ضیاءشاہد کی رٹ کے بعد پانی کا معاملہ بین الاقوامی فورم پر لے جانا پڑیگا

اسلام آباد(محمد عاصم جےلانی )پاکستانی مےں آبی ذخائر کے تحقیقی ادارے ( PCRWR )کے سابق چےئرمےن و موجودہ ڈائرےکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اشرف نے سپرےم کورٹمےںبھارت کی جانب سے ستلج ، بےاس اور راوی کے پانی کی بندش کے خلاف ”روزنامہ خبرےں“ کے چےف اےڈےٹر ضےاءشاہد کی جانب سے دائر نظر ثانی کی درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کےے جانے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ضےاءشاہد کی نظر ثانی درخواست سے اہم نوعےت کا مسئلہ ہائی لائٹ ہو گا اور حکومت اس معاملہ کو بےن الاقوامی فورم پر لے جا کر اہم نوعےت کے معاملے کو حل کرا سکتی ہے ، درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری ہونے سے حکومت متعلقہ اداروں کو مضبوط بنائے گی تاکہ دونوں ممالک کے درمےان پانی سے متعلقہ مسائل کو برابری کی سطح پر حل کرنے کےلئے بروقت اور فوری اقدامات کےے جا سکےں ، ضےاءشاہد کی سپرےم کورٹ مےںدائر درخواست پرمکمل عملدرآمدکی صورت مےں بھارت کی آبی جارحےت روکی جا سکتی ہے اور ہمارے حصے کا پانی ہمیں مل سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ سپرےم کورٹ کی جانب سے دےا مےر بھاشا ڈےم کی تعمےر کےلئے کئے جانے والے اقدامات بہت اچھے ہےں تاہم اس حوالے سے اصل اےشو پیسوں کا نہیں بلکہ سےاسی ادارے کا ہونا ضروری ہے سےاسی حکومتوں کو شارٹ ٹرم منصوبوں کے ساتھ ساتھ لانگ ٹرم منصوبوں پر بھی فوکس کرنا چاہئے جس سے ملک و قوم کا فائدہ ہوتا ہے، ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ 1960مےں پاکستان اور بھارت کا پانی کی تقسےم کے حوالے سے بےن الاقوامی معاہد ہ ہوا تھا اور پانی کے مسائل کو بےن الاقوامی فورم پر ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔ضےاءشاہد کی نظر ثانی شدہ پٹےشن مےں کہا گےا کہ 1960 کے معاہدوں مےں اےک اصول اپناےا جانا چاہئے تھا بھارت درےاﺅں کا پانی روک لےتا ہے اور مون سون کے دنوں مےں پانی چھوڑ دےتا ہے جبکہ 1970 کے انٹرنےشنل واٹر کمےشن رولز کے تحت کوئی ملک درےاﺅں کو مکمل بند نہیں کر سکتا اس لئے بھارت کو مجبور کیا جائے کہ پاکستان کےلئے درےاﺅں مےں پانی چھوڑے بھارت نے ستلج ، بےاس اور راوی کا پانی کیوں بند کیا ہوا ہے ےہ انتہائی اہم نوعےت کا مسئلہ اجاگر کیا گےا جس کو بھر پور سراہتے ہےں اوروفاق کو اس معاملے پر نوٹس جاری ہونے سے اب وفاقی حکومت کو ےہ معاملہ بےن الاقوامی فورم پر لے کر جانا ہوگا جس سے پانی کے مسائل حل ہو سکتے ہےں ان کا کہنا تھا کہ ضےاءشاہد صاحب نے اہم معاملے کو اٹھاےا ہے لیکن ہماری سےاسی حکومتوں کی اپنی بھی کو اپنے حصے کا کام کرنا چاہئے تھا ایک طرف بھارت نے پانی روک کر آبی جارجےت کی لیکن دوسری طرف ہماری حکومتوں کے ہاتھ تو کسی نہیں باندھے تھے کہ وہ ڈےمز بنا کر پانی ذخےرہ نہ کرےں اگر بھارت سے بھی بات کی جائے تو وہ ےہ سوال ضرورکرے گا کہ پاکستان کے پاس فالتو پانی ہے اس لئے تو وہ سمندر میں پھےنک دےتا ہے اور ہمےں پانی کی ضرورت زےادہ ہے لہذا ہمارے حکومتوں کو بھی اپنی کارکردگی پر نظر ڈالنی چاہئے ضےاءشاہد صاحب نے جو معاملہ اٹھاےا ہے وہ لوکل نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے جس پر موثر اور بھرپور تےاری کے ساتھ وفاقی حکومت کو جانا چاہئے ہم اپنا پانی ضائع کر رہے ہیں جسے محفوظ بنانے کےلئے کوئی اقدامات نہیں کےے گئے، پچاس سالوں مےں اےک بھی بڑا ڈےم نہیں بناےا گےا اس کے علاوہ انڈس واٹر کمیشن کی حالت بھی بہت اچھی نہیں ہے اور وہاں پر بھی ایڈہاک ازم پر کام چلائے جا رہے ہےں اس ادارے کو فعال بناےا جانا چاہئے پاکستان واٹر کمشنر کی تقرری کی ضرورت ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ سپرےم کورٹ کی جانب سے دےا مےر بھاشا ڈےمز کی تعمےر کے لئے قائم کےے جانے والے فنڈز کا فےصلہ اچھا ہے لیکن اصل مسئلہ پیسوں کا نہیں سیاسی ہے بڑے ڈےمز بنانے مےں زےادہ وقت لگتا ہے اور سےاسی حکومتےں شارٹ ٹرم منصوبوں پر فوکس کرتی ہیں تاکہ وہ ان کے دور حکومت مےں مکمل ہو جائےں اور اس کا سےاسی فائدہ اٹھاےا جا سکے ۔

نواز شریف کی رہائی کے لیے غیر ملکی دباﺅ کی خبریں ،پلی بار گیننگ کی آفر،ضیاءشاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میری معلومات کے مطابق دراصل بہت سارے لوگ اس انتظار میں ہیں کہ نوازشریف کا کیا ہوتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کا بڑا پریشر ہے کہ نوازشریف کو چھوڑا جائے۔ یوں لگتا ے کہ سعودی عرب نے خود اپنے ہاں سے پکڑا ہے ان سے سارے پیسے واپس لئے ہیں۔ یہ بات عمران خان نے بھی ان سے کہی ہے۔ 1977ءمیں ایک طوفان اٹھا تھا 1977ءکے الیکشن میں اور جس کے خلاف دھاندلی کی تحریک چلائی گئی تھی اس میں بھی ریاض الخطیب جو سعودی عرب کے سفیر تھے وہ بڑے ایکٹو تھے وہ یہاں آئے اور بڑے بڑے لیڈروں کے لئے سہالہ ریسٹ ہاﺅں میں بندوبست کیا گیا تھا اس وقت بھی انہوں نے پیش کش کی تھی کہ اگر یہ دوبارہ الیکشن کے لئے تیار ہیں تو دونوں کی صلح صفائی کرا دی جائے۔ وہ تیار نہیں تھے دوسری بات ہے۔ دوسری مرتبہ جب نوازشریف اٹک جیل گئے تو بھی سعودی عرب کے سفیر نے مداخلت کی اور پھر دو سعودی شہزادے بھی آئے پھر ااخر میں ایک جہاز بھی آیا اور ان کے گھروں کا سارا سامان کوئی 66 کہتا ہے کوئی 36 کہتا ہے بہت بڑے صندوق میں سارا سامان لے کر ساری فیملی باہر چلی گئی۔ اس کے بعد پھر 10 سال کا وعدہ کیا تھا مگر وہ 8 سال کے بعد نوازشریف کو لندن بھی جانے دیا۔ وہاں سیاست کے لئے کھلا ماحول ہوتا ہے۔ آخری دو سال تو نوازشریف نے لندن میں بیٹھ کر سیاست کی۔ اس کے بعد ایک مرحلہ آیا۔ ایک عجیب صورتحال تھی اب اس بات کو مانیں گے کم ہی لوگ لیکن اگر آپ اخبارات کے بین السطور خبریں پڑھ چکے ہیں تو میں ایک ہی خبر سنتا ہوں ایک دربار تھا۔ فوجیوں کے بھی دربار ہوتے ہیں جب کمانڈر چیف ااتا ہے آرمی چیف آتا ہے کھانے کے بعد کھلا اجلاس ہوتا ہے جس میں کوئی شخص اٹھ کر کوئی سوال کر سکتا ہے اس میں ایک شخص نے راحیل شریف صاحب سے سوال کیا کہ یہ جو آپ جتنا محاذ کھولے ہوئے ہیں یہ تو کام نہیں ہو سکے گا۔ یہ الیکشن تو سر پر ہیں تو انہوں نے ان کو تسلی دی کہ جناب بالکل کام ہو جائے گا اور جانے سے پہلے ساری صفائی کر کے جاﺅں گا اس سے اشارہ مل رہا تھا کہ شاید کوئی بڑا فیصلہ خاص طور پر احتساب کے سلسلے میں وہ کر کے جائیں گے لیکن وہ خبریں بھی پڑھی ہوں گی کہ ایئرمارشل اصغر خان کی تو زمین ملی تھی جو سب فوجیوں کو ملتی ہے ان کو سکھر کے پاس کسی کو قصور کے پاس، کسی کو ملتان کے پاس، یہ واحد راحیل شریف بہادراعظم تھے جن کو زمین لاہور کے شہری علاقے میں جو جہاں سے فوجی ایریا شروع ہوتا ہے وہاں سے ان کو زمین دی گئی اور وہ مرلوں کی نہیں انچوں کے حساب سے قیمتی زمین تھی اور پھر دیکھتے دیکھتے ہی راحیل شریف نے جو ٹون ان کا یہ تھا کہ کبھی کوئی گڑ بڑ کرے گا وہ اسے پکڑ لیں گے لیکن انہوں نے کسی کو نہیں پکڑا اور بڑے آرام سے اپنا وہی معاہدہ بنوا کر دو سال کی مدت پوری کرنے سے پہلے ان کو خصوصی اجازت لے کر سعودی عرب میں فوجی اتحاد کے سربراہ بن سکیں۔ آپ دیکھیں یہ وہی مسئلہ ہے جو کل سپریم کورٹ نے ٹیک اپ کیا تھا کہ فوجی حضرات جو ہیں خاص طور پر دیکھا جائے تو انہوں نے کوئی کمی نہیں چھوڑی اور شہباز شریف صاحب اور نوازشریف صاحب کو آﺅٹ آف وے جا کر اکاموڈیٹ کیا ہے اور یوں لگتا تھا سڑکوں پر کئی شہروں میں پوسٹر لگ گئے راحیل شریف صاحب کے۔ راحیل شریف صاحب آﺅ اور اس کرپٹ حکومت سے نجات دلاﺅ۔ قربان جایئے راحیل شریف صاحب کے کتنے نیک اور ایماندار آدمی تھا انہوں نے کہا جن لوگوں نے پوسٹر لگائے ہیں ان کو گرفتار کر لو پکڑ لو ان کو پکڑ لیا گیا اور راحیل شریف لاہور کے قریب والی زمین کا قبضہ لینے کے بعد ایک سرٹیفکیٹ بھی ان کو مل گیا کہ دو سول پورے نہ ہونے کے باوجود وہ باہر بھی جا سکتے ہیں اور نوکری بھی کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب ہمیشہ سے جو پاکستان میں جتنے لوگوں نے بے ایمانیاں کیں قانون شکنی کی سعودی عرب نے ہمیشہ ان کی مدد کی اب بھی وہ وہی کچھ کر رہے ہیں۔ میری معلومات یہ ہیں کہ سعودی حکومتوں کی طرف سے خفیہ طور پر کوشش ہو رہی ہے کہ بہت دلچسپ طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے کہ وہ یہ کہ جتنی رقم 300 ارب بنتی ہے۔ 300 ارب روپے میں آپ کو پتہ ہے نیب کے قانون کے تحت ہی کارروائی ہو رہی ہے اور نیب کے تحت ہی پلی پارگیننگ بھی ہوتی ہے۔ آخری معلومات 3 یا 4 دن سے میرے پاس یہی خبریں بار بار آ رہی ہیں کہ فارمولہ یہ دیا گیا ہے کہ سعودی سفیر کی طرف سے کہ نوازشریف صاحب پر جتنے پیسوں کا الزام ہے پلی بار گیننگ کے تحت وہ جتنے پیسے پر اتفاق رائے ہو پیسے جمع کروا دیں اور رہا ہو کر باہر چلے جائیں۔ اس کے راستے میں رکاوٹ صرف ایک ہے کہ این آر او اسی طرح سے بنانا پڑے گا کہ اس سے وہ فوراً رہا ہو جائیں گے پیسہ دیں وہ رہا ہو جائیں گے۔ اس سے ان پر جو اور ریفرنسز باقی ہیں وہ چاہتے ہیں کہ وہ بھی ختم ہو جائیں گے تا کہ وہ صاف صفاف ہو کر باہر جا سکیں اور اس سلسلے میں ہمارے جو محترم دوست سعودی عرب والے ہیں جو راحیل شریف کو وہ کہتے ہیں وہ صادق اور امین ہونا چاہئے ذرا صادق اور امین ہونے والی شرط سعودی عرب کے حکمرانوں پر بھی لگائیں کیونکہ انہوں نے تو یہ کہا تھا کہ ایک فوج بنے گی بین الاقوامی دہشت گردوں کے خلاف جہاں جہاں دہشت گردی ہو گی اس میں پاکستان سے وہ سربراہ بھی لے گئے تھے اس کا، کون سا اتحاد وہاں بنا کر، کون سی فوج وہاں بنی ہے کس فوج کے سربراہ راحیل شریف صاحب صبح سے لے کر شام تک وہ کون سے دستوں کی ٹریننگ کر رہے ہیں چار دفعہ انہوں نے کہا تھا کہ تاریخیں بدلی نہیں کہ تمام ممالک جو اس میں شریک تھے 74 ممالک تھے یہ ممالک فوج کا حصہ دیں گے اور افسران بھی دیں گے ہتھیار بھی دیں گے۔ راحیل شریف صاحب کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ان یونیفارمٹی پیدا کریں گے اور وہ پھر سب لوگوں کو ایک ہی پیج پرلانے کے لئے تربیت دیں گے اور یہ لوگ وہاں کہیں عالم اسلام میں دہشتگردی ہوتی ہو گی وہاں کام کریں گے کوئی بتا سکتا کہ وہ عالم اسلام کی وہ فوج جو دہشتگردی کے خلاف استعمال ہونی تھی وہ کدھر ہے اگر وہ اب تک نہیں بنی تو کیوں نہیں بنی اور راحیل شریف وہاں کیا لے رہے ہیں اور اگر بنی ہے تو اس دوران ہی میں ایک سعودی حکمران نے کیلی فورنیا میں اور دوسرے نے امریکہ کی ایک اور سٹیٹ میں یہ بیان دیا تھا اور اس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ فوج جو بننے جا رہی ہے یہ جو حوثی قبائل ہیں یمن کے باغی ہیں یہ ان کی سرکوبی کرے گی۔ یہاں شور مچ رہا تھا کہ خدا کے لئے ان کو یمن کے معاملے میں مداخلت نہ کرنے دیں اور سعودی کھل کر کہہ رہے تھے کہ اگر یہ فوج بنے گی تو یہ حوثی قبائل کی مرتب کرے گی۔ راحیل شریف نے اب تک کتنی مرتب کی اب تک دنیا بھر کے وہ ممالک جو ازخود اس پر یقین نہیں رکھتے اور روپے پیسے کو اسٹیٹ کے وسائل کو، اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں جس طرح سے سعودی بادشاہ سمجھتے ہیں۔ضیا شاہد نے کہا کہ سعودی عرب ایک بار پھر نوازشریف کو بچانے کے لئے معاہدہ کرنے کو تیار ہے، پلی بارگیننگ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ دوست ممالک کو کوئی شرافت کا مظاہرہ کرنا چاہئے، یہ کیا طریقہ ہے جو پاکستان میں لوٹ مار کرے پھر وہ باہر چلا جائے۔ ہمارا بجٹ نہیں بن رہا اور مالی معاملات چلانا مشکل ہیں، دنیا میں کہا جا رہا ہے کہ ان کو پیسے نہ دو۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک فوج نے بہت اچھے کام کئے ہیں۔ دہشت گردی حتم کی، شفاف الیکشن کروائے لیکن وہ اپنے ادارے میں بھی تو نظر دوڑائیں، راحیل شریف باہر 90 کروڑ کی نوکری لے کر بیٹھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کے یک طرفہ طور پر بلوچستان کے لئے وزیراعلیٰ کا نام لینے پر سردار اختر مینگل ناراض ہیں۔ ساری اکھاڑ بچھاڑ کے پیچھے پیسہ ہے اور سب کو پتہ ہے جن کے پاس پیسہ ہے۔ روزانہ صبح سے شام تک سودے ہوتے ہیں یہ کہنا بڑا مشکل ہے کہ کون بکاﺅ نہیں۔ یہاں 90 فیصد بکاﺅ لوگ ہیں، ہر دوسرے دن نئی صورتحال نظر آئے گی جب تک ناجائز پیسہ نہیں پکڑا جاتا۔ عمران خان نے برطانوی ہائی کمشنر کو ٹھیک کہا کہ آپ کے ملک میں یہاں سے جو منی لانڈرنگ کر کے پیسہ لے کر گئے وہ وواپس کریں۔ تجزیہ کار نے ایک شعر کہ
لو آ گئی ہے آج دوراہے پر زندگی
ہوتا ہے کون کس سے جدا دیکھتے رہو
کہتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور ہی پیسے کا ہے جس کی خاطر بھائی بھائی کو مار دیتا ہے۔ موجودہ پاک آرمی کی بڑی قدر کرتا ہوں، دہشتگردی پر کنٹرول اور شفاف و پرامن الیکشن کرانے کا کریڈٹ فوج کو جاتا ہے۔ آرمی چیف سے درخواست ہے کہ جو لوگ پکڑے جا چکے ہیں اور ان پر الزام بھی ثابت ہو چکے ہیں اب ان کو کسی بھی ملک کو نہ بھیجے گا، قرض اتارنے کے لئے ہمارے اپنے پیسے واپس لائیں، جنرل باجوہ صاحب یہ آپ کا بہت بڑا امتحان ہے، ملک کو لوٹنے والوں کو بیچنا نہیں۔ کتنے سابق فوجی ہیں جن کی ٓاسٹریلیا میں بلڈنگز ہیں، فوجیوں کے بھائیوں کے بارے میں خبریں چھپ چکی ہیں 211 ارب روپے لوٹے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو وزیراعظم سمیت تمام عہدوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرنے کا پورا حق حاصل ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے انتخابی عمل کو تسلیم کر لیا اب احتجاج کی کال بھی دینا بے معنی ہے۔
عجب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں
موجودہ سیاسی صورتحال اسی طرح سے ہے، ابھی چیزیں اپنی اصل شکل میں نہیں آئیں، جوڑ توڑ ہوو رہے ہیں، ہفتہ 10 دن میں صورتحال کلیئر ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت کی اس وقت بری حالت ہے۔ بجلی و پانی نہیں ہے، کوئی گورننس نہیں ہے۔ 3 دن ہزاروں شکایتیں موصول ہوئیں کہ بجلی کا لوڈ اچانک زیادہ آ جانے کی وجہ سے لوگوں کا الیکٹرانک سامان جل گیا۔
سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ آر ٹی ایس کا نظام ناکام ہونا نادرا کی نااہلی ہے، اس نے یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ سسٹم فلاپ نہیں ہو گا۔ الیکشن کمیشن اور نادرا کے مابین 15 فروری 2018ءکو معاہدہ ہوا تھا جس میں نادرا نے آر ٹی ایس سسٹم کے فلاپ نہ ہونے کی گارنٹی دی تھی اور اس کے تحت 15 کروڑ روپے فیس وصول کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے سسٹم فلاپ ہونے پر نادرا کے خلاف کمیٹی تشکیل دے کر درست اقدام اٹھایا، وہ ایک مہینے میں رپورٹ پیش کریں گے کہ غلطی کس کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی بالکل نہیں ہوئی۔ آرٹی ایس سسٹم فلاپ ہونے کے بعد ریٹرننگ افسران نے مینول طریقے سے کام مکمل کیا جس کی وجہ سے نتائج میں تاخیر ہوئی۔ الیکشن کمیشن کی ساکھ خراب کرنے کیلئے سازش کے تحت سسٹم کو فلاپ کیا گیا۔ نادرا کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ماہر معاشیات ڈاکٹر شہد حسن صدیقی نے کہا ہے کہ نگران وزیر خزانہ کی بات درست ہے کہ سابق حکومت کا آخری بجٹ غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ نئی حکومت کا پہلا کام ہونا چاہئے کہ 2 ہفتوں میں نیا بجٹ دیں۔ وفاق اور جن صوبوں میں تحریک انصاف حکومت بنائے وہاں فوری بجٹ دینے پڑیں گے۔ پرانا بجٹ ختم ہو چکا اس میں اہداف ٹھیک نہیں تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا واضح ایجنڈا ہے تعلیم، صحت، لوٹی ہوئی دولت واپس لانا اور ٹیکسوں کی چوری روکنے سے متعلق ان چیزوں پر عملدرآمد کے لئے حکومت بننے کے بعد 2 ہفتوں میں نیا بجٹ دینا چاہئے۔

عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ، دنیا کے ساتویں پسندیدہ رہنما بن گئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاکستان کے متو قع وزیراعظم عمران خان عہدے کا حلف لینے سے پہلے ہی دنیا کے ساتویں پسندیدہ رہنما بن گئے ہیں،ٹویٹر پران مداحوں کی تعداد 80لاکھ سے زائد ہوگئی ، مداحوں کی تعداد کے حوالے سے وہ دنیا کے ساتویں پسندیدہ رہنما بن گئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی سوشل میڈیا پر آنے والی ٹوئٹس سوشل میڈیا پر خاصی شہرت کا باعث بنتی رہی ہیں،اس وقت ان کے مداحوں کی تعداد 8لاکھ 17ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو مداحوں کی تعداد کے لحاظ سے آٹھویں نمبر پر ہیں جن کے فالوورز یا مداحوں کی تعداد 4لاکھ 26ہزار سے زیادہ ہے،عمران خان کے مداحوں کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے اور خیال کیاجارہا ہے کہ جیسے ہی وہ وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیں گے ، یہ تعداد خود بخود بڑھ جائے گی۔ٹوئیٹر پر فالوووز کی تعداد کے لحاظ سے پہلے نمبر پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو پانچ کروڑ 34لاکھ ہے۔دوسرے نمبر پربھارت کے نریندر مودی4کروڑ 33 لاکھ ، تیسرے پر پوپ فرانسیس1کروڑ77لاکھ، چوتھے پرترک صدر طیب اردگان1کروڑ31لاکھ، پانچویں نمبر پر عمان کی ملکہ رانیہ عبداللہ1کروڑ6 لاکھ، چھٹے نمبر پر جوکو وڈوڈو1کروڑ2 لاکھ، ساتویں پر عمران خان8لاکھ17ہزار ، آٹھویں پر جسٹن ٹروڈو4لاکھ3 ہزار ،نویں نمبر پر فرانسیسی صدر میکروں3 لاکھ 2ہزاراور 10ویں نمبر پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتین یاہو1لاکھ چار ہزار ہیں۔

”پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مولانا فضل الرحمان اپنے خرچے پر۔۔۔“ شیخ رشید نے ایسی جگت لگا دی کہ کسی کی بھی ہنسی نہ رکے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ جب شیخ رشید عمران خان کیساتھ اسمبلی میں ہو گا تو اپوزیشن کو راضی کر لیں گے۔ جہاں تک مولانا فضل الرحمان کی بات ہے تو میں جانوں اور وہ جانیں، وہ تو بس ایسے ہی کرتے رہے ہیں، زندگی میں پہلی مرتبہ مولانا فضل الرحمان اپنے خرچے پر سیاست کرنے جا رہے ہیں، اللہ ان کے حال پر رحم کرے۔ شیخ رشید سے سوال کیا گیا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن بہت مضبوط ہو گی۔ اپوزیشن لیڈر چاہے بلاول بھٹو زرداری ہوں یا شہباز شریف ہوں لیکن اپوزیشن بہت مضبوط ہو گی تو آپ اپوزیشن کا مقابلہ کیسے کریں گے؟عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب شیخ رشید قومی اسمبلی میں عمران خان کیساتھ ہو گا تو اپوزیشن کو راضی کریں گے، ہمیں پتہ ہے کہ ان کی چابیاں کہاں ہیں، جس کی جو چاپی ہے وہی والا پانا استعمال کریں گے، اگر کسی کو چار نمبر کی چابی لگتی ہے تو چار نمبر کا پانا استعمال کریں گے۔جہاں تک مولانا فضل الرحمان کی بات ہے تو وہ جانیں اور میں جانوں، وہ تو بس ایسے ہی کرتے رہتے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ اپنے خرچے پر سیاست کرنے جا رے ہیں، اللہ تعالی ان کے حال پر رحم کرے۔اس موقع پر شیخ رشید نے ایک لطیفہ بھی سنایا کہ ”ایک مولوی صاحب سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے کبھی حرام کھایا ہے؟ تو اس نے بڑی دیر سوچنے کے بعد جواب دیا کہ یاد نہیں پڑتا، ایک دن گھر میں کھانا کھایا تھا۔ فضل الرحمان کیساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک تبدیلی ہے، پٹھان کبھی دوسری دفعہ ووٹ نہیں دیتا لیکن انہوں نے عمران خان کو ووٹ دیا ہے۔