مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم اور فاروق ستار فرمائشی پروگرام کرکے اسٹیبشلمنٹ کے ذریعے ہمیں بلاتے ہیں، بتائیں پاکستان کا کون سا سیاست دان اور صحافی ہے جو اسٹیبشلمنٹ سے بات نہیں کرتا، ہمارے کارکن اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنا منشور گھر گھر پہنچا رہے ہیں جبکہ میں اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ نہیں ہوں، تاہم میں پاکستان کی اسٹیبشلمنٹ سے ملتا ضرور ہوں کیونکہ سارے کام تو وہ کررہے ہیں، اپنی اسٹیبشلمنٹ سے نہیں ملوں گا تو کیا ہندوستان کی اسٹیبشلمنٹ سے ملوں گا۔چیرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ فاروق ستار نے یہ تاثر پورے پاکستانی عوام کے دماغ میں بٹھا دیا کہ پی ایس پی اسٹیبشلمنٹ کی آلہ کار ہے تو ہاں ہمیں اسٹیبشلمنٹ نے بلا کر فاروق ستار سے ملایا اور وہ پہلے سے وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم کو جب حکومت میں شامل ہونا ہوتا تھا تو نئے صوبےکی بات کرتے تھے، فاروق ستار نے بانی ایم کیوایم کے تمام آئٹمزکرکے نئے صوبے کا بھی اعلان کردیا، یہ لوگ کچرہ اٹھا نہیں سکتے، لالوکھیت صاف کرنہیں سکتے، نیا صوبہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میری ماں زندہ نہیں،اگروہ ہوتیں توان کوسیاست کیلیےاستعمال نہیں کرتا، عشرت العباد سرٹیفکیٹ بنوانے کے پچاس ہزارروپے لیتا تھا، رؤف صدیقی وزیرصنعت تھا وہ لندن پیسےبھجواتا رہا، 12 لاکھ پینشن دلوانے کیلیے میئرکراچی نے6 لاکھ روپے رشوت لی تھی، جبکہ ہمارے آنے کے بعد ایم کیوایم کا لاشوں کا کاروبارنہیں چل رہا۔
فاروق ستار کو کمال کا جواب ،سب کچہ چٹھا کھول کے رکھ دیا
