میوہسپتال سے صحت یاب مریضوں کی عمریں 20 سے 35سال : ڈاکٹر اسد اسلم

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)سی ای او میوہسپتال ڈاکٹر اسد اسلم نے بتایا اب تک میوہسپتال میں 105 مریض داخل کئے گئے جن میں سے نو صحت یاب ہو گئے ہیں۔ باقی مریضوں کا علاج جاری ہے۔ چین میں مریضوں کو اینٹی ملیریا دی گئی جس کے مثبت نتائج آئے چین کے تجربے اور مشاہدے کی بنا پر ہم نے بھی یہی دوا مریضوں پر استعمال کی ابھی تک یہی کہا گیا ہے یہ دوا پندرہ سال سے زیادہ عمر کے افراد پر استعمال کریں۔ ہر کھانسی زکام کرونا نہیں لہٰذا گبھرائیں نہیں۔ میوہسپتال میں چار سو بیڈز کرونا مریضوں کے لئے مختص ہیں مریضوں کو تمام ممکنہ طبی امداد دے رہے ہیں۔ کرونا سے بچنے کے لئے اس وقت واحد ذریعہ گھر تک محدود رہنا ہے۔میو ہسپتال کے ڈاکٹر اسد اسلم کا کہنا ہے کہ پلازما کا تجربہ کامیاب رہتا ہے تو اینٹی ملیریا ڈرگ کی ضرورت نہیں ہوگی، پلازما کا تجربہ بھی ابتدائی طور پر کیا جارہا نتیجہ مثبت آیا تو سود مند ہے۔ اینٹی ملیریا ڈرگ کرونا سے متاثرہ مریضوں کو شروع کرائیں، اینٹی ملیریا ڈرگ کو مخصوص لحاظ سے استعمال کررہے ہیں، اب تک 9 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں، جو مریض ڈسچارج ہوئے ان کی عمریں 20 سے 35 سال کے درمیان تھیں ۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اسد اسلم نے کہا کہ کوئی بھی شخص یہ دوائی ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر نہیں لے سکتا، کوئی یہ سوچے کہ اینٹی ملیریا ڈرگ سے کرونا وائرس روک سکتا ہے تو غلط ہے، اس وقت ہم یہ دوائی مخصوص لیول پر مخصوص مریضوں پر استعمال کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اینٹی ملیریا ڈرگ پورے پنجاب میں استعمال کی اجازت دی ہے، میواسپتال میں یہ دوا استعمال کی جس کا تجربہ مثبت رہا، اینٹی ملیریا ڈرگ کے سائیڈ ایکفکیٹس بھی ہیں، یہ دوا تجرباتی بنیادوں پر استعمال کررہے ہیں۔ڈاکٹر اسد اسلم نے کہا کہ صوبوں کے اتھ بھی اپنا تجربہ شیئر کیا، چینی میڈیکل ٹیم سے بھی مشاورت کی گئی، کوئی مریض تشویشناک حالت اسٹیج میں نہیں تھا جنہیں یہ دوا استعمال کرائی گئی ہو، ایک مریض تو ایسا تھا جس کی علامات بھی ظاہر نہیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں ہمارے پاس زیادہ تر نوجوان مریضوں کی تعداد ہے، نوجوانوں کے زیادہ آنے کی وجہ احتیاط نہ کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق مریض سیلف کورنٹائن ہوتا ہے تو اچھا آپشن ہے لیکن لوگ ایسا کرتے نہیں ہیں، مجبوری میں مریض کو اسپتال میں سیلف کورنٹائن میں لے جاتے ہیں، قرنطینہ کے اچھے نتائج آرہے ہیں اس لیے وائرس تیزی سے نہیں پھیلا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد کرونا بڑا چیلنج : سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہے کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیوگوتریس کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، اس دوران کرونا کے اثرات اور حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق دنوں رہنماں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں وبائی مرض پر قابو پانے سے متعلق بات چیت ہوئی، دنیا بھر میں کروناوائرس سے ہونے والی اموات پر دکھ کا اظہار کیا گیا۔ترجمان دفترخارجہ نے بتایا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود نے اقوام متحدہ کی کروناوائرس سے متعلق تجویز پر اتفاق کا اظہار کیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد موجودہ صورت حال ایک چیلنج ہے۔

امریکہ اٹلی کے بعد سپین ایک لاکھ کرونا مریضوں والا تیسرا ملک بن گیا

بیجنگ ‘واشنگٹن‘لندن (نیٹ نیوز) دنیا بھر میں نوول کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے نو لاکھ سے زائد اور ہلاکتیں 50ہزار کے قریب پہنچ گئیں ،اٹلی کے بعد اسپین 10ہزار سے زائد ہلاکتوں کے ساتھ زیادہ اموات والا دوسرا ملک بن گیا ،امریکہ 5ہزار سے زائد ہلاکتوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے ،امر یکی صدر نے کرونا مریضوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود گھروں میں رہنے کا قومی حکم جاری نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ،فجی نے کرونا وائرس کے مزید 2مریضوں کی تصدیق کے بعد دارالحکومت میں لاک ڈاﺅن کردیا ،افغانستان میں 43نئے مریضوں کی تصدیق کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد239ہوگئی ،بیلاروس نے چین کی جانب سے فوری ٹیسٹ کرنے کا سامان حاصل کرلیا۔جونز ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں کرونا وائرس کے 2لاکھ10ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔ کئی گھنٹے سے پہلے امریکہ ایسا پہلا ملک بن گیا جہاں2لاکھ سے زائد مریض سامنے آئے ہیں۔ اس بیماری کے ہاتھوں 24 گھنٹوں میں 884 اموات کے اضافے کے بعد گزشتہ روز ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 5ہزار سے بڑھ گئی ۔یونیورسٹی کے مرکز برائے سسٹمز سائنس اور انجینئرنگ کی جاری کردہ اپ ڈیٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں بدھ کی رات تک مجموعی طورپر2 لاکھ 15 ہزار417 مصدقہ کیسز کے ساتھ ساتھ 5ہزار 116 اموات رپورٹ ہو ئی ہیں۔جونز ہاپکنز یونیورسٹی کے مرکز برائے سسٹمز سائنس اینڈ انجینئرنگ نے 0500 جی ایم ٹی 2 اپریل کو کرونا وائرس سے بری طرح متاثرہ ملکوں میں عالمی مصدقہ کیسز کی تازہ ترین اپ ڈیٹس جا ری کی ہیں جس کے مطا بق دنیا بھر میں مصدقہ کیسز کی تعداد 9لاکھ37ہزار 170۔امریکہ میں 2 لاکھ 16 ہزار 721،اٹلی میں1لاکھ 10 ہزار 574،سپین میں 1 لاکھ 4ہزار118،جرمنی میں 77ہزار 981اور فرانس میں 57ہزار763 ہو گئی۔ اسی طر ح ایران میں مصد قہ مر یضو ں کی تعداد 47ہزار593،برطانیہ میں 29 ہزار865، سوئٹرزلینڈ میں17ہزار768،ترکی میں 15 ہزار679اور چین میں 82ہزار394ہو گئی ہے۔ اسپین امریکا اور اٹلی کے بعد دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے جہاں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ اس وائرس کے باعث دنیا بھر میں پونے 9 لاکھ انسان بیمار اور ساڑھے 43ہزار ہلاک ہو چکے ہیں۔ایران میں وزارت صحت کے ایک ذمے دار نے بتایا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے سبب مرنے والوں کی تعداد 3036 ہو چکی ہے۔ اب تک اس مہلک وائرس کے مجموعی طور پر 47593 کیس سامنے آ چکے ہیں۔

سی پیک منصوبوں پر کام اور تعمیراتی انڈسٹری کھولنے کا فیصلہ خصوصی پیکیج کا اعلان آج کروگا:عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی)حکومت نے تعمیراتی صنعت کو بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اس سلسلے میں کل ایک بڑے پیکج کا اعلان کیا جائے گا۔اس بات کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں کاروباری شخصیات میں ٹیکس ریفنڈز کے چیک تقسیم کرنے کےلئے منعقدہ تقریب میں کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ورکر مدد او اس تک پہنچنا زیادہ آسان ہے تاہم جو افراد یومیہ اجرت کمانے والے ہیں اور ان کا کہیں اندراج نہیں ان تک احساس پروگرام کے ذریعے پہنچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ ان افراد کو ایس ایم ایس مہم کے ذریعے اعلان کردہ 12 ہزار ارب روپے میں سے فنڈز فراہم کیے جائیں کیوں کہ یہ گھرانے اس وقت سب سے زیادہ مشکل میں ہیں۔انہوںنے کہاکہ کاروباروں کو اسلیے سپورٹ کرنا ہے کہ بزنس کمیونٹی کے بغیر ملک آگے بڑھ ہی نہیں سکتا اور حکومت کا شروع سے یہی فیصلہ ہے کہ ملک میں صنعت کو فروغ دینا ہے، بزنس کو مراعات اور جس طرح 60 کی دہائی میں پاکستان میں صنعتی ترقی ہورہی تھی وہی ماحول فراہم کرنا ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ ٹیکس ریفنڈز دینا اسی منصوبے کا حصہ ہے جو پہلے نہیں دیے جاتے تھے جس کی وجہ ہماری صنعت دوبارہ سرمایہ کاری نہیں کرسکتی تھی اور آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔انہوں نے بتایا حکومت کی پوری کوشش ہے کہ بزنسز کو ریفنڈ دیے جائیں تا کہ ان کے لیکویڈیٹی ہو اس کے علاوہ وزارت تجارت و صنعت کو ہدایت کی گئی ہے تمام چیمبرز آف کامرس سے رابطے کر کے اس بات پر غور کیا جائے کہ کس طرح مل کر اس مشکل وقت سے نکلا جائے۔وزیراعظم نے کہا یہ مشکل صرف ہمارا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے بلکہ امیر ترین ملک امریکا بھی مشکلات کا شکار ہے جن کی صرف معیشت زد میں ہے لیکن ہمیں بھوک کے مسئلے کا بھی سامنا ہے۔انہوںنے کہاکہ بزنس کمیونٹی کے لیے ضروری ہے کہ وزارت تجارت اور صنعت تمام اسٹیک ہولڈرز اور چیمبرز کے ساتھ مل بیٹھ کر روزانہ کی بنیاد پر اس بات کا جائزہ لیں کہ کہ اس مشکل وقت سے کس طرح نکلا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم روزانہ اجلاس کر کے پوری قیادت کرونا وائرس کے باعث ملکی اور معاشی حالات کا جائزہ لیتی ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمیں ایک طرف یہ دیکھنا ہے کہ وائرس نہ پھیلے جس کے حوالے سے اللہ کا خاص کرم کے دیگر ممالک میں جو تعداد ہے پاکستان میں اس سے کہیں کم ہے اور اپنے وسائل سے اس پر قابو پالیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ لاک ڈاو¿ن میں لوگوں کا اجتماع نہ ہو اور ایسی جگہیں مثلاً شادیاں، اسکولز، کھیلوں کے مقابلے بند کردیے ہیں اور اس میں 2 ہفتے کی توسیع بھی کردی ہے اور عوام کو بھی خود ایسی جگہوں پر جانے سے گریز کا کہا جارہا ہے جہاں مجمع اکٹھا ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ساتھ ہی ہمیں اس بات کا توازن بھی رکھنا ہے کس صنعت کو جاری رکھا جائے جس پر مسلسل غور جاری ہے کہ کون سی صنعت چلتی رہے تو لوگوں کے روزگار کا سلسلہ بھی جاری رہے گا اور وائرس کے پھیلاو¿ کا خوف بھی نہیں رہے گا یہ حکومت کا اس وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزارت تجارت و صنعت نے ان صنعتوں کی فہرست تیار کی ہوئی ہے کہ کون کون سی صنعتیں چل سکتی ہیں جس میں وائرس کے پھیلاو¿ کا خطرہ کم ہے۔انہوںنے کہاکہ (آج)جمعہ کو میں تعمیراتی صنعت کے لیے ایک بڑے پیکج کا اعلان کروں گا، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تعمیراتی صنعت کو مراعات دینی ہیں اور اس کو چلانے میں مدد فراہم کرنی ہے۔وزیراعظم نے کہ اس پیکج پر ہم کافی عرصے سے کام کررہے تھے جس کا اعلان جمعہ کو کردیا جائے گا کیوں کہ ہمارا یہ خیال ہے کہ سڑکیں بننے سے کرونا کے پھیلاو¿ کا خوف نہیں ہوگا کیوں کہ وہاں لوگوں کا ہجوم اکٹھا نہیں ہوگا یوں تعمیراتی صنعت سے منسلک دیگر صنعتیں بھی چلنا شروع ہوجائیں گی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ان صنعتوں کو حدود و شرائط سے آگاہ کیا جائے گا کہ کن ایس او پیز کو مدِ نظر رکھ کر کام کیا جاسکتا ہے لیکن ہم نے تعمیراتی صنعت کو کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے کیوں کہ کہیں یہ نہ ہو کہ کرونا سے بچاتے بچاتے لوگوں کو بھوک سے مرنے سے نہ بچا پائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک میں ایک بہت بڑا طبقہ ایسا ہے جو اس صورتحال سے متاثر ہو کر بے روزگار ہے اور ہمارے وسائل اتنے نہیں کہ سب تک پہنچا جاسکے اسلیے فیصلہ کیا گیا کہ تعمیراتی صنعت کو کھول دیا جائے گا اور کل اس سلسلے میں ایک بڑے پیکج کا اعلان کردیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ کروناوائرس کے پھیلاﺅ کی جو صورتحال دوسرے ملکوں میں ہے وہ پاکستان میں نہیں ، جس رفتار سے اب تک پاکستان میں کرونا پھیل رہا ہے اس پر ہم موجودہ وسائل میں قا بو پالیں گے۔ میں آج (جمعہ)کے روز کنسٹرکشن انڈسٹری کے لئے بڑے پیکج کا اعلان کرنے جارہا ہوں ۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے اپنی کنسٹرکشن انڈسٹری کو سہولیات دینی ہیں ان کو چلنے کے لئے پوری طرح مدد کرنی ہے، اس کے لئے میں بہت بڑے پیکج کا اعلان کروں گا جس پر ہم بڑی دیر سے کام کررہے ہیں ۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم نے کنسٹرکشن انڈسٹری کو پوری طرح کھولنا ہے، تاکہ یہ نہ ہو کہ ہم لوگوں کو کرونا سے بچاتے ، بچاتے بھوک سے نہ بچاسکیں۔کاروبار کو ہم نے اس لئے سپورٹ کرنا ہے کہ کاروباری طبقہ کے بغیر پاکستان آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔ہم ایک کروڑ20لاکھ لوگوں کو براہ راست احساس پروگرام کے ذریعے پیسے پہنچائیں گے۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم عمران خان نے ٹیکس ریفنڈ کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ا نہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ نے بزنس سپورٹ کے لئے پیکیج کا اعلان کیا ہے تاکہ مزدوروں کو بیروزگار نہ کیا جائے، ملک کو کورواناوائرس سے بچانے کے لئے لاک ڈاﺅن کیا گیا اور ہم نے لاک ڈاﺅن دو ہفتے آگے کر دیا ، لاک ڈاﺅن سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقہ کا پوری قوم نے دھیان رکھنا ہے ۔ ڈیلی ویجرز کے لئے ہم احساس پروگرام کے ذریعہ پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں، ہم ایک کروڑ20 لاکھ لوگوں کو براہ راست احساس پروگرام کے ذریعے پیسے پہنچائیں گے، ہمارا12ہزار کا پیکج ہے اور اس حوالہ سے ایس ایم ایس کے ذریعہ مہم چل رہی ہے، حکومت کا شروع سے فیصلہ ہے کہ ملک میں صنعت کو پروان چڑھانا ہے، کاروبارکے لئے سہولیات فراہم کرنی ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ توانائی کے شعبے سے متعلقہ مسائل کا پائیدار حل حکومت کی اولین ترجیح ہے، توانائی کے شعبے سے متعلقہ مسائل عوام کی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں ، معاملات کے حل کی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے، نظام میں موجود خرابیوں اور دستیاب وسائل کو موثر طریقے سے بروئے کار لا کر ہی عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے،یسے علاقوں جہاں قدرتی گیس کی فراہمی ممکن نہ ہو وہاں ایل پی جی کی دستیابی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ جمعرات کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت گیس کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں وزیرِ توانائی عمر ایوب،وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د، معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر اور سینئر افسران شریک ہوئے ۔وزیر اعظم کو توانائی خصوصاً گیس کے شعبے میں جاری اصلاحاتی عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔معاون خصوصی ندیم بابر نے وزیرِ اعظم کو ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کی صورتحال پر تفصیلی بریف کیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلامیں صوبوں کے وزرائے اعلی اور عسکری حکام شریک ہوئے جبکہ وفاقی وزرا اورچیئرمین این ڈی ایم اے بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں کوروناوائرس کی صورتحال سے متعلق اقدامات کاجائزہ لیا گیا جبکہ ظفرمرزانے ملک میں کورونا وائرس کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا اور اسدعمر نے موجودہ تناظرمیں معاشی وانتظامی اقدامات پربریفنگ دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی رابطہ کمیٹی اجلاس میں سی پیک منصوبوں پرکام کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تعمیراتی انڈسٹری کل سے کھول دی جائےگی اور وزیراعظم کل انڈسٹری سے متعلق پیکج کااعلان کریں گے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے معاشی ٹیم کی ساتھ ریلیف پیکج کے خدوخال پر مشاورت مکمل کرلی ہے ، انڈسٹری سے متعلق مزدوروں کی آمدورفت سے متعلق اور نمازجمعہ اورتراویح سے متعلق صوبوں کو ایڈوائزی جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جمعہ، تراویح سے متعلق مقامی انتظامیہ صورتحال کے پیش نظر فیصلہ کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا غریب کے گھرکا چولہا جلے اس لیے کل تعمیراتی انڈسٹری کھول رہے ہیں، مزدوروں کا روزگار انڈسٹری سے وابسطہ ہے، مزدورطبقہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں سندھ سے بلوچستان اورپنجاب کو گندم کی بلاتعطل ترسیل کابھی جائزہ لیا گیااور صنعتی یونٹس کی روانی،سی پیک منصوبوں پرعملدرآمد سے آگاہ کیا گیا۔وفاق اورصوبوں کے درمیان کوآرڈی نیشن کی بہتری اورمصدقہ ڈیٹاجمع کرنے سے متعلق اقدامات پر پربریفنگ دی گئی۔

امریکہ میں متاثرین کی تعداد 10 لاکھ سے بڑھ سکتی ہے :زرائع امریکی طیارہ بردار بحری جہاز میں کرونا 771امریکی فوجی وائرس کا شکار

واشنگٹن (نیٹ نیوز)امریکی بحریہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ‘روز ویلٹ’ نامی بحری بیڑے سے ہزاروں اہلکاروں کو نکالنا کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ جبکہ 771 امریکی فوجیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روزویلٹ نامی بحری بیڑہ امریکا کے زیرِ انتظام جزیرے گوام کے قریب موجود ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق بیڑے پر 4800 افراد کا عملہ تعینات تھا۔خبر رساں ادارے کے مطابق اب تک بیڑے سے ایک ہزار اہلکاروں کو نکالا جا چکا ہے جن میں سے 771افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔پیٹاگون کے حکام کا کہنا ہے کہ روزویلٹ کے عملے کے لیے فوری طور پر ہوٹلوں میں کمروں کا انتظام کر رہے ہیں جبکہ کچھ صحت مند اہلکاروں کو بیڑے پر ہی تعینات رکھا جائے گا تاکہ وہ معمول کے کام جاری رکھ سکیں۔امریکی بحریہ میں میریانا ریجن کے کمانڈر ریئر ایڈمرل جان مینونی نے کہا ہے کہ روزویلٹ پر موجود زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکال رہے ہیں لیکن کچھ اہلکاروں کو بحری بیڑے پر تعینات رکھنا ہو گا تاکہ معمول کے کام انجام دیے جا سکیں۔واشنگٹن میں امریکا کے قائم مقام سیکریٹری برائے بحریہ تھامس موڈلی کا کہنا ہے کہ بحری بیڑے پر تعینات عملے میں سے ایک ہزار کے قریب اہلکاروں کو نکالا جا چکا ہے جبکہ آئندہ دو روز میں تعداد 2700 ہو جائے گی۔انہوں نے عندیہ دیا کہ تقریبا ایک ہزار اہلکاروں کو بیڑے پر ہی تعینات رکھا جائے گا اور بحری بیڑے کو کورونا وائرس کی وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے جراثیم کش ادویات کا سپرے بھی کیا جائے گا۔رائٹرز کے مطابق تھامس موڈلی سے جب بار بار پوچھا گیا کہ کیا خط لکھنے پر روزویلٹ کے کپتان بریٹ کروزیئر کو سزا دی جائے گی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا کہ اس خط کو میڈیا میں کس نے لیک کیا۔ان کے بقول اگر وہ اس کے ذمہ دار ہیں تو یہ عمل نظم و ضبط کے اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ کون ذمہ دار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ روزویلٹ کے کپتان نے خط اپنے اعلی حکام کو لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جس پر ردعمل دیا جائے۔خیال رہے کہ امریکہ کے بحری بیڑے روزویلٹ کے کپتان نے محکمہ دفاع پینٹاگون کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ کورونا وائرس سے بیڑے پر موجود اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ اس لیے فوری طور پر ان کی مدد کی جائے۔کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا تھا کہ بحرالکاہل کے ایک امریکی علاقے گوام میں ان کا بیڑا موجود ہے۔ کورونا وائرس بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث 4000 اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔امریکی اخبار نے بحری بیڑے کے کپتان کی جانب سے پینٹاگون کو لکھا گیا خط بھی شائع کیا تھا۔خط کے متن کے مطابق کپتان بریٹ کروزیئر نے کہا تھا کہ ہم حالتِ جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں بیڑے پر موجود فوجی اپنی جانیں دیں۔انہوں نے کہا تھا کہ بحری بیڑے میں گنجائش کم ہے اور کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے بیڑے پر موجود اہلکاروں کو قریبی ساحل پر قرنطینہ میں رکھا جائے۔پینٹاگون کے مطابق اب تک محکمہ دفاع کے 1400 ملازمین اور کانٹریکٹرز وغیرہ کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں 771 فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔تھامس موڈلی کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ میں روزویلٹ وہ واحد بیڑا ہے جس کے اہلکاروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 93 مزید بیڑے مختلف علاقوں میں تعینات ہیں جو اس وبا سے محفوظ ہیں۔ادھر امریکہ کے وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوج سماجی دوری اور سینیٹائزیشن کی ہدایات پر عمل کر رہی ہے۔ روزویلٹ پر تعینات کچھ اہلکاروں اور دنیا بھر میں پھیلنے والی یہ وبا امریکی فوج کی جنگی صلاحتیوں کو متاثر نہیں کر سکتی۔

واشنگٹن (نیٹ نیوز) امریکی اراکین کانگریس نے چین پر الزمات کی بارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے کرونا کے پھیلاو کی حد اور ووہان میں اموات کی تعداد کو چھپایا اور امریکی محکمہ خارجہ سے چین کے اعداد و شمار اور معلومات سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ امریکی کانگریس میں ریپبلکن نے وہائٹ ہاوس کو پیش کی گئی خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ کی طرف اشارہ کیا۔ جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ چین نے کرونا سے ہونے والی اموات اور کیسز کی تعداد غلط بتائی ہے، چین نے جان بوجھ کر نامکمل، جھوٹے اور جعلی اعداد و شمار رپورٹ کئے۔ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر ری پبلکن سینیٹر Ben Sasse نے کرونا سے چین میں اموات کی تعداد کو پروپیگنڈا قرار دیدیا۔ اور کہا کہ امریکا میں کرونا وائرس سے ہوئی اموات چین سے زیادہ ہیں، بالکل غلط ہے۔ ریپبلکن رکن مائیکل میک کیول نے کہا کہ چین کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں قابل اعتبار شراکت دار نہیں۔ چین نے انسان سے انسان میں وائرس کی منتقلی کے بارے میں جھوٹ بولا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جن ڈاکٹروں اور صحافیوں نے سچ بتانا چاہا انھیں خاموش کردیا گیا۔ واضح رہے کہ چین نے 82 ہزار کے قریب کیس اور 3 ہزار 300 سے زائد اموات رپورٹ کی ہیں۔ کرونا وائرس سے حفاظت کرنے والے آلات کے قومی ذخائر کے تقریبا ختم ہونے پر امریکا نے چین سے فرانس کے لیے روانہ کیا جانے والا حفاظتی سامان نقد ادائیگی کر کے خرید لیا۔ ماسک اور حفاظتی آلات کی شدید قلت کے باعث امریکی ریاستی حکومتیں پریشان ہیں، چین سے فرانس کے لیے روانہ کیا جانے والا حفاظتی سامان امریکا نے نقد ادائیگی کرکے خرید لیا۔ امریکا میں ایک دن میں کرونا سے ایک ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں، دنیا میں اب تک کسی بھی ملک میں 24 گھنٹوں میں ہوئی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ امریکا بھر میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 5 ہزار اور متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 15 ہزار سے اوپر چلی گئی ہے۔ بڑھتی اموات کے پیشِ نظر پینٹاگون میتیں رکھنے کے لیے ایک لاکھ بیگز کا بندوبست شروع کر دیا ہے،جو وفاقی ہنگامی ادارے کو فراہم کیے جائیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ حفاظتی آلات کے قومی ذخائر تقریبا ختم ہو گئے ہیں، سامان اب براہِ راست اسپتالوں کو بھجوایا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بیرونِ ملک سے آنے والے طبی سامان کا بڑا حصہ کرونا سے پریشان ریاستوں کے بجائے مارکیٹ کو مہیا کیا جا رہا ہے جس کی خریداری کے لیے مختلف ریاستوں میں رسہ کشی جاری ہے۔ روسی ٹی وی نے دعوی کیا ہے کہ امریکا نے فرانس روانگی سے چند لمحوں قبل چین میں جہاز میں لدا طبی سامان نقد ادائیگی پر خرید لیا۔ کئی امریکی ریاستوں نے چین کو طبی آلات کے لیے آرڈر دے دیے ہیں، مشکل حالات میں امریکا کے سب سے بڑے حریف روس نے طبی سامان نیویارک بھیج دیا۔وائرس کا بدترین شکار نیویارک کے میئر کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں لاکھوں کی تعداد میں ماسک اور 4 ہزار تک وینٹی لیٹرز درکار ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چین نے کرونا سے متعلق بہت سے حقائق کو سامنے نہ لا کر دنیا کو گمراہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں وائرس کا پھیلاو¿ بڑھ گیا اور یہ ایک عالمی وبا کی صورت اختیار کر گیا۔امریکی ٹی وی کے مطابق چین نے دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے کرونا کے مریضوں اور اس سے واقع ہونے والی اموات کی تعداد کو چھپایا۔ یہ بات امریکی انٹیلی جنس کے تین ذمے داران نے بتائی۔وائٹ ہاو¿س کو بھیجی گئی ایک خفیہ رپورٹ میں مذکورہ ذمے داران نے بتایا کہ چین کی جانب سے کرونا وائرس کے حوالے سے ریکارڈ کیے جانے والے اعداد و شمار میں دھوکا دیا گیا۔ اس ریکارڈ کو دانستہ طور پر غیر مکمل رکھا گیا۔رپورٹ میں امریکی انٹیلی جنس کے تین افسران کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہوں نے گذشتہ ہفتے وائٹ ہاو¿س کو خبردار کر دیا تھا کہ کرونا کے حوالے سے بیجنگ حکومت کے اعداد و شمار فرضی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین کی جانب سے تعداد کے اظہار میں کمی کے بقیہ دنیا پر مرتب ہونے والے نتائج جان لیوا ہو سکتے ہیں۔امریکی وزارت خارجہ کی عہدے دار ڈیبورا بوریکس کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے گمراہ کن معلومات اور نتائج کے اثرات اب اطالیہ اور ہسپانیہ پر منعکس ہو رہے ہیں۔کرونا وائرس کے آغاز کے وقت سے ہی چین نے متعلقہ معلومات پر پردہ ڈالا۔ اس دوران ا±ن ناقدین اور طبیبوں کو گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے خطرے کی گھنٹی بجانے کی کوشش کی۔حالیہ ہفتوں میں چین نے عالمی سطح پر اپنی تصویر بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ مہم کا آغاز کیا۔ چین نے اپنی معیشت کا پھیہ دوبارہ سے چلانے کی کوشش کی۔ اس نے کرونا سے شدید طور پر متاثر ہونے والے ممالک کو متعلقہ لوازمات فروخت کیے۔رپورٹ کے مطابق چین نے کرونا وائرس کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے پروپیگنڈے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے عالمی ادارہ صحت کو کروڑوں ڈالر پیش کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس کے عوض چین نے اپنے لیے کامیابی کے تمغے حاصل کر لئے۔

شاہد آفریدی کی حمایت پر تنقید کرنے والوں کو ہربھجن سنگھ کا کرارا جواب

لاہور (ویب ڈیسک)ہربھجن سنگھ نے شاہد آفریدی کی حمایت پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دیدیا۔یوراج سنگھ اور ہربھجن سنگھ نے کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات میں شاہد آفریدی کی مہم کو سراہتے ہوئے لوگوں سے بھرپور سپورٹ کرنے کی اپیل کی تھی، تنگ نظر بھارتی صارفین نے دونوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، اس پر یوراج سنگھ نے بیان کو غلط رنگ دینے پر حیرت کا اظہار کیا۔اب ہربھجن سنگھ نے بھی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں سکھ برادری کے لوگ انگلینڈ میں ضرورت مندوں کیلیے کھانا تیار کرتے اور بانٹتے نظر آتے ہیں، سابق آف سپنر نے اپنے پیغام میں متعصب بھارتی صارفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی مذہب یا ذات نہیں صرف انسانیت،گھرمیں رییں محفوظ رہیں، پیار پھیلائیں، نفرت اور وائرس نہیں، آئیں سب کیلیے دعاکریں۔

وسیم اکرم شین وارن کی پاکستان بیسٹ الیون کے کپتان مقرر

لاہور (ویب ڈیسک) سابق آسٹریلوی کرکٹر شین وارن نے وسیم اکرم کو پاکستان کی بیسٹ الیون کا کپتان مقرر کیا ہے۔معروف لیگ اسپنر نے پاکستان کے ان گیارہ بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے جن کے خلاف وہ کھیلے۔ ان کی منتخب کردہ پلینگ الیون میں عامر سہیل، سعید انور، یونس خان۔ محمد یوسف۔ انضمام الحق، معین خان۔ وسیم اکرم. ثقلین مشتاق، مشتاق،احمد، شعیب اختر اور وقار یونس شامل ہیں۔شین وارن نے سعید انور کو ورلڈ کلا س اوپنر قرار دیا ہے جب کہ محمدیوسف اور انضمام کی بھی بہت تعریف کی ہے۔ شین وارن کے مطابق شعیب اختر جیسا تیز ترین بولر نہیں پایا۔ وسیم اکرم بہترین سوئنگ کے مالک زبردست بولر تھے۔

عمران خان قوم کو مایوس نہیں کریں گے، جاوید میاں داد

کراچی(ویب ڈیسک) سابق کرکٹر جاوید میاں داد وزیراعظم عمران خان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ عمران خان پاکستانی قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔اپنے ویڈیو پیغام میں سابق کرکٹر جاوید میانداد نے کہا کہ ان کا عمران خان سے گہرا اور درینہ تعلق حق ہے، 1974ء سے قائم ہونے والا یہ تعلق کرکٹ کے ساتھ چلتا رہا، میں جانتا ہوں کہ عمران خان ایک بہت دیانت دار انسان ہیں، وہ جس کام پر لگ جائیں، اسے مکمل کرکے ہی چھوڑتے ہیں، عمران خان کسی کو بھی مایوس نہیں کریں گے، وقتی طور پر باتیں غلط لگتی ہیں لیکن آگے چل کر وہ درست دکھائی دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ دوسروں کے لیے سوچتے ہیں، عمران خان کی سوچ بہت سنجیدہ ہے، نیت تو اوپر والا جانتا ہے اور اللہ عمران خان کی نیت جانتا ہے، شوکت خانم میموریل اسپتال ان کی بہترین نیت کی اچھی مثال ہے، جس کے لیے انہوں نے اپنا سب کچھ داو پر لگا دیا تھا، عمران خان نے مسلسل محنت کی، ہمت نہ ہاری اور اس عظیم منصوبے کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا۔جاوید میانداد نے کہا کہ پاکستان کے لیے عالمی کپ جیتنے والے عمران خان وہ شخص ہیں جو مٹی میں ہاتھ ڈالے تو وہ سونا بن جائے، عمران خان ہمت اور عزم کی بہترین مثال ہیں ، پرانی باتیں بھول جائیں اس وقت ہم سب کو ایک ہونے کی ضرورت ہے، عمران خان پر بھروسا کیا جائے، پہلے اور اب کے عمران خان میں زمین آسمان کا فرق ہے، ان میں بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے۔جاوید میانداد نے مزید کہا کہ پاکستان کو ایک اچھا وزیراعظم ملا ہے، ہمارا ملک ان کی قیادت میں پھلے اور پھولے گا، سب مل کر عمران خان کا ساتھ دینا چاہیے۔

برطانیہ ؛ کورونا وائرس مریضوں کا علاج کرنے والے پاکستانی سمیت 4 مسلم ڈاکٹر جاں بحق

لندن(ویب ڈیسک) برطانیہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی جان بچاتے بچاتے پاکستانی ڈاکٹر حبیب زیدی سمیت 4 مسلمان ڈاکٹرز بھی اس مہلک وائرس کا شکار ہو کر اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والوں میں مسلمان ڈاکٹرز نے ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کی اور مریضوں کی دیکھ بھال میں رات دن ایک کر دیئے تاہم اس دوران 4 مسلمان ڈاکٹرز اس مہلک وائرس کا شکار ہوگئے۔اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران موت کو گلے لگانے والوں میں پاکستانی نڑاد ڈاکٹر حبیب زیدی بھی شامل ہیں۔ 76 سالہ ڈاکٹر حبیب زیدی 50 سال قبل برطانیہ آئے تھے اور ایسکس میں رہائش پذیر تھے جہاں وہ ایک معتبر اور انسان دوست معالج جانے جاتے تھے۔ کورونا وائرس کے باعث وہ ایک ہفتے سے قرنطینہ میں تھے تاہم طبیعت بگڑنے پر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کیے گئے جہاں ایک دن بعد ہی وہ خالق حقیقی سے جاملے۔کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے کے دوران موت کو گلے لگانے والے دیگر مسلمان ڈاکٹرز میں افریقی نڑاد 68 سالہ ایلفا سادو جب کہ سوڈانی نڑاد 55 سالہ ڈاکٹر امجد الحورائی اور 64 سالہ عدیل الطیر شامل ہیں۔ ڈاکٹر ایلفا سادو برطانوی محکمہ صحت میں 40 سال تک خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائرڈ ہوگئے تھے تاہم کورونا وائرس کی وبا کے باعث دوبارہ اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کی تھیں۔برطانیہ میں مقامی پیرا میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹرز نے بھی کورونا وائرس کو شکست دینے کے دوران اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے لیکن غیر ملکی اور پناہ گزین ہونے کی وجہ سے مسلمان ڈاکٹرز کو سرکاری سطح پر زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔