لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ واقعی مسلمان متحد ہو جائیں تو بڑی قوت بن سکتے ہیں۔ مسلمان ممالک کسی نہ کسی طاقت کے حاشیہ بردار بنے ہوئے ہیں۔ کسی نہ کسی گروپ میں شامل ہیں اس طرح سے ان کی الگ سے پوزیشن برقرار نہیں ہے۔ آپس میں بکھرے ہیں اقوام متحدہ کا جب اجلاس ہو رہا تھا تو ترکی، ملائیشیا اور پاکستان نے ایک بڑا فیصلہ کیا کہ کوالالمپور میں یہ ایک کانفرنس کے لئے جا رہے ہیں عین وقت پر پاکستان اس میں نہیں جا سکا۔ جو بھی اس کی وجوہات تھیں جو بھی دباﺅ پڑے لیکن یہ ایک حقیقت ہے۔ اس طرح سے صورت حال بگڑتی جا رہی ہے۔ پاکستان سمیت دوسرے ممالک کسی نہ کسی جگہ پھنسے ہوئے ہیں اپنے اپنے معاملات میں ان میں وہ قوت اور طاقت نہیں ہے جس کی وجہ سے ان میں اتحاد پیدا ہو سکے۔ جو عمران خان نے جو کہا اگر وہ واقعی سمجھتے ہیں جس طرح سے انہوں نے خود افسوس کا اظہار کیا کہوہ کوالالمپور میں نہیں جا سکے ان کو واقعی افسوس ہے تو ان کو چاہئے کہ آئندہ اس قسم کی غیر حاضری نہیں ہونی چاہئے کیونکہ یہ غیر حاضری سمبالک ہوتی ہیں اور اس سے بُرا اثر پڑتا ہے۔ یہ بلاک بن سکتا ہے بشرطیکہ پاکستان کوشش کر رہا تھا سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاملات بند کرنے کے لئے اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ ہے۔ امریکہ ایک طریقے سے اس وقت کرائے کے فوجی سعودی رب میں رکھے ہوئے اور پیسہ کما رہا ہے یہ صورت حال حتم ہونی چاہئے اگر پاکستان کی کوشش سے ایران اور سعودی عرب قریب آ سکیں تو امریکہ کی ایک بہت بڑی مناپلی ختم ہو سکے گی۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مناقشت ختم کی جائے۔ پاکستان کوشش کر سکتا ہے ضروری نہیں کہ کامیاب ہو۔ اس کے لئے ایک راستہ ہموار ہو سکتا ہے کہا جاتا ہے کہ حکومت اور ق لیگ میں ڈیڈلاک برقرار ہے اس پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ حکومت کو نئی کمیٹی بنانے کی بجائے پرانے لوگوں کو بھی ساتھ شامل کرنا چاہئے اور جو آپس میں وعدے وعید ہوئے تھے جب تک ان پر عملدرآمد نہ کیا جائے اس وقت تک یہ معاملات درست نہیں ہو سکے۔ ق لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان سارے معاملات حل ہونے چاہئیں اور ایک دوسرے پر جو وعدہ وعید ہوا تھا اس پر عمل ہونا چاہئے۔ جس طرح سے حالات جا رہے ہیں کہ حکومت کے لئے اچھے نہیں ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ کون لوگ ہیں جو حکومت کو یہ مشورے دے رہے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں پر مکمل طور پر عملدرآمد نہ کروائے۔ یہ ابھی بہت دور دراز کی باتیں ہیں چودھری نثار بھی جو اکیلے ایک آدمی ہیں جب تکاس پر اتفاق رائے نہ ہو اس وقت کیسے طے ہو سکتا ہے حالانکہ وہ قابل آدمی ہیں سوال یہ ہے کہ کیا ان پر اتفاق ہو سکتا ہے۔ یہ بہت بڑے چیلنج ہیں تحریک انصاف سارے کام چھوڑ کر اتحادیوں کو مطمئن کرے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بار بار کمیٹیاں تبدیل کرنا جو باتیں چند لوگوں کے ساتھ طے ہوتی ہیں وہ لوگ بدل جاتے ہیں پھر نئے لوگ نئے سرے سے معاملات طے کرتے ہیں اس طرح معاملات طے نہیں ہو پاتے۔ جن لوگوں سے ابتدائی شرائط طے کی گئی تھیں انہیں کو رکھا جائے۔






































