وزیر اعظم کے وکیل کا حیران کن مشورہ ۔۔۔کہانی ختم

اسلام آباد(انٹرنیٹ رپورٹ)سینئر اینکر اورصحافی صابرشاکر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی رپورٹ کے والیوم 10کو پڑھا ہے البتہ انہوں نے وزیراعظم کو بھی اس بارے میں آگاہ کیاہے۔صابرشاکر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کو جے آئی ٹی کے والیوم 10 بارے کہاہے کہ والیوم 10 میں ایسی خوفناک چیزیں موجود ہیں کہ اگر وہ منظر عام پرآگئیں تو لوگ پاناما لیکس کو بھول جائینگے اور ایک نیا پنڈوراباکس کھل جائیگا۔تاہم وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے یہ بھی کہاکہ اگر والیوم 10میں موجود جو کچھ بھی ہے اگر وہ سچ پر مبنی ہے تو آپ کو ایسے حالات میں چلے جانا ہی بہتر ہے۔
دعویٰ

آئل ٹینکرزایسوسی ایشن کا ہڑتال ختم کرنے کا اعلان

کراچی / اسلام آباد(ویب ڈیسک) آئل ٹینکرزایسوسی ایشن نے حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد 3 روزتک جاری رہنے والی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزارت پیٹرولیم کے حکام اورآئل ٹینکرزایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کامیاب ہوگیا۔ حکومت کی جانب سے آئل ٹینکرزکے کرایوں کی شرح بڑھانے پررضا مندی ظاہرکرنے اور15 روزمیں تمام مسائل کا حل کرنے کی یقین دہانی کے بعد آئل ٹینکرزایسوسی ایشن نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا۔آئل ٹینکرزایسوسی ایشن کے سربراہ یوسف شاہوانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دوران وزارت پیٹرولیم کے سیکریٹری کی جانب سے اچھا رویہ رہا اورانہوں نے ہمارے مطالبات کوتسلیم کیا ہے جس پرہم ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے باعث پٹرولیم نہ ملنے سے عوام کو جومشکلات درپیش آئیں اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ہم نے 20 جولائی کو ہڑتال کی کال دی تھی لیکن ہم نے اسے 24 جولائی تک مو¿خر کیا۔آئل ٹینکرزایسوسی ایشن کے ایک دھڑے کی جانب سے جاری ہڑتال کے باعث ملک کے کئی علاقوں میں پیٹرولیم مصنوعات کا بحران پیدا ہوگیا تھا۔ کراچی کے بیشتر پیٹرول پمپس پرگزشتہ شام معمول کے مطابق فیول کی سپلائی جاری تھی لیکن گزشتہ روز وزارت پیٹرولیم اورآئل ٹینکرزایسوسی ایشن کے مابین ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد پیٹرول پمپس پرپہنچ گئی جس سے وہاں موجود پیٹرول کا ذخیرہ چند گھنٹوں میں ختم ہوگیا۔ شہر کے بیشتر پیٹرول پمپ بند ہیں اور جہاں پیٹرول دستیاب ہے وہاں موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں ، پیٹرول کی کمی کے باعث لوگوں کو مخصوص مقدار سے زیادہ پیٹرول نہیں دیا جارہا۔فیصل آباد میں بھی آئل ٹینکرزایسوسی ایشن کی ہڑتال کے باعث شہر میں پیٹرول کی قلت بڑھ چکی تھی جہاں متعدد پٹرول پمپس پرپیٹرول دستیاب ہی نہیں ہے جب کہ چند پٹرول پمپس پٹرول دستیاب ہے جہاں کار میں ایک ہزار اور موٹرسائیکل میں 100 روپے کا پٹرول ڈالا جارہا ہے جب کہ لاہور میں پیٹرول کی فراہمی معمول کے مطابق ہے، پمپوں پر پیٹرول فراہم کیا جارہا ہے جس سے شہری مطمئن ہیں۔کوئٹہ میں بھی پٹرول کی قلت سے فلنگ اسٹیشنز پرگاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے پٹرول مالکان کا کہنا ہے کہ سپلائی شروع نہ ہوئی تو اسٹاک میں موجود پٹرول بھی ختم ہوجائے گا۔ اسکردومیں بھی پٹرول سپلائی نہ ہونے کے سبب پمپس بند ہیں ، پٹرول نہ ملنے سے ذاتی گاڑیوں میں سیرکیلیے آنے والے سیاح پھنس گئے جب کہ ہڑتال کے باعث پٹرول اور ڈیزل نہ ملنے سے بلتستان ڈویڑن میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہوگئی ہے۔

حنیف عباسی کو سپریم کورٹ میں غلط حلف نامہ جمع کرانے پر 7 سال قید ہوگی، فواد چوہدری

 اسلام آباد: ترجمان پی ٹی آئی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حنیف عباسی سپریم کورٹ میں جھوٹے بولنے اور غلط حلف نامہ جمع کرانے پر 7 سال کے لیے جیل جائیں گے ۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی کابینہ اورنگزیب عالمگیر کی کابینہ ہے، انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ نا تو بیرون ملک آف شور کمپنی بنانا جرم ہے اور نہ پیسے دینا لیکن بچوں کو حرام کے پیسے دینا جرم ہے۔ جہانگیرترین کے پیسے ہرجگہ ڈکلیئرڈ ہیں لیکن کہا جارہا ہے کہ جہانگیرترین نے یونائٹیڈ شوگر ملز کے شیئرخریدے لیکن حنیف عباسی کے وکیل کو یہ بھی نہیں پتا کہ دسمبر2007 میں جہانگیرترین ایک عام شہری تھے، جہانگیر ترین پر سرکاری خزانے کے غلط استعمال کا کوئی الزام نہیں اور چیف جسٹس صاحب نے ان کی صداقت کا اعتراف کیا۔تحریک انصاف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سامنے جھوٹ بولنا جرم ہے اورحنیف عباسی نے جھوٹ بولا جب کہ غلط حلف نامہ بھی لگایا، عدالت نے حنیف عباسی کے حلف نامے کا نوٹس لے لیا ہے اور وہ کم ازکم 7 سال کے لیے جیل جائیں گے، اس لیے اب ان کو اپنی فکر ہونی چاہئے۔  اس کے علاوہ سوال اٹھتا ہے کہ ایس ای سی پی کے خفیہ کاغذات حنیف عباسی کے ہاتھ کیسے آئے، کیا انہوں نےایس ای سی پی سے کاغذات چوری کروائے، اگر ایسا ہے تو ان پر ایک اور مقدمہ بنتا ہے۔ درحقیقت مسلم لیگ (ن) کی کوئی سیاسی یا قانونی حکمت عملی نہیں ۔ اگر بڑے رہنماؤں کا یہ حال ہوگا تو چھوٹوں کا کیا ہوگا۔

اقامہ دوہری شہریت نہیں, چھپانا جرم ہے

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف خورشید شاہ نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست دان کا اولین فرض جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بچانا ہے اس لیے وزیر اعظم چلے جائیں اور فیصلے سے قبل اپنا متبادل لے کر آئیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ اقامہ دوہری شہریت کےلئے نہیں بلکہ ملازمت کےلئے ہوتا ہے اس لیے یہ کوئی جرم نہیں لیکن اس کو چھپانا اور اس سے حاصل آمدنی کو ظاہر نہ کرنا جرم ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ پاناما کیس میں پاناما کے علاوہ بھی بہت کچھ نکلا ہے ¾ سماعت کے دوران نعیم بخاری نے صرف ڈیڈھ گھنٹے دلائل دیئے جبکہ باقی وقت حکومتی وکلا نے لے لیا۔پاناکیس کے فیصلے کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ سماعت کے دوران ججوں کے سوالات سے مقدمہ واضح ہوجاتا ہے،دو جج صاحبان کا فیصلہ پہلے سے موجود ہے اور اب دیگر تین ججوں کا فیصلہ بھی آ جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ ایک مرتبہ اپوزیشن نے جمہوریت و پارلیمنٹ کو بچایا ہے اب اس کو بچانے کی ذمہ داری نواز شریف پر ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے نواز شریف کو اپنا متبادل لے کر آنا چاہیے۔وزیراعظم نواز شریف کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے حوالے سے انھوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن اتحاد میں شامل ہر جماعت اپنی پالیسی میں آزاد ہے،اگر کوئی جماعت نواز شریف کی حمایت کرتی ہے تو اس کا سیاسی نقصان بھی انہیں ہوگا۔خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان جو الزامات نواز شریف پر لگا رہے تھے اب وہی الزامات مسلم لیگ نواز ¾عمران خان پر لگا رہی ہے اسی لیے میں نے کہا تھا کہ نواز شریف کے ساتھ ساتھ عمران خان بھی سپریم کورٹ کی گرفت میں آئیں گے۔اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں صحافیوں پر تشدد پر مذمت کرتے ہوئے ہوئے مطالبہ کیا کہ رپورٹ آنے پر وزیر داخلہ ملزمان کے خلاف کارروائی کریں۔انہوںنے کہاکہ اداروں کو کمزور کرنے کے لیے اداروں پر الزامات لگائے جا رہے ہیں لیکن اداروں کا کمزور ہوناریاست کے لیے خطرناک ہے۔وزارت خارجہ پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے 22 ہزار جوان اور 66 ہزار شہری شہید ہوئے لیکن ہم عالمی دنیا کو باور نہیں کراسکے کہ ہم دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں،یہ ہماری وزارت خارجہ کی ناکامی ہے۔

وزیراعظم کیخلاف سلطانی گواہ کون بنے گا؟, اعتزاز احسن کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ بڑے میڈیا گروپ کے سربراہ عدالت میں طلب کیے جانے پر بڑے پریشان ہونگے۔ سپریم کورٹ کے جج کے حوالے سے بیہودہ لفظ کا استعمال انتہائی سخت ہے۔ شریف برادران کے خلاف کیس میں نرم ہاتھ رکھنے پر سپریم کورٹ سے گلہ ہے۔ ظفر حجازی کی جان کو سخت خطرہ ہے اسے سکیورٹی میں رکھا جانا چاہیے وہ سلطانی گواہ بن سکتا ہے۔ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شریف برادران کو صرف غلام افسر اچھے لگتے ہیں یہ بڑے منقسم مزاج ہیں اور ایسے غلاموں کی خواہش کرتے ہیں ان کے اشارے پر خود کو قربانی کیلئے پیش کر دیں۔ مشاہد اللہ، پرویز رشید، طارق فاطمی اور اب ظفر حجازی سب قربانی کے بکرے بنے۔ ظفر حجازی کیس میں تو بڑا ملزم نواز شریف ہے جس کیلئے ردوبدل کیا جا رہا تھا۔ نیشنل بینک، سٹیٹ بینک جیسا ہی اہم ہے اسے پاکستان کا خزانہ کہا جاتا ہے۔ شریف برادران نے اس کا سربراہ بھی اپنا خاص آدمی لگا رکھا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے بھی شریف برادران خود نکل گئے اور سول پولیس افسروں کو قربانی کا بکرا بنا دیا۔ وزیر اعظم یا کسی وزیراعظم کے پاس اقامہ ہونا گری ہوئی حرکت ہے۔ ہل میٹل کمپنی سے نواز شریف کو خطیر رقم ملتی رہی اگر وہ رقم ڈیکلیئر نہیں کی گئی تو بڑا جرم ہے۔ ثابت ہو گیا کہ مریم نواز اپنے والد کے زیرکفالت تھیں تو نواز کیلئے لازم تھا کہ اس کے اثاثے بھی ڈکلیئر کرتے۔

فاطمہ بھٹو سے رابطہ, دل کی بات کہہ ڈالی

کراچی (رپورٹ:گل محمد منگی) انتہائی با وثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پیپلز کے چئرمین بلاول بھٹو کی جانب سے بھٹو شاندان اور 70کلفٹن سے روابط کے بعد ان کے اپنے والد اور پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اپنی خالہ صنم بھٹو کے توسط سے بلاول بھٹو زرداری کا ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اور فاطمہ بھٹو سے کافی عرصہ سے رابطہ ہے،تاہم آصف علی زرداری کو حال ہی میں اس کا علم ہو ہے، جس کے بعد وہ بیماری کا بتاکر بیرون ملک چلے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کسی کے ساتھ بھی ذاتی رنجش کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ سنجیدہ سیاست کرنے کے خواہ ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ بلاول بھٹو کا 70کلفٹن سے مسلسل ٹیلیفون پر رابطہ قائم ہے اور وہ پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئے فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار جونیئر کو اپنے ساتھ ملانے کے حق میں ہیں۔تاہم شادی کے حوالے سے خبریں حقائق کے منافی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ صنم بھٹو کی زرداری خاندان سے ناراضگی کی وجہ ُی پی پی کی حالیہ حکومت میں ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو شہید کی کراچی میں واقع قطعہ اراضی کا ٹائیٹل تبدیل کرکے جعلسازی کے ذریعے اس کو فروخت کرنے کا معاملہ ہے۔یہ زمین دراصل صنم بھٹو کے حصے میں آئی تھی،تاہم بلاول بھٹو اس کاسختی سے نوٹس لیا تھا اور بعد ازاں یہ زمین صنم بھٹو واپس مل گئی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ 70کلفٹن سے رابطے کے بعد نہ صرف سابق صدر آصف علی زرداری بلکہ پیپلزپارٹی کے کئی رہنما پریشان ہو گئے ہیں اور انہوں نے اس کی شکایت پارٹی کے شریک چئرمین سے بھی کی ہے۔

وزیراعظم نے کس کو دھوکا دیا؟, کنوردلشاد نے حقائق بیان کردئیے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے سب سے پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان کو دھوکا دیا۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کے کالم آٹھ میں اوکیوپیشن کا کالم ہے، جس میں نوازشریف نے اپنے ہاتھ سے پیشہ سیاست اور زراعت لکھا۔ کنوردلشاد نے مزید کہا کہ کیا مسلم لیگ ن پبلک لمیٹیڈ کمپنی ہے یا سیاسی جماعت ہے، اگر نوازشریف کالم میں درست پیشہ لکھتے تو کاغذات نامزدگی مسترد ہوجاتے۔ خواجہ آصف کے حوالے سے کنور دلشاد نے کہا کہ وہ دبئی میں سپروائزر اور پاکستان میں وزیردفاع ہیں۔

بانی ایم کیو ایم کے بھتیجے بارے شرمناک انکشاف

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے بانی ایم کیو ایم کے بھتیجے کو گرفتار کرلیا۔ ظفرحجازی سلطانی گواہ بن سکتاہے، اس کی جان کوخطرہ تحفظ دیاجاناچاہئے ، وزیر اعظم کے پاس اقامہ ہونا اور بیرون ملک ملازمت کرنا شرمناک حرکت ہے: سینیٹر اعتزازاحسن تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں قانون نافذ کر نے والے ادارے کے اہلکاروں کی بھاری نفری نے چھاپہ مارکارروائی کے دوران ایم کیو ایم بانی کے بھتیجے کو دھر لیا، ابتدائی تحقیقات کے دوران گرفتار شخص کی شناخت عبدالعزیزکے نام سے ہوئی ہے۔ تاہم اہلکاروں نے زیر حراست عبدالعزیز سے مزید تفتیش کیلئے اسے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

وزیراعظم بنانے کی پیشکش کا انکشاف

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی کے اینکر پرسن نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ چودھری نثار نے گزشتہ روز مشرف کے پروگرام کے دوران گفتگو پر ردعمل دینے کیلئے فون کیا اور بتایا کہ مشرف کی جانب سے وزارت عظمیٰ کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی اور ساتھ ہی انہوں نے 1999 میں مشرف کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد جو کچھ ہوا اس پر سے بھی پہلی مرتبہ پردہ اٹھایا۔ چودھری نثار نے ٹیلیفون پر کہا کہ میں نے آپ کا پروگرام دیکھا اور اس میں یہ تاثر ابھرا کہ شائد میں خود یہ دعویٰ کر رہاہوں کہ مشرف نے وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی لیکن مجھے ایسی کوئی پیشکش نہیں کی گئی۔ وزیر داخلہ کا کہناتھا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ میں نے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے کہ مجھے وزارت عظمیٰ کی آفر دی گئی۔ چودھری نثار نے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ 1999میں جب ہماری حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور مجھے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ،میرے گھر کو فوجیوں نے گھیر لیا تھا اور میں کمرے میں بیمار ی کی حالت میں موجود تھا اور ڈاکٹرکا انتظار کر رہا تھا ،اچانک باہر کسی کے آنے کی آواز سنائی دی تو میں نے اٹھ کر دیکھا تو وہ ڈاکٹر نہیں بلکہ جنرل محمود تھے ،میں نے ان کے آتے ہی کہا کہ اس سے پہلے کہ آپ کچھ کہیں میں آپ سے تین باتیں کہنا چاہتاہوں۔چوہدری نثار کا کہناتھا کہ میں نے جنرل محمود سے کہا کہ سب سے پہلے آپ کو واضح کر دوں کہ میں نوازشریف کو دھوکہ نہیں دوں گا ،ہم خیال گروہ میں شمولیت بھی نہیں اختیار کروں گا اور نہ ہی پرویز مشرف کے مارشل لائ کے حق میں کوئی بیان دوں گا۔انہوں کہا کہ میری یہ باتیں سن کر جنرل محمود نے کہا کہ آپ نوازشریف کو دھوکہ نہیں دیں گے اس کے باوجود نوازشریف آپ کو دھوکہ دے چکے ہیں۔چوہدری نثار نے اس کے جواب میں کہا کہ میں اپنے گھر میں نظر بند ہوں ،میں قید تنہائی میں ہو ں ،میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں کتنا سچ ہے ،لیکن ایک بات واضح کر دینا چاہتاہوں ،اگر میں نے نوازشریف کو دھوکہ دیا تو ساری زندگی اپنے ضمیر کا سامنا نہیں کر سکوں گا۔

عوام کی پسندیدہ ترین سیاستدان قرار

نیویارک(اے پی پی) امریکی اخبار ”دی وال اسٹریٹ جنرل“نے بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج کو ملک کی سب سے پسندیدہ سیاستداں قراردیا ہے۔ اخبار میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کے مطابق ، خاص طور پر بیرون ملک مقیم بھارتیوں پر انتہائی توجہ دینے کی بدولت ششما سوراج بھارت کی سب سے زیادہ پسندیدہ وزیر خارجہ بن چکی ہیں۔آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ 65سالہ ششما سوراج اپنی وزارت میں رہتے ہوئے بھارتی شہریوں کے مسائل حل کرنے میں ہر ممکن مدد کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ کام اس وقت خود سنبھالا جب ان پر یہ واضح ہوگیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی پر اپنا کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں۔ ٹویٹر پر ان کے فالوورز کی تعداد8.69 ملین ہے اور یوں وہ ٹویٹر پر ٹاپ 10میں شامل ہوگئی ہیں۔وہ مدد کے طالب زیادہ لوگوں کو ٹویٹر پر جواب دیتی ہیں۔انہیں ٹویٹ کرنے والوں میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔