تازہ تر ین

زرداری گرفتار ، نیب حوالات میں بند

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی، کرائم رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی جعلی بینک اکاو¿نٹس کیس میں درخواست ضمانت مسترد کردی، جس پر بعدازاں نیب نے سابق صدر آصف علی زرداری کو اسلام آباد میں واقع زرداری ہا?س سے گرفتار کرکے نیب ہیڈ کوارٹر منتقل کردیا جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا، آج منگل کو آصف زرداری کو جسمانی ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا، آصف علی زرداری کی گرفتاری کے موقع پر پیپلز پارٹی کے قائدین اور کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی اور دھکم پیل ہوئی، جس سے پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ زمین پر گر گئے تاہم انہوں نے کارکنان اور پولیس کے درمیان مزید تصادم نہ ہونے دیا ،گرفتاری کے موقع پر سابق صدر نے گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اپنی بیٹی آصفہ زرداری کو گلے لگایا ، بلاول بھٹو بھی موقع پر موجود تھے ،قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے جعلی اکاو¿نٹس کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت پر سماعت کی،سماعت کے دوران سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے ضمانتی مچلکے منظور کرنے کا احتساب عدالت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا اور بتایا کہ احتساب عدالت نے پہلی مرتبہ مچلکے منظور کیے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کراچی کی بینکنگ کورٹ نے بھی مچلکے منظور کیے تھے جس پر فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متعلقہ ٹرائل کورٹ نے مچلکے منظور کرکے حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا تھا،جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے مچلکے منظور کرلیے ہیں جس پر فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ کورٹ کے جج کا اختیار ہے کہ وہ وارنٹ جاری کرسکتا ہے، تاہم ابھی تک متعلقہ عدالت نے چارج بھی فریم نہیں کیا،سابق صدر کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں چیئرمین نیب کی جانب سے ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، ریفرنس جب احتساب عدالت کو منتقل ہوگیا تو تفتیشی رپورٹ بھی اس کے ساتھ منتقل ہوگئی،فاروق ایچ نائیک نے چیئرمین نیب کے خط کے حوالے سے عدالت کو بتایاکہ ’چیئرمین نیب نے بینکنگ کورٹ سے درخواست کی تھی کہ یہ نیب کا کیس ہے اسے احتساب عدالت منتقل کیا جائے اس کیس میں کافی مواد موجود ہے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ضمانت کی درخواست کو درخواست ہی رہنے دیں، اسے ٹرائل نہ بنائیں آپ پہلے ہی اپنے دلائل دے چکے ہیں، اگر کوئی چیز رہ گئی ہے تو صرف اسے بتائیں،ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ساڑھے 4 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا معاملہ ہے، اس حوالے سے تمام فہرست مہیا کر دی گئی ہے کہ کتنی رقم اکاو¿نٹ میں آئی اور کتنی استعمال ہوئی،جہانزیب بھروانہ نے عدالت کو بتایا کہ اے ون انٹرنیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی، ان اکا?نٹس کے ساتھ زرداری گروپ اور پارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشن ہوئی،نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ یہ صرف ایک اکاو¿نٹ کی ٹرانزیکشن ہے جبکہ 29 میں سے 28 اکاو¿نٹس کی تفتیش جاری ہے،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے ان کی درخوستیں مسترد کردیںکیس کا پس منظر2015 کے جعلی اکاو¿نٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں،یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاو¿نٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی،اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاو¿نٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا،7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاو¿نٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی،اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا،آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا،بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیاتھا،بعدازاں نیب نے جعلی اکاو¿نٹس کیس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سیکریٹری آفتاب میمن، شبیر بمباٹ، حسن میمن اور جبار میمن کو گرفتار کر کے 14 روزہ ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا، ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ان ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا،اس سلسلے میں 20 مارچ کو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پارک لین اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات قلم بند کرائے تھے،واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے،15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاو¿نٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی اور ساتھ ہی آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور و دیگر ملزمان کی ضمانتیں واپس لیتے ہوئے زر ضمانت خارج کرنے کا حکم دے دیا تھا،جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کی تھی اور 9 اپریل کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاو¿نٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا،احتساب عدالت کے رجسٹرار نے بینکنگ کورٹ سے منتقل کئے جانے والے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد اسے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کی عدالت میں منتقل کیا تھا۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے جعلی بینک اکا?نٹس کیس میں ضمانت مسترد ہونے کے باوجود سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو فی الحال گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری تعمیل کی جائے گی،خیال رہے کہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کے ہمراہ آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویڑن بینچ نے جعلی بینک اکاو¿نٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی جعلی اکا?نٹس کیس میں گرفتاری کے فوری بعد طبی معائنہ کیا گیا ہے، ذرایع کا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ نے آصف زرداری کو صحت مند قرار دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا طبی معائنہ پولی کلینک کے 3 رکنی میڈیکل بورڈ نے کیا، طبی معائنہ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا، جس کے بعد بورڈ نے انھیں صحت مند قرار دے دیا۔میڈیکل بورڈ نے معائنے کے بعد آصف زرداری کا میڈیکل سرٹیفکیٹ نیب حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ذرایع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کا شوگر لیول 170، نبض کی رفتار 88 فی منٹ تھی، بلڈ پریشر کا لیول 170/80 ریکارڈ ہوا، آصف زرداری نے مطمین انداز میں ڈاکٹرز کے سوالات کے جوابات دیے۔سابق صدر کی میڈیکل ہسٹری میں عارضہ? قلب، کمر درد، ذیابیطس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔طبی معائنہ کرنے والے میڈیکل بورڈ کے سربراہ کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر آصف عرفان تھے، ڈاکٹر حامد اقبال، نیب سرجن ڈاکٹر امتیاز احمد بورڈ کا حصہ ہیں، یہ خصوصی میڈیکل بورڈ نیب کی درخواست پر تشکیل دیا گیا۔کراچی‘ اسلام آباد، لاہور، حیدر آباد‘ لاڑکانہ‘ سکھر‘ قمبر‘ سانگھڑ‘ خیرپور‘ محراب پور‘ میرپور ماتھیلو‘ قاضی احمد‘ بدین (نمائندہ خصوصی‘ نمائندگان خبریں) میگا منی سکینڈل میں نیب کے ہاتھوں سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر میں جیالے سڑکوں پر نکل آئے ٹائر نذر آتش کرکے مظاہروں میں حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے اندرون سندھ مختلف شہروں میں عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ شہر قائد میں لوگ دفاتر سے جلدی گھروں کیلئے نکلنے پر شہر میں شدید ٹریفک جام ہوگیا جبکہ اندرون سندھ مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی ہوتی رہی۔ تفصیلات کے مطابق سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری کی گزشتہ روز ضمانت مسترد ہونے کے بعد زرداری ہا?س اسلام آباد سے گرفتاری کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر میں جیالے سڑکوں پر نکل آئے۔ کچھ شہروں میں جیالوں نے زبردستی دکانیں بند کرائیں جبکہ لاڑکانہ اور نواب شاہ میں عوام نے خوف و ہراس ذاتی اور مالی نقصانات سے بچنے کیلئے خود ہی کاروبار بند کر دیئے۔ سابق صدرکی گرفتاری کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر میں جیالے متحرک ہوگئے۔ شہر قائد میں غیر یقینی صورتحال،شہری حلقوںمیں ہر طرف گرفتاری سے متعلق چہ مگوئیاں۔ ایم پی ایز،پی پی صوبائی صدر،جنرل سیکرٹری سمیت جیالوں کی بڑی تعدا د کراچی پریس کلب پہنچ گئے۔ ڈویزنل عہدیداروں کو مقامی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کی ہدایت۔ ٹائر نذ رآتش۔آج 11 جون کو یوم سیاہ منانے کا اعلان گیا۔ پی پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف سندھ بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں کارکنان بازو¿ں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر پرامن احتجاج کرینگے۔ نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ متنازعہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے پیپلز پارٹی کو جھکایا نہیں جا سکتا۔ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں مگر متنازعہ فیصلوں پر پرامن احتجاج کا بھی حق رکھتے ہیں۔ موجودہ وفاقی حکومت اپوزیشن کے قائدین کے خلاف کار روائیاں کرواکر اپنی نااہلی نہیں چھپا سکتی۔ مظاہرین میں پی پی پی سندھ جنرل سیکریٹری وقار مہدی ،جاوید ناگوری، سینیٹر انور لعل ڈین، خلیل ہوت، نجمی عالم، وقاص شوکت، سردار خان، جان محمد بلوچ ، لالہ رحیم، اقبال ساند، عمران بلوچ سمیت جیالے بڑی تعدادمیں شریک تھے۔ دوسری جانب آصف علی کی گرفتاری کے بعد کراچی کے سرکاری اداروں میںملازمین 4بجے سے قبل دفاتر سے غائب ہوگئے جہاں سناٹے کے بادل چھا گئے۔شہریوں میں کچھ گھنٹوں کیلئے گہماگہمی پھیل گئی بعدازیں پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کی جانب سے پرامن اور اشتعال میں نہ آنے کے بیان سامنے کے بعد حالات میں بہتری آئی۔سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آبادمیں کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ مارکٹیں کھلی رہیں قاسم آباد کے مختلف علاقوں میں جیالوں کا رد عمل سامنے آیا جہاں درجنوں جیالوں نے سڑکوں پر نکل کر دکانیں اور بازار زبردستی بند کرادیئے گئے۔ سکھر میں پیپلزپارٹی کارکنان کی جانب سے آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرکے دوکانیں بند کرادیں، اس موقع پر پیپلزپارٹی کے کارکنان کا کہنا تھا کہ ہماری قیادت مقدمات اور جیلوں سے ڈرنے والی نہیں، آصف علی زرداری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، انہیں فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو بھرپور احتجاجی سلسلہ شروع کیا جائے گا۔دوسری جانب روہڑی ، صالح پٹ، کندھرا، پنوعاقل سمیت مختلف علاقوں میں پی پی کارکنوں کی جانب سے احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ اس موقع پر کارکنان نے سابق صدر آصف زرداری کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ جبکہ سکھر شہر کے مختلف شاہراہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس گشت کرتی رہی۔نواب شاہ (بینظیر آباد سے )نمائندے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف نواب شاہ میں پیپلز پارٹی کارکنوں نے سخت احتجاج کیا,پیپلز پارٹی,پیپلز یوتھ اور پی ایس ایف کے کارکنوں نے علیحدہ علیحدہ پیر کی شام نواب شاہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئِے اور ٹائر نذر آتش کرکے ٹریفک معطل کیا اور مشتعل کارکن وزیراعظم عمران خان کے خلاف سخت نعرے بازی کرتے رہے ,پیپلز پارٹی کے احتجاجی مظاہرے سے ضلعی صدر علی اکبر جمالی,سٹی کے صدر عظیم مغل,عاشق حسین گورچانی,راشد چانڈیو,منظور سیال,مسرور رند,پی ایس ایف کے احمد خان رند,پیپلز یوتھ کے اختر رند و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری کی گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیب حکومت کی ایمائ پر پیپلز پارٹی کے خلاف انتقامی کاروائی کر رہی ہے اور آصف علی زرداری کی گرفتاری اس انتقامی کاروائی کی مثال ہے حکومتی اراکین اسمبلی و وفاقی اور صوبائی وزرائ نیب زدہ ہونے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر رہی ہے نیب کے ریڈار پر صرف اپوزیشن ہے ,انہونے مطالبہ کیا کہ کہ نیب ہیلی کاپٹر کیس میں وزیراعظم عمران خان,علیمہ باجی,وفاقی وزیر پرویز خٹک سمیت دیگر حکومتی وزرائ و اراکین قومی اسمبلی کو بھی گرفتار کرکے دکھائے یکطرفہ کاروائی کسی صورت قبول نہیں ہے,ملک بھر میں مزید سخت احتجاج ہوگا اس موقع پر احتجاجی مظاہرے میں شامل کارکن شدید نعرے بازی کرتے رہے۔ پیپلز پارٹی کا سیاسی قبلہ اور گڑھ لاڑکانہ مکمل طورپر بند رہا جس میں شہر کے مختلف علاقوں میں مشتعل جیالے احتجاج کرتے رہے احتجاج کے بعد مشتعل جیالوں نے جناح باغ چوک پر احتجاجی دھرنا دیا جو مغرب کے بعد ختم کردیا گیا جس کے بعد جیالوں نے شہر بھر میں احتجاجی ریلی نکالی۔شہدادپورسے نمائندہ خبریں کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد شہدادپور اور اس کے مضافاتی علاقوں میں جہاں پیپلز پارٹی کے جیالوں کی اکثریت ہے فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا جبکہ پیپلز پارٹی کے ایم پی اے شاہد تھیم کا فون مسلسل بند جارہا تھا جبکہ پارٹی کے دیگر ذمہ داروں نے بھی فون اٹینڈ نہیں کیا رات گئے پیپلز پارٹی شہدادپور کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک خبر چلائی گئی ہے جس میں منگل کے روز آصف زرداری کی گرفتاری کے خلاف ایم پی اے شاہد تھیم کی قیادت میں پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی دوسری جانب ضلعی انتظامیہ ودیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد کسی بھی قسم کی گڑ بڑ کو روکنے اور امن و امان قائم رکھنے کے لئے شہدادپور شہر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ شہدادپور ، جلال مری، لنڈو، سرہاری، ریلوے اسٹیشنوں پر ریلوے پولیس کے علاوہ ضلعی پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے تعلقہ شہدادپور کی اہم سرکاری تنصیبات پر پولیس کے جوان تعینات کئے گئے ہیں۔کندہ کوٹ سے نمائندہ خبریں کے مطابق کندہ کوٹ پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین آصف زرداری کی گرفتاری کے خلاف پی پی کارکنان سڑکوں پر نکل آئے۔پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا سٹی آفس سے لیکر پریس کلب تک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرے کی قیادت پیپلز یوتھ ونگ سندھ کے صوبائی رہنما شفقت حسین میرانی،شہزادو خان کھوسہ، غفران ملک، ڈاڈو خان جکھرانی،ذوالفقار علی بھٹو عبدالرحمان بھنگوار، ارشاد میرانی، مختیار میرانی عبدالفھیم چاچڑ،غلام رسول میرانی،زاہد حسین میرانی، قربان بھنگوار،شمن باجکانی اور دیگر نے کی۔مظاہرے کے شرکائ کی وزیر اعظم عمران خان اور نیب چیئرمین کے خلاف شدید نعرے بازی۔سلیکٹید وزیراعظم کی حکومت میں اپوزیشن رہنما¶ں کے خلاف انتقامی کاروائیاں کی جا رہی ہیں. پی پی رہنما۔آصف علی زرداری کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں پی پی رہنما۔آصف علی زرداری کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کر کے ان کو فوری رہا کیا جائے۔سانگھڑسے ڈسٹرکٹ رپورٹر کے مطابق پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف چانڈیو ہاو¿س سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی اور پریس کلب سانگھڑ کے سامنے احتجاج کیا کارکنوں نے بازو¿ں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی اس موقع پر پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے پیپلز یوتھ ونگ کے صدر عدنان نظامانی، اویس چانڈیو، پیپلز پارٹی سٹی سانگھڑ کے صدر غلام قادر پنھور،زیشان وسان، شیر محمد رند،راشد راجپوت،اسلام قریشی ودیگر نے کہا ہے کہ سابق صدر نے جھوٹے کیس میں 13 سال کی سزا کاٹی ہے اور تمام کیسوں میں سرخرو ہوئے سابق صدر بےگناہ ہے اس کو فوری طور پر رہا کیا جائے موجودہ حکومت پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ تشدد کرکے امتناعی سلوک کررہی ہے آج ہماری پر امن ریلی ہے ہر کارکن اپنے قائد کے لئے گرفتار ہونے کے لئے تیار ہے دوسری جانب شہر بھر میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔خیرپور سے نمائندہ خبریں کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنمائ و سابق صوبائی وزیر منظور وسان کے صاحبزادے بیرسٹر ھالار خان وسان نے سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتار کو انتقام کی بدترین کاروائی قرار دیتے ہوئے گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری جیسے اوچھے ہتھکنڈوں سے اپوزیشن کو مرعوب نہیں کیا جا سکتا ہے آصف زرداری نے ہمیشہ بہادری سے کیسز کا سامنا کیا ہے پیپلزپارٹی اپنے ایجنڈے سے پیچھے نہیں ہٹے گی پاکستان پیپلزپارٹی سیاسی انتقامی کاروائیوں سے نہ کبھی کمزو ر ہوئی ہے اور نہ اب ہوگی ، یہ سب ہماری قیادت کے لیے نیا نہیںہے آصف علی زرداری نے پہلے بھی 12 سال جیل کاٹ چکے ہیں،بیرسٹر ھالار خان وسان نے کہا ہے کہ سب جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی سلیکٹیڈ حکومت اس بدترین انتقام کی زمہ دار ہے،نااہل حکومت اپنی نااہلی کا ملبہ آصف علی زرداری اور اپوزیشن پر نہ ڈالیں آج جو سلوک وہ مخالفین کے ساتھ روا رکھیں گے کل اس کے لئے انہیں بھی تیار رہنا چاہیے۔نوشہروفیروز سے نمائندے کے مطابقپاکستان پیپلزپارٹی کے ممبر قومی اسمبلی سید ابرار علی شاہ، ممبر سندھ اسمبلی ممتاز چانڈیو اور پی پی پی نوشہروفیروز کے ضلعی صدر فیروزخان جمالی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی آصف علی زرداری اور فریال تاپور کو گرفتاری کی جاری کوششوں کی مذمت کرتے ہیں ایسے ہتکنڈوں سے پی پی پی کی عوامی مقبولیت کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے میگا منی لانڈرنگ کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تاپور کی امکانی گرفتاری پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہیں ،آج پاکستان پیپلز پارٹی ضلع نوشہروفیروزکے ضلعی صدر فیروز خان جمالی نے اسپتال کے اچانک دورہ کے موقع پر اسپتال کے تین مریضوں کا اپنے ذاتی خرچ پر علاج کرانے کا اعلان بھی کیا،سول اسپتال نوشہروفیروز میں رکھی ہوئی دس ڈیلاسزمیشنوں ایک ہفتہ تک ڈیلاسز کے مریضوں کےلئے چلادیا جائے گا انہوں نے سول اسپتال کے جلے ٹرانسفارمر کی مرمت کےلئے سیپکو افسران سے بات کی اور اسپتال کےلئے سولر پلیٹیں دینے کا اعلان بھی کیا تاکہ بجلی مسائل سے اسپتال میں زیر علاج مریضوں کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ قمبر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین اور سابقہ صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کیخلاف پیپلز پارٹی رہنماوں حاجی محمد پنھل سومرو، قمرالدین گوپانگ،شاہ غازی مغیری، اصغر علی سومرو، لیاقت علی گوپانگ سمیت دیگر کارکناں و جیالوں کا رد عمل سامنے آگیا اور رہنماوں کارکناں سمیت جیالوں نے شدید مزمت کرتے ہوئے کہاکہ پارٹی قیادت کے ہر فیصلے کو لبیک کرتے ہیں پر امن ہمارے احتجاج ہمارا حق ہے کارکنان کریں پیپلزپارٹی پھلے بھی ایسے مرحلوں سے گذر چکی ہے اب تیار ہیں پیپلزپارٹی ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے، آصف زرداری ملک کا بڑا لیڈر ہے پیپلزپارٹی کارکنان قیادت کے ساتھ ہیں پیپلزپارٹی کو دیواروں سے لگانے والے کوشش ناکام ہو گی تبدیلی سرکار ملک میں بڑہتی ہوئی مہنگائی پر تو قابو نہ پاسکی مگر سیاسی انتقامی کاروائیوں ضرور کیں آصف علی زرداری کو فوری طور آزاد کیا جائے بصورت احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائیگا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے لاہور کے مختلف نو مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ فیروزپور روڈ پر پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل میر کی قیادت میں کارکنوں نے نے میٹرو بس کا ٹریک بند کردیا اور ٹائر ٹائروں کو آگ لگا کر احتجاجی مظاہرہ کیا جس سے فیروز پور روڈ پر ٹریفک معطل رہی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل میر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی بڑی پرانی خواہش تھی کہ وہ آصف علی زرداری کو گرفتار کروائیں نیب کے ذریعے ان کی گرفتاری نے حکومت کے لئے مشکلات کا آغاز کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کے خلاف پہلے بھی جھوٹے مقدمات بنتے رہے اور وہ متعدد بار پہلے بھی جیل جا چکے ہیں لیکن کوئی الزام ثابت نہیں ہوا اور وہ بری ہوتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری کی وجہ سے پیپلزپارٹی کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے احتجاج کی کوئی کال نہیں دی گئی کارکن اپنے طور پر سڑکوں پر نکلے ہیں تاکہ اپنے لیڈر کے ساتھ اظہار یکجہتی کر سکیں۔اسی طرح سے پیپلز پارٹی کی شعبہ خواتین لاہور کی صدر نرگس خان اور جنرل سیکرٹری لاہور سونیا خان کی قیادت میں خواتین نے بھٹہ چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا ان خواتین نے بھی بھٹہ چوک کو ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند کردیا جس سے ےہاں پر ایک بھرپور احتجاجی مظاہرے کا ماحول بنا رہا۔اس موقع پر نرگس خان اور سونیا خان نے کہا کہ آصف زرداری چار دہائیوں سے احتساب کے نام پر انتقام کا سامنہ کر رہے ہیں آصف زرداری کو قانون کے مطابق نہیں گرفتار کیا جا رہا آصف زرداری کی گرفتاری عمران خان کی فرمائش پر ہو رہی ہے۔اسی طرح سے گڑھی شاہو لاہور میں افتخار شاہد ‘ شہباز محمود بھٹی ‘ شاہدہ جبین اور شہناز کنول نے مظاہرہ کیا اور روڈ کو ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بلاک کردیا۔شالا مار چوک ‘ شاہدرہ چوک ‘ داتا دربار چوک ‘ چیئرنگ کراس اور ملتان چونگی میں بھی احتجاج کیا گیا اور ٹائروں کو جلا کر روڈز کو مکمل طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ انہیں رہا کیا جائے۔گوجرانوالہ میں آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا، جیالوں نے مینر چوک سے ڈی سی آفس تک ریلی نکالی، احتجاج میں شریک کارکنوں نے ہاتھوں میں کتبے اور پارٹی کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے، جیالوں نے نیب اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی، اس دوران جیالوں نے ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے لگائے۔حیدر آباد میں سابق صدر آصیف علی زرداری اور فریال تالپورکی ہائی کورٹ سے ضمانت مسترد اور زرداری کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ حیدرآباد پی پی یوتھ ونگ کے جیالے ڈسڑکٹ کونسل کے سامنے جمع ہو گیے، پارٹی پرچم اٹھائے جیالوں کی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی، اس دوران جیالوں کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب قدم بڑھا? ہم تمہارے ساتھ ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved