کورونا، پیسیو امیونائزیشن طریقہ علاج کے لیے مشکلات بدستور برقرار

کراچی(ویب ڈیسک) نیشنل باوایتھکس کمیٹی نے ملک میں پہلی بار کورونا وائرس سے صحت یاب افراد کے جسم سے اینٹی باڈیز( پیسو ایمونایزیشن) تیکنیک کی منظوری دیدی۔کورونا وائرس کے علاج کیلیے پیسیو امیونائزیشن طریقہِ علاج کیلیے مشکلات بدستور برقرار ہیں، اس طریقہ علاج میں استعمال ہونے والے سامان کی درآمد میں شدید مشکلات کاسامنا ہے۔ڈاکٹرطاہرشمسی کے مطابق کورونا سے صحتیاب ہونے والے مریضوں سے پلازما نکالنے والی ایفریسس کِٹ ہنگامی بنیادوں پر درآمد کرنے کیلیے اسٹیٹ بینک کو وفاقی حکومت سے زرِ مبادلہ ٹیلی گرافک ٹرانسفر اجازت ضرور ہے۔

او آئی سی نے مقبوضہ کشمیرمیں نئے ڈومیسائل قانون کو مسترد کردیا

جدہ(ویب ڈیسک) اسلامی تعاون تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے متعلق بھارتی قانون کو مسترد کردیا۔
او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں جموں و کشمیر تنظیم نو آرڈر 2020 پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں غیر قانونی تبدیلی کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ڈومیسائل پر مبنی نئے قانون کے متعارف کرانے سے متنازع علاقے کی خراب صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔او آئی سی کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال پہلے ہی 5اگست 2019 کے یکطرفہ اقدام آئین میں موجود خطے کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے بعد سے ابتر ہے، اسلامی تعاون تنظیم خطے میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کسی بھی غیر قانونی کوشش کو مسترد کرتا ہے، او آئی سی اجلاس کے فیصلوں اور وزرائے خارجہ کونسل کی قراردادوں کے تناظر میں جنرل سیکریٹریٹ جموں و کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتا ہے اور عالمی برادری کو جموں و کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے مطالبے کی تجدید کرتا ہے۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 65 ہزار سے تجاوز کرگئیں

لاہور(ویب ڈیسک) کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں 65 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں جب کہ متاثرین کی تعداد 12 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔کورونا وائرس کا شکار ہونے والے مزید 5476 افراد موت کے منہ میں چلے گئے جس کے بعد دنیا بھر میں مرنے والوں کی تعداد 65 ہزار سے زائد ہوگئی ہے جب کہ متاثرین کی تعداد 12 لاکھ سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔کورونا وائرس کے باعث اب تک اٹلی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں جہاں مرنے والوں کی تعداد 15362 ہے جب کہ دوسرا نمبر اسپین کا ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد 12418 ، تیسرے نمبر پر امریکا ہے جہاں وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 8454 تک پہنچ چکی ہے۔امریکا میں اب تک کورونا وائرس کے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 3 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ اٹلی اور اسپین میں کیسز کی تعداد سوا لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔فرانس میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 90 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے جب کہ وائرس سے اب تک 7560 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، برطانیہ میں بھی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور مرنے والوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔دنیا کی دیگر ممالک میں بھی ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، ایران میں اب تک وائرس سے 3,452 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ بیلجیم میں 1,283، ہالینڈ 1,651، سوئٹزرلینڈ 666، سعودی عرب میں 29 اور بھارت میں 99 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔ترکی میں استنبول سمیت 30 شہروں میں گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے جب کہ صرف کھانے پینے کی اشیا اور طبی سازوسامان لانے کی اجازت دی جارہی ہے۔دوسری جانب چین میں کورونا وائرس سے ہلاک افراد اور طبی عملے کی یاد میں 3منٹ کی خاموشی اختیارکی گئی، صدرشی جن پنگ سمیت چین کی اعلیٰ قیادت نے وبا سے مرنے والوں کوخراج عقیدت پیش کیا ہے۔

کورونا، پابندیاں ہٹانے میں جلدی نہ کی جائے، ڈبلیو ایچ او

جنیوا(ویب ڈیسک) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے کوئی ملک پابندیاں ہٹانے میں جلدی نہ کرے۔اقوام متحدہ کے زیر انتظام ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے کہا کہ پابندیاں فوری ہٹانے سے طویل معاشی اثرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔کورونا وائرس بھی دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔ کورونا کا خاتمہ کر کے ہی پابندیوں کے خاتمے اور معاشی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے لہٰذا کوئی ملک پابندیاں ہٹانے میں جلد ی نہ کرے۔علاوہ ازیں جینیواسے جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں ڈبلیو ایچ اوکاکہنا ہے کہ علامات والے افراد تھوک اور ناک کی رطوبت کے قطروں کے ذریعے قریبی رابطے میں موجود لوگوں کو کوویڈ 19 منتقل کرتے ہیں۔رپورٹ میں متاثرہ افراد، اور آلودہ اشیا اور سطحوں سے براہ راست رابطے کو انفیکشن کے دیگر ذرائع قراردیاگیاہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد علامتوں کے ابتدائی3 دن میں خاص طور پر خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ اس عرصے میں ناک اور گلے سے زیادہ وائرس خارج ہوتا ہے۔ڈبلیو ایچ اوکاکہنا ہے کہ وائرس کے ظہور کی مدت اوسطاً 5 یا 6 دن ہے لیکن یہ 14 دن تک بھی ہوسکتی ہے۔ اس میں مزیدکہاگیاہے کہ متاثرہ افراد علامات پیدا ہونے سے پہلے بھی وائرس پھیلا سکتے ہیں۔

کرونا نے زندگی بدل دی،سیر سپاٹے،دعوتیں،شاپنگ سب ختم،گھر تک محدود

لاہور(خبر نگار)کورونا وائرس کی وبا کے دوران پاکستانیوں کی زندگی کتنی بدل گئی؟نئے نوول کورونا وائرس نے چند ماہ کے اندر دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔اس وائرس کے اثرات کب تک برقرار رہتے ہیں، یہ کہنا تو فی الحال مشکل ہے مگر ایسا نظر آتا ہے کہ اس کے بعد بھی زندگی میں بہت کچھ تبدیل ہوجائے گا، جیسے صفائی کی عادات، گھر سے باہر گھومنا اور دیگر۔ ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ سے تو ایسا ہی عندیہ ملتا ہے جو اسمارٹ فون لوکیشن ڈیٹا کی مدد سے تیار کی ہے تاکہ دنیا بھر میں حکومتی عہدیداران کو عوامی نقل و حمل کو سمجھنے میں مدد مل سکے، جس کے مطابق وہ اپنے ردعمل کو ترتیب دے سکیں۔کووڈ 19 کمیونٹی موبیلیٹی رپورٹس کے نام سے گوگل نے اس ڈیٹا کو جمعے کو جاری کیا۔اس رپورٹ میں ایسے افراد کا ڈیٹا استعمال کیا جنہوں نے اپنی لوکیشن ہسٹری گوگل میں اسٹور کرنے کے آپشن کو اختیار کررکھا ہے، تاکہ یہ جاننے میں مدد مل سکے کہ لوگ سماجی دوری کی حکومتی ہدایات کی کس حد تک تعمیل کرہے ہیں۔اس کے لیے پاکستان سمیت 131 ممالک کے ڈیٹا کو جاری کیا گیا اور کمپنی کا کہنا تھا ‘ اس وقت جب عالمی برادری کووڈ 19 وبا پر ردعمل ظاہر کررہی ہے، وہیں عوامی طبی حکمت عملیوں جیسے سماجی دوری کے اقدامات پر زور دیا جارہا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاﺅ کو سست کیا جاسکے، اس مقصد کے لیے ہم نے ڈیٹا اکٹھا کیا تاکہ بتایا جاسکے کہ مخصوص مقامات پر اب کتنے لوگ ہوتے ہیں، مقامی کاروبار پر کس وقت زیادہ رش ہوتا ہے’۔گوگل کی جانب سے ہر ملک میں عوامی نقل و حرکت کے مقامات کو 6 کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا۔ریٹیل اینڈ ریکریشن میں ریسٹورنٹس، کیفے، شاپنگ سینٹرز، تھیم پارکس، میوزیم، لائبریریز اور سنیما گھروں کو شامل کیا گیا۔گروسری اینڈ فارمیسی میں سودا سلف کی مارکیٹیں، فوڈ وئیر ہاﺅس، فارمرز مارکیٹ، کھانے پینے کی دکانیں، میڈیکل اسٹور شامل تھے۔پارکس میں ساحلی مقامات، پلازے اور دیگر عوامی مقامات کو شامل کیا گیا۔ٹرانزٹ اسٹیشنز کی کیٹیگری میں پبلک ٹرانسپورٹ مراکز شامل تھے۔ورک پلیسز دفاتر پر مشتمل کیٹیگری تھی جبکہ ریذیڈنس لوگوں کے گھروں کو کور کرنے والا شعبہ تھا۔ریٹیل اینڈ ریکریشن یعنی ریسٹورنٹس، ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر لوگوں کے جانے کی شرح میں 70 فیصد تک کمی آئی۔گروسری کیٹیگری یعنی اشیائے خورونوش کی خریداری کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی شرح 55 فیصد تک کم ہوگئی، پارکس یعنی تفریحی مقامات پر جانے کی شرح 45 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔پبلک ٹرانسپورٹ کے مراکز پر جانے کی شرح میں 62 فیصد کمی آئی، جبکہ دفاتر جانے والے افراد کی تعداد 41 فیصد کم ہوگئی۔اس کے مقابلے میں گھروں پر لوگوں کی مجودگی میں 18 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

کرونا وائرس لاک ڈاون سے لاہور کے 27ہزار خواجہ سرا پریشان

لاہور (خصوصی رپور ٹر ) کرونا وائرس کے باعث لگنے والے لاک ڈاون سے لاہور کے 27 ہزار سے زائد خواجہ سراءبھی پریشان، شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے پروگرام ختم ہونے سے خواجہ سراءکمیونٹی فاقے کرنے لگی۔ تفصیلا ت کے مطابق لاک ڈاﺅن سے جہاں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ متاثر ہوئے ہیں وہیں خواجہ سراءبھی اپنی روز مرہ کی کمائی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، نہ کوئی شادی کی تقریب ہے نہ کوئی اور خوشی کا موقع کہ جاکر ودھائی لی جاسکے، اس حوالے سے خواجہ سراءکمیونٹی کا کہنا تھا کہ سب کچھ بند ہونے سے بیشتر خواجہ سراءفاقے کاٹ رہے ہیں، کسی جانب سے کوئی امداد نہیں مل رہی۔ دوسری جا نب فلاحی تنظیموں کی جا نب سے اس سے قبل کرونا وائرس سے نجات پانے کےلئے خواجہ سراءسوسائٹی کی جانب سے ٹاﺅن شپ کے مختلف علاقوں میں شہریوں میں ماسک اور ہینڈ سینی ٹائزر تقسیم کئے گئے۔ اس حوالے سے حکومتی عہدیدران کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرکے دکھاتے ہیں،ماضی کے حکمرانوں کی طرح نمائش کرتے ہیں نہ شو بازی کرتے ہیں,چیف منسٹرانصاف امداد پروگرام کے تحت اصل حقداروں کو ان کا حق پہنچائیں گے۔ سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ پروگرام دیہاڑی دار طبقے کو ریلیف فراہم کرےگا، پنجاب کی تاریخ میں یہ شفاف اور تیز رفتار ترین مالی معاونت کا پروگرام ہے۔

مودی نے گھٹنے ٹیک دیئے،کشمیریوں کو تمام ملازمتوں کیلئے اہل قرار دیدیا گیا ڈومیسائل قانون میں ترمیم واپس

نئی دہلی (صباح نیوز)بھارتی حکومت نے دو دن قبل مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جاری کیے گئے نئے ڈومیسائل قانون میں ترمیم کرتے ہوئے مقامی افراد کو تمام عہدوں کی نوکریوں کے لیے اہل قرار دے دیا ہے۔بدھ کو حکومت نے نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کراتے ہوئے مقامی افراد کے لیے صرف گروپ 4 تک کی نوکریاں مختص کردی تھیں۔سیاسی اور اپوزیشن جماعتوں نے یکم اپریل کوجاری کیے گئے اس اعلامیے پر شدید احتجاج کیا تھا جس پر حکومت نے نوٹیفکیشن واپس لینے کا اعلان کردیا۔اب جموں و کشمیر کی تنظیم نو(ریاستی قوانین کو اپنانے)کے نام سے جاری کیے گئے حکمنامے میں کہا گیا کہ گزشتہ سال خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد اکتوبر میں متعین کردہ یونین کی حدود کے تحت ڈومیسائل کی بنیاد پر نوکریاں مختص کی گئی ہیں۔بھارتی میڈیاکے مطابق ترمیم شدہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص جو ان شرائط پر پورا اترتا ہے اس کے پاس جموں و کشمیر کی یونین کی حدود میں نوکری پر تقرری کے لیے یونین کی حدود کا ڈومیسائل ہونا چاہیے۔ترمیم شدہ جموں و کشمیر سول سروس ایکٹ کے تحت کوئی بھی شخص کسی بھی عہدے پر تقرری کے لیے اس وقت اہل نہیں ہو گا جب اس کے پاس جموں و کشمیر یونین کی حدود کا ڈومیسائل نہیں ہو گا۔یکم اپریل کو جاری اعلامیے میں مذکورہ حدود کے لیے حکومت میں صرف گریڈ 4 تک کی نوکریاں مختص کی گئی تھیں جو پولیس اور دیگر حکومتی اداروں میں زیادہ سے زیادہ کانسٹیبل کا عہدہ ہوتا ہے۔اس کی وجہ سے جموں و کشمیر کے ڈومیسائل کے حامل شہری صرف چھوٹے عہدوں کی نوکریاں کرنے کے اہل قرار دیے گئے تھے جن کی زیادہ سے زیادہ تنخواہ ساڑے25ہزار روپے ہے جبکہ بڑے عہدوں کی نوکریوں کے لیے بھارت بھر کے افراد کو اہل قرار دیا گیا تھا۔اب نئے قانون کے تحت کوئی بھی شخص جو جموں و کشمیر میں 15سال سے مقیم ہے یا 7 سال سے تعلیم حاصل کر رہا ہے اور جموں و کشمیر کی یونین کی حدود میں دسویں اور بارہویں کے امتحانات میں حصہ لے چکا ہے وہ نوکری میں تقرری کا اہل ہو گا۔تاہم اعلامیے میں یہ بھی کہا کہ کمشنر کے حکم سے پناہ گزیں کی حیثیت سے رجسٹر شخص کو بھی ڈومیسائل کا حامل تصور کیا جائے گا جبکہ مذکورہ علاقے میں 10سال سے سرکاری نوکری کرنے والے افراد بھی اسی کیٹیگری میں شمار کیے جائیں گے۔حکومت کے اس اقدام پر حال ہی میں بنی جموں اینڈ کشمیر اپنی پارٹی سمیت تمام سیاسی اور اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔گزشتہ ماہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرنے والی جموں اینڈ کشمیر اپنی پارٹی نے اس اعلامیے کے بعد خصوصی طور پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے اس اعلامیے کی ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ ایک انتہائی اہم حکم ایک ایسے موقع پر جاری کیا گیا ہے جب بھارت کرونا وائرس کے خلاف زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار ہے۔یاد رہے کہ پاکستان نے بھی سابقہ ڈومیسائل قانون پر احتجاج کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔

لنڈا بازار کے ماسک دھڑلے سے فروخت ،بیماریاں پھیلنے لگیں

لاہور(خبر نگار) شہر بھر میں لنڈ اماسک کی فروخت دھڑلے سے جاری ۔ناقص میٹریل سے تیار ہونے والے ماسک چوک چوراہوں پر فروخت کئے جانے عمل جاری ۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں کرونا وائرس کی وباءسے شہری احتیاط کے طور پر ماسک استعمال کرنے لگے ہیں ماسک کی کمی کی وجہ سے میدیکل سٹورز پر نایاب ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں نے ناقص میٹریل سے ماسک بنانے شروع کردئے ہیں اکثر ماسک لنڈے کے کپڑے سے تیار کئے جارہے ہیں اوران کو چوکوں پر کھلی فضا ءمیں لٹکایا گیا ہے جیسے لنڈے کے کپڑے لٹکائے جاتے ہیں جیسے لنڈے کے کپڑے بدل بدل کر چیک کئے جاتے ہیں جس پر مختلف لوگوں کے ہاتھ لگتے ہیں اس پر کچھ شہریوں کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کوئی وائرس کا متاثر ہ شخص ان ماسک کو چیک کرتا ہے اور بدل بدل کر منہ پر لگاتا ہو اور وہ وائرس ان ماسک پر منتقل ہوجائے تو کتنے لوگ اس سے متاثر ہونگے اس پر متعلقہ انتظامیہ کو چیک کرنا چاہیے اور ہوسکے تو ان فروخت کو بند کیا جائے اور ان کو میڈیکل سٹورز یادیگر سٹورز تک محدود کیا جائے تاکہ یہ گردوغبار سے بھی بچ جائیں گے اوران کو پیکنگ کی صورت میں رکھا جائے تاکہ اس سے فائدہ ہو ناکہ نقصان ہو۔

عثمان بزدار نے امدادی سامان کے 100ٹرک مختلف اضلاع میں بھجوا دئیے

لاہور (خصوصی رپورٹر) حکومت اورشہریوں کے اشتراک سے غریب او رنادار افراد کے لئے راشن اور امدادی سامان کی فراہمی کا آغازکر دیا گیاہے-وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی اپیل پر مخیر حضرات او رتاجر برادری نے کروڑوں روپے مالیت کے امدادی سامان کے خطیر عطیات پیش کئے ہیں- مختلف اضلاع کے لئے پہلے مرحلے میں 100ٹرکوں پر مشتمل راشن اور امدادی سامان موصول ہوچکا ہے-وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب یونیورسٹی گراﺅنڈ آکر اپنی نگرانی میں امدادی سامان سے بھرے ٹرک متعلقہ اضلاع کو روانہ کئے- وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں بے روزگار او رضرورت مند افراد کو گھروں میں راشن او رامدادی سامان مہیاکیاجائے گا- امدادی سامان کے 100ٹرک ضرورت کے مطابق مختلف اضلاع میںبھیجے جا رہے ہیں-عثمان بزدار نے کہاکہ مخیر حضرات اور تاجر برادری کے تعاون سے مزید امدادی سامان فراہم کیا جائے گا-امدادی سامان اور راشن کی فراہمی کا سلسلہ مرحلہ وار دیگر اضلاع تک بڑھائیں گے- وزیراعلیٰ نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات سے متاثرہ خاندانو ں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے – تجارتی اداروں کی بندش سے بے روزگاری کا سامنا کرنے والوں کا بھرپور ساتھ دیں گے- ہر شہری کی ضروریات اور مشکلات کو حل کرنا چاہتے ہیں-وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہاکہ مشکلات کا شکار افراد کااحساس اور مددکرنا سنت نبوی ہے- نادار افراد کی معاونت کرنے پر مخیر حضرات اور تاجر برادری کا شکریہ ادا کرتے ہیں-مشکل گھڑی میںاپنے لوگوں کی مدد کرنے والے قابل قدر اور قابل تقلید ہیں-اس موقع پر بتایا گیا کہ لاہوراو رراولپنڈی میں 25،25 ٹرک امدادی سامان تقسیم کیا جائے گا- گوجرانوالہ20،جہلم 5، اسلام آباد 5، جھنگ 2،سرگودھا8،شیخوپورہ میں5ٹرک بھیجے جائیں گے -سامان کی تقسیم کے لئے ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ہر ضلع میں خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے-خصوصی کمیٹی میں ارکان اسمبلی ،دیگر نمایاں شخصیات اور حکام شامل ہوں گے -متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور مقامی انتظامیہ کی مرتب کردہ مصدقہ لسٹ میں نادار اور ضرورت مندا فراد کے نام اور تصاویر بھی موجود ہوں گی-متعلقہ اضلاع میں ڈپٹی کمشنر کی زیر نگرانی ویئر ہاﺅس میں سامان رکھ کر تقسیم کیا جائے گا-قبل ازیں پنجاب یونیورسٹی پہنچنے پر وزیراعلیٰ کو امدادی سامان کی تقسیم کے بارے میں بریفنگ دی گئی اورپروگرام کی کامیاب تکمیل کے لئے دعا خیر بھی کی گئی- سینئر ممبربورڈ آف ریونیو،کمشنر لاہور ڈویژن،سیکرٹری اطلاعات، سی سی پی او لاہور،پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور دیگر بھی موجودتھے- وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے وزراءکو اضلاع میں کورونا کے ساتھ گندم خریداری مہم کی نگرانی کرنے کا ٹاسک بھی سونپ دیاہے-وزیراعلیٰ پنجاب کے آفس سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق صوبائی وزرائ، مشیران او رمعاونین خصوصی متعلقہ اضلاع میں گندم خریداری مہم کی مانیٹرنگ بھی کریں گے-وزیراعلیٰ کی طرف سے وزراء، معاونین او ر مشیران کو محکمہ صحت ، خوراک اور انتظامیہ سے فوری رابطے کی ہدایت کی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیاہے کہ وزراءکرام ، معاونین او رمشیران متعلقہ اضلاع میں کورونا کی صورتحال اورگندم خریداری پر وزیراعلیٰ آفس کو رپورٹ دیں گے -صوبائی وزیر چودھری ظہیر الدین فیصل آباد ، رائے تیمور جھنگ،مہر اسلم چنیوٹ میں گندم خریداری کی نگرانی کریں گے -آشفہ ریاض ٹوبہ ٹیک سنگھ، یاسمین راشدلاہور، ہاشم ڈوگر قصور،ملک اسد ننکانہ او رمیاں خالد شیخوپورہ میں مانیٹرنگ کریں گے -راجہ راشد حفیظ راولپنڈی ، حافظ عمار یاسر چکوال، آصف محمود جہلم، ملک انور اٹک ،عنصر مجید خان نیازی سرگودھا میں نگرانی کریں گے-ممتاز احمد خوشاب، امیر محمد خان بھکر، میاں محمودالرشید گوجرانوالہ اور محمد رضوان کے ذمہ گجرات ہوگا-عمر فاروق حافظ آباد ، محمد اجمل منڈی بہاﺅالدین ، پیر سید سعید الحسن شاہ نارووال اورمحمد اخلاق سیالکوٹ میں گندم خریداری کی نگرانی کریں گے-ملک نعمان ساہیوال، صمصام بخاری اوکاڑہ، فیصل حیات پاکپتن، سمیع اللہ چودھری بہاولپور، شوکت لالیکا بہاولنگرمیں ہوں گے-محسن لغاری رحیم یارخان ،محمداختر ملتان ، سید حسین جہانیاں گردیزی خانیوال ، زوار وڑائچ لودھراں ، جہانزیب کھچی وہاڑی میں نگران ہوں گے- حنیف پتافی ڈی جی خان، حسنین بہادر دریشک راجن پور، عبدالحئی دستی مظفر گڑھ ، سید رفاقت گیلانی لیہ میں مانیٹرنگ کریں گے -وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ حکومت کاشتکاروں کے حقوق اور صحت کا تحفظ یقینی بنائے گی -گندم خریداری کے دوران کورونا وائرس کی وجہ سے حتیٰ الامکان اجتماع سے گریز لازمی ہے-گندم کی کٹائی کے لئے انسانی وسائل کی بجائے مشینری پر انحصار سود مند ثابت ہوگا- وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پر چیف منسٹر انصاف امداد پروگرام کے تحت ایک لاکھ 70ہزار مستحق افراد کو مالی امداد پہنچا دی گئی ہے- مستحق افراد میں 24گھنٹے کے اندر تقریبا ً 150کروڑ روپے کی مالی امداد تقسیم کی گئی ہے-وزیراعلیٰ عثما ن بزدار نے کہاکہ چیف منسٹر انصاف امداد پروگرام کے تحت دیگر مستحق افراد کو بھی کوائف کی تصدیق کے بعد فوری طو رپر مالی امداد دی جائے گی-پنجاب حکومت کا چیف منسٹر انصاف امداد پروگرام رفتار، معیاراور شفافیت کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے اورہم جو کہتے ہیں وہ کرکے دکھاتے ہیں-انہوںنے کہاکہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح نمائش کرتے ہیں نہ شوبازی- چیف منسٹر انصاف امداد پروگرام کے تحت اصل حقداروں کو ان کا حق پہنچائیں گے- وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے تونسہ کے علاقے بستی کھیوے والی میں غلط انجکشن سے باپ بیٹی کے جاںبحق ہونے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر ڈیرہ غازی خان سے رپورٹ طلب کرلی ہے- وزیراعلیٰ نے واقعہ کی تحقیقات کاحکم دیتے ہوئے کہاکہ افسوسناک واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے -انہوںنے کہاکہ واقعہ کے ذمہ داروں کےخلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے-وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے جاں بحق باپ بیٹی کے لواحقین سے دلی دکھ او رافسوس کا اظہاربھی کیاہے-

آٹا چینی بحران جہانگیر ترین خسرو بختیار کا بھائی،شریف خاندان،چودھری منیر کے ملوث ہو نے کا انکشاف

اسلام آباد(ماینٹرنگ ڈیسک)ملک میں چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا معاملہ۔وزیراعظم کی انکوائری کمیٹی نے تحقیقاتی تیار کرلی شوگر ایکسپورٹ پالیسی سے فوائد حاصل کرنے والوں میں سیاسی شخصیات شامل ہیں حکومت کی جانب سے چینی پر سبسڈی کا بڑاحصہ بااثر حکومتی شخصیات لے اڑیں۔چینی پر تین ارب کی سبسڈی کا سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین نے اٹھایاجہانگیر ترین گروپ نےچینی پر کل سبسڈی کا 22 فیصد حاصل کیا۔جے ڈی ڈبلیو گروپ نے 56 کروڑ روپے کی سبسڈی حاصل کی وفاقی وزیرخسرو بختار کے بھائی عمر شہریار نے بھی سبسڈی سے فائدہ اٹھایا۔ عمر شہریار کے المعیز گروپ نے 40 کروڑ روپے کی سبسڈی حاصل کی۔مئی 2014 سے جون 2019 تک پنجاب حکومت نےچینی برآمد پر سبسڈی دی۔اسی عرصے میں چینی کی قیمت میں 16روپے فی کلو کااضافہ ہوا ۔ شوگر برآمدکنندگان نے 3 ارب روپے کی سبسڈی اور قیمت میں اضافے کا فائدہ اٹھایا چینی کی برآمد کی اجازت دینے سے قیمت میں اضافہ اور بحران پیدا ہوا۔گزشتہ پانچ سال میں حکومت نے 25 ارب روپے کی سبسڈی دی ۔آر وائی گروپ 4ارب ، جہانگیر ترین نے 3 ارب سے زائد کی سبسڈی حاصل کی۔ہنزہ گروپ نے 2 ارب 80 کروڑ اور فاطمہ گروپ 2 ارب 30 کروڑ کی سبسڈی لی۔ شریف گروپ نے ایک ارب 40 کروڑ کی سبسڈی حاصل کی ۔ اومنی گروپ نے 90 کروڑ روپے سے زائد کی سبسڈی حاصل کی شوگر ملزکو سبسڈی ملنا، چینی کی صنعت کا سیاست میں اثرورسوخ ظاہرکرتا ہے۔سیکرٹری فوڈسیکورٹی کے تحفظات کے باوجود ای سی سی نے چینی برآمد کرنے کی منظوری دی ۔ ای سی سی نے 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی منظوری دی۔کمیٹی نے شوگر ملز اور ہول سیل ڈیلرز کی جانب سے فارورڈ بائینگ اور سٹے کی نشاہدہی بھی کی۔اقدام سے رمضان میں قیمت 100 روپے فی کلو تک پہنچ سکتی تھی۔پنجاب حکومت نے چینی پر 3 ارب کی سبسڈی دی۔ اسی طرح ایکسپوٹرز کو دو فائدے ملے ، ایک چینی کی قیمتوں میں اضافہ اور دوسرا 3 ارب کی سبسڈی کا فائدا ہوا۔ جہانگیرترین کی شوگر ملز کو 56 کروڑ یعنی 22 فیصد سبسڈی دی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی کاہلی آٹا بحران کی اہم وجہ بنی۔2019 میں گندم کی پیداوار کا غلط اندازہ لگایا گیا۔ جبکہ مالی سال 2019-20 میں ایک لاکھ 63 ہزار ٹن گندم برآمد کی گئی۔گندم کی برآمد اور برآمد میں تاخیر کی وجہ سے بے چینی پھیلی۔ بےچینی کی وجہ سے لوگوں نے ذخیرہ اندوزی شروع کردی۔ رپورٹ پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ آٹا اورچینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ نہیں دیکھی۔ یقین ہے کوئی بھی صورتحال ہوا، عمران خان انصاف کریں گے۔ اسد عمر نے کہا کہ عمران خان نے انکوائری کمیٹی بنائی اور اس کی اب رپورٹ بھی آگئی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے آٹا اور چینی بحران کے حوالے سے بنائی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ مکمل ہوگئی جس کو وزیر اعظم نے پبلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی کے بحران میں سب سے زیادہ پیسے جہانگیر ترین نے کمائے، وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی بحران کے دوران خسرو بختیار کے بھائی نے 45کروڑ روپے کمائے۔رپورٹ میں چودھری پرویز الہی اور مریم نواز کے سمدھی چودھری منیر کے بھی پیسے کمانے کا انکشاف ہوا ہے۔