تازہ تر ین

جنوبی پنجاب صوبہ ہر صورت بنائینگے : عمران خان

اسلام آبا ، ملتان، بہالپور( مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں انتخابات کے نتیجے میں اگر معلق پارلیمان بنتی ہے تو یہ ملک کے لیے بڑی بدقسمتی ہو گی۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ایک طاقتور حکومت کی ضرورت ہے اور معلق پارلیمان ہمیشہ کمزور ہوتی ہے۔ الیکشن کے بعد معلق پارلیمان کی تشکیل کے امکانات پر سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو جس طرح کے معاشی بحران اور مشکلات کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لیے طاقتور حکومت کی ضرورت ہے جو بڑے فیصلے کر سکے۔عمران خان نے ممکنہ مخلوط حکومت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی سے اتحاد کرنے پر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔انھوں نے کہا کہ ’اگر اتحاد بنانا پڑا تو آج آپ کو بتا رہا ہوں کہ نہ تو یہ نون لیگ سے بنے گا اور نہ ہی پیپلز پارٹی سے کیونکہ ان کے رہنما کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اگر ان کے ساتھ اگر حکومت بنانی ہے تو اس سے بہتر ہے کہ اپوزیشن میں بیٹھیں۔‘عمران خان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ’ ان کے ساتھ اصلاحات نہیں ہو سکتی ہیں اور نہ ہی اداروں کو مضبوط کیا جا سکتا ہے، بدعنوانی کے خلاف مہم نہیں چلائی جا سکتی اور ایف بی آر کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا اور انھوں نے انھی اداروں کو کرپشن کرنے کے لیے تباہ کیا ہے۔‘عمران خان نے کہا کہ کوشش ہو گی کہ ان جماعتوں کے بغیر حکومت بنے اور اگر نہیں بنتی تو اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ عمران خان نے 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا تھا اور 126 دن تک اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دیا تھا لیکن کیا 25 جولائی کے انتخابات میں تمام چیزیں درست سمت میں ہیں؟ اس پر عمران خان نے کہا کہ گذشتہ انتخابات میں جو دھاندلی کے بارے میں بات کی تو سب جماعتوں نے ان کی مخالفت کی کیونکہ ان سب نے مل کر دھاندلی کی تھی۔انھوں نے کہا کہ اس وقت کہا تھا کہ چار حلقوں کو تحقیقات کے لیے کھولا جائے تاکہ 2018 کے انتخابات ٹھیک ہوں لیکن میری مخالفت کی گئی اور میں اکیلا سڑکوں پر تھا اور اب دیکھیں یہ ہی جماعتیں الیکشن سے پہلے ہی دھاندلی کا شور مچا رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’میں ان سے سوال پوچھتا ہوں کہ جب میں کہہ رہا تھا تو تب ہی تحقیقات کر کے ایسا قانون پاس کرتے کہ یہ پچھلی غلطیاں ہوئی ہیں اور اب یہ نہیں ہونی چاہییں۔ اب ان کو ڈر ہے کہ یہ الیکشن ہارنے جا رہے ہیں اور ان کو یہ بھی ڈر ہے کہ ایمپائر ان کے اپنے نہیں ہیں کیونکہ گذشتہ انتخابات میں انھوں نے اپنے ایمپائر کے ساتھ میچ کھیلا تھا۔ اس وقت نگران حکومت، الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔‘ حکومت میں آنے کی صورت میں اپنی اولین ترجیحات کے بارے میں سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر کرنا ہو گا۔ حالیہ دنوں الیکشن کے حوالے سے دیے گئے خدشات کے بارے میں اپنے بیان کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے انھیں خدشات لاحق ہیں اور اس سے صرف تحریک انصاف کی انتخابی مہم متاثر ہو رہی ہے کیونکہ دیگر جماعتیں چار دیواری میں مہم چلا رہی ہیں۔روسی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ ہمارے پاس بہت اچھے امیدوار ہیں، ہم حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں، دھرنے اور پاناما کیس کی وجہ سے قوم میں کرپشن کے خلاف شعور اجاگر ہواجبکہ آنے والی حکومت کو سب سے زیادہ مالی مسائل کا سامنا ہوگااور اداروں کی اصلاحات ترجیح ہوگی۔امریکا سے تعلقات کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ ماضی میں امریکا سے تعلقات یکطرفہ بنیادوں پر تھے جس کا پاکستان کو جانی اور مالی نقصان ہوا لیکن ہم امریکا سے دو طرفہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات رکھیں گے، افغانستان کا فوجی حل ممکن نہیں سیاسی مفاہمت ہی افغانستان میں امن کےلئے ضروری ہے جبکہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں سے متعلق امریکا کا موقف سراسر غلط ہے اور افغانستان کا اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا انتہائی افسوسناک ہے۔انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ امریکا سے اچھے تعلقات رکھیں گے تاہم پاکستان کوغیر ملکی امداد پر انحصار سے بچائیں گے، پاکستان غیر ملکی امداد سے نہیں اپنے بجٹ، تجارت اور اپنے سرمائے سے پیروں پر کھڑا ہوگا۔ملک میں فوجی حکومتوں سے متعلق سوال پر کہا کہ کرپٹ جمہوری حکومتیں خراب کارکردگی کی وجہ سے فوجی مداخلت کا جواز فراہم کرتی ہیں، اب وقت بدل گیا ہے، فوج میں بھی مارشل لا ءکے خلاف اتفاق رائے موجود ہے۔بطور وزیراعظم پہلا حکم کیا ہوگا کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ ابھی اس بارے میں سوچا نہیں اور یقینی جیت کے بعد پہلی موو کا سوچیں گے۔ بہاولپور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کہتے ہیں کہ پچیس جولائی کو ہر طرف بلا چلے گا۔ باریاں لینے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ اگلے بدھ کو پاکستان کا فیصلہ ہوگا۔بہاولپور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس معاشرے میں ظلم ہو وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ کفر کا نظام چل سکتا ہے نا انصافی کا نہیں۔ بزدل کبھی ظالم حکمراں کے سامنے کھڑے نہیں ہوتے۔عمران خان نے کہا کہ ملک کی آدھی آبادی غربت کی لکیر کے نیچے ہے۔ پاکستان کے آدھے بچوں کی نشونما نامکمل رہتی ہے۔انہوں نے کہا قرضہ حکومت نہیں لوگو پرچڑھتا ہے۔ قرض بڑھنے سے مہنگائی اور بیروزگاری بڑھتی ہے۔ آٹا تیرہ روپے کلو سے پینتالیس روپے کلو ہوگیا۔ سابقہ حکمرانوں نے ملک کو مقروض کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ قرض بڑھنے سے مہنگائی اور بے روزگاری بڑھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت جب جاتی ہے دو چیزیں چھوڑ جاتی ہے، ایک خالی خزانہ اوردوسرا فضل الرحمان۔انے کے مطابق، قرضہ چھ ہزار ارب سے اٹھائیس ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے۔ بجلی کی قیمت میں چار گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ جبکہ نوے فیصد ٹیکس عوام دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا نواز شریف اور زرداری نے پاکستان کا پیسہ چوری کیا۔ امریکا میں فی کس آمدنی دو لاکھ اور ہمارے ملک میں پندرہ ہزار ہے۔ امریکا میں دودھ ساٹھ روپے اور یہاں سو روپے فی لٹر ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی کہتے ہیں عوام کو کمزور اور ملک کو مقروض کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے وہ سب کیا جو دشمن بھی نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ پچیس جولائی کو مائیں بہنیں گھر گھر جا کرعوام کو نکالیں گی۔ جو ووٹ نہیں دے گا وہ خودغرضی کی زندگی گزار رہا ہے۔ جو صرف اپنا سوچتے ہیں ان کے حالات کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کو بار بار لوٹا گیا، حکمران آج ارب پتی ہیں۔ مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاسکیں۔ حکمرانوں کی کرپشن سے عوام کا پیسہ چوری ہوا۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کرپشن روک سکی نہ منی لانڈرنگ۔ دونوں جماعتوں کے دور میں قرضہ بڑھتا گیا۔چیئرمین پی ٹی آئی کہتے ہیں شوکت خانم اسپتال پشاور چار ارب روپے میں تعمیرہوا۔ جنوبی پنجاب میں کوئی اسپتال ہی نہیں۔ ملتان میٹرو لوگوں کے لئے نہیں، کمیشن کے لئے بنائی گئی۔عمران خان نے وعدہ کیا کہ قوم کو قرضوں کی دلدل سے نکال کر دکھاو¿ں گا۔ سب سے پہلے پنجاب پولیس کو ٹھیک کرنا ہے۔ ہم نے ساڑھے چھ ہزار پولیس اہلکار کرپشن پر نکالے ہیں۔انہوں نے کہا عابد باکسر کہہ رہا ہے اس سے قتل کروائے گئے۔ سال 2013 میں کے پی میں بارہ سو سے زائد پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے باعث تباہ ہوچکاتھا۔ جبکہ آج خیبرپختونخوا سب سے پرامن صوبہ بن چکا ہے۔عمران خان نے کہا کہ کوئی شہباز شریف یا حمزہ مداخلت نہیں کرسکے گا۔ کرپشن ختم کیے بغیر قرضوں سےنجات نہیں دلائی جاسکتی۔ ادارے ٹھیک کیے بغیر ملک بہتر نہیں ہوسکتا۔ احتساب وہ ہوگا جو مجھ سے شروع ہو اور وزراءتک جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ کسان آج بدحال ہے، پانی کی کمی ہے۔ کسان کو اٹھائے بغیرغربت کم نہیں کرسکتے۔ ہمارے پاس پروگرام ہے، کیسے خرچے کم کروانے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پوری دنیا میں کسانوں کی مدد کی جاتی ہے۔ جبکہ یہاں پانچ سال کے دوران کسانوں کا معاشی قتل کیا گیا۔انہوں نے کہا انکی حکومت فوری طور پر بھاشا ڈیم پر کام شروع کروائیں گی۔ پانی کی منیجمنٹ ٹھیک کریں گے۔ کسانوں کو بروقت معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا قیام سلوگن نہیں، میرا ایمان ہے۔ اللہ نے چاہا تو جنوبی پنجاب صوبہ ضرور بنے گا۔ انہوں نے کہا گورنر ہاﺅس اور وزیر اعظم کے اخراجات کم کرینگے۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain