عوام کو ریلیف کی فراہمی, وزیراعلیٰ کے اہم احکامات جاری

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے کہا ہے کہ آئندہ رمضان المبارک مےں عوام کی سہولت کےلئے گزشتہ برسوں سے بڑھ کر انتظامات کےے جائےں اور اشےاءصرف کی قےمتوں مےں استحکام کےلئے کوئی بھی کسر اٹھا نہ رکھی جائے ۔معےاری اشےاءصرف کی مقررہ قےمتوں پر فراہمی کو ےقےنی بناےا جائے اور اگر کہیں بھی اس ضمن مےں کوئی شکاےت ملی تو متعلقہ انتظامےہ کو جوابدہ ٹھہراےا جائے گا۔ رمضان المبارک مےں عوام کو رےلےف کی فراہمی کےلئے کےے گئے اقدامات کی مےں خود نگرانی کروںگا۔وہ آج ےہاں رمضان المبارک مےں رمضان پےکےج ،رمضان بازار،فےئر پرائس شاپس اور سحری اورافطاری دسترخوانوں کے حوالے سے انتظامات کاجائزہ لےنے کےلئے اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے ،جس مےں رمضان المبارک کے دوران عوام کو رےلےف کی فراہمی کےلئے مجوزہ اقدامات پر تفصےلی جائزہ لےا گےا۔وزےراعلیٰ محمد شہبازشرےف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب امسال بھی رمضان المبارک مےں عوام کو رےلےف کی فراہمی کےلئے جامع پروگرام ترتےب دے رہی ہے جس کے تحت صوبہ بھر مےں 300سے زائد رمضان بازار لگائے جائےں گے جبکہ 27ماڈل بازار بھی رمضان بازاروں کے طورپر کام کرےںگے۔انہوںنے کہاکہ عوام کو معےاری اشےاءخوردونوش کی مناسب نرخوں پر فراہمی ےقےنی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے اوراس حوالے سے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔انہوںنے کہاکہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی اور ذخیرہ اندوزی کی شکایات پر متعلقہ کمشنرز، آر پی اوز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز ذمہ دار ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب بھر میں رواں برس 3 سو سے زائد رمضان بازار لگائے جائیں گے جبکہ 27 ماڈل بازار بھی رمضان بازار کے طور پر کام کریں گے۔رمضان المبارک کے دوران روزہ داروں کی سہولت کیلئے سحری و افطاری کیلئے دسترخوان لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان میں کسی بھی پھل، سبزی یا دال کی قلت پیدا نہیں ہونی چاہیئے ۔اس ضمن میں متعلقہ محکمے پیشگی اقدامات کرکے جامع میکانزم بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان بازاروں میں محکمہ زراعت کی فیئرپرائس شاپس بھی لگائی جائیں گی اور ان فیئرپرائس شاپس پر اشیاءمارکیٹ کی نسبت سستے داموں دستیاب ہوں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران اٹھائے گئے اقدامات کا محور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے، اس لئے عام آدمی کو ریلیف کی فراہمی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ معیار پر خصوصی توجہ دی جائے۔اشیائے ضروریہ کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔انہوں نے ہدایت کی کہ رمضان بازاروں میں اشیاءکی قیمتوں کو ڈیجیٹل بورڈ کے ذریعے ڈسپلے کیا جائے اور رمضان بازاروں میں آنےوالے شہریوں کو سہولتوں کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔وزیراعلیٰ نے ضلع کی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ لاہور کی پرائس کنٹرول کمیٹی کی صدارت لارڈ میئر اور کمشنر لاہور ڈویژن مشترکہ طور پر کریں گے جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں میئر یا چیئرمین ضلع کونسل ڈپٹی کمشنر کےساتھ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔ صوبائی وزراءبلال یاسین، شیخ علاﺅالدین، عائشہ غوث پاشا، نعیم اختر بھابھہ، رکن قومی اسمبلی ملک افضل کھوکھر، رکن پنجاب اسمبلی توفیق بٹ، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، قائم مقام انسپکٹر جنرل پولیس، کمشنر لاہور ڈویژن، لارڈ میئر لاہور، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ صوبائی وزیر آصف سعید منیس، ایم پی اے وحید گل، سیکرٹری زراعت اور سیکرٹری خزانہ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زےر صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا،جس مےںرحےم ےار خان مےں خواجہ فرےد ےونےورسٹی آف انجےنئرنگ اےنڈ انفارمےشن ٹےکنالوجی کے منصوبے پر پےش رفت کا جائزہ لےاگےا۔وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ رحےم ےار خان مےں پاکستان کی بہترےن انجےنئرنگ اور انفارمےشن ٹےکنالوجی کی ےونےورسٹی بنائی جارہی ہے ۔خواجہ فرےد ےونےورسٹی آف انجےنئرنگ اےنڈ انفارمےشن ٹےکنالوجی کاقےام جنوبی پنجاب کے عوام کےلئے حکومت کا اےک اورشاندار تحفہ ہوگا۔انہوںنے کہا کہجنوبی پنجاب مےں جدےد علوم کے فروغ مےں ےہ ےونےورسٹی اہم کردارادا کرے گی اورےہ ےونےورسٹی جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کواعلی معےار کی انجےنئرنگ اور جدےد تعلےم سے آراستہ کرے گی ۔ انہوںنے کہا کہ ےہ منصوبہ دےگر ترقےاتی منصوبوں کی طرح شفافےت اور معےار کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہوگا۔رحےم ےار خان مےں ےونےورسٹی کا قےام انتہائی اہمےت کا حامل منصوبہ ہے اور منصوبے پر دن رات کام کرکے اسے مقررہ مدت مےں پاےہ تکمےل تک پہنچانے مےں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے ۔انہوںنے کہاکہ ےونےورسٹی کے قےام مےں اربوں روپے کی سرماےہ کاری کے ثمرات جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کو ملےں گے۔ےونےورسٹی کی ہر فکلےٹی مےں پی اےچ ڈی کی سہولت ہونی چاہےے۔انہوںنے کہا کہ ہےومن رےسورس ،انفراسٹرکچر ،نصابی و ہم نصابی سرگرمےوں اورہر لحاظ سے ےہ ےونےورسٹی اپنی مثال آپ ہونی چاہےے۔ےونےورسٹی مےں 6ہزار طلبا و طالبات انجےنئرنگ اور جدےد علوم کی تعلےم حاصل کرےں گے۔ وزےراعلیٰ نے ہداےت کی کہ ٹےچنگ سٹاف کےلئے اعلی معےار کی رہائشگاہےں تعمےر کی جائےںاور ےونےورسٹی مےں لےنڈسکےپنگ اور ہارٹیکلچر بھی سٹےٹ آف دی آرٹ ہونی چاہےے۔ہمےں اس ےونےورسٹی کو ہر لحاظ سے پاکستان کی بہترےن ےونےورسٹی بناناہے ۔ ےونےورسٹی کے اموردےکھنے کےلئے کمےٹی اسی ہفتے رحےم ےار خان جائے گی جبکہ مےںخود بھی ےونےورسٹی کاجلد دورہ کروں گا۔ےونےورسٹی مےں تعلےمی و تحقےقی پروگراموں کے بارے مےں وزےراعلیٰ کو برےفنگ دی گئی۔صوبائی وزےر ہائر اےجوکےشن سےد رضا علی گےلانی،چےئرمےن ہائر اےجوکےشن کمےشن پنجاب ڈاکٹر نظام الدےن، رجسٹرار انفارمےشن ٹےکنالوجی ےونےورسٹی اورمتعلقہ حکام نے اجلاس مےں شرکت کی جبکہ سٹےرنگ کمےٹی کے چےئرمےن مخدوم خسرو بختےار،کمےٹی کے اراکےن، اراکےن قومی و صوبائی اسمبلی،سےکرٹری ہائر اےجوکےشن، سےکرٹری خزانہ ،کمشنر بہاولپورڈوےژن، وائس چانسلر ےونےورسٹی آف انجےنئرنگ اےنڈ ٹےکنالوجی لاہوراوردےگر متعلقہ حکام نے رحےم ےار خان سے وےڈےولنک کے ذرےعے اجلاس مےں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیرصدارت آج یہاں اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں عوام کو صحت کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے پروگرام پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا-اجلاس میںوزیر اعلی نے کاہنہ میں زیر تعمیر ہسپتال کو 100 بستروں تک بڑھانے کی منظوری دی- وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہیلتھ کیئر کے نظام میں بہتری کے لئے درست سمت میں تیزی سے اقدامات کئے جا رہے ہیں اورہیلتھ کیئر کے نظام کو خوب سے خوب تر بنانے کے لئے انڈس ہسپتال کی معاونت خوش آئند ہے -انہوںنے کہا کہ لاہور کے گرد و نواح میں صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کے لئے ہسپتال بنائے جا رہے ہیں – بیدیاں روڈ پر ہسپتال کو انڈس انتظامیہ چلا رہی ہے اوریہ ہسپتال علاقے کے لوگوں کو بہترین علاج معالجہ فراہم کر رہا ہے -اسی طرح حکومت مناواں میں بھی ایک سو بستروں پر مشتمل ہسپتال بنا رہی ہے اورسبزرہ زار میں بھی 60 بستروں پر مشتمل ہسپتال تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے -اس ہسپتال کو بھی مرحلہ وار پروگرام کے تحت 100 بستروں تک بڑھایا جائے گا-انہوںنے کہا کہ لاہور کے گرد ونواح میں قائم ان ہسپتالوں کے فنکشنل ہونے سے وہاں کے رہائشیوں کو علاج معالجہ کی بہترین سہولتیں میسر آئیں گی-انہوںنے کہا کہ بیدیاں میں ہسپتال کو 200 بستروں تک بڑھایا جائے گا-وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ سکول آف نرسنگ کے منصوبے کے قیام کا جائزہ لیا جائے- صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر، انڈس ہسپتال کے روح رواں ڈاکٹر عبدالباری ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، سیکرٹری تعمیرات و مواصلات ، کمشنر لاہور ڈویژن اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی- وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے ریفرنڈم میں شاندار کامیابی پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور ترک عوام کو مبارکباد دی ہے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے نام اپنے تہنیتی پیغام میں کہا ہے کہ ترکی کے عوام نے ریفرنڈم میں اپنے ہردلعزیز رہنما کی حمایت میں ووٹ دے کر رجب طیب اردوان کی بے لوث خدمت کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے جس طرح اپنے عوام کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور ان کی خدمت کی ہے، یہ ریفرنڈم اس خدمت کی فتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک عوام نے ووٹ کی طاقت سے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ محنت، خدمت اور دیانت کی سیاست کا کوئی نعم البدل نہیں۔میں پنجاب اور پاکستان کے عوام کی جانب سے ترک صدر رجب طیب اردوان اور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔

وزیراعظم کیلئے ”ٹرمپ“ کا خصوصی پیغام, دیکھئے بڑی خبر

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں) امریکی مشیر قومی سلامتی جنرل میک ماسٹر نے نے اپنے وفد کے ہمراہ وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط تر بنانے کی یقین دہانی کرائی۔ امریکی مشیر میک ماسٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان سمیت ساو¿تھ ایشیا ریجن میں امن اور استحکام کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے امریکی قومی سلامتی مشیر میک ماسٹر سے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ مضبوط اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری، افغانستان میں امن اور خطے کی ترقی کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر کی پاکستان اور بھارت میں ثالثی سے خطے میں پائیدار امن و خوشحالی آئے گی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لئے امریکا کے ساتھ پائیدار اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کا خواہاں ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر سمیت پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لئے پائیدار مذاکرات اور بامعنی رابطے ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے پاکستان اوربھارت کی تنازعات خصوصاً کشمیر کے مسئلے کے حل میں مدد کرنے کیلئے صدر ٹرمپ کی آمادگی کا خیر مقدم کیا۔ اس سے قبل جنرل میک ماسٹر نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے بھی ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی سکیورٹی اور افغانستان میں قیام امن کے معاملات زیر غور آئے۔ اس سے قبل امریکی مشیر برائے قومی سلامتی میک ماسٹر نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق وزرات خارجہ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق مشیر خارجہ نے میک ماسٹر کو پاک، بھارت تعلقات، کشمیر میں بھارتی مظالم، پاکستان میں بھارتی مداخلت اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور پاکستان دشمن سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم ہاﺅس اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر محمد نواز شریف کی زیر صدارت خیبر پختونخوا کے سینیئرمسلم لیگی رہنماﺅںکا اجلاس منعقد ہوا جس میں پارٹی کے معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی ۔ باہمی مشاورت سے انجینئر امیر مقام کو مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کا صدراور مرتضیٰ جاوید عباسی کو جنرل سیکرٹری مقرر کردیا گیا ۔ اجلاس میں تمام رہنماﺅں اور وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے سابق صدر پیر صابر شاہ اور جنرل سیکرٹری رحمت سلام خٹک کی خدمات، پارٹی سے وابستگی کو سراہا اور اُنہیں خراجِ تحسین پیش کیا ۔ وزیراعظم نے اِس موقع پر نئے عہد یداران کو مبارک باد دی اور اِس توقع کا اظہار کیا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے زیادہ متحرک اور فعال کردار ادا کریں گے۔ خیبر پختونخواہمیشہ سے مسلم لیگ (ن) کا گڑھ رہا ہے اور انشااللہ آئندہ انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے بھر پور اور مسلسل کوشش کی جائے گی ۔ عوام کی محرومیوں اور شکایات کا ازالہ کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔ عوامی رابطہ مہم کو ہر سطح پر منظم طریقے سے چلایا جائے گا ۔ امیر مقام اور مرتضیٰ جاوید عباسی نے اعتماد کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور اُنہیں یقین دلایا کہ وہ مسلم لیگ( ن) کو خیبر پختونخوا میں مزید مقبول بنانے اور نواز شریف کا ترقی ، خوشحالی اور روشن پاکستان کا پیغام خیبر پختونخوا کے عوام تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ اجلاس کے آخر میںسابق جنرل سیکرٹری مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا رحمت سلام خٹک کی والدہ مرحومہ کے ایصال ثواب کے لیے دُعا کی گئی ۔ اجلاس میں راجہ محمد ظفر الحق ، اقبال ظفر جھگڑا ، خواجہ سعد رفیق ، انجینئر امیر مقام ، مرتضیٰ جاوید عباسی ، سردار مہتاب احمد خان عباسی ، ڈاکٹر آصف کرمانی ، سرانجام خان ، سینیٹر نزہت صادق ، سینیٹر بیگم نجمہ حمید ، سینیٹر پرویز رشید، محترمہ مریم نواز شریف ، کیپٹن (ریٹائرڈ ) محمد صفدر ، پیر صابر شاہ ، جعفر اقبال ، بیگم عشرت اشرف ، صدیق الفاروق ، رحمت سلام خٹک ، میاں راشد علی شاہ اور شیر زمان ٹکرنے شرکت کی ۔

پی ٹی آئی کا ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) پاکستان تحرےک انصاف کا ملک مےں غےر اعلانیہ لوڈشےڈنگ اور گردشی قرضوں کے خلاف ملک گےر احتجاجی تحرےک چلانے کا اعلان کےا ہے اس بات کا فےصلہ پےر کو چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے اجلاس مےں کےا گےا اجلاس مےںکراچی، لاہور، اسلام آباد سے پارٹی قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس میںملکی مجموعی صورتحال اور پانامہ کے ممکنہ فیصلے کے خدوخال پر تفصیلی تبادلہ خیال کے ساتھ وفاقی حکومت کی جانب سے بلند وبانگ دعوﺅں اور وعدوں کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ میں ناقابل برداشت اضافے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور ملک میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل بندش اور گردشی قرضوں کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں قائدین نے کراچی کے امن کو سیاست کی نذر کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی اور رینجرز کے مستقبل کو سیاسی مک مکا کی بھینٹ چڑھانے کی کوششوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا۔اجلاس کے شرکاءنے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور وزیرداخلہ کی پریس کانفرنس کے مختلف پہلوﺅں پر بھی تفصیلی غورکیا۔ اور یہ طے کیا گیا کہ نواز شریف کی موجودگی میں پاکستان سے منی لاندرنگ کا خاتمہ ناممکن ہے۔وزیرا عظم اور ان کے سمدھی وزیرخزانہ خود منی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں۔علاوہ ازیں تحریک انصاف نے ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کیلئے حکومت پر دباﺅ بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا۔اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تحریک انصاف ملکی سلامتی سے متعلق اس اہم معاملے کو سرد خانے کی نذر نہیں ہونے دے گی۔اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے معاملے کو دبانے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا۔

ڈان لیکس کا فیصلہ, آئی ایس پی آر کا بڑا بیان سامنے آگیا

راولپنڈی (آئی این پی )پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹرجنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آپریشنز کے دوران گزشتہ 15سالوں کے دوران اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے اورکالعدم تنظیم کے جماعت الاحرار کے سرغنہ احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا ہے، دہشتگرد اور ان کے ساتھی کہیں بھی ہوں گے خاتمہ کیا جائے گا،22فروری کو شروع آپریشن ردالفساد کے تحت ،15بڑے آپریشنز 723جوائنٹ چیک پوسٹیں قائم ،ملک بھر میں 4510مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا،غیررجسٹرڈ 1859افغان باشندوں کوحراست میں لیا گیا، اب تک 4083ہتھیار قبضے میں لئے گئے ،6لاکھ22ہزار691مختلف اقسام کے ہتھیار پکڑے گئے،پنجاب میں دوبڑے آپریشن کے دوران سینکڑوں مشتبہ افراد حراست میں لیے گئے 558فراریوں نے خود کو قانون کے حوالے کیا، فاٹا میں راجگال اور خیبرایجنسی کا کچھ علاقہ کلیئرہونا ابھی باقی ہے،مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے نئے فورٹ بنائے جارہے ہیں، فوجی عدالتیں اب تک 274مقدمات کا فیصلہ دے چکی ہیں،فوجی عدالتوں نے 161ملزموں کو سزائے موت دی،پنجاب،سندھ اور بلوچستان میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے،مردم شماری کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جارہا ہے،تمام پاکستانی اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں،ریاست کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں کرسکتا،آپریشن ردالفساد کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،بھارت نے 2014سے لے کر اب تک سینکڑوں بار سیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزی کی،سرحد پار بیٹھی قیادت بھی جانتی ہے کہ پاکستان کے حالات اب پہلے جیسے نہیں،آئی ایس آئی ایس کا ہدف نوجوان ہیں،نورین لغاری نے داعش میں شمولیت کا اعلان فیس بک کے ذریعے کیا، وہ لاہور سے بازیاب ہوئی ، شام نہیں گئی تھی،ڈان لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ وہ پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ سیکیورٹی اداروں اور عوام کی مدد سے تمام آپریشن کامیاب ہوئے،سب نے مل کر آپریشن کو کامیابی کی طرف گامزن کیا ہے،ردالفساد ایک ارادہ ہے کہ فساد کو رد کرنا ہے،یہ عہد ہے جس میں ہم سب شال ہیں اس سے پہلے سارے آپریشن بڑے پیمانے پر تھے،ردالفساد کا مقصد دیگر آپریشنز کی کامیابیوں کو مستحکم بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ادارے اور سسٹم وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتے ہیں،مدرسہ،جوڈیشل،ایجوکیشن ،پولیس اور فاٹا اصلاحات ردالفساد کا حصہ ہیں،دہشتگرد اور ان کے ساتھی کہیں بھی ہوں گے خاتمہ کیا جائے گا،22فروری کو آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا،15بڑے آپریشن کیے گئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 723جوائنٹ چیک پوسٹ قائم کی گئی ہیں،ملک بھر میں 4510مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا،غیررجسٹرڈ 1859افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا،آپریشن ردالفساد کے دوران اب تک 4083ہتھیار قبضے میں لئے گئے ہیں،6لاکھ22ہزار691مختلف اقسام کے ہتھیار پکڑے گئے،پنجاب میں دوبڑے آپریشن کے دوران سینکڑوں مشتبہ افراد حراست میں لیے گئے۔انہوں نے کہا کہ 558فراریوں نے خود کو قانون کے حوالے کیا،لاہور آپریشن کے دوران حیدرآباد سے لاپتہ لڑکی کو بازیاب کرایا گیا،آرمی چیف نے ایم آئی کو لڑکی بازیاب کرانے کی خصوصی ہدایت کی،ڈی جی خان میں سیکیورٹی فورسز نے رینجرز کے ساتھ مل کر آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران 10دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا،ہلاک دہشتگردوں میں سے دو کا تعلق لشکر جھنگوی سے تھا،چمن کے علاقے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا،چمن سے پکڑی گئی گاڑی میں سے 120کلو بارودی مواد نصب تھا،لورالائی میں آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا۔میجر جنر آصف غفور نے کہا کہ فاٹا میں راجگال اور خیبرایجنسی کا کچھ علاقہ کلیئرہونا ابھی باقی ہے،مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے نئے فورٹ بنائے جارہے ہیں،42فورٹ بنائے جاچکے ہیں جبکہ 63فورٹس پر کام جاری ہے،پاک افغان سرحد پر پہلے مرحلے میں 744کلومیٹر علاقے میں تاریں لگائی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فاٹا میں حکومت اور فوج کے تعاون سے بہت سے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے،فاٹا سے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں 82کیڈٹس زیرتربیت ہیں،فاٹا کے 1100سے زائد بچے آرمی کے زیراہتمام سکولوں میں پڑھ رہے ہیں،سوات میں 23مارچ سے اے پی ایس سکول 700بچے زیرتعلیم ہیں۔انہوںنے کہا کہ بھارت کی جانب سے فائربندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے،بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتا ہے،بھارت نے 2014سے لے کر اب تک سینکڑوں بار سیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزی کی،پنجاب،سندھ اور بلوچستان میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے،مردم شماری کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں اب تک 274مقدمات کا فیصلہ دے چکی ہیں،فوجی عدالتوں نے 161ملزموں کو سزائے موت دی،آپریشن ردالفساد کسی ایک ادارے کا آپریشن نہیں ہے،تمام پاکستانی اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں،ریاست کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں کرسکتا،ابھی بہت سا کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرحد پار بیٹھی قیادت بھی جانتی ہے کہ پاکستان کے حالات اب پہلے جیسے نہیں،کسی بھی آپریشن کی کامیابی کا مقصد ریاستی رٹ کی بحالی ہوتا ہے،کالعدم تنظیم کے جماعت الاحرار کے احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں تمام اداروں میں تعاون میں بہتری آرہی ہے،مغربی سرحد پر باڑ اپنی سرحدی حدود کے اندر لگائی جارہی ہے،نوجوان طبقہ داعش کا ہدف ہے،والدین بچوں پر کڑی نظر رکھیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے،دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں،انجام تک پہنچائیں گے،کوئی دہشتگرد اگر راہ راست پر آجائے تو اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں،پاکستان کے اندرون معاملات میں کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ کسی نے قربانیاں نہیں دیں،دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس نے دہشتگردی کا پروفیشنل طریقے سے مقابلہ کیا ہو۔آئی ایس آئی ایس کا ہدف نوجوان ہے،نورین لغاری نے داعش میں شمولیت کا اعلان فیس بک کے ذریعے کیا،نورین لغاری لاہور سے بازیاب ہوئی وہ شام نہیں گئی تھی،ڈان لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔نیوز کانفرنس کے دوران حیدرآباد کی نورین لغاری کا ویڈیوپیغام سنایا جس میں اس کا کہنا تھا میرے والد کا نام عبدالجبار ہے جو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں،میں لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں ایمم بی بی ایس سیکنڈائیر کی طالبہ ہوں میں واضح کرتی ہوں مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا،میں خود اپنی مرضی سے لاہور کیلئے روانہ ہوئی تھی،مجھے خودکش حملے میں استعمال کرنے کیلئے لاہور لایا گیا۔آرمی چیف کی اور عمران خان کی ملاقات کے بارے میں پہلے ہی پریس ریلیز جاری کردی تھی ۔آپریشن ردالفساد کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ڈان لیکس کے حوالے سے کہا ہے کہ ڈان لیکس پر فیصلہ جلد آئے گا،اگر وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ اتفاق رائے ہوگیا تو ان سے پوچھیں،ڈان لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔تفصیلات کے مطابق پیرکو میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ڈان لیکس پر فیصلہ جلد آئے گا،اگر وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ اتفاق رائے ہوگیا تو ان سے پوچھیں،ڈان لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔وزیرداخلہ ڈان لیکس پر معاملات تین چار دن میں لانے کی پاسداری کریں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ننگر ہار میں گرایا گیا بم ظاہر کرتا ہے کہ امریکا داعش کے خلاف جائے گا،داعش کا ٹارگٹ نوجوان ہی ہیں‘مدرسہ ریفارمز کے ساتھ ایجوکیشن ریفارمز بھی ہورہی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ کل بھوشن یادیو کو سزا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تمام تقاضوں کے مطابق دی، اسے جعلی نام، جعلی شناخت اور جعلی پاسپورٹ کی بنیاد پر پکڑا، اس کے معاملے پر نہ سمجھوتہ کیا اور نہ کریں گے، کلبھوشن جاسوس ہے اور جاسوس کو قونصلر رسائی نہیں دی جاتی، عدالت کے پاس اس کے خلاف ایسے ثبوت ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔میجر جنرل آصف غفور نے نیپال میں لاپتا ہونےوالے سابق فوجی افسرکے بارے میں کہا کہ کرنل ریٹائرڈ حبیب پاکستانی شہری ہیں، ان کا کلبھوشن کو پکڑنے والی ٹیم سے کوئی تعلق نہیں، کرنل حبیب 2014 میں پاک فوج سے ریٹائر ہوئے، ان کا کلبھوشن کے معاملے سے کیسے تعلق ہوسکتا ہے؟۔

ایران کا مقصد سعودی عرب پر حملہ تھا

سعودی عرب (ویب ڈیسک)عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ ایران نے یمن سے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی سازش تیار کی تھی۔انھوں نے کہا کہ ”اس سازش کا آغاز یمنی سرحد سے کیا گیا تھا اور اس کے جواب میں سعودی عرب اور عرب ممالک پر مشتمل اتحاد کی فورسز نے مملکت کے دفاع کے لیے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قیادت میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے دفاع کے لیے مداخلت کی تھی“۔ وہ مارچ 2015ئ سے جاری آپریشن فیصلہ کن طوفان کا حوالہ دے رہے تھے۔
احمد العسیری نے انٹرویو میں بتایا کہ ایران نے اپنے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مقامی ملیشیاو¿ں کو استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔ تہران نے حوثی ملیشیا کی مالی اور اسلحی مدد کا آغاز سنہ 2004ئ سے کیا تھا اور تب حوثیوں نے معزول یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف بغاوت برپا کی تھی۔یمن میں جاری خانہ جنگی کے دوران میں حوثی باغی ایران کے مہیا کردہ اسلحے کو استعمال کررہے ہیں اور اس حوالے سے آئے دن خبروں اور رپورٹس کی شکل میں انکشافات ہوتے رہتے ہیں۔امریکا اور خلیجی ممالک بھی ایران پر حوثی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کے الزامات عاید کرتے ہیں جبکہ ایران سرکاری سطح پر ان الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔
جنرل احمد العسیری نے بتایا کہ سعودی انٹیلی جنس کو ایرانی ذرائع کی جانب سے حوثی جنگجوو¿ں کو ایک سو ڈالرز روزانہ دینے کا پتا چلا ہے۔اس کے علاوہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی یمن میں حوثیوں کی تربیت کے لیے موجودگی کی انٹیلی جنس اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔انھیں سعودی عرب کے اندر خودکش کارروائیوں کی بھی تربیت دی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ سعودی فورسز کو یمن کو ایک ایسا میزائل اڈا بننے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں تھی جہاں سے سعودی مملکت کی سلامتی اور استحکام کو خطرات لاحق ہوسکتے تھے جبکہ ایرانیوں نے ایسی ہی سازش کی تھی اور وہ یمن کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کرکے وہاں سے سعودی مملکت پر حملے کرسکتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ یمن کا سرحدی علاقہ اس سازش کے نتیجے میں غیر مستحکم بن جاتا اور پھر وہاں سے ایجنٹوں کو سعودی عرب میں دراندازی کا موقع مل جاتا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ یمن میں جنگ کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب کی جانب 48 بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں اور حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی مملکت کی حدود میں یا یمن کے اندر سعودی فورسز پر 138 راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔
بریگیڈیئر عسیری کے بہ قول یہ یقین کیا جاتا ہے کہ یہ میزائل چین ،شمالی کوریا اور سابق سوویت یونین کی ریاستوں میں تیار کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ ایران ان میزائلوں کی تیاری اور مرمت کا ذمے دار رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ سب خطرناک بات یہ ہے کہ یہ ہتھیار ملیشیاو¿ں کے کنٹرول میں ہیں اور وہ غیر ریاستی عناصر ہیں۔اگر کسی ملک میں کوئی ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے تو اس کی حکومت کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا جاتا ہے لیکن غیر ریاستی عناصر کو کوئی تسلیم نہیں کرتا ہے۔اس لیے ان کے قبضے میں آنے والے جدید ہتھیار بہت ہی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اگر ایران یمن میں حکمرانی کی کوشش کرتا تو سعودی عرب کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو دو محاذوں مشرقی اور جنوبی محاذ پر لگا دیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔انھوں نے مزید بتایا کہ اس وقت قریباً ایک لاکھ سکیورٹی اہلکار یمن کے ساتھ واقع سرحد پر تعینات ہیں اور وہ چند روز ہی میں یمن پر قبضہ کرسکتے تھے لیکن ہمارا یہ مقصد نہیں تھا کیونکہ ہم یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کررہے تھے اور اس کی پورے ملک میں عمل داری چاہتے تھے۔
انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج دو سال کی جنگ کے بعد حوثیوں کو مہیا کیے جانے والے بیرونی ہتھیاروں تک رسائی سے محروم کردیا گیا ہے۔وہ اپنے بہت سے تربیت یافتہ جنگجوو¿ں اور لیڈروں سے محروم ہوچکے ہیں اور بہت سے دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ یمن میں کھیل کا پانسا پلٹ چکا ہے اور وہ اتحادی فورسز کے حق میں ہوچکا ہے۔

سونو نگم بھی اذان کے خلاف زہر اگلنے لگے

ممبئی(ویب ڈیسک) معروف گلوکار اذان کے خلاف بولنے لگے،کہتے ہیں مسلمان نہیں ہوں،پھر بھی اذان کی وجہ سے جاگنا پڑتاہے۔بالی ووڈ گلوکار سونو نگھم مسلم مخالف بیانات دینے لگے،گلوکار نے سماجی میڈیا کی سائٹ پر لکھا ہے کہ مسلمان نہیں ہوں،اذان کی وجہ سے آنکھ کھل جاتی ہے،بھارت میں مذہبکا یہ زبردستی کا نفاذ کب ختم ہوگا۔ گلوکار نے اذان کے لیے لاو¿ڈ سپیکر کے استعمال کی بھی مخالفت کی،سونونگھم کے اس بیان پر سماجی حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

مجھے لاہورمیں ایسٹر کے دن خودکش حملہ کرنا تھا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پنجاب ہاو¿سنگ سوسائٹی میں دوران آپریشن گرفتار ہونے والی نورین لغاری نے اپنے اعترافی ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ میں اپنی مرضی سے لاہور گئی تھی اور مجھے ایسٹر کے روز منعقدہ تقریبات میں خود کش حملہ کرنا تھا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹرجنرل میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں لاہور کے علاقے پنجاب ہاسنگ سوسائٹی میں دوران آپریشن گرفتار ہونے والی لڑکی نورین لغاری کے حوالے سے کہا کہ نورین قوم کی بچی ہے اسے اپنے گھر جانے کی اجازت ہے تاہم اس نے اعتراف جرم بھی کیا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے نورین کی اعترافی ویڈیو بھی دکھائی جس میں نورین کا کہنا تھا کہ میرا تعلق سندھ کے شہر حیدرآباد سے ہے میرے والد کا نام عبدالجبار ہے جو سندھ یونیورسٹی میں بطور استاد فرائض انجام دے رہے ہیں اور میں خود لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں اور ایم بی بی ایس میں سال دوئم کی طالبہ ہوں۔ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ میں اپنی مرضی سے لاہور گئی۔نورین لغاری نے بتایا کہ اس کے ساتھی علی طارق کی سوچ شروع سے ہی تخریبی اور دہشت گردانہ تھی اور اس کی منصوبہ بندی میں خود کش حملہ اور فورسز کے اہلکاروں کو اغوا کرنا شامل تھا۔ اس نے بتایا کہ علی طارق کے ساتھ ابوفوجی نامی ایک شخص بھی تھا جو اس کے ساتھ تخریب کاری کی تمام کارروائیوں میں ملوث تھا۔نورین نے بتایا کہ کاررائیوں اورمنصوبہ بندی کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے یکم اپریل کو کالعدم تنظیم نے سامان فراہم کردیا تھا جس میں 2 خود کش جیکٹس، 4 ہینڈ گرنیڈز اور کچھ گولیاں بھی شامل تھیں۔ خود کش جیکٹس کا استعمال ایسٹر کے موقع پر کیا جانا تھا جس کے لئے خود کش بمبار کے طور پرمجھے نامزد کیا گیا تھا لیکن 14 اپریل کی رات ہی سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران ہمیں گرفتار کرلیا اورعلی طارق ہلاک ہوگیا۔

ڈان لیکس : 3 اہم ترین شخصیات ذمہ دار قرار

لاہور (ویب ڈیسک )ڈان لیکس انکوائری کمیشن رپورٹ میں تین افراد کو حساس معلومات لیکس کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔ وزیراعظم کی ایک قریبی شخصیت براہ راست اور دو اہم عہدیدار بالواسطہ اہم اجلاس کی معلومات ڈان کے رپورٹر تک پہنچانے کا ذریعہ بنے ۔حکومتی مشیروں کا کہنا ہے کہ ڈان لیکس رپورٹ عوامی سطح پر جاری کرنے سے حکومت کو پانامہ لیکس سے بھی بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

انوشکا شرما نے پریانکا چوپڑا کا گلا دبا دیا

ممبئی (ویب ڈیسک )بالی ووڈ دیسی گرل پریانکا چوپڑا جو کہ ان دنوں اپنے آنے والی فلم ”دل دھڑکنے دو“کی شوٹنگ میں مصروف ہیں اور اس فلم میں کافی دوسرے سٹار بھی حصہ لے رہے ہیں جن میں سے ایک انوشکا شرما بھی ہیں ، بھارتی میڈیا میں اکثر اوقات انوشکا شرما اور پریانکا چوپڑا کے بارے میں افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں کہ دونوں دونوں شوٹنگ کے دوران سیٹ پر اکھٹے نہیں آتی ہیں اور ان کے درمیان دوستی بھی نہیں ہے تاہم انسٹاگرام پر پریانکا نے اپنی اور انوشکا کی ایک ساتھ تصویر شئیر کر کے تمام افواہوں کو ختم کر دیا ہے ۔ شئیر کی گئی تصویر میں انوشکا شرارتاً پرایانکا کا گلا دبا رہی ہیں جس سے دیسی گرل اپنی زبان باہر نکال کر ایسا ظاہر کر رہی ہیں جیسے ان کا گلا دبائے جانے سے دم گھٹ رہا ہو ۔

احسان اللہ احسان نے خود کو فورسز کے حوالے کردیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

راو لپنڈی(ویب ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیم جماعت الحرار کے کمانڈر احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا ہے۔راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ماضی کے آپریشن بڑے علاقوں کو کلیئر کرنے کے لئے کئے گئے تھے، سیکیورٹی اداروں اورعوام کی مدد سے تمام آپریشن کامیاب ہوئے، علاقے کلیئر کرنے کے بعد آپریشن ردالفساد کا آغاز کیا گیا، آپریشن رد الفساد قوم کی حیثیت سے فساد کو رد کرنے کا عہد ہے، جسے ضرب عضب کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کے لیے شروع کیا گیا، ملک کو فساد سے پاک کرنے کے لیے ہم سب پرعزم ہیں، ہمیں ملک کے اندر اور سرحد پار دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہے، دہشت گرد اور ان کے ساتھی جہاں بھی ہوں گے ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کوئی قوت ریاست کا مقابلہ نہیں کر سکتی، آپریشن ردالفساد ایک ادارے کا کام نہیں، ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے، آپریشن رد الفساد کے تحت 15 بڑے آپریشنز کیے گئے اور تمام کامیاب رہے۔ آپریشنز کے دوران ملک بھر سے 4 ہزار 510 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جب کہ 4 ہزار 83 غیر قانونی ہتھیار برآمد کیے گئے۔ اس دوران ایک ہزار 859 غیر رجسٹرڈ افغان باشندوں کو بھی گرفتار کیا گیا، فاٹا اور خیبر پختونخوا میں 8 جب کہ بلوچستان میں 4 بڑے آپریشنز کیے گئے۔پنجاب میں 2 بڑے آپریشنز میں سیکڑوں مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل حیدر آباد سے ایک لڑکی غائب ہوگئی تھی، اس کے غائب ہونے کے بعد اس کا سوشل میڈیا پر پیغام آیا تھا، بچی کے والدین نے آرمی چیف سے بچی کی بازیابی کی اپیل کی تھی جس پر آرمی چیف نے ایم آئی کو ہدایت کی تھی۔ بچی کو آپریشن کے ذریعے لاہور سے بازیاب کرالیا گیا ہے، جس نے اعتراف کیا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ وہ اپنی مرضی سے گئی تھی۔ داعش کا ہدف نوجوان ہیں اور اس کے لیے وہ جدید ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں اپنے بچوں کی مصروفیات پر نظر رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کررہا ہے، 2017 میں بھارت نے 222 بار سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔