سندھ میں 3 گھنٹے کے مکمل لاک ڈاون کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا

کراچی(ویب ڈیسک) سندھ میں 3 گھنٹے کے مکمل لاک ڈاون اور لاک ڈاون میں توسیع کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا۔ محکمہ داخلہ سندھ نے صوبے بھر میں جمعہ کے روز 3 گھنٹے کے مکمل لاک ڈاون کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے تحت دن 12 سے سہہ پہر 3 بجے تک کوئی دکان کھلے گی اور نہ ہی کوئی ٹرانسپورٹ چلے گی، جب کہ شہریوں کو نقل و حرکت کی بھی اجازت نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
حکومت سندھ سندھ نے صوبے میں لاک ڈاون میں توسیع کا بھی باقاعدہ اعلان کردیا ہے جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں لاک ڈاون کےتحت پابندیوں کا اطلاق 14 اپریل تک رہے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق لاک ڈاون کےدوران تمام عوامی سیاسی مذہبی اجتماعات پر پابندی ہوگی، صرف مقررہ اوقات کےدوران مخصوص کاروباری سرگرمیاں کی جاسکیں گی، مساجد میں 3 سے 5 افراد باجماعت نماز ادا کرسکیں گے، عام شہری نماز ظہر گھر پر ہی ادا کریں گے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ نماز جنازہ اور تدفین کے علاوہ ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی ہوگی، نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ جب کہ سندھ میں تمام انٹرسٹی انٹراسٹی ٹرانسپورٹ سروس بھی بند رہے گی اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ نقل وحرکت ممنوع ہوگی۔

موجودہ وسائل سے کورونا وائرس پر قابو پالیں گے، وزیراعظم

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے کل ایک بڑے پیکیج کا اعلان کروں گا کیوں کہ ملک میں صنعت کا فروغ حکومت کی ترجیح ہے اور بزنس کمیونٹی کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا مشکل میں ہے، پاکستان میں وبا کا پھیلاو دوسرے ممالک کی نسبت کم ہے اور ہم کورونا وائرس کے حوالے سے ہر روز میٹنگ کرتے ہیں، ہمارے ایک طرف کورونا دوسری طرف بھوک ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ کا خاص کرم ہے جیسی صورتحال دوسرے ممالک میں ہے ہمارے ہاں نہیں، شادی ہال،اسکول دوسرے عوامی مقامات مزید دو ہفتے کیلئے بند کر دیے ہیں، لوگوں کے اجتماع سے وائرس پھیلنے کا خدشہ زیادہ ہے تاہم ہم موجودہ وسائل سے کورونا پر قابو پالیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کے اثرات سے کمزور طبقے کو سب سے زیادہ خطرہ ہے، مزدوروں کو بیروزگاری سے بچانے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں، مزدور طبقے کی امداد کیلئے پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے، ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کو احساس پروگرام سے پیسے دیں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کنسٹرکشن انڈسٹری کو کھولنا ہے، کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے کل ایک بڑے پیکیج کا اعلان کروں گا، ملک میں صنعت کا فروغ حکومت کی ترجیح ہے، بزنس کمیونٹی کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔

ملک کسی جماعت کی بنائی ہوئی فورس کے حوالے نہیں کیا جاسکتا، فضل الرحمان

لاہور(ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یہ ملک کسی ایک جماعت کے سربراہ کی بنائی فورس کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے ملک میں جاری کورونا وائرس کے باعث صورتحال اور سیاسی امور پر بات چیت کی۔مولانا فضل الرحمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ ملک کسی ایک جماعت کے سربراہ کی بنائی فورس کے حوالے نہیں کیا جاسکتا، میں نے شہباز شریف کو پارلیمانی مانیٹرنگ کمیٹی بنانے کی تجویز دی ہے اور کہا ہے کہ پارلیمانی مانیٹرنگ کمیٹی بنائے جانے تک اپوزیشن کسی کمیٹی میں شریک نہیں ہوگی، شہباز شریف نے میری تجویز پر تمام اپوزیشن کو اعتماد میں لیا ہے۔قبل ازیں جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے صوبائی ذمہ داران کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہماری جماعت کا ہر کارکن انتظامیہ اور اداروں کے ساتھ ہے، ذمہ داران فوری طور پر پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے حکام سے رابطہ کریں اور ان سے مشاروت کرکے انہیں اپنے رضا کاروں کی فہرست فراہم کریں۔

امریکی بحری بیڑے میں 5 ہزار فوجیوں میں کرونا وائرس ہونے کے خدشات

نیو یارک(ویب ڈیسک) امریکی بحریہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ”روزویلٹ“ نامی بحری بیڑے سے ہزاروں اہلکاروں کو نکالنا کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ جبکہ 93 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روزویلٹ نامی بحری بیڑہ امریکا کے زیرِ انتظام جزیرے گوام کے قریب موجود ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق بیڑے پر 4800 افراد کا عملہ تعینات تھا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق اب تک بیڑے سے ایک ہزار اہلکاروں کو نکالا جا چکا ہے جن میں سے 93 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ پیٹاگون کے حکام کا کہنا ہے کہ روزویلٹ کے عملے کے لیے فوری طور پر ہوٹلوں میں کمروں کا انتظام کر رہے ہیں جبکہ کچھ صحت مند اہلکاروں کو بیڑے پر ہی تعینات رکھا جائے گا تاکہ وہ معمول کے کام جاری رکھ سکیں۔ امریکی بحریہ میں میریانا ریجن کے کمانڈر ریئر ایڈمرل جان مینونی نے کہا ہے کہ روزویلٹ پر موجود زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکال رہے ہیں لیکن کچھ اہلکاروں کو بحری بیڑے پر تعینات رکھنا ہو گا تاکہ معمول کے کام انجام دیے جا سکیں۔ واشنگٹن میں امریکا کے قائم مقام سیکریٹری برائے بحریہ تھامس موڈلی کا کہنا ہے کہ بحری بیڑے پر تعینات عملے میں سے ایک ہزار کے قریب اہلکاروں کو نکالا جا چکا ہے جبکہ آئندہ دو روز میں تعداد 2700 ہو جائے گی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ تقریباً ایک ہزار اہلکاروں کو بیڑے پر ہی تعینات رکھا جائے گا اور بحری بیڑے کو کورونا وائرس کی وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے جراثیم کش ادویات کا سپرے بھی کیا جائے گا۔ رائٹرز کے مطابق تھامس موڈلی سے جب بار بار پوچھا گیا کہ کیا خط لکھنے پر روزویلٹ کے کپتان بریٹ کروزیئر کو سزا دی جائے گی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا کہ اس خط کو میڈیا میں کس نے لیک کیا۔ ان کے بقول اگر وہ اس کے ذمہ دار ہیں تو یہ عمل نظم و ضبط کے اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ کون ذمہ دار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزویلٹ کے کپتان نے خط اپنے اعلیٰ حکام کو لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جس پر ردعمل دیا جائے۔ خیال رہے کہ امریکہ کے بحری بیڑے روزویلٹ کے کپتان نے محکمہ دفاع پینٹاگون کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ کورونا وائرس سے بیڑے پر موجود اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ اس لیے فوری طور پر ان کی مدد کی جائے۔ کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا تھا کہ بحرالکاہل کے ایک امریکی علاقے گوام میں ان کا بیڑا موجود ہے۔ کورونا وائرس بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث 4000 اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ امریکی اخبار نے بحری بیڑے کے کپتان کی جانب سے پینٹاگون کو لکھا گیا خط بھی شائع کیا تھا۔ خط کے متن کے مطابق کپتان بریٹ کروزیئر نے کہا تھا کہ ہم حالتِ جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں بیڑے پر موجود فوجی اپنی جانیں دیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ بحری بیڑے میں گنجائش کم ہے اور کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے بیڑے پر موجود اہلکاروں کو قریبی ساحل پر قرنطینہ میں رکھا جائے۔ پینٹاگون کے مطابق اب تک محکمہ دفاع کے 1400 ملازمین اور کانٹریکٹرز وغیرہ کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں 771 فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔ تھامس موڈلی کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ میں روزویلٹ وہ واحد بیڑا ہے جس کے اہلکاروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 93 مزید بیڑے مختلف علاقوں میں تعینات ہیں جو اس وبا سے محفوظ ہیں۔ ادھر امریکہ کے وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوج سماجی دوری اور سینیٹائزیشن کی ہدایات پر عمل کر رہی ہے۔ روزویلٹ پر تعینات کچھ اہلکاروں اور دنیا بھر میں پھیلنے والی یہ وبا امریکی فوج کی جنگی صلاحتیوں کو متاثر نہیں کر سکتی۔

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے بھارتی اقدام مسترد کردیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی غیرقانونی بھارتی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے اور بھارتی اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی حکومت کی تازہ ترین غیرقانونی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں مسترد کرتا ہے۔ ”جموں وکشمیر تشکیل نو آرڈر2020“ایک اور غیرقانونی بھارتی اقدام ہے جس کا مقصد بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے ڈومیسائل قوانین کو تبدیل کرنا ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون اور چوتھے جینیوا کنونشن کی صریحا خلاف ورزی ہے۔تازہ ترین بھارتی قدام بھی 5 اگست 2019 کے بھارت کے غیرقانونی اور ایک طرفہ اقدامات کا ہی تسلسل ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدات اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے کشمیریوں نے اس نئے قانون کو ”ناقابل قبول“ قرار دیتے ہوئے کلّی طورپر مسترد کردیا ہے۔ بلاشبہ کشمیری ایسے کسی بھی جبروتسلط کو قبول نہیں کریں گے جو ان کے بنیادی حقوق کو غصب کرے یا آبادی کے تناسب کو تبدیل کرے یا ان کی شناخت ان سے چھین لے۔ بھارت کے تازہ اقدامات ایک ایسے موقع پر کئے گئے ہیں جب دنیا کورونا وائرس کی عالمی وبائ کے بحران سے لڑنے میں مصروف عمل ہے، اس دوران بھارت کا یہ اقدام انتہائی قابل مذمت ہے۔ بھارت صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بدطینتی دکھارہا ہے جو بی جے پی کے مذموم”ہندتوا“ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے خطرناک عزائم کا حصہ ہے۔ پاکستان بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے بی جے پی حکومت کے خطرناک عزائم سے عالمی برادری کو مسلسل آگاہ کرتا آیاہے۔ان بھارتی اقدامات کا مقصد کشمیری عوام کی امنگوں اورخواہشات کے خلاف متنازعہ خطے میں بھارتی غیرقانونی تسلط اور قبضہ برقرار رکھنا ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری بھارتی اقدام کا فوری نوٹس لے اور مقبوضہ متنازعہ علاقے میں آبادی کاتناسب تبدیل کرنے سے بھارت کو روکے اور بھارت کی طرف سے عالمی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں پر اسے کٹہرے میں کھڑا کرے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب اور اجاگر کرتا رہے گا اور کشمیریوں کے استصواب رائے کا بنیادی حق انہیں دینے سے انکار کی ہٹ دھرمی دنیا کے سامنے لاتا رہے گا۔ بھارت خواہ کوئی بھی ہتھکنڈہ یا حربہ کیوں نہ اختیار کرلے وہ کشمیریوں کے عزم وہمت اور استقلال کو متزلزل نہیں کرسکتا۔ کشمیریوں کی خواہشات کو کچلنے اور انہیں غلام بنانے کے مذموم عزائم میں بھارت ہمیشہ ناکام ونامراد ہی رہے گا۔

فلائٹ آپریشن بند , پاکستانی فنکار بنکاک میں پھنس گئے , حکومت پاکستان سے اپیل

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں فلائٹ آپریشن بند ہونے کی وجہ سے پاکستانی فنکاروں کا گروپ بنکاک میں پھنس گیا۔فنکاروں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ انہیں وطن اپس انے کے انتظامات کئے جائیں۔

تفیلات کے مطابق اداکار محب مرزا اپنی فلم”عشرت”(میڈ ان چائنہ) کی شوٹنگ کے لئے تھائی لینڈ گئے تھے جن کے ہمراہ21 تکنیک کار اور 5فنکار شامل تھے جن میں امام سید۔سارہ لورین، اور صنم سعید شامل ہیں۔شوٹنگ مکمل ہونے کے بعد وطن واپسی کی تیاری تھی کہ کورونا وائرس کی وجہ سے فلائٹ آپریشن ملتوی ہوگیا۔پاکستانی فنکار اور دیگر افراد

بنکاک سے ساڑھے تین گھنٹے کی مسافت پر کنچنا پوری کے ہوٹل میں مقید ہیں۔اداکار اور فلم کے ڈائریکٹر محب مرزا نے اپنے وڈیو پیغام کے ذریعے سول ایوی ایشن،فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن ،ایکٹرز ایسوسی ایشن اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام فنکاروں اور فیگر عملے کو فوری طور پر وطن واپس لانے کے انتظامات کئے جائیں۔ اداکار شعمون عباسی بھی آک فلم کی شوٹنگ کے دوران ساتھی فنکاروں کے ساتھ تھای لنڈ میں پھنس گے۔

کرونا مرض سے وفات پانے والی میت کا احترام بھی واجب ، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ کورونا مرض سے وفات پانے والی میت کو ممکنہ طریقے سے احتیاطی تدابیر کے ساتھ غسل دینے کا اہتمام کیا جائے۔ ان کے لیے ہلاک کا لفظ استعمال نہ کیا جائے، شہید یا جاں بحق کے الفاظ بہتر ہیں۔ ایسی میت کی نماز جنازہ ادا کی جائے اور جنازہ وتدفین میں قریبی رشتہ داروں کو شرکت کی اجازت دی جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین کونسل قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ اجتماعی عبادات کے بارے میں حکومتِ وقت جو اقدامات کر رہی ہے، کونسل اس کی تائید کرتی ہے۔ انسانی جان کی حرمت مقاصدِ شریعت میں اہم حیثیت رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا دین اس کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کونسل عوام سے توقع رکھتی ہے کہ وہ حکومتی اداروں اور صحت کے ماہرین کی ہدایات اور علمائے کرام کے 25 مارچ کے اعلامیے کی روشنی میں نمازیں گھروں پر ادا کریں گے تا کہ میل جول میں فاصلوں کو یقینی بنایا جائے۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ مسجد کی تالا بندی اور بندش کا تصور نہیں جانا چاہیے لیکن نمازیوں کی تعداد میں تحدید پر حکومتی اقدامات کی تعمیل کی جائے۔ آئمہ مساجد کی گرفتاریوں کی بجائے ان کا تعاون حاصل کیا جائے تاکہ وہ احتیاطی تدابیر کے حوالے سے حکومتی اداروں کے ساتھ شریک ہو کر کورونا سے بچاو¿ کی مہم کا حصہ بن جائیں۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ کورونا وائرس کا کسی مسلک یا فرقے سے کوئی تعلق نہیں، عمرہ کے مسافر ہوں، مقدس مقامات کے زائرین ہوں یا تبلیغی جماعت کے کارکن، ان کا کوئی تعلق اس بیماری کے پھیلاو¿ کے ساتھ نہیں، اس ضمن میں جو انتظامی یا انفرادی سطح پر کوتاہی ہوئی ہے، اس کے تدارک کے لیے قانون اور عقلِ عامہ کے مطابق اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کو ختم کرنے کے لیے ماہرین صحت، طبیب اور بین الاقوامی ادارے تحقیق اور ادویات کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ کونسل اس کی تائید کرتی ہے اور اسے انسانیت کی بڑی خدمت قرار دیتی ہے۔ قبلہ ایاز نے درخواست کی کہ اس موقع پر اقلیتی برادری کو بطور خاص یاد رکھا جائے اور صاحبِ استطاعت افراد عمرہ و زیارات یا دیگر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے مختص رقم کو کورونا وائرس سے معاشی دباو¿ کے شکار افراد کے لیے عطیہ کریں۔ ملک کے تمام شہری جو اس صورتِ حال سے متاثر ہوئے ہیں، ان کی معاشی کفالت کے لیے مذہبی اور علاقائی امتیازات سے ماورا اقدامات کیے جائیں۔ اس ضمن میں حکومت، عوام اور سول سوسائٹی مل کر کام کریں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ معاشی بے روز گاروں کی کفالت و اعانت کا انتظام مساجد کے ذریعے کرنا نہایت مفید ہوگا۔ مساجد کو کمیونٹی سینٹر کا درجہ دیا جائے اور مساجد کے ا?ئمہ کو اس کارخیر میں شریک کیا جائے۔

سوڈان میں پھنسے تبلیغی جماعت کے 150 ارکان کی وطن واپسی کی ایپل

خرطوم(ویب ڈیسک) فضائی بندش کے باعث سوڈان میں محصور تبلیغی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 150 کے قریب پاکستانیوں نے وطن واپسی کے لیے حکومت پاکستان سے اپیل کردی۔ بین الاقوامی پروازوں کی بندش کی وجہ سے سوڈان کے تبلیغی مرکز میں محصور تبلیغی جماعت کے ارکان نے حکومت پاکستان سے وطن واپسی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مختلف تبلیغی جماعتوں کے 150 ارکان پروازوں کی بندش کی وجہ سے سوڈان پھنسے ہوئے ہیں، تبلیغ میں وقت دینے کے بعد انھیں سعودی ائر لائن کے ذریعے وطن واپس آنا تھا لیکن سعودی ائر لائن والوں نے بارہا رابطے کے بعد جواب دیا ہے کہ اپنی حکومت سے رجوع کریں۔تبلیغی جماعت کے ارکان کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کا وبائی شکل اختیار کرنے کی وجہ سے حکومت سوڈان ان کے لیے مسائل کھڑے کررہی ہے، وزیراعظم پاکستان عمران خان ہماری واپسی کے لئے اقدامات کا حکم دیں، تبلیغی جماعت کے بیشتر ارکان کے پاس پیسے بھی ختم ہوچکے ہیں۔

سیاسی جماعتیں الفاظ کی بجائے “کاز” کو اہمیت دیں، فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے التماس ہے کہ الفاظ کی بجائے “کاز” کو اہمیت دیں۔اپنی ٹویٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سماجی خدمات میں نوجوانوں نے ہمیشہ روشن کردار ادا کیا کیونکہ وہ بے غرض ہو کر خدمت خلق کا کام انجام دیتے ہیں۔ وزیر اعظم نے مستحق افراد کے گھروں میں میں اشیائے ضروریہ پہنچانے کی ذمہ داری ان نوجوانوں کے سپرد کی جو سماجی کام میں عمران خان کا ہمیشہ دست و بازو بنے۔معاون خصوصی نے کہا کہ لفظ “ٹائیگر” کو کسی سیاسی جماعت سے منسوب نہ کیا جائے۔ ماشرے کی خدمت کرنے والا ہر نوجوان ٹائیگر ہے۔ عمران خان انہیں تب سے ٹائیگر قرار دے رہے ہیں جب وہ سیاست میں بھی نہیں آئے تھے۔ یہی نوجوان شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر میں پیش پیش تھے جو کسی کے علاج میں سیاسی تفریق نہیں کرتا۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے التماس ہے کہ الفاظ کی بجائے “کاز” کو اہمیت دیں۔ہمیں ایک ٹیم بن کر کرونا جیسے دشمن کو شکست دینی ہے۔نوجوان قومی خدمت کی مشن میں عمران خان کا ساتھ دینے کے لئے خود کو سیٹیزن پورٹل پر رجسٹر کروائیں۔

ڈِینیل پرل قتل کیس؛ احمد عمر شیخ کی سزائے موت 7 سال قید میں تبدیل

کراچی(ویب ڈیسک) سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے قتل کے مجرم برطانوی شہری احمد عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا ہے۔جسٹس کے کے آغا اور جسٹس ذوالفقار سانگی پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ڈینیل پرل قتل کے ملزمان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا۔عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ڈینیل پرل کے قتل کا الزام کسی ملزم پر ثابت نہیں ہوا تاہم احمد عمر شیخ پر اغوا کا الزام ثابت ہوا ہے۔ عدالت نے احمد عمر شیخ کے علاوہ باقی تینوں ملزمان کو بری جب کہ احمد عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کر دیا۔ڈینیل پرل امریکی جریدے وال اسٹریٹ جنرل جنوبی ایشیا ریجن کے بیورو چیف تھے، انہیں کراچی میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا، انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 15 جولائی 2002 کو ملزمان کو سنائی تھی، برطانوی شہریت رکھنے والے ملزم احمد عمر شیخ کو عدالت نے سزائے موت کا حکم دیا تھا، ملزم فہد سلیم، سید سلمان ثاقب اور شیخ محمد عادل کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی، ملزمان کی سزاوں کے خلاف اپیلیں 2002 سے تعطل کا شکار تھیں۔