدامات اورشعبہ صحت میں جاری اصلاحاتی پروگرام پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا-وزیراعلی محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عوام کو معیاری اور جدید طبی سہولتوں کی فراہمی کا مشن ہر قیمت پر پورا کریں گے -محنت، عزم اور جذبے سے کام کرتے ہوئے ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں- انہوں نے کہاکہ ہمیں دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے تیز رفتاری سے آگے بڑھنا ہے – عام آدمی کو بہتر علاج معالجہ کی فراہمی کیلئے ہر طرح کے وسائل حاضر ہیں – وزیر اعظم نیشنل ہیلتھ انشورنس پروگرام صوبے کے چار اضلاع میں کامیابی سے جاری ہے اوراس پروگرام کا دائرہ صوبے کے تمام اضلاع تک بڑھایا جائے گا- انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ادویات کی خریداری ،ترسیل اور تقسیم کا جدید نظام متعارف کرایا ہے اوراس نئے نظام سے ادویات کی خرد برد اور جعلی و غیر معیاری ادویات کے دھندے کاخاتمہ ہو گا- انہوں نے کہاکہ ادویات کے نمونے تجزیے کے لئے غیر ملکی لیبز میں بھجوائے جا رہے ہیں اورادویات کے نمونے اکٹھے کرنے اور تجزیے کیلئے بھجوانے میں اچھی کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی- ادویات کی خریداری ، ترسیل اور تقسیم کا جدید نظام مریضوں کو معیاری ادویات کی فراہمی کی جانب اہم اقدام ہے – انہوں نے کہاکہ تمام اضلاع میں سی ٹی سکین مشینوں کی فراہمی کے پروگرام پر عمل پیرا ہیں – ضلعی ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینوں کی تنصیب سے مریضوں کو 24 گھنٹے سی ٹی سکین کی سہولت ملے گی- وزیراعلی نے تمام سرکاری ہسپتالوں میں نصب ڈائلسز مشینوں کا آڈٹ کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ ہسپتالوں میں نیفرالوجسٹ کی کمی دور کرنے کے لئے تیزی سے اقدامات کئے جائیں-انہوں نے کہا کہ موبائل ہیلتھ یونٹس دور دراز علاقوں میں عوام کو معیاری طبی سہولتیں ان کی دہلیز پر مہیا کر رہے ہیں – وزیراعلی نے ہدایت کی کہ مزید موبائل ہیلتھ یونٹس کی خریداری کا عمل تیز ی سے مکمل کیا جائے – بلڈ بنک، خون کے حصول اور انتقال خون کے امور کے حوالے سے جامع پلان پیش کیا جائے- انہوںنے کہاکہ صوبے کے 9 ڈویژن میں موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کاجلد اجراءکیا جا رہا ہے اورموٹر بائیکس ایمبولینس سروس کیلئے سٹاف کی تربیت کا عمل جاری ہے -پنجاب حکومت نے ہسپتالوں کی ایمبولینس سروس کا انتظام محکمہ صحت سے ریسکیو 1122 کے حوالے کر دیا ہے – ایمبولینس سروس کے نئے نظام سے مریضوں کو بروقت ہسپتال پہنچانے کے حوالے سے بے پناہ بہتری آئے گی- ایمبولینس کے نئے نظام سے غریب مریضوں کا استحصال کرنے والے مافیا کا قلع قمع ہو گا- انہوں نے کہاکہ پیشنٹ ٹرانسفر سروس حکومت پنجاب کا انقلابی اقدام ہے -انہوں نے کہاکہ محنت ، عزم اور جذبے کے ساتھ دکھی انسانیت کی خدمت کا فریضہ ادا کرنا ہے – ہیلتھ کیئر سسٹم کی بہتری کیلئے تسلسل کے ساتھ کاوشیں کرنے سے نتائج نکلیں گے – ڈی جی ریسکیو 1122 نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ پرانی ایمبولینسز کی نیلامی کے تمام انتظامات کر لئے گئے ہیں اور81 ناکارہ ایمبولینسز کی نیلامی اسی ماہ ہو گی-صوبائی وزراءخواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر ، مشیر ڈاکٹر عمر سیف، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز، طبی ماہرین اور اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی- وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو ٹیلی فون کیااورریفرنڈم میں کامیابی پر ترک صدر رجب طیب اردوان کو مبارکباد دی-وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے کہا کہ ترکی کے عوام نے آپ کی عظیم قیادت پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت کی ہے -آپ کی ولولہ انگیز قیادت میں ترکی نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں -انہوںنے کہا کہ ترک عوام نے ریفرنڈم میں اپنے ہردلعزیز قائد کے حق میں ووٹ دے کر ثابت کیا ہے کہ آپ ان کے دلوں میں بستے ہیں اورآپ نے جس طرح اپنے عوام کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور ان کی خدمت کی ہے، یہ ریفرنڈم اس خدمت کی فتح ہے-انہوںنے کہا کہ ترک عوام نے ووٹ کی طاقت سے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ محنت، خدمت اور دیانت کی سیاست کا کوئی نعم البدل نہیں- وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے فیروزوالامیں زیر تعمیر مکان میں کام کے دوران کرنٹ لگنے کے باعث تین مزدوروں کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعلی نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ زخمی ہونے والے مزدوروں کو علاج معالجے کی بہتریں سہولتیں فراہم کی جائیں۔

”بل دو بجلی لو “…. خواجہ آصف نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

کراچی، لاڑکانہ، بدین، خیرپور، ٹنڈوالٰہ یار، اسلام آباد (نمائندگان خبریں) کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بھی پیپلزپارٹی نے لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے کئے۔ سندھ کے مختلف شہروں میں نواز حکومت کے خلاف نعرے بازی اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ ٹھٹھہ میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے قومی شاہراہ پر دھرنا دیا اور ٹائر جلا کر روڈ بلاک کیا جس سے کئی گھنٹے ٹریفک جام رہا۔ جیکب آباد کے ڈی سی چوک پر بھی جیالوں نے احتجاج کیا۔ کندھ کوٹ گھنٹہ گھر بھی گو نواز گو کے نعروں سے گونج اٹھا۔ خیرپور میں سیپکو اافس کے سامنے جیالوں نے مظاہرہ کیا۔ ٹنڈوالٰہ یار میں کیریا شاخ پر دھرنے کے باعث اندرون سندھ جانے والی ٹریفک بلاک ہو گئی۔ نوشہروفیروز، بدین اور دیگر شہرو ںمیں بھی مظاہرے کئے گئے۔ کراچی میں چھٹی کے دن بھی سیاسی کارکنوں کو دھٹی نہ ملی۔ کراچی سیاسی ریلیوں کا مرکز بن گیا۔ پیپلزپارٹی نواز حکومت کے خلاف میدان میں اتری۔ حسن اسکوائر اور لیاری میں گو نواز گو ریلیاں نکالی گئیں۔ پیپلزپارٹی نے کے الیکٹرک کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ پانامہ فیصلے پر کراچی میں یوم تشکر منایا گیا اور ریلی نکالی گئی جبکہ نعرے بھی لگائے گئے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان بھی کراچی کے عوام کے مسائل کے حل کے لئے سڑکوں پر آ گئی۔ ان ریلیو ںکے باعث شہر کی چھوٹی بری اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی فراہمی معطل رہی۔ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات مولابخش چانڈیو نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے ،وہ عہدے سے مستعفی ہو جائیں تو ذلت سے بچ جائیں گے، نوازشریف سے پیار کرتا ہوں ، میرا مشورہ ہے وزیراعظم وہ گھر چلے جائیں،ایک متعصب وزیر خود وزیراعظم کا دشمن ہے، ایان علی کا نام لیتے ہی اس کا ایمان جوش میں آجاتا ہے۔حیدرآباد میں پیپلز پارٹی کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولابخش چانڈیو نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اعلیٰ ترین عدالت کے 2 ججوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیا اور کہہ دیا کہ وزیراعظم صادق و امین نہیں رہے جبکہ 3 ججوں نے بھی کہا کہ وزیراعظم جھوٹے ہیں ان کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شرم کی بات ہے کہ(ن)لیگ والے کہتے ہیں کہ حکومت بچ گئی، سپریم کورٹ نے بوگس کہہ دیا اب نااہلی کے لیے مزید کیا چاہیے، نوازشریف اب عدالت عظمی سمیت پوری قوم کے سامنے صادق اور امین نہیں رہے۔مولابخش چانڈیو نے کہا کہ نوازشریف کے بہت سے رشتے دار وزیر ہیں، وہ اگر عہدہ چھوڑ بھی دیں تو اپنے خاندان میں سے کسی کو اپنے منصب پر بٹھا دیں لیکن اتنی تنقید سننے کے بجائے اس وقت وہ مستعفی ہوجائیں تو یہ ان کے لئے اور ملک کے لئے بہتر ہے، وزیراعظم سے استعفی کا مطالبہ اس لئے کر رہا ہوں کیوں کہ مجھے ان سے پیار ہے، اس وقت یہ صرف پیپلزپارٹی کا نہیں پوری قوم کا مطالبہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے فیصلوں نے ثابت کردیا ہے کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے ہیں۔ اس لئے وہ ازخود مستعفی ہوجائیں ورنہ قوم گو نواز گو تحریک کے ذریعے انہیں گھر بھیج دے گی۔ اگر وزیراعظم نے استعفیٰ نہیں دیا تو پورے ملک میں گو نواز گو تحریک کے تحت نواز شریف کے خلاف احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور دھرنے دیئے جائیں گے۔ نواز شریف کی رخصتی تک یہ تحریک جاری رہے گی۔ جب کسی کے خلاف مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنتی ہے تو وہ ایماندار آدمی نہیں ہوتا بلکہ ملزم ہوتا ہے۔ عدالت نے نواز شریف کے خلاف جے آئی ٹی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ نواز شریف کے پاس یہ آپشن بچتا ہے کہ وہ استعفیٰ دے کر ان الزامات کا سامنا کریں۔ ان خیالات کا اظہار اتوار کو پیپلز پارٹی کے تحت گو نواز گو تحریک، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سوئی گیس کی بندش کے حوالے سے حسن اسکوائر ضلع ایسٹ، ریگل چوک ضلع ساﺅتھ، پریس کلب ملیر، حیدری چوک ضلع وسطی، عیدگاہ آفس ضلع غربی پانچ نمبر اورنگی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں سے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو، جنرل سیکریٹری وقار مہدی، سینیٹر تاج حیدر، سینیٹر سعید غنی، ایم این اے ڈاکٹر شاہدہ رحمانی، ایم این اے عبدالحکیم بلوچ ، شہلا رضا، ظفر صدیقی، غلام مرتضیٰ بلوچ، ایم کے جاوید ناگوری، جاوید شیخ، خلیل ہوت، اقبال ساند، لیاقت آسکانی، ساجد علی جوکھیو اور دیگر رہنماﺅں نے کیا۔ پیپلز پارٹی کی ضلعی تنظیموں نے الگ الگ مقامات پر گو نواز گو تحریک کے تحت احتجاجی مظاہرے کئے جس میں پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں، کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان نے ذوالفقار علی بھٹو، بےنظیر بھٹو، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری کی تصاویر اور پارٹی کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے جبکہ بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر وفاقی حکومت اور نواز شریف کے خلاف نعرے درج تھے۔ پیپلز پارٹی نے نعرے لگائے کہ گلی گلی میں شور ہے نواز شریف چور ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان نے گو نواز گو اور وزیراعظم کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی، چودھری شجاعت اور جماعت اسلامی کا کتنا زور ہے ہمیں سب پتا ہے، 2018ءکے الیکشن میں زور آزمائی ہو گی تو پتا چل جائے گا، عوام اگر بجلی کے بل وقت پر ادا نہیں کریں گے تو ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ احتجاج اور جلوس نکالنے کے بجائے سیاسی رہنما لوگوں کو بل ادا کرنے کی ترعیب دیں اور کنڈے لگا کر بجلی چوری نہ کریں، عوام غلط ذرائع استعمال کر کے بجلی استعمال کرنے والو ںکا ساتھ نہ دیں۔ بجلی چوری نہیں ہو گی تو ہی ملک میں لوڈ شیڈنگ کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ جن علاقوں میں 70 فیصد سے زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے وہاں ہی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ سندھ بھر میں بجلی کی صورتحال بہتر ہوئی، اب صرف اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، پچھلے تین چار دن میں لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں صارفین باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں وہ بجلی کی فراہمی مکمل ہے، غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کہیں نہیں کی جا رہی اور جن علاقوں میں احتجاج ہو رہا ہے وہاں ہائی لاسز ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بجلی کی کل پیداوار 12948 میگا واٹ ہے، دوپہر ایک بجے بجلی کی ڈیمانڈ 17399 میگا واٹ تھی جبکہ آج بجلی کا شارٹ فال 4451 میگا واٹ ہے۔ لوڈ شیڈنگ تو پورے ملک میں ہو رہی ہے، صرف ایک صوبے میں نہیں۔ سندھ، بلوچستان اور کے پی کے میں ابھی بھی بہت سے علاقوں میں وصولی میں مشکلات ہیں، بل ادا نہ کرنے والوں کو ریلیف نہیں ملے گا۔

مریم نواز نے کارکنوں کو خبردار کر دیا… یہ کام مت کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنمااور وزیر اعظم پاکستان کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے اپنی جماعتوں کے کارکنان کو سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے اور انہیں گالیاں دینے سے منع کردیا۔ سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام سے پہلے مریم نواز نے ترمذی شریف کی حدیث کسی بھی شخص کی تضحیک کرنا، اسے برے ناموں سے پکارنا، گالیاں دینا اور دوسروں کے ساتھ بے ہودہ رویہ اپنانا کسی بھی مومن کا وطیرہ ہر گز نہیں ٹوئٹ کی اور اگلے ٹوئٹ میں انہوں نے اپنے پہلے ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میری تمام مسلم لیگ ن کے سپورٹرز سے گزارش ہے کہ وہ ن لیگ کے مخالفین کو برا بھلا نہیں کہیں گے۔

سعودی حکام نے 2 ماہ پہلے راحیل شریف بارے …. اہم انکشاف ہو گیا

اسلام آباد (مانٹیرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ میں حلفاً کہتا ہوں 2 ماہ پہلے عمرے پر گیا تو سعودی حکام نے وہاں سابق آرمی چیف راحیل شریف سے متعلق مجھ سے بات کی تھی ، وطن واپسی پر انھوں نے خط بھی لکھاجس پر حکومت پاکستان نے رضامندی کا اظہار کیا۔سعودی عرب ہمارا تاریخی دوست ہے ،ان سے ہر طرح کا تعاون کریں گے۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ راحیل شریف نے ہفتہ پہلے این او سی کے لئے درخواست دی تھی، جس پر ہم نے قواعد اور ضوابط دیکھے،جی ایچ کیو نے منظوری دی ،میں نے بھی دستخط کیے اور پھروہ سعودی عرب چلے گئے۔ سابق آرمی چیف ملٹری الائنس اگینسٹ ٹیررازم کے چیف ہوں گے، یہ تمام باتیں مئی میں طے ہوجائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں راحیل شریف کا احترام کرتا ہوں، اور ان کو مکمل تحفظ بھی دیا جائے گا، الائنس تعین کرتاہے کہ کس کے کیا مراعات ہوں گے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیر دفاع سے میری تین سے چار ملاقاتیں ہوئی ہیں، ان کے تحفظات دور کریں گے، یہ ہماری ذمہ داری اور فرض ہے کہ ان کے خدشات کو دور کیا جائے۔ ای سی اور کی کانفرنس کی کامیابی میں ایران نے بہت بڑا کردار ادا کیا،ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

”اسلامی عسکری اتحاد “ پاک فوج کتنے افسر اور نوجوان سعودی عرب روانہ ؟؟ بڑی خبر آ گئی !!

لاہور (سیاسی رپورٹر) معلوم ہوا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے سعودی عرب پہنچتے ہی اسلامی عسکری اتحادکی تشکیل، ڈھانچے اور کس ملک سے سامان حرب اور کتنی تعداد میں فوجی لئے جائیں گے یہ غور کیا جائے گا اور اس سلسلے میں اگلے ماہ ہونے والی اسلامی ممالک کی کونسل آف ڈیفنس منسٹرز کے اجلاس میں ان تفصیلات کا اعلان کر دیا جائے گا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اب تک جو امور طے ہوئے ہیں ان کے مطابق پاکستان سے ایک بریگیڈ حاضر سروس فوج سعودی عرب بھیجی جائے گی اور اس ضمن میں موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کچھ دن پہلے سعودی عرب کے دورے میں حتمی فیصلہ بھی کر چکے ہیں ۔اس ضمن میں رسمی طور پر مسلم ممالک کی دفاعی وزراءکی کونسل میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان سے فوجی اہلکاروں اور افسروں کی تعداد اور سامان حرب کی درخواست کی جائے گی۔جن کے جواب میں توقع ہے کہ جیسا کہ تفصیلات باہمی طور پر طے ہو چکی ہیں وزیراعظم پاکستان اس کی منظوری دیں گی اور حتمی دستخط صدر پاکستان جناب ممنون حسین جو آئینی اعتبار سے پاک فوج سپریم کمانڈر ہیں۔ یہ بھی ممکن کہ حکومت یہ فیصلہ منتخب پارلیمنٹ سے کروائے۔یاد رہے کہ اپنے دورہ سعودی عرب میں انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی طرف سے اعلان کردہ اسلامی امہ فوج کی ہر طریقے سے مکمل مدداور بھرپور تعاون کرے گا البتہ ان کے دورے کے حوالہ سے اسلام آباد سے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفور یہ اظہار بھی کر چکے ہیں کہ پاکستانی فوج سعودی عرب کی سرحدوں کے باہر استعمال نہیں ہو گی۔ چند روز پہلے معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے سعودی عرب کے جنرل عصیری کا انٹرویو شائع کیا ہے جس میں جنرل عصیری نے اسلامی امہ فوج کے حوالہ سے بعض تفصیلات بیان کی ہیں۔ جنرل عصیری نے امریکی اخبار کے مطابق یہ کہا ہے کہ اسلامی امہ فوج تمام رکن مسلم ممالک میں جہاں کہیں دہشتگردی ہو گی اس کے انسداد کے لئے استعمال کی جائے گی تاہم عسکری تنظیموں اور باغی عناصر کا قلع قمع کرنا ہی اس کا فرص ہو گا۔ جنرل عصیری کے مطابق باغیوں میں یمن کے حوثی باغی بھی شامل ہیں اگر یہ پالیسی طے شدہ ہے تو شاید کچھ مشکلات کھڑی ہوں کیونکہ نہ صرف پاکستان بلکہ سابقہ اور موجودہ آرمی چیف بھی اس طرف اشارہ کر چکے ہیں اورپاک فوج کا محکمہ تعلقات عامہ بھی اعلان کر چکا ہے کہ پاکستانی فوجی سعودی عرب سے باہر استعمال نہیں ہوں گے۔ حتمی فیصلہ کونسل آف ڈیفنس منسٹر یعنی اسلامی ممالک کے وزراءدفاع کی کونسل کرے گی۔ واضح رہے کہ اسلامی امہ فوج جس کے رکن ممالک کی تعداد پہلے مرحلے میں 34 بتائی گئی تھی اب 41 ممالک تک پہنچ چکی ہے اور اب اسے 41 رکنی اسلامی امہ فوج کہا جا رہا ہے۔ہمارے ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کے حاضر سروس بریگیڈ یعنی پانچ ہزار فوجی، سپاہیوں چھوٹے افسروں اور بڑے افسروں کے علاوہ ہر قسم کے سامان حرب سے لیس یہ بریگیڈ اسلامی امہ فوج کا مضبوط حصہ شمار ہو گا۔ تاہم یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اُمہ فوج کی مرکزی کمان اور ہیڈ کوارٹر کے لئے جنرل (ر) راحیل شریف نے اپنے باعتماد اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل اعلیٰ ریٹائرڈ فوجی افسروں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے کہ جن میں بریگیڈ (ر) جنرل کے عہدے کے سابق افسر شامل ہوں گے۔ پاک فوج کے ریٹائرڈ اعلیٰ افسروں سے اس سلسلے میں بعض نام لئے جا رہے ہیں جنہیں ہم اپنے قارئین کے لئے وقت آنے سے کچھ پہلے آگاہ کریں گے۔ یاد رہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے کئی ماہ پہلے ہی روزنامہ خبریں کو اعزاز مل چکا ہے کہ اس نے ایک نہیں بلکہ مختلف تاریخوں میں 6 تفصیلی خبریں شائع کی تا کہ جنرل راحیل شریف ریٹائرمنٹ کے بعد اسلامی امہ فوج کے سربراہ بن رہے ہیں اس سلسلے میں ہونے والی ہر پیش رفت سے اخبار کے قارئین اور چینل ۵ کے ناظرین کو آگاہ کیا گیا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسلامی ممالک کے وزراءدفاع کونسل کے اجلاس سے پہلے جو کہ اگلے ماہ متوقع ہے یہ چارٹ تیار کر لیا جائے گا ہر ممالک کی فوج، مالی وسائل اور میسر سامان حرب کے پیش نظر ان کے ذمہ کتنے فوجی، سپاہی افسر اور کتنا سامان حرب لگایا گیا ہے۔ اور کونسل اس چارٹ کی حتمی منظوری کے بعد اعلان کرے گی۔ دریں اثناءیہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس وقت بھی سعودی عرب میں 1180 پاکستانی فوج کے تربیت یافتہ افسران اور ارکان موجود ہیں جو تربیتی مراکز کے علاوہ مشاورتی فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ یہ فوجی اور اہلکار 1982ءمیں پاک سعودیہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب بھیجے گئے تھے اور وقتاً فوقتاً انہیں تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔ اگر اسلامی امہ فوج کے لئے جیسا کہ بتایا جا رہا ہے ایک بریگیڈ حاضر سروس فوجی بھیجنے کا فیصلہ ممکن ہو گیا تو پہلے سے موجود 1180 پاکستانی فوجی افسروں اور اہلکاروں کو ملا کر کل تعداد 6180 ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ ریٹائرڈ جرنیل اور خصوصی شعبوں کے ریٹائرڈ تعداد کے علاوہ ہوں گے جنہیں جنرل (ر) راحیل شریف ہیڈ کوارٹر میں کمان کی سطح پرفرائض کی ادائیگی کے لئے خود منتخب کریں گے واضح رہے کہ ایک بریگیڈ کی خبر بھی سب سے پہلے روزنامہ خبریں سابق آرمی چیف کے عہدہ¿ ملازمت کے دوران شائع کر چکاا ہے اور گزشتہ دنوں دو ایک ذرائع سے سامنے آنے والی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ ایک بٹالین نفری السعودیہ پاک فوج سے لی جا رہی ہے کیونکہ ایک بٹالین میں صرف 800 فوجی شامل ہوتے ہیں۔ روزنامہ خبریں اور چینل ۵ کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس امر کا بھی امکان ہے کہ وزراءدفاع کونسل کے اجلاس کے بعد جو کہ اگلے ماہ متوقع ہے۔ مزید پاکستانی فوجیوں کی ضرورت پڑے گی جو اسلامی امہ فوج بنانے والے مسلم ممالک میں مضبوط ترین تجربہ کار ترین اور عالمی شہرت والے فوجی شمار ہوتے ہیں تاہم حتمی فیصلہ اس کونسل کے اجلاس کے بعد ہو گا جیسا کہ سعودی جنرل عصیری نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کو دیئے جانے والے انٹرویو میں کیا۔ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اس منصوبے بارے سابق آرمی، موجودہ آرمی چیف، وزیراعظم پاکستان کو شروع سے علم تھا یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی خبریں آنے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے پہلے تصدیق کی، پھر مشیر خارجہ سرتاج عزیز سمیت دونوں نے سینٹ میں تردید کی خبریں نے اپنی خبروں کی صحت پر اصرار کیا اور اخبار کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے اپنے ٹی وی پروگرام میں کھل کر یہ کہا کہ جناب سرتاج عزیز کا یہ کہنا آئندہ بھی اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا یہ کہنا کہ مجھے غلط فہمی ہو گئی تھی جب میں نے اس خبر کی تصدیق کی غلط اور بے بنیاد ہے خبریں نے چیف ایڈیٹر نے کہا تھا کہ اس منصوبے پر کام جاری ہے اور خبریں کے قارئین ہی نہیں دنیا دیکھے گی کہ جنرل راحیل شریف اسلامی امہ فوج کے سربراہی کے لئے سعودی عرب جائیں گے۔ بعد ازاں چند ہفتے قبل وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جووزیراعظم نوازشریف کے انتہائی قریبی معتمد اور رشتہ دار ہیں نے یہ دھماکہ کر دیا کہ اسلامی امہ فوج کے لئے جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب جانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ امر بھی واضح رہے کہ اس منصوبے کی وزیراعظم نوازشریف کو مکمل تائید اور حمایت حاصل ہے اور ہر مرحلہ پر رہی ہے اور مستقبل میں بھی یہی امکان ہے کہ امن فوج کی ضرورت کے پیش نظر ایک پاکستانی بریگیڈ یعنی اہلکاروں اور افسروں کو اسلامی امن فوج کے سپرد کرنے کی منظوری دے دیں گے۔

مصطفیٰ کمال نے ملین مارچ کا اعلان کر دیا

کراچی(ویب ڈیسک)پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے اور اب ہمیں دوسرے مرحلے کا آغاز کرنا ہے۔ انہوں نے 14 مئی کو 10 لاکھ افراد کے ساتھ مارچ کرنے کی کال بھی دے دی۔ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اگر چاہیں تو کراچی بند کر سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے لیکن 16 نکات تبدیل نہیں ہوں گے۔ پی ایس پی سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو حقوق ملنے تک جدوجہد جاری رہے گی۔

پاک سوزوکی نے کلٹس کا نیا ماڈل مارکیٹ میں فروخت کیلئے پیش کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ نے کلٹس کا نیا ماڈل مارکیٹ میں فروخت کیلئے پیش کر دیا۔ سوزوکی کی مشہور گاڑی کلٹس کا جدید اور دلکش ماڈل اتوار کے روز سے ملک کے 110 سوزوکی آو¿ٹ لیٹس پر فری ٹیسٹ ڈرائیو کیلئے دستیاب ہو گا۔جی ایم مارکیٹنگ اعظم مرزا نے بتایا کہ کلٹس کے نئے ماڈل میں سات رنگ، جدید کے ٹین بی انجن، ائیر بیگ، اے بی ایس بریک اور کی لیس انٹری کی سہولیات متعارف کرائی گئیں ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ نئی کلٹس مارکیٹ میں موجود تمام ہزار سی سی گاڑیوں سے بہتر مائلیج فراہم کرے گی۔
نئی کلٹس کی تعارفی قیمت کا آغاز اس کے جدید فیچرز کو مد نظر رکھتے ہوئے 12 لاکھ 50 ہزار سے کیا گیا ہے۔ لانچنگ تقریب میں ایم ڈی سوزوکی پاکستان ہیروفومن نگاو¿ اور جی ایم سپلائی چین غلام فاروق سمیت دیگر نے شرکت کی۔
1000 سی سی انجن کی طاقت کی حامل یہ گاڑی سیلیریو کے نام سے پڑوسی ملک بھارت اور تھائی لینڈ میں بھی متعارف کروائی جا چکی ہے۔ پاک سوزوکی نے پرانے ماڈل والی کلٹس گاڑیوںکی بکنگ یکم فروری سے بند کر دی تھی۔ سوزوکی نے سن 2000 میں اپنے ماڈل ’خیبر‘ کی جگہ ’کلٹس‘ متعارف کرائی تھی جو خاصی کامیاب رہی تھی۔ کمپنی نے مقامی سطح پر اپنے ماڈل مہران 800 سی سی کو 2018 تک سوزوکی ا?لٹو 660 سی سی سے تبدیل کرنے کا اعلان بھی کررکھا ہے۔