تازہ تر ین

امریکہ میں کرونا زیادہ کیسے پھیلا؟ (متاثرین کی تعداد ساڑھے 5 لاکھ ہوگئی ، ہلاک افراد اجتماعی قبروں میں دفن)

نیویارک ( محسن ظہیر سے) امریکہ جہاں کرونا سے متاثرین کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ ہوچکی ہے اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ریسرچ کے بعد طے پایا ہے کہ کرونا سب سے زیادہ گندگی ، کھلے کموڈ اور موبائل فون کے استعمال سے پھیلا ہے، چنانچہ امریکہ میں مقیم بعض مسلمان تنظیموں نے تو یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ رفع حاجت کے بعد اسلام کی تعلیمات کے بعد جسم کو پانی سے دھونا ضروری ہے، جبکہ امریکہ میں ٹائلٹ میں مسلم شاور قسم کی کوئی چیز نہیں ہوتی اور لوگ رفع حاجت کے بعد ٹشو پیپر سے جسم صاف کرتے ہیںاور گندگی کا ایک حصہ انسانی جسم پر رہ جاتا ہے ، جو کپڑوں میں منتقل ہوجاتا ہے ، اس کے باوجود دنیا بھر میں رفع حاجت کے بعد مشین آور غیر مسلم معاشروں میں پانی سے دھونے کا کوئی رواج نہیں، جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کموڈ کا ڈھکن بند کردینا چاہیے اور اسے استعمال کے بعد کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے، اسی طرح گندگی کے سلسلے میں جدید تحقیقات کے مطابق باقاعدہ اعداد و شمار کے ساتھ یہ حقیقت کے سامنے آئی ہے کہ کالے لوگوں نسبتاً گندے رہتے ہیں، ایک ایک کمرے میں چھ چھ سات سات افراد ہوتے ہیں اور کھانا کھا کر بچا ہوا کھانا کمرے ہی میں ڈال دیتے ہیں، اس کے علاوہ برگر اور مشروب کا زیادہ استعمال اور فرائز کا دن بھر کھانا کرونا کو جلدی لاتا ہے، رنگدار مشروبات اور برگر اور فرائز چکنائی کے ساتھ جسم کو موٹا کرتے ہیں، اس سال شروع ہونے والے کرونا سے پہلے بھی ایسے لوگوں میں دل کے امراض اور موٹاپا بہت زیادہ پایاجاتا ہے، امریہ بھر میں سکولوں میں برگر اور رنگدار مشروبات کی متابقت ہوچکی ہے لیکن عام زندگی میں کھانے کے ساتھ مشروبات کا استعمال بڑھتا جارہاہے، اس کے علاوہ جدید ترین تحقیق کے مطابق کھانا کھاتے اور چائے پیتے وقت موبائل ٹیلی فون کا استعمال منع قرار دیا گیا ہے، کیونکہ مختلف چیزوں کو ہاتھ لگانے کے بعد کرونا وائرس موبائل سیٹ پر منتقل ہوجاتا ہے اور موبائل کوہاتھوں کی طرح صابن سے دھونے کا رواج نہیں ہے لہٰذا اب لیکویڈ سوٹ کا ایک قطرہ موبائل پر ڈاک کر دونوں طرف سے اسے گیلے کپڑے سے سارے سیٹ پر رگڑنے کی ہدایت کی گئی ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اپنا موبائل کسی دوسرے شخص کو استعمال کیلئے نہ دیں کیونکہ اس کے ہاتھوں کے ذریعے کرونا وائرس آپکے موبائل سیٹ پر آجائیگا، امریکہ میں موبائل سیٹ کیلئے تیزی کے ساتھ ٹرانسپیرنٹ پلاسٹ سے بنی ہوئی تھیلی استعمال کی جاتی ہے، اس کور کو موبائل سیٹ پر چڑھا دیا جاتا ہے او رپلاسٹک کی تھیلی یا کور کو باقاعدہ صابن سے دھونے کی تلقین کی گئی ہے، نمبر ملانے یا انٹرنیٹ کو چلانے کیلئے کور کے اوپر سے انگلیوں کی پوریں استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، پاکستان میں میری معلومات کے مطابق موبائل فون کے بارے میں ایسی کوئی احتیاط نہیں کی جاتی ، اس لئے اسکے ذریعے بھی کرونا وائرس ایک شخص سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہورہاہے، امریکی ماہرین کی اس ریسرچ کو پاکستان میں بھی استعمال کرنا چاہیے۔امریکی ریاست نیویارک میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے ہزاروں افراد کی اجتماعی قبریں ایک مضافاتی جزیرے ہارٹ آئس لینڈ میں بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، میئرنیویارک کا کہنا ہے کہ فی الحال عارضی تدفین کی جارہی ہے اور وبا ختم ہونے کے بعد لواحقین سے رابطہ کیا جائے گا۔ ایک خندق میں 10 تابوت ترتیب سے رکھے جاتے ہیں تاکہ مستقبل میں نکالتے وقت آسانی ہو۔نیویارک انتظامیہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس کرونا سے ہلاک افراد کو اس طرح دفنانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، قبروں کی کھدائی کیلئے عام طور پر جیل سے قیدیوں کو لایا جاتا ہے لیکن کرونا وائرس کے سبب یہ عمل روک دیا گیا ہے، شہر میں لاک ڈاو¿ن کے سبب لواحقین کو تجہیزوتکفین میں شامل ہونے کی اجازت نہیں اور یہ کام کنٹریکٹ پر رکھے گئے ملازمین کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مذکورہ جزیرے پر روزانہ کم سے کم دو درجن افراد کو اجتماعی قبروں میں دفنایا جاتا ہے اور یہ کام ہفتے کے پانچ دن جاری رہتا ہے۔دیہاڑی پر لائے گئے متعدد مزدور حفاظتی لباس پہن کر قبروں کی کھدائی اور تابوت اجتماعی قبروں میں دفن کرتے ہیں۔نیویارک میں کرونا وائرس کے سبب سات ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور شہر کے مردہ خانوں میں گنجائش کم ہو رہی ہے۔عام طور پر نیویارک شہر سے باہر چھوٹے چھوٹے جزائر پر ان غریب لوگوں کو دفن کیا جاتا تھا جن کے لواحقین اپنے پیاروں کی شہری قبرستانوں میں تدفین کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین اگر دو ہفتوں میں لاش وصول نہیں کرتے تو مردے کو اس جزیرے پر دفنا دیا جاتا ہے۔آئس لینڈ جزیرے پر قبروں کی کھدائی کیلئے عام طور پر جیل سے قیدیوں کو لایا جاتا ہے لیکن کرونا وائرس کے سبب یہ عمل روک دیا گیا ہے۔شہر میں لاک ڈاو¿ن کے سبب لواحقین کو تجہیزوتکفین میں شامل ہونے کی اجازت نہیں اور یہ کام کنٹریکٹ پر رکھے گئے ملازمین کر رہے ہیں۔کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کو پلاسٹک بیگز میں لپیٹ کر تابوت میں رکھا جاتا ہے اورتابوت پر مردے کا نام کنندہ کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں اگر کوئی اس کو نکلوانا چاہے تو تلاش کرنے میں آسانی ہو۔میئرنیویارک نے کہا ہے کہ فی الحال عارضی تدفین کی جارہی ہے اور وبا ختم ہونے کے بعد لواحقین سے رابطہ کیا جائے گا۔ ایک خندق میں 10 تابوت ترتیب سے رکھے جاتے ہیں تاکہ مستقبل میں نکالتے وقت آسانی ہو۔نیویارک انتظامیہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس کرونا سے ہلاک افراد کو اس طرح دفنانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔امریکہ میں نئی پالیسی کے مطابق طبی ماہرین وائرس سے ہلاک ہونے والوں کو14 دن تک طبی معائنے کیلئے رکھ سکتے ہیں تاہم اس کے بعد لازمی دفنانا ہوگا۔اس سے قبل1919ءمیں فلو اور 1980ءمیں ایڈز سے ہلاک ہونے والوں کو بھی اسی جزیرے پر دفنایا گیا تھا۔ ہارٹ آئس لینڈ میں اس سے قبل بھی دس لاکھ کے لگ بھگ مردوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا گیا ہے۔


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved