مکہ میں کرفیو کے باعث پریشان مریضوں کو شاندار ریلیف دے دیا گیا

مکہ مکرمہ(ویب ڈیسک)سعودی عرب کے دو مقدس ترین شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں گزشتہ کچھ دنوں سے 24 گھنٹوں کا کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ جس کے باعث لوگوں کے ایک منٹ بھی گھر سے نکلنے پر پابندی عائد ہے۔ ایسے میں مکہ اور مضافاتی علاقوں میں گھروں میں موجود مریضوں کوپریشانی سے بچانے کے لیے وزارت صحت کی جانب سے شاندار اقدام اٹھایا گیا۔سعودی گزٹ کے مطابق مکہ شہر اور اس کے گرد و نواح میں ایک ہزار سے زائد آوٹ ڈور مریضوں کو ان کے گھروں میں دوائیاں پہنچا دی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مکہ کے کنگ عبداللہ میڈیکل سٹی کے سٹاف نے شعبہ آوٹ ڈور میں اپنی بیماریوں کا علاج کرنے والے ایک ہزار سے زائد مریضوں کو ان کے دوائی نسخوں کے مطابق دوائیاں گھروں تک پہنچا دی ہیں، جو کہ ان کے لیے اگلے دو ہفتوں کے لیے کافی ہوں گی۔جس کے باعث مریضوں کی یہ پریشانی ختم ہو گئی ہے کہ انہیں کرفیو کے باعث گھروں سے باہر کیسے جا کر دوائیاں لینی تھیں۔وزارت صحت کے مطابق جن مریضوں کو دوائیاں پہنچائی گئیں، ان میں سے چھ سو مکہ کے رہائشی تھے جبکہ باقی چار سو سے زائد مکہ کے مضافاتی علاقوں کے رہنے والے تھے۔ اس اقدام کا ایک مقصد کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام کی خاطر لوگوں کو ہسپتال کا ر±خ کرنے سے روکنا تھا۔ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق مریضوں کی جانب سے آن لائن درخواستیں موصول ہونے کے بعد انہیں مفت دوائیاں پہنچائی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ آج وزارت داخلہ کی جانب سے تین سعودی شہروں دمام، قطیف اور طائف میں کرفیو کے اوقات کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے۔ جس کے بعد سے کرفیو کی آغاز شام 6بجے کی بجائے سہ پہر 3بجے سے ہو گا اور اگلے روز صبح 6 بجے تک اس کی پابندی کی جائے گی۔وزارت داخلہ کے مطابق کرفیو کا یہ دورانیہ غیر معینہ مدت کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم مخصوص سرکاری و نجی اداروں کے ملازم جنہیں کرفیو میں مخصوص ذمہ داریاں نبھانی ہوتی ہیں، وہ کرفیو کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ان شہروں میں کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ کورونا کے خطرات کے پیش نظر لوگوں کی زندگی اور صحت کو محفوظ بنانے کی خاطر لیا گیا ہے۔ تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ وقت گھروں تک ہی محدود رہیں اور حالات کے پیش نظر سماجی تنہائی اختیار کریں۔جبکہ گزشتہ جمعرات کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تمام علاقوں میں روزانہ 24 گھنٹے کے کرفیو کا اعلان کیا تھا۔جس کے دوران دونوں شہروں میں داخل ہونے اور وہاں سے باہر جانے پر پابندی ہو گی۔24 گھنٹوں کے اس کرفیو کے دوران دونوں مقدس شہروں کے رہائشی علاقوں میں ہر قسم کی تجارتی سرگرمی اور کام کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔تاہم فارمیسیز، بینکنگ خدمات، راشن اور اشیائے خورد و نوش فروخت کرنے والے مراکز اور ایندھن کے اسٹیشنز اس فیصلے سے مستثنی ہوں گے۔

دبئی میں کورونا کے مریض کی شناخت کا کام کتوں سے لیا جائے گا

دبئی(ویب ڈیسک) دنیا بھر کی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی کورونا وائرس ڈیرے لگا کر بیٹھ گیا ہے۔ اس وائرس کی وجہ سے مملکت میں کاروبار زندگی عملاً معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ اس وائرس سے نمٹنے میں سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اس کے شکار فرد میں مرض کی علامات خاصے دِن بعد ظاہر ہوتی ہے، تب تک متاثرہ شخص انجانے میں متعدد افراد کو یہ موذی وائرس منتقل کر چکا ہوتا ہے۔جس کے نتیجے میں کورونا کیسز کی گنتی چند روز میں درجن سے بڑھ کر سینکڑوں ہزاروں تک پہنچ جاتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے دنیا بھر کے کچھ ممالک میں کتوں کو سدھانے کا تجربہ شروع ہو چکا ہے۔ دبئی پولیس نے بھی کورونا مریضوں کی تشخیص کے لیے کتوں کو تربیت دینے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے، جو کسی بھی شخص کو سونگھ کر اس کے کورونا سے متاثر ہونے یا محفوظ ہونے کی تشخیص کر سکیں گے۔دبئی پولیس کو اس تجرباتی تربیت کے نتیجے میں کامیابی ملنے کی بھرپور توقعات ہیں۔کیونکہ ماضی میں کتوں کی جانب سے انسانوں کو سونگھ کر ملیریا، کینسر، پارکنسنز، مرگی اور ذیا بیطس کی بیماروں کی تشخیص کی جاتی رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے شروع کیے گئے منصوبے کو k9 forces کا دیا گیا ہے۔ جبکہ برطانیہ میں بھی کتوں کی جانب سے انسانوں کو سونگھ کر کورونا وائرس کا پتا چلانے کے تجربے پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔برطانوی طبی ادارے میڈیکل ڈیٹیکشن ڈاگز (بیماریوں کی تشخیص کرنے والے کتے) کی سربراہ ڈاکٹر کلیری گیسٹ کا کہنا ہے ماضی کے نتائج کو دیکھتے ہوئے ہمیں یقین ہے کہ کتے کورونا وائرس کی تشخیص کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ کیونکہ کتوں کی سونگھنے کی حِس بہت تیز ہوتی ہے، جس کے باعث وہ کسی بیماری میں مبتلا شخص کے جسم کی بو سونگھ کر اس کی تشخیص کر سکتے ہیں۔یہاں تک کہ کچھ طبی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ کتے ملیریا انفیکشن میں مبتلا شخص کی بوسونگھ کر اس کے مرض کا پتا چلا لیتے ہیں۔ اور اس معاملے میں ان کی حِس اتنی بہترین ہوتی ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے ملیریا کی تشخیص کے لیے طے کردہ معیارات سے بھی بڑھ کر ہے۔حتیٰ کہ سدھائے ہوئے کتے کسی شخص میں علامات ظاہر نہ ہونے پر بھی اس کے مرض کی تشخیص کر لیتے ہیں۔ دبئی پولیس کے اعلیٰ عہدے دار میجر صلاح خلیفہ فاضل المزروعی کے مطابق کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے K9 پولیس فورس پر کام شروع ہو جائے گا۔ دبئی پولیس کو امید ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد سے مملکت سے کورونا کی وبا کا خاتمہ کرنے میں اہم مدد ملے گی۔

سعودیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اپنے عزیزوں کی تدفین کے لیے این او سی حاصل کر سکتی ہے

جدہ(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں کورونا کے مریضوں کی گنتی میں اضافہ ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے طائف، قطیف اور دمام میں کرفیو کے اوقات میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ ہو گیا ہے۔ مملکت میں اس وقت لاکھوں پاکستانی اپنے اہل خانہ کے ساتھ مقیم ہیں۔جدہ میں واقع پاکستانی قونصل خانے کی جانب سے ایک اہم اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے پاکستانی کمیونٹی کی اپنے پیاروں کی مقامی تدفین کے لیے سفری پابندیوں کے دوران این او سی جاری کرنے کے لیے واٹس ایپ سروس شروع کی ہے۔مملکت میں کورونا وائر س پر قابو پانے کی خاطر لیے جانے والے اقدامات کے تحت بعض علاقوں میں محدود کرفیو کا نفاذ کرتے ہوئے مختلف شہروں میں آمد و رفت پر پابندی لگائی گئی ہے۔ان حالات میں پاکستانی کمیونٹی کی سہولت کے لیے سعودی عرب کے مغربی ریجن میں مرنے والے افراد کی آخری رسومات کے انتظامات کے لیے جدہ میں پاکستانی قونصلیٹ نے واٹس ایپ سروس شروع کی ہے۔جدہ میں پاکستانی قونصلیٹ نے پاکستانی کمیونٹی سے کہا ہے کہ کرفیو کے اوقات کے دوران اپنے کسی عزیز کی تدفین کے لیے اجازت نامہ لے سکتے ہیں اور اس کے لیے درج ذیل نمبرز پر اپنی متعلقہ دستاویز فراہم کرکے این او سی حاصل کرسکتے ہیں۔فیاض احمد 0533585184، زاہد احمد 0542556778، محمد عثمان 0592068461 پاکستانی قونصلیٹ کے مطابق اس واٹس ایپ سروس کے اجراءکا مقصد مملکت میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کوکرفیو کی حالت میں اپنے کسی عزیز کی تدفین کے عمل میں پیش آنے والی سفری پابندیوں اور مشکلات سے بچانا ہے۔

سعودی حکام نے دمام، قطیف اور طائف میں کرفیو کے اوقات میں اضافہ کر دیا

طائف(ویب ڈیسک) سعودی حکام نے کورونا وائرس پر قابو پانے کی خاطرکرفیو کے حوالے سے ایک اور اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آج کے روز سے تین سعودی شہروں دمام، قطیف اور طائف میں کرفیو کے اوقات کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے۔ جس کے بعد سے کرفیو کا آغاز شام 7بجے کی بجائے سہ پہر 3بجے سے ہو گا اور اگلے روز صبح 6 بجے تک اس کی پابندی کی جائے گی۔وزارت داخلہ کے مطابق کرفیو کا یہ دورانیہ غیر معینہ مدت کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم مخصوص سرکاری و نجی اداروں کے ملازم جنہیں کرفیو میں مخصوص ذمہ داریاں نبھانی ہوتی ہیں، وہ کرفیو کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ان شہروں میں کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ کورونا کے خطرات کے پیش نظر لوگوں کی زندگی اور صحت کو محفوظ بنانے کی خاطر لیا گیا ہے۔تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ وقت گھروں تک ہی محدود رہیں اور حالات کے پیش نظر سماجی تنہائی اختیار کریں۔واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ جمعرات کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تمام علاقوں میں روزانہ 24 گھنٹے کے کرفیو کا اعلان کیا تھا۔جس کے دوران دونوں شہروں میں داخل ہونے اور وہاں سے باہر جانے پر پابندی ہو گی۔24 گھنٹوں کے اس کرفیو کے دوران دونوں مقدس شہروں کے رہائشی علاقوں میں ہر قسم کی تجارتی سرگرمی اور کام کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔تاہم فارمیسیز، بینکنگ خدمات، راشن اور اشیائے خورد و نوش فروخت کرنے والے مراکز اور ایندھن کے اسٹیشنز اس فیصلے سے مستثنی ہوں گے۔مملکت میں کرونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 1885 ہو گئی ہے۔جبکہ 21 افراد اس وائرس سے لڑائی کے دوران دنیا سے سے کوچ کر گئے ہیں۔اچھی خبر یہ ہے کہ مملکت میں کرونا کے مریضوں میں سے 328 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں 3 گھنٹے کا کرفیو جیسا لاک ڈاون

کراچی(ویب ڈیسک)سندھ حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں دوپہر 12 بجے سے تین بجے تک کرفیو جیسا لاک ڈاون کیا گیا۔محکمہ داخلہ سندھ نے کراچی سمیت صوبے بھر میں جمعہ کے روز 3 گھنٹے کے انتہائی سخت لاک ڈاون کیا ، جس کے تحت دن 12 سے سہہ پہر 3 بجے تک تمام دکانیں بند رہیں اور ہر طرح کی ٹرانسپورٹ معطل رہی۔ شہریوں کو نقل و حرکت کی بھی اجازت نہیں ملی اور مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات نہیں ہوئے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر قانونی چارہ جوئی کا انتباہ دیا تھا۔سندھ حکومت نے صوبے میں عمومی لاک ڈاون کی مدت میں توسیع کا بھی باقاعدہ اعلان کیا ہے جس کا باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں لاک ڈاون کےتحت پابندیوں کا اطلاق 14 اپریل تک رہے گا۔نوٹی فکیشن کے مطابق لاک ڈاون کے دوران تمام عوامی، سیاسی، مذہبی و دیگر اجتماعات پر پابندی ہوگی، صرف مقررہ اوقات کے دوران مخصوص کاروباری سرگرمیاں کی جاسکیں گی، مساجد میں 3 سے 5 افراد باجماعت نماز ادا کرسکیں گے، عام شہری نماز ظہر گھر پر ہی ادا کریں گے۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ نماز جنازہ اور تدفین کے علاوہ ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی ہوگی، نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی جب کہ سندھ میں تمام انٹرسٹی ٹرانسپورٹ سروس بھی بند رہے گی اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ نقل وحرکت ممنوع ہوگی۔

کورونا وائرس؛ خیبرپختون خوا میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ نے خیبرپختون خوا میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔ذرائع کے مطابق خیبرپختون خوا حکومت نے کورونا وائرس کے تناظر میں لاک ڈاون پر عمل درامد میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے وفاق سے فوج تعینات کرنے کی درخواست کی تھی۔وزارت داخلہ نے کابینہ سے خیبرپختوخوا میں فوج تعینات کرنے کی استدعا کی تھی۔ کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے صوبے میں فوج تعینات کرنے کی منظوری دی۔کابینہ کی منظوری کے بعد پاک فوج سول انتظامیہ کی مدد کے لیے خیبرپختون خوا میں تعینات ہوگی۔

نجی اسکولوں کو فیس وصولی کیلیے انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت

کراچی(ویب ڈیسک)سندھ میں کورونا وائرس کے پھیلاو کے تدارک کے لیے جاری لاک ڈاون کے پیش نظر ڈائریکٹریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ نے نجی اسکولوں کو فیس وصولی کے لیے ہدایات جاری کر دیں۔ڈائریکٹریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منسوب صدیقی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صوبے بھرکے نجی اسکولوں کو فیس وصولی کے لیے انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت ہو گی، اسکول بند رہے گا صرف فیس وصولی اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے دفاتر کھولے جا سکتے ہیں۔اسکول انتظامیہ کو کورونا وائرس سے بچاو کے لیے حفظان صحت کے اصولوں کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ فیس وصولی کے دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کا خاص خیال رکھا جائے، سینی ٹائزر کی دستیابی اور ماسک کا استعمال یقینی بنایا جائے جبکہ 3سے زائد افراد کے انتظامی دفاتر میں جمع ہونے پر پابندی ہے،کوئی اسکول کسی بھی طالب علم کو طلب نہیں کرسکتا، احکام کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں رجسٹریشن بھی منسوخ کی جاسکتی ہے۔

نوابشاہ میں بھی کورونا وائرس پھیل گیا، شہری خوف زدہ

نواب شاہ / کوٹری(ویب ڈیسک) نواب شاہ میں بھی کورونا وائرس پھیل گیا، تبلیغی مرکز میں موجود 217 میں سے 17افراد کا ٹیسٹ کیا گیا، 6 کی رپورٹ پازیٹو آگئی جنہیں پی ایم سی اسپتال کے آئسولیشن وارڈ منتقل کردیا گیا۔گزشتہ شب قرنطینہ قرار دیے گئے تبلیغی مرکز میں موجود 217 افراد میں سے محکمہ صحت کی ٹیم نے 17 مشکوک مریضوں کے کروانا وائرس ٹیسٹ کرانے کے لیے بھیجے گیے سیمپل کی رپورٹ محکمہ صحت کو ملگئی تھی جس میں 6 مریضوں کے ٹیسٹ پازیٹیو آ گئے تھے مگر ڈی ایچ او ان مریضوں کی ٹیسٹ رپورٹ میڈیا سے چھپاتے رہے۔میڈیا نمائندوں نے تصدیق کے لیے انہیں مسلسل فون کیے مگر انہوں نے کسی کا فون اٹینڈ نہیں کیا اور نہ ہی کسی ایس ایم ایس کا جواب دیا جبکہ محکمہ صحت نے وزیر اعلی سندھ کے فوکل پرسن ایم پی اے غلام قادر چانڈیو کو بھی ان پازیٹو کیسز سے لاعلم رکھا اور جب میڈیا نے غلام قادر چانڈیو سے رابطہ کیا تو انھوں نے بھی مکمل لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کو نہیں معلوم بعد ازاں رات گیے پازیٹو آنے والے مریضوں کو محکمہ صحت کی ٹیم نے تبلیغی مرکز سے ایمبولینس کے ذریعے پیپلز میڈیکل کالج و اسپتال کے آئسولیشن وارڈ منتقل کیا گیا۔پازیٹیو آنے والوں میں یونین کونسل جمال شاہ سے تعلق رکھنے والا نوجوان بھی شامل ہے جو کہ رائے ونڈ تبلیغی اجتماع میں شرکت کر کے واپس آیا تھا۔ جبکہ ایک کا تعلق کے پی کے کے ضلع ہری پور ہزارہ سے ہے جبکہ دیگر مریضوں میں غیر ملکی شامل ہیں جن میں سوڈان، یمن اور انڈونیشیا کے شہری شامل ہیں۔کوٹری میں تبلیغی جماعت کے 47 افراد آئسولیشن وارڈ میں موجود تبلیغی جماعت کے 47 افراد آئسولیشن وارڈ میں موجود ہیں جن کے کورونا ٹیسٹ کے لیے نمونے بھیج دیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع بھر میں تبلیغی جماعت کے47 افراد قرنطینہ سینٹروں میں موجود ہیں۔سیہون کی عائشہ صدیقہ مسجد میں 18افراد جبکہ 17 افراد سید عبدآ شاہ انسٹیویٹ کے قرنطینہ سینٹر کےآئسولیشن وارڈ میں موجود ہیں۔ایم ایس معین الدین کا کہنا ہے کہ 17افراد کے نمونے بھیجے گئے ہیں ابھی تک رپورٹ نہیں آئی۔ دوسری جانب جامشورو کے زیڈ اے بوائز ہاسٹل میں بھی تبلیغی جماعت کے 12 افراد اب بھی آئسولیشن میں ہیں ان کے بھی سیمپل رپورٹ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔

وزیر اعظم کا تعمیراتی شعبے کے لیے بڑے مراعاتی پیکج کا اعلان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں تعمیراتی شعبے کے لیے مراعات کے بڑے پیکج کا اعلان کردیا ہے۔پیکج کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس سال تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ذرایع آمدن کے بارے میں سوال نہیں ہوگا۔ تعمیراتی شعبے پرٹیکس کی شرح فکس کررہے ہیں،جس کے نتیجے میں اس شعبے کے ٹیکسوں کی مجموعی شرح کم ہوجائے گی۔ نئے پاکستان ہاوسنگ اسکیم میں تعمیرات کرنے والوں کو 90 فیصد ٹیکس کی رعایت دیں گے، ابتدائی طور پر اس اسکیم کے لیے 30 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ اسٹیل اور سیمینٹ کے علاوہ تعمیراتی مواد اور خدمات پر سروسز ٹیکس معاف کیا جارہا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی اپنا مکان فروخت کرے گا تو اس سے کیپیٹل گین ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 150 ارب جاری کرنا شروع کردیے ہیں جس سے غریب طبقے کو مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ احساس پروگرام کے تحت 1 کروڑ لوگ ابھی تک مالی مدد کے لیے رجوع کرچکے ہیں لیکن صرف اس طریقے سے عوام کے غریب طبقے کی مدد کرنا اور بقا ممکن نہیں۔ ملک میں زراعت کے بعد تعمیراتی شعبے سے سب سے زیادہ روزگار ملتا ہے، اس کی سرگرمیاں جاری کرنے کا مقصد یہی ہے کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کو روزگا ملتا رہے۔انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا جارہا ہے اور اس کے لیے کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم کی جارہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اس وائرس کے خلاف پاکستانیوں کی قوت مدافعت زیادہ ہے یہ سوچ خطرناک ہے، ہمیں ہر قسم کی احتیاط کرنا ہوگا۔ یہ بہت خظرناک وائرس ہے کوئی نہیں کہہ سکتا یہ کتنی تیزی سے پھیلے گا۔وزیر اعظم کا آرمی چیف کے ہمراہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا دورہ وزیراعظم عمران خان نے چیف آف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر وزیراعظم کو کوروناوائرس سے نمٹنے کے لئے کی جانے والی کوششوں ، اور مستقبل کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 14 اپریل کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کے فیصلے کریں گےتاہم جب تک موجودہ پابندیاں جاری رکھی جائیں گی۔ الحمد اللہ پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال پریشان کن نہیں۔ حکومتی اقدامات اور تمام اداروں کی محنت سے صورتحال کنٹرول میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وباءسے متعلق کوئی بھی معلومات چھپانا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔کورونا وائرس سے متعلق اعدادو شمار کسی صورت نہ چھپائے جائیں۔ صوبوں کو تمام معلومات مسلسل نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر سے فراہم کی جائے گی اور کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد صرف نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر جاری کرے گا۔

غیر معینہ مدت تک لاک ڈاون کے متحمل نہیں ہوسکتے، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ڈائریکٹر جنرل آئی ایس اپی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ افواج پاکستان کورونا وائرس کی روک تھام کیلیے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہیں جب کہ غیر معینہ مدت کے لیے لاک ڈاون کے متحمل نہیں ہوسکتے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ساتھ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر سے متعلق میڈیا کو بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ 26 فروری سے اب تک 38 دنوں میں ہم نے بحثیت قوم اس وبا کا اچھے انداز میں مقابلہ کیا ہے۔ ڈاکٹر، پیرا میڈکس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔انہوں ںے کہا کہ علمائے کرام کاشکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنھوں ںے اس نازک وقت میں اتحاد کا پیغام دیا ہے اور عوامی آگاہی میں کردار ادا کیا۔ ہمیں رنگ و نسل ، مذہب اور ہر طرح کی تفریق سے بالاتر ہوکر اس وبا کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے کونے کونے میں پاک فوج وبا کی روک تھام میں مدد کے لیے سرگرم ہے۔ تمام فورمیشن کمانڈر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کوتعاون فراہم کررہے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت کے مطابق عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ وبا سے بچاو کے لیے بھی فوج اپنا کردار ادا کررہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ نشینل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر قومی رابطہ کمیٹی کے تحت کام کررہا ہے۔ اس سینٹر سربراہی وفاقی وزیر اسد عمر کررہے ہے اور لیفٹیننٹ جنرل حمود الزماں اس کے چیف کوآرڈی نیٹر ہوں گے۔ پورے ملک سے اطلاعات اس سینٹر کو فراہم کی جاتی ہے اور یہاں اس کا جائزہ لے کر تجاویز تیار کرکے قومی رابطہ کمیٹٰی کو فراہم کی جاتی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ غیر معینہ مدت کے لیے لاک ڈاون کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ تمام صوبوں ، آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں طبی سامان اور افرادی قوت کو پہنچانے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں ایک چھت کے تلے تمام متعلقہ وزارتوں اور صوبوں کو نمائندگی حاصل ہے۔ موجودہ صورت حال میں عوام کا ریاست کےساتھ تعاون سب سے اہم ہے۔ یہ ایسا خطرہ ہے جس کے سامنے کوئی خدمت اور قربانی حیثیت نہیں رکھتی۔میجر جنرل بابر افتخار نے مزید کہا کہ میڈیا کا بھرپور تعاون درکار ہے۔ اب تک میڈیا نے معروضی رپورٹنگ کی ہے اور عوام کو آگاہی فراہم کی ہے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم نے ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کرنے والوں کی آہنی ہاتھوں سے سرکوبی کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزارت اطلاعات کورونا وائرس سے متعلق تفصیلات فراہم کریں گے اور میڈیا سے رابطے میں رہیں گے۔