خبریں کی خبر پر ایکشن ، نیب کی کروڑوں کے گھپلے پر کاروائی

بہاولنگر (ملک مقبول احمد سے) بہاولنگر خبریں کی خبر پر ایکشن نیب ملتان نے تین ماہ انکوائری کرنے کے بعد اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر کے بارہ سینئر افسران کو اپنی حراست میں لے کر کاروائی شروع کر دی جب کہ ان سے 19 کروڑ روپے کے محکمہ تعلیم کے بوگس بل کے انکشافات سامنے آ گئے جب کہ اکاﺅنٹ آفس کے افسران کی ملی بھگت سے محکمہ ایجوکیشن کے ریٹائرڈ ملازمین اور بوگس بھرتیوںاور بوگس بل کی مد میں 19کروڑ روپے کے انکشافات خبریں انسپکشن ٹیم نے کیے تھے جس پر نیب نے نوٹس لیتے ہوئے اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر کے خلاف انکوائری شروع کر دی تھی آج خبریں انسپکشن ٹیم کی خبر سچی ثابت ہوئی تین ماہ انکوائری کے بعد نیب ملتان نے اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر کے جاوید اخترگل سینئر ایڈیٹر اور ایڈیٹر مقصود ،عبدالستار فاروقی اسسٹنٹ اکاﺅنٹ افسر ،اظہر سیال اسسٹنٹ اکاﺅنٹ افسر ، اور محمد یسین سمیت اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر کے بارہ سینئر افسران کو نیب ملتان نے گرفتار کر کے کاروائی شروع کر دی ان سے ایجوکیشن بہاولنگر کے 19کروڑروپے کے بل کی مد میں کرپشن کے انکشافات سامنے آ گئے تفصیلات کے مطابق محکمہ ایجوکیشن اور اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر کے سینئرافسران کی ملی بھگت سے جعلی اور بوگس بل کروڑوں روپے کی مد میں پاس کیے گئے جس کی خبر روز نامہ خبریں نے شائع کی کہ 19کروڑ روپے کے قریب بوگس بل پاس کیے گئے ہیں تو اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر اور محکمہ تعلیم کے اعلی افسران کی رات کی نیندیں اڑ گئی تھی خبریں انسپکشن ٹیم کے انکشافات کے بعد اس کروڑوں روپے کی کرپشن کا نیب نے فوری طور پر خبریں کی خبر پر ایکشن لے کر انکوائری شروع کر دی تھی تین ماہ نیب ملتان نے انکوائری کرنے کے بعد آج مورخہ 22جون کو اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر کے بارہ سینئر افسران کو گرفتار کر کے کاروائی شروع کردی ہے۔

 

سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کے شوہر کے بھارت میں بینک اکاﺅنٹس کا انکشاف

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کے اثاثوں کی تفصیلات بھی منظر عام پر آگئی ہیں جن میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کے شوہر کے بھارت میں 2 بینک اکاﺅنٹس ہیں اور انہوں نے 30 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ حافظ آباد سے تعلق رکھنے والی سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے اپنے کاغذات نامزدگی میں 33 ایکڑ اراضی والد جبکہ 24 ایکڑ اراضی والدہ کی طرف سے ظاہرکی ہے۔ سائرہ افضل نے2015اور2016کے دوران زرعی آمدن محض 3 لاکھ روپے ظاہرکی جبکہ 2017میں اس 57 ایکڑ اراضی سے ساڑھے 3 لاکھ روپے آمدن ظاہر کی ہے۔ سابق وزیر صحت نے 2015 میں14لاکھ روپے کی آمدن ظاہر کی جس پر 1 لاکھ 62 ہزار روپے کا ٹیکس دیا جبکہ 2016 میں 15 لاکھ روپے کی آمدن پر محض 80 ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔ سائرہ افضل تارڑ نے اپنے کاغذات نامزدگی میں 60تولے زیورات اور21لاکھ روپے نقدی بھی ظاہرکی ہے جبکہ انہوں نے اپنے 2 بینک اکانٹس میں 15 لاکھ روپے کا بیلنس ظاہرکیا ہے۔ انہوں نے ٹیکس گوشواروں میں اپنے شوہر عرفان تارڑ کے بھارت میں2بینک اکاوئنٹس بھی ظاہرکیے لیکن کاغذات نامزدگی میں ان بینک اکاﺅنٹس کا ذکر نہیں کیا، سائرہ افضل کے شوہر عرفان تارڑ نے 30لاکھ روپے کی سرمایہ کاری بھی کی ہے۔

 

پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل ہونے سے بچانے کیلئے نگران حکومت نے سر جوڑ لیے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل ہونے سے بچانے کے بعد نگران حکومت نے سر جوڑ لیے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے پاکستان کی تیاریوں کے مدنظر وزیر اعظم ہاﺅس میں اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعظم کو گرے لسٹ کے معاملے پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ گرے لسٹ کے معاملہ پر ایف اے ٹی ایف کا 6 روزہ اجلاس 24 سے شروع ہو گا اور اس میں ایف اے ٹی ایف پاکستان کے اقدامات کی روشنی میں گرے لسٹ کا فیصلہ کرے گا۔

کلثوم نواز کی صورتحال….؟سانس مصنوعی مشینوں کے ذریعے بحال رکھی گئی ہے فاروق ملک بنگش کا دعویٰ ‘بات 95 فیصد درست لگتی ہے :بیوروچیف خبریں لندن

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ضیاشاہد کے ساتھ پروگرام میں خبریں کے لندن میں بیورو چیف وجاہت علی خان سے وہاں کے ایک شہری فاروق ملک بنگش کے بیگم کلثوم نواز کے حوالے سے دعوے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں کہا کہ یہ دعویٰ پچانوے فیصد درست معلوم ہوتا ہے۔ مسٹر بنگش نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ لندن کے کلینک کے تمام دروازے بند ہیں اور کسی ملاقاتی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تاہم وہ ایک معروف برطانوی سرجن ایلامشی کے ساتھ اندر جانے میں کامیاب ہو گئے جہاں بیگم کلثوم نواز کیبن نمبر 3 میں کئی ہفتے سے موجود ہیں۔ باہر لگی نیم پلیٹ کے مطابق ان کی نرس مس اندریتا انگی ہیں جو بلغاروی نژاد برطانوی ہیں‘ جس کے بعد میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ محترمہ کلثوم نواز کا تنفس مصنوعی مشینوں کے ذریعے ہی بحال رکھا گیا ہے۔ مسٹر بنگش نے بات کرنے کے لیے ایک فون نمبر بھی دیا ہے تاہم خبریں کے بیوروچیف نے اس نمبر پر رابطے کی کوشش کی‘ مسلسل کوشش کے باوجود انہیں کامیابی نہ ہوئی کیونکہ بند تھا اور اس پر ٹیپ لگی ہوئی تھی تاہم بیوروچیف کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ مسٹر بنگش کی اس حوالے سے رائے پچانوے فیصد درست ہے۔ انہوں نے کہا کلثوم نواز کے بارے میں ابہام کی سب سے زیادہ قصور وار خود شریف فیملی ہے۔ واضح رہے مریم نواز بار بار کہہ چکی ہیں کہ ہم آوازیں دے رہے ہیں مگر امی بول ہی نہیں رہیں۔
مصنوعی سانس

رواں سال 3 سورج اور 2 چاند گرہن ہونگے چاند گرہن پاکستان میں بھی دیکھے جاسکیں گے

اسلا م آباد(صبا ح نیوز)رواں سال دنیا بھر میں 3 سورج گرہن اور 2 چاند گرہن ہونگے پاکستان میں سورج گرہن نظر نہیں آئیگا تاہم چاند گرہن پاکستان میں بھی دیکھے جاسکیں گے چاند گرہن 28 جولائی بروز ہفتہ کو ہوگا ۔جس کا دورانیہ 3 گھنٹے 54 منٹ 33 سیکنڈ ہوگا جبکہ دوسرا سورج گرہن 13 جولائی بروز جمعہ اسی طرح تیسرا سورج گرہن 11 اگست بروز ہفتہ کو ہوگا ۔سورج گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئیگا جبکہ چاند گرہن پاکستان میں دیکھے جاسکیں گے 2018 میں مجموعی طور پر 3 سورج اور 2 چاند گرہن ہونگے۔

بھارتی ایئرلائن کے پائلٹ نے مسافروں کو جہاز سے نکالنے کیلئے ‘اے سی’ فُل کردیا

نئی دہلی( ویب ڈیسک ) ایک بھارتی ایئرلائن نے مسافروں کو 4 گھنٹے سے زائد تک انتظار کروانے کے بعد طیارے سے اترنے کا حکم دے دیا اور جب مسافر نہیں اترے تو جہاز کا ایئر کنڈیشن فل کردیا، جس سے کئی لوگوں کی حالت خراب ہوگئی۔ کلکتہ سے بگڈوگرا (Bagdogra) جانے والی ایئر ایشیا کی پرواز کے لیے پہلے مسافروں کو ایئر پورٹ اور پھر طیارے میں تقریباً 4 گھنٹے تک انتظار کروایا گیا اور اس کے بعد حکم ہوا کہ جہاز سے اتر جائیں۔جب مسافروں نے جہاز سے اترنے سے انکار کیا تو طیارے کا اے سی ف±ل کردیا گیا، جس کے باعث طیارے میں دھند جیسی صورتحال پیدا ہوگئی، جس سے کئی مسافروں کی طبیعت خراب ہوگئی۔مذکورہ پرواز میں 168 مسافر سوار تھے۔طیارے میں سوار ایک مسافر دیپانکار رائے نے بتایا کہ عملے کا رویہ انتہائی غیر پیشہ ورانہ اور خراب تھا۔ان کا کہنا تھا، ‘فلائٹ نے صبح 9 بجے روانہ ہونا تھا لیکن وہ آدھا گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوئی، بورڈنگ کے بعد ہمیں ڈیڑھ گھنٹے تک طیارے میں بھوکا پیاسا بٹھایا گیا، جس کے بعد پائلٹ نے تمام مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ جہاز سے نیچے اتر جائیں اور اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔’

 

مریم نواز کا پاکستان آنے سے انکار

لندن‘ لاہور (خصوصی رپورٹ) مریم نواز نے بیگم کلثوم نواز کی مکمل صحت یابی تک لندن میں قیام کرنے فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان نہ آنے کا اعلان کر دیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق مریم نواز نے والدہ کی مکمل صحت یابی تک لندن میں قیام کرنے فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری والدہ بیمار ہیں میں ان کی مکمل صحت یابی تک پاکستان نہیں جاﺅنگی۔ پاکستان جانے کا فیصلہ کلثوم نواز کی مکمل شفا یابی پر ہی کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ والدہ کی صحت کے پیش نظر پاکستان جانے کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ دریں اثنا مریم نواز قومی اسمبلی کے حلقے این اے 27 لاہور اور پی پی 173 سے الیکشن لڑیں گی اور اس حوالے سے ن لیگ کے پارلیمانی بورڈ نے منظوری بھی دیدی ہے۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز نے 127 کے ساتھ اپنے آبائی علاقے این اے 125 سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔

 

چانڈ کا اسپتال کے باہر گندگی ،چیف جسٹس لاڑکانہ میں بھی برہم

لاڑکانہ(ویب ڈیسک ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے لاڑکانہ میں واقع چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال کے دورے کے دوران یورولوجی ڈپارٹمنٹ کے اطراف گندگی کے ڈھیر اور لیبارٹری کی خراب صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کی سرزنش کی۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمدعلی شیخ بھی جسٹس ثاقب نثار کے ہمراہ تھے۔چیف جسٹس نے چانڈکا اسپتال میں داخل مریضوں سے دواو¿ں سے متعلق بھی پوچھ گچھ کی اور اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کا بہتر علاج معالجہ یقینی بنایا جائے۔چیف جسٹس نے اسپتال کے باہر درخت کے سائے میں کھڑے ہو کر سائلین کی درخواستیں بھی سنیں۔بعدازاں چیف جسٹس شیخ زید اسپتال پہنچے اور ویمن او پی ڈی کا دورہ کیا۔اس سے قبل چیف جسٹس نے سیشن کورٹ کی مختلف عدالتوں کا بھی دورہ کیا اور سائلین سے مقدمات سے متعلق معلومات لیں۔

 

نا اہل شخص سے میرا کیا مقابلہ : شاہ محمود قریشی ، جواب دینا پسند نہیں کرتا : جہانگیر ترین

ملتان‘ لودھراں (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور سابق جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کے درمیان سرد جنگ شدت اختیار کر گئی، پارٹی کے دونوں سینئر رہنماوں کی جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات بھی لگائے گئے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جہانگیر تیرین سے کوئی مقابلہ نہیں جوشخص الیکشن نہیں لڑ سکتا اس سے مقابلہ نہیں بنتا جبکہ ردعمل میں جہانگیرترین کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا عام کارکن ہوں اورپارٹی کے ساتھ پہلے کی طرح کھڑار ہوں گا۔ تفصیلات کے مطابق ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا جہانگیر ترین کے ساتھ سرد جنگ سے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ جہانگیر ترین سے کوئی مقابلہ نہیں ہے، مقابلہ سیاست میں ہوتا ہے، جو شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا اور کسی گیم میں شامل ہی نہیں اس سے مقابلہ بنتا ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا پاگل ہوں جو جہانگیر ترین سے مقابلہ کروں گا، بنی گالہ کے باہر احتجاج کارکنوں کا حق ہے لیکن بتایا جائے کہ سکندر بوسن کو کون سپورٹ کر رہا ہے؟ کون ہے جو کارکنوں کو احتجا ج پر اکسا رہا ہے ؟ اتنی اخلاقی جرات ہے تو سامنے آنا چاہیے۔ وہاڑی پی ٹی آئی رہنما نذیر جٹ کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انہیں پارٹی میں اسحاق خاکوانی لے کر آئے لیکن عائشہ جٹ کو صوبائی ٹکٹ کس نے دلوایا؟ انہیں ضمنی الیکشن کس نے لڑوایا؟انہوں نے کہا کہ میں تو عائشہ جٹ کے ضمنی الیکشن میں بھی موجود نہیں تھا لیکن نذیر جٹ نے اگر بات کی ہے تو اپنے بل بوتے پر کی ہے، ان کی اپنی ایک سوچ، سیاسی حیثیت اور ایک نام ہے، میری اس میں کوئی شرارت نہیں ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نہ بدنیت ہوں، نہ شرارتوں کا عادی ہوں اور نہ ہی سازشی مزاج کا بندہ ہوں، میرا ایمان ہے کہ اللہ دلوں کے راز جانتا اور حقائق پہچانتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں آپ سے فریب کر سکتا ہوں لیکن کیا اللہ سے بھی کر سکتا ہوں؟ کیا میں اللہ سے جعلسازی کر سکتا ہوں؟ میں جعلسازی نہیں کر سکتا کیونکہ اللہ نیتوں کے حال جانتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کسی پر اعتراض نہیں، میں اپنے کسی رشتہ دار کو اپنے نظریے پر فوقیت نہیں دوں گا۔ وائس چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں نے اصول کی سیاست کی ہے، وزارت خارجہ اور قومی اسمبلی کی نشست نظریے کا سودا کرنے کے لیے نہیں ٹھکرائی۔ انہوں نے کہا کہ حق مانگنا ہر کسی کا حق اور فیصلہ کرنا پارٹی کا حق ہے، پارٹی فیصلہ کرے گی، عمران خان فیصلہ کریں گے خوا وہ میرے عزیز کے حق میں ہو یا خلاف۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست دینا، دلائل دینا ہر کسی کا حق ہے لیکن فیصلہ تسلیم کرنا پارٹی کا ڈسپلن ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کے لیے قربانی اور ایثار کا جذبہ ہونا چاہیے، خان صاحب کو وزیراعظم بنانے کے لیے خود کو قربانی کے لیے پیش کرنے کو تیار ہوں۔ انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے اس وقت سب سے مقدم چیز نیا پاکستان اور آپ کی کامیابی ہے، خان صاحب، آپ خالصتا میرٹ پر فیصلے کریں، میری طرف سے کوئی دباو اور لالچ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جو بھی فیصلے کریں گے اس پر آمین کہوں گا۔ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس کے حوالے سے لودھراں میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ کسی کے خلاف بات کرنا پسند نہیں کرتا، شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس دیکھ کر جواب دوں گا لیکن جواب دینے کے قابل کوئی چیز بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں بطور عام کارکن کام کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا، پارٹی کےساتھ ایسے ہی کھڑا ہوں جیسے پہلے کھڑا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹکٹوں کے لیے کوئی دھرنا دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے، میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے، اصول کی سیاست کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی اپنے ضلع اور شہر کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر منصفانہ طریقے سے معاملات حل کریں کیونکہ دوسروں پر الزام لگانے سے بہتر تحفظات دور کرنا ہے۔ عمران خان کو وزیراعظم بنانے کیلئے جو ہو سکا کروں گا، جہانگیر ترین پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ شاہ محمود قریشی دوسروں پر الزامات لگانے کے بجائے عون چوہدری جیسے کارکنوں کے تحفظات دور کریں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ پی ٹی آئی میں نہ کوئی عہدہ مل سکتا ہے نہ میں کوشش کر رہا ہوں، عمران خان کو وزیراعظم بنانے اور تحریک انصاف کو برسراقتدار لانے کے لیے جو ہو سکا کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کی سیاست پی ٹی آئی نے شروع کی تھی، اب ہمیں دھرنوں پر برا نہیں ماننا چاہیے، ٹکٹوں کے بارے میں ضروری ہے کہ منصفانہ فیصلے کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے زیادہ تر نشستوں پر اچھے امیدوار کھڑے کیے، میں ان میں سے نہیں جو پارٹی کے معاملات میڈیا پر اچھالے، میں باہر آ کر بھڑکیں نہیں مارتا، پارٹی کے اندر بات کرتا ہوں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ میں نے شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس نہیں دیکھی، میں پریس کانفرنس دیکھ کر جواب دوں گا، میں کسی کے خلاف بات کرنا پسند نہیں کرتا، میں پاکستان تحریک انصاف کیلئے محنت کرتا رہوں گا، خان صاحب کی موجودگی میں سب نے پارلمینٹری بورڈ میں عہد کیا کہ کوئی اندرونی باتیں باہر نہیں کریںگے گا، دھرنے کی سیاست ہم نے خود اس ملک میں شروع کی ہے۔ جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا ہم نے بہت محنت سے کام کیا ہے، 90فیصد ہمارے فیصلے ہوچکے ہیں، میں کسی کے خلاف بات کرنا پسند نہیں کرتا، میں نے شاہ محمود کی پریس کانفرنس نہیں دیکھی، میں اس پریس کانفرنس کو ضرور دیکھوں گا، وہ جواب دینے کے قابل ہی نہیں، میں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کرکے استعفیٰ دے دیا، میں بحیثیت ورکر کام کررہا ہوں، مجھے کوئی مفاد نہیں، میں پاکستان تحریک انصاف کیلئے محنت کرتا رہوں گا، خان صاحب کی موجودگی میں سب سے پارلمینٹری بورڈ میں عہد لیاکہ کوئی اندرونی باتیں باہر نہیں کریں گے۔ اگر کوئی اس عہد کو توڑ رہا ہے وہ اس کی سزا خود بھگتے گا، دھرنے کی سیاست ہم نے خود اس ملک میں کی ہے، عمران خان خود ٹکٹوں کی رہنمائی کررہے ہیں، جنوبی پنجاب کے ٹکٹوں کیلئے ہم نے ایک علیحدہ لسٹ بنا کر بھیجی تھی۔ بہت سے اپنے حلقے ہیں جہاں تحفظات موجود ہیں، ہم الیکشن میں دھاندلی نہیں ہونے دیں گے، پاک فوج کی نگرانی میں الیکشن ہوں گے، الیکشن کمیشن کا کام ہے اثاثوں کی جانچ پڑتال کرنا، نواز شریف اور زرداری حکومتی وسائل استعمال کرکے لاکھوں روپے کا نقصان کرتے تھے، ٹکٹوں کیلئے اگر کوئی دھرنا دینا چاہتا ہے تو یہ اسکی مرضی ہے، ہر حلقے صرف تحریک انصاف کو جیتا کر عمران خان کو وزیراعظم بنانا ہے۔

 

کائنات کا مذہبی مرکز (نعوذباللہ )مکہ مکرمہ نہیں ملتان ہے : ظہور دھریجہ کی شر انگیزی

لاہور (رپورٹ: ازھر منیر سے) مسلمان کی حیثیت سے ہمارا عقیدہ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کائنات کا مرکز اور مذہبی مرکز مکہ مکرمہ ہے جہاں خانہ کعبہ شریف ہے لیکن جنوبی پنجاب میں آکر آباد ہونےوالا سندھی آباد کار ظہور احمد دھریجہ یہ اعزاز مکہ مکرمہ سے چھین کر ملتان کو بخش رہاہے، اس کا کہنا ہے کہ کائنات کا مذہبی مرکز ہونے کا اعزاز (نعوذ باللہ) ملتان کو حاصل ہے، اسی طرح اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ پیدائش کے وقت اس کے کانوں میں اذان دی گئی تھی یا خواجہ فرید کی کافی سنائی گئی تھی، مشہور صوفی بزرگ حضرت شاہ شمس تبریزؒ کو وہ کوئی حقیقی مسلمان شخصیت نہیں بلکہ ہندوو¿ں کے سورج دیوتا کا ایک روپ قرار دیتا ہے، یہ باتیں سینئر صحافی ازھر منیر نے دھریجے اور اس کے ساتھیوں کی کتابوں میں درج باتوں کے حوالے سے اپنے تحقیقی مضمون میں بیان کی ہیں جو آج کے خبریں کے ادارتی صفحہ پر ملاخطہ کیا جاسکتا ہے ،ازھر منیر نے مزید بیان کیا کہ ظہور دھریجہ اصل میں سندھی آباد کار ہے ، جو جنوبی پنجاب میں آکر آباد ہوا اور لسانی تعصب پھیلانے اور اس علاقے کے لوگوں کو پنجابی اور سرائیکی کے نام پر لڑانے کے مشن پر مامور ہے، ظہور دھریجہ مسلمان فاتح محمد بن قاسم کو غیر مسلم سکندر کی صف میں رکھتے ہوئے حملہ آور اور لٹیرا قرار دیتا ہے جبکہ اسکے حواری اکرم مرانی راجہ داہر کو ہیرو اور ”سرائیکی وسیب“ کی آزادی اور بقا کی جنگ لڑنے والا قرار دیتے ہیں، جبکہ مسلمانوں کے اقتدار کو غلامی کا دور کہتے ہیں دھریجے نے اپنی کتابوں میں تحریر کیا ہے کہ 14اگست ہمارے لئے یوم آزادی نہیں یوم غلامی ہے، دھریجہ شاعر مشرق کو حقارت سے” انگریزوں سے سر کا خطاب حاصل کرنے والا “قراردیتا ہے اور اس بات پر دکھ کا اظہار کرتا ہے کہ نصاب کی کتابیں علامہ اقبال ؒ کی تعریفوں سے بھری پڑی ہیں، یہی نہیں اسلامی تشخص کے حوالے سے وہ بہاولپور کے نواب کو علامہ اقبال سے برتر قرار دیتا ہے، اردو کے بارے میں دھریجے کا کہناہے کہ یہ قوم کو غلامی کے سواکچھ نہیں دے سکی، یہ چوں چوں کا مربہ ہے جس نے دوسری زبانوں سے لفظ خیرات کے طور پر لئے، یہ دشمن ملک کی زبان ہے، سندھی آباد کار ظہور دھریجہ کا شیخ مجیب الرحمن کے پیروکاروں سے اپنا رشتہ جوڑتے ہوئے کہنا ہے کہ مشرقی پاکستان میں بنگالی اور مغربی پاکستان میں سرائیکی سے ظلم ہوا، قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے بارے میں وہ یہ شر انگیزی بھی کرتا ہے کہ انہوں نے بہاولپور کے نواب کو ”نوکری“ کیلئے درخواست دی تھی۔ازھر منیر نے تحقیق کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ 1962ءسے پہلے جنوبی پنجاب میں سرائیکی نام کی کوئی زبان نہیں تھی، یہ اصل میں سندھی زبان کی چھ بولیوں میں سے ایک بولی کا نام ہے، جس کا پودا جنوبی پنجاب کے لوگوں کو آپس میں لڑانے کیلئے سندھ سے لاکر یہاں لگایا گیا، تازہ مردم شماری میں پنجاب کے 69.67فیصد باشندوں نے اپنی زبان پنجابی لکھوائی جبکہ اسکے مقابلے میں فقط 20.68 فیصد نے اپنی زبان سرائیکی لکھوائی ۔