امریکی وزیر دفاع کا آرمی چیف کو فون پاکستانی تعاون کی تعریف افعان مفاہمتی عمل کا شکریہ

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) امریکی وزیردفاع ڈاکٹر مارک ایسپر نے آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے افغان امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے پاکستان کے تعاون کوسراہا ۔تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے چیف ترجمان جوناتھن ہوف مین نے کہا ہے کہ امریکی وزیر دفاع ڈاکٹر مارک ایسپر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، بات چیت کےدوران دونوں ممالک کے مابین سیکیورٹی تعاون اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔ امریکی وزیر دفاع ڈاکٹر مارک ایسپر نے افغان مفاہمتی عمل کیلئے 29 فروری کو ہونے والے امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے پاکستان کے تعاون کی تعریف کی۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپڑنے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جس میں مارک ایسپر نے پاکستان کے ساتھ جاری طویل مدتی تعاون پر اعتماد کا اظہار کیا۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق وزیر دفاع مارک ایسپر نے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔ ایسپر نے پاکستانی حکومت کے ساتھ طویل المدتی محکمہ جاتی تعاون اور باہمی فائدے کے لیے سیکیورٹی شراکت داری کی تائید کی۔امریکی وزیر دفاع نے افغان امن مذاکرات میں پاکستان کے تعاون کو بھی سراہا۔ مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔

ملیریا اور گلے کی اینٹی بائیوٹک کھانے سے کرونا کا خاتمہ یقینی فرانسی سائنسدانوں کا دعویٰ

پیرس‘ واشنگٹن‘ اسلام آباد (نیٹ نیو) کیمبرج یونیورسٹی کے شعبہ سیاست وبین الاقوامی مطالعے کے سینئر فیلو مارٹن جیکوئس نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں وبا سے نمٹنے کے لئے چین میں حکومتی صلاحیت کسی بھی مغربی ملک کی جانب سے حاصل کی جانے والی استعداد سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ اور کہیں زیادہ قابل ہے۔یہ بات انہوں نے گلوبل ٹائمز کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔انہوں نےکہا کہ میرے خیال میں شروع کے ایک یا دوماہ کے لئے مغربی ممالک میں بہت زیادہ تنقید ہوئی جو اب بھی جوں کی توں ہے۔ لیکن چین کی جانب سے کرونا وائرس سے انتہائی موثر انداز سے نمٹنے کی وجہ سے مغرب کے اس موقف کوپذیرائی ملنا ختم ہو رہی ہے۔ فرانسیسی سائنس دانوں نے دعوی کیا ہے کہ ملیریا کے علاج کےلیے استعمال ہونے والی دوا اور اینٹی بائیوٹک دوا azithromycin ملاکر استعمال کی جائیں تو کرونا کی شدت میں کمی آسکتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین کے انڈسٹریل شہر ووہان سے پھیلنے والی والی ہلاکت خیز وبا کرونا نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کے باعث اب تک 10 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔فرانسیسی سائنس دانوں اور طبی ماہرین نے نئی تحقیق میں دعوی میں کیا ہے کہ ملیریا کے علاج کےلیے استعمال ہونے والی دوا Hydroxychloroquine اور اینٹی بائیوٹک دوا azithromycin کا امتزاج وائرس کی شدت کو کم کرسکتا ہے۔یہ تحقیقی رپورٹ جریدے انٹرنیشنل جرنل آف اینٹی مائیکروبیل ایجنٹس میں شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ فرانس میں وائرس کے 30 مریضوں پر اس کا تجربہ کیا گیا جس میں کچھ مریضوں کو صرف ملیریا کی دوا کھلائی گئی جبکہ کچھ مریضوں کو دونوں ادویات ملاکر کھلائی گئی اور 6 مریضوں کو کوئی دوا نہیں کھلائی گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تحقیق اس وقت شروع ہوئی تھی جب چین میں ان دونوں ادویات کے امتزاج سے کوویڈ 19 کی شدت میں کمی آرہی تھی اور مریضوں کی حالت بہتر ہورہی تھی۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ انسداد ملیریا والی دوا بھی علاج کے طور پر موثر ہے مگر جب دونوں ادویات کو ایک ساتھ استعمال کرایا گیا تو وہ زیادہ موثر ثابت ہوئیں۔ امریکہ نے ملیریا کی دوا کلوروکین کی نئے مہلک کرونا وائرس کے علاج کے لئے استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ انتہائی متعدی نول کرونا کووڈ 19وائرس چھینکنے اور کھانسنے سے پیدا ہونے والی ہوائی بوندوں کے اندر کئی گھنٹوں اور سطحوں پر کئی روز تک قابل عمل اور متعدی رہ سکتا ہے۔یو ایس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ادارہ برائے متعدی امراض اور الرجی(این آئی اے آئی ڈی)کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق کے مطابق کرونا کووڈ 19وائرس ہوا میں بوندوں (مائیکرو سکوپک ڈراپلیٹس) میں کئی گھنٹوں اور سطحوں پر کئی روز تک متحرک اور متعدی رہ سکتا ہے۔سائنسدانوں نے ایک خصوصی آلہ استعمال کیا جس نے کھانسی یا چھینکنے میں پیدا ہونے والے خوردبینی بوندوں کی نقل تیار کی گئی اور ہوا میں انہیں چھوڑا گیا۔نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق وائرس، ائر ڈراپلیٹس جو کہ کھانسے اور چھینکنے سے بنتے ہیں میں کم از کم تین گھنٹے ہوا میں ہی متعدی اور متحرک شکل میں رہ سکتا ہے تاہم سائنسدانوں کے مطابق وائرس کے آدھے ذرات کو اگر وہ ایروسول بوندوں میں ہوں تو ان کے اپنے افعال کو کھونے (ڈی فنکشن ہونے) میں تقریبا 66 منٹ لگتے ہیں۔روکی ماو¿نٹین لیبارٹریز میں نیلجے وین ڈورملین کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق ،اس کا مطلب یہ ہے کہ مزید ایک گھنٹہ اور چھ منٹ کے بعد ، وائرس کے تین چوتھائی ذرات لازمی طور پر غیر فعال ہوجائیں گے لیکن 25 فیصد پھر بھی قابل عمل رہیں گے۔  تیسرے گھنٹے کے اختتام پر قابل عمل وائرس کی مقدار کم ہوکر 12.5 فیصد رہ جائے گی۔ سٹینلیس سٹیل پر ، وائرس کے آدھے ذرات کو غیر فعال ہونے میں 5 گھنٹے 38 منٹ لگتے ہیں۔ پلاسٹک پر ،ان کی نصف حیات 6 گھنٹے 49 منٹ کی ہے ، محققین کے مطابق گتے یا کارڈ بورڈ پر اس کی نصف زندگی ساڑھے تین گھنٹے ہوتی ہے، لیکن محققین کا کہنا تھا کہ ان نتائج میں بہت زیادہ تغیر موجود ہے “لہذا ہم احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں” ۔ تحقیق کے دوران وائرس کے زندہ رہنے کا سب سے کم وقت تانبے پر تھا ، جہاں آدھے وائرس 46 منٹ میں ہی غیر فعال ہو گئے تھے۔

بھارت کا جموں کشمیر پر مکمل قبضہ کیلئے نیا پلان 37 مرکزی قوا نین نافذ کرنے کی تیاریاں

نئی دہلی(نیٹ نیوز)بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر پر مکمل قبضے کے سلسلے میں مودی حکومت نے اس علاقے میں 37 مرکزی قوانین کے نفاذ کا حکم دیا ہے۔ وزارت داخلہ امور کے جاری کردہ حکم کو بھارت کے گزٹ میں شامل کیا گیا ہے جس میں تمام 37 مرکزی قوانین کا تذکرہ کیا گیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد جاری ہونے والے اس حکم کے ذریعہ جموں و کشمیر میں کنکرنٹ لسٹ میں 37 مرکزی قوانین کو نافذ کرنے کی اجازت ہوگی۔اس نئے آرڈر کو جموں وکشمیر تنظیم نو (مرکزی قوانین کی موافقت) آرڈر ، 2020 کہا جائے گا۔ 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد یہ دفعات جموں و کشمیر کے وسطی خطہ جموں و کشمیر میں فوری طور پر عمل میں آئیں گی ۔مذکورہ 37 ہندوستانی قوانین میں سے کچھ میں آل انڈیا سروسز ایکٹ ، مردم شماری ایکٹ ، سنٹرل گڈز اینڈ سروسز ٹیکس ایکٹ ، انکم ٹیکس ایکٹ ، انوسلیسی اور دیوالیہ پن ایکٹ جیسے اہم ایکٹ شامل ہیں ، جو پہلے جموں و کشمیر پر لاگو نہیں تھے ، لیکن اب ہوں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں ان قوانین میں ترمیم لائی جائے گی۔ایڈوکیٹس ایکٹ ، 1961 (1961- 25)۔ آل انڈیا سروسز ایکٹ ، 1951 (1951 -61) قدیم یادگاریں اور آثار قدیمہ کی سائٹیں ایکٹ 1958 (1958- 24) ثالثی اور مفاہمت کا ایکٹ ، 1996 (1996 – 26)مردم شماری ایکٹ ، 1948 (1948 – 37) مرکزی سامان اور خدمات ٹیکس ایکٹ ، 2017 (2017 – 12) سینماٹوگراف ایکٹ ، 1952 (1952 – 37)ضابطہ اخلاق ، 1908 (1908 – 5) ضابطہ فوجداری ضابطہ ، 1973 (1974 – 2) شماریات کا مجموعہ ، 2008 (2007 – 07) کمیشن آف انکوائری ایکٹ ، 1952 (1952 – 60) کورٹ فیس ایکٹ ، 1870 (1870 – 7)دانتوں کا ایکٹ ، 1948 (1948 – 16)۔

لاک ڈاون نہ کرنے کا اعلان افراتفری پھیلی تو کرونا سے زیادہ نقصان ہوگا: عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کیخلاف جنگ میں پوری قوم کو ساتھ دینا ہو گا، ملکی معیشت اور غریب عوام مکمل لاک ڈاﺅن کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہمیں چین کی طرح سماجی ڈسپلن کا مظاہرہ کرنا ہو گا، موجودہ حالات میں معاشی توازن قائم رکھنے کیلئے آئندہ ہفتے پیکیج کا اعلان کیا جائے گا، عوام افراتفری کا شکار ہونے کی بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، میڈیا کو اس سلسلے میں سنسنی پھیلانے سے گریز کرتے ہوئے ذمہ دارانہ کردار اداکرنا چاہئے، عالمی برادری ایران سے پابندیاں اٹھائے تاکہ وہ اس آفات پر قابو پا سکے۔ وہ جمعہ کو یہاں سینئر صحافیوں کے ساتھ کرونا وائرس کے حوالے سے ایک نشست میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین میں کرونا وائرس کے پھیلاﺅ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر 15 جنوری سے اقدامات شروع کر دیئے تھے، اس دوران 9 لاکھ لوگوں کی سکریننگ کی گئی ہے۔ ہم نے دنیا کے ردعمل کو سامنے رکھتے ہوئے وائرس سے بچاﺅ کے اقدامات کئے، جب ملک میں کرونا کے متاثرین کی تعداد 20 تک پہنچی تو ہم نے فوراً قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اور وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اجتماعات پر پابندی لگا دی، سکول، کالج، یونیورسٹیاں اور مدارس بند کر دیئے، اس سے بہتر اور بروقت ردعمل اور کیا ہو سکتا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ابتداءمیں تفتان میں سہولیات کا فقدان رہا تاہم بعد میں صورتحال کو قابو کر لیا تھا، وزیراعلیٰ بلوچستان کو مورد الزام ٹھہرانا زیادتی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ چین سے طلباءکو لانے کیلئے دباﺅ تھا لیکن چین نے ہمیں ان کا خیال رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی، پاکستان میں چین سے کرونا کا ایک بھی کیس نہیں آیا جس پر چین کی قیادت کے عزم کو داد دیتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے تہران سے وائرس آنے سے صورتحال خراب ہوئی، ایران پابندیوں کا شکار ہے اور ان حالات میں یہ ظلم ہے، عالمی برادری ایران سے پابندیاں اٹھائے تاکہ وہ اس آفات پر قابو پا سکے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے تجربات سے ثابت ہو گیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کا سب سے موثر طریقہ احتیاط ہے، ہماری قوم کو اس حوالے سے ڈسپلن کا مظاہرہ کرناہوگا، عام میل جول اور اجتماعات سے گریز کریں، وائرس سے متاثرہ افراد خود کو الگ تھلگ رکھیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں، ان اقدامات سے وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے درکار آلات اور دیگر ضروری سامان حاصل کر لیا گیا ہے۔ موجودہ ضروریات کے پیش نظر انتظامات موجود ہیں جبکہ مزید انتظامات کیلئے بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کرونا و ائرس اپنی جگہ خطرناک ہے لیکن اس کے خوف سے افراتفری بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ میڈیا کو اس حوالے سے سنسنی پھیلانے کی باجئے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں رہنما اصول وضع کئے جا رہے ہیں جو میڈیا مالکان، اینکرز اور صحافیوں کو فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افراتفری اور خوف کے باعث لوگ اشیاءذخیرہ کرنا شروع کر دیں گے جس سے دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، آج کرونا وائرس سے ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی ہے جس کا مقابلہ پورے معاشرے نے مل کر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ حکومت اکیلے نہیں جیت سکتی، اس کیلئے پوری قوم کو ساتھ دینا پڑے گا، ہم چین کی طرح ڈسپلن کا مظاہرہ کر کے اس پر قابو پا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ مکمل لاک ڈاﺅن مسئلہ کا حل نہیں، ہم نے اجتماعات جیسے عوامل کو روکنے کیلئے اقدامات کئے ہیں تاکہ وائرس کا پھیلاﺅ نہ ہو سکے تاہم مکمل لاک ڈاﺅن سے غریب اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والا طبقہ شدید متاثر ہو گا جس سے نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طبقہ کا روزگار برقرار رکھنے کیلئے تعمیراتی شعبہ کیلئے سہولیات کا اعلان کریں گے جس سے صنعتیں چلیں گی، کاروبار بڑھے گا، لوگوں کو روزگار ملے گا جبکہ معیشت بھی توازن برقرار رکھ سکے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایک مکمل اقتصادی پیکیج کی تیاری پر کام کر رہے ہیں جس کا اعلان آئندہ منگل کو کیا جائے گا جس میں معیشت اور صنعت کو چلانے کے ساتھ ساتھ غریب اور کمزور طبقہ کے تحفظ کیلئے بھی اہم اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیکیج میں ٹیکسوں میں کمی اور سبسڈیز میں اضافہ جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔ ہمارا مقصد کرونا وائرس پر قابوپانے کے علاوہ اپنے عوام کے معاشی تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ درست معلومات کی فراہمی ہمامرے اپنے مفاد میں ہے، اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو آگاہی دی جائے گی۔ میڈیا ایسی صورتحال ظاہر نہ کرے جس سے لوگوں میں بے جا خوف اور افراتفری پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ مکمل لاک ڈاﺅن کے نقصانات ہوں گے تاہم ہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، آنے والے دنوں میں حالات کو مدنظر رکھ کر مناسب اوربروقت اقدامات کئے جائیں گے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی نے کرونا کی وباءکے پیش نظر بعض امور کو قومی سطح پر سرانجام دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معلومات اور اعداد و شمار قومی سطح پر مرتب کر کے لوگوں تک پہنچائے جائیں گے، اس مقصد کیلئے روزانہ کی بنیاد پر صوبوں سے ڈیٹا لیا جائے گا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2020 کی منسوخی کا کوئی امکان نہیں، آئی سی سی

لاہور(ویب ڈیسک)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2020 کی منسوخی کا امکان فی الحال رد کردیا ہے۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) کی گورننگ باڈی کے حکام نے رواں برس کے آخر میں آسٹریلیا میں شیڈول ٹورنامنٹ مقررہ وقت پر کروانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔آئی سی سی نے اعلان کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کو ملتوی کیے جانے کی قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔ اکتوبر، نومبر تک کورونا وائرس پر قابو پایا جا چکا ہوگا۔اس لیے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوگا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان کا کچھ روز قبل کہنا تھا کہ اگر جولائی میں جاپان اولمپکس نہ ہوئے توستمبر میں ایشیا کپ اور اکتوبر میں آسٹریلیا میں شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو بھی خطرات ہوسکتے ہیں۔ آسٹریلیا میں شیڈول آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے انعقاد میں ابھی کئی ماہ باقی ہیں۔آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا انعقاد اکتوبر، نومبر میں ہوگا۔کورونا وائرس کے خدشات کے باعث پی سی بی کو پی ایس ایل 5 کے سیمی فائنل اور فائنل میچز منسوخ کرنا پڑے تھے، جو اب ممکنہ طور پر رواں برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے بعد کھیلے جائیں گے۔ کورونا وائرس کے خدشات کے باعث دنیا بھر میں کھیلوں کے تقریباً تمام بڑے ایونٹس منسوخ کیے جا چکے ہیں۔یورپ کو کورونا وائرس وباءکا نیا مرکز قرار دیے جانے کے بعد یورو کپ کو اگلے برس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ، اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ، انڈین پریمیئر لیگ،فارمولا ون ریس سمیت کئی اینوٹس منسوخ یا ملتوی کردیے گئے ہیں۔کرکٹ مقابلوں میں انگلینڈ بمقابلہ سری لنکا، آسٹریلیا بمقابلہ نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ بمقابلہ بھارت، پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش سمیت کئی سیریز منسوخ کردی گئی ہیں۔جاپان میں شیڈول اولمپکس کو بھی ملتوی کر دیے جانے کا امکان ہے۔

ماہرہ خان، کورونا وائرس سے بچاؤ کے 7 طریقے

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان نے کورونا سے محفوظ رہنے کا حل بتا دیا۔ اداکارہ ماہرہ خان نے پوری دنیا میں تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس سے بچاو کے 7 طریقے شیئر کردیے۔انہوں نے کہا کہ مکمل آگاہی اور احتیاط کرکے ہی ہم اس وائرس سے نمٹ سکتے ہیں۔ماہرہ نے لکھا کہ اگر ہم سمجھداری سے اپنا کردار ادا کریں تو انشاءاللہ جلد ہی یہ کورونا وائرس ختم ہوجائے گا۔اداکارہ نے جو ساتھ احتیاطی تدابیر ٹوئٹر پر شئیر کی وہ یہ ہیں۔
اپنے ہاتھ زیادہ سے زیادہ دھوئیں    2: آنکھوں ، ناک اور چہرے کے مختلف اعضاءکو چھونے سے گریز کریں۔
3:کھانستے وقت آس پاس کا خیال کریں اور رومال یا ٹشو کے استعمال کو یقینی بنائیں۔
4: لوگوں کے بڑے اجتماعات میں جانے سے گریز کریں اور نزلہ زکام کا شکار افراد سے دور رہیں۔
5: طبعیت میں خرابی کی صورت میں گھر میں رہنے کو ترجیح دیں۔
6: اگر آپ کو بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
7: باخبر زرائع کی معلومات پر یقین کریں۔
اداکارہ ماہرہ خان کے اس ٹوئٹ پر ایک صارف نے کہا کہ آپ ان تمام معلومات کی ترسیل کے لیے ٹی وی جیسے میڈیم کا استعمال کریں کیونکہ پاکستان میں ٹوئٹر تک کم لوگوں کی رسائی ہے۔ٹوئٹر پر مداح کی جانب سے کیے جانے والے سوال پر اداکرہ نے جواب دیا کہ وہ ایسا ہی کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے 467 لوگ متاثر ہو گئے ہیں۔

سینیٹائزر کی ضرورت نہیں، عام صابن سے ہاتھ دھونا ہی کافی ہے، سائنسدان کا مشورہ

سڈنی(ویب ڈیسک) کورونا وائرس سے بچاو¿ کےلیے عوام اس حد تک پاگل ہوچکے ہیں کہ ہینڈ سینیٹائزرز، جنہیں عام دنوں میں کوئی نہیں پوچھتا، آج بیشتر مارکیٹوں سے غائب ہوچکے ہیں؛ اور اگر کہیں سے مل بھی رہے ہیں تو بہت مہنگے داموں میں۔
اس صورتِ حال کے پیشِ نظر نیوساو¿تھ ویلز یونیورسٹی، سڈنی میں کیمیا (کیمسٹری) کے پروفیسر پیلی تھورڈارسن نے 25 سلسلہ وار ٹویٹس کی مدد سے واضح کیا ہے کہ اگر ہاتھوں کو صرف صابن اور پانی سے مناسب طور پر دھو لیا جائے تو دیگر وائرسوں کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس بھی بالکل ختم ہوجائے گا: انہوں نے صابن سے متعلق کیمیا اور وائرس کی ساخت بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ، کورونا وائرس سمیت، کسی بھی وائرس کا تمام جینیاتی مواد ایک سالماتی خول میں بند ہوتا ہے جس میں چکنائی (لپڈ) کی دوہری پرت (lipid bilayer) کسی حفاظتی غلاف کا کام کرتی ہے۔ چکنائی کی یہی دوہری پرت، عام صابن کے سامنے بے حد کمزور ہوتی ہے کیونکہ صابن کا ایک اہم کام چکنائی کا خاتمہ کرنا بھی ہوتا ہے۔جب ہم ہاتھ گیلے کرکے ان پر اچھی طرح صابن ملتے ہیں تو وہ دوسری چکنائیوں کے ساتھ ساتھ وائرس کے حفاظتی غلاف پر بھی حملہ آور ہوتا ہے اور (کیمیائی عمل کرتے ہوئے) سیکنڈوں میں اس غلاف کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے۔وائرس میں موجود جینیاتی مواد، جسے وہ اپنے وبائی پھیلاو¿ کے دوران استعمال کرتا ہے، اس قدر نازک ہوتا ہے کہ وہ حفاظتی غلاف کے تباہ ہوتے ہی بکھر کر رہ جاتا ہے اور وائرس مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے۔ پروفیسر تھورڈارسن نے ”سپرا مالیکیولر کیمسٹری“ اور ”نینو کیمسٹری“ کو بھی بہت سادہ الفاظ میں بیان کیا ہے جن کا ل±بِ لباب یہی ہے کہ عام صابن سے ہاتھ دھو کر بھی کورونا وائرس کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے، لہذا ہینڈ سینیٹائزر نہ بھی ملے تو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب تک کی گئی تحقیقات سے ثابت ہوچکا ہے کہ مہنگے داموں فروخت ہونے والے جراثیم کش (اینٹی بیکٹیریل) صابنوں کی کارکردگی بھی عام صابن سے کچھ خاص مختلف نہیں ہوتی۔

پھل اور سبزیاں کھانے سے “سن یاس” کی علامات کمی

لاہور(ویب ڈیسک)ماہرین طب کا کہنا ہے کہ مینوپاز کی شکار خواتین بعض اقسام کی سبزیاں اور پھل کھانے کی عادت اپنائیں تو تکلیف دہ اثرات سے بچاجاسکتا ہے۔اوسطاً چالیس یا پچاس سال کی عمر کے بعد خواتین سن یاس یعنی مینوپاز کی شکار ہوتی ہیں جس میں ان کے ماہواری بند ہوجاتی ہے اور وہ ماں بننے کے قابل نہیں رہتیں۔ اس کی علامات میں بے چینی، رات کو پسینہ آنا، موڈ کی خرابی، نیند میں کمی، وزن میں اضافہ اور میٹابولزم کی خرابی شامل ہیں۔ اگرچہ مغرب میں ہارمون تھراپی سے ان کیفیات کو دور کیا جارہا ہے لیکن ڈاکٹر غیرہارمونی طریقہ علاج پر غور کررہے ہیں۔ ان میں سرِ فہرست علاج بالغذا ہے جسے اپنا کر بہت حد تک ان علامات کو کم کرکے خوشگوار زندگی گزاری جاسکتی ہے۔سائنس دانوں کے مطابق خواتین عمر کے اس حصے میں پھل سبزیاں، دلیے، مکمل اناج اور مغزیات کھانا شروع کریں تو اس سے بہت افاقہ ہوتا ہے۔ ان غذاو¿ں میں موجود بعض اہم اجزا عین ہارمون تھراپی کا کام کرتے ہیں۔ اس ضمن میں مایو کلینک سے وابستہ ڈاکٹر اسٹیفنی فوبیان نے ایک اہم سروے کیا ہے۔ڈاکٹر اسٹیفنی نے 40 سے 50 سال کی خواتین کو بعض اقسام کی سبزیاں اور پھل کھلائے اور ان پر خواتین کے ان علامات کا جائزہ لیا جو سن یاس سے وابستہ ہوتی ہیں تاہم رس دار کھٹے پھلوں سے یہ علامات مزید بڑھ سکتی ہیں اور اسی لیے ماہرین نے ان سے اجتناب کا مشورہ دیا ہے۔ یہ پھل پیشاب کی نالی میں بعض منفی کیفیات پیدا کرسکتے ہیں تاہم سیب کو ان کیفیات کو دور کرنے میں مو¿ثر دیکھا گیا ہے۔مزید برآں گہری پیلی رنگت والی سبزیاں اور سبز پتوں والی سبزیاں بہت اچھی تاثیر رکھتی ہیں اور خواتین اگر باقاعدہ طورپر انہیں کھائیں تو اس سے کئی علامات کی شدت کم ہوسکتی ہے۔اس ضمن میں ڈاکٹر اسٹیفنی اور ان کی ٹیم نے ایک تحقیق مقالہ بھی لکھا ہے جو جلد ہی شائع ہوگا۔ ڈاکٹر اسٹیفنی کے مطابق اگرچہ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن پھل اور سبزیوں کے جسم پر مثبت اثرات مسلمہ ہیں۔ اس ضمن میں سائنسی تحقیق کا ایک انبار موجود ہے۔ اس لیے خواتین کو عمر کے اس حصے میں پھلوں اور سبزیوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ڈاکٹر اسٹیفنی گزشتہ دو عشروں سے خواتین میں سن یاس سے وابستہ امراض اور علاج پر تحقیق کررہی ہیں اور اس موضوع پر کئی کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

کورونا اور عام نزلہ، زکام، فلو کی علامات

کراچی(ویب ڈیسک) کورونا وائرس،عام فلو اور الرجی تینوں کی علامات مختلف ہیں لیکن آج کل کورونا کے خوف کی وجہ سے عام فلو میں مبتلا افراد بھی خود کو کورونا کی علامات میں مبتلا سمجھ رہے ہیں۔کورونا کی علامات میں جبکہ کورونا کی علامات واضح ہیں،کورونا کی ابتدائی علامات میں بخار ،خشک کھانسی ،تھکاوٹ اورسانس لینے میں دشواری ہونے کی صورت میں فوری اسپتال سے رجوع کیاجائے۔عام فلو کی علامات میں خشک کھانسی ،گلے میں خراش،ناک نہنا،پٹھوں ،جوڑوں میں درد اور سر درد شامل ہوتا ہے جبکہ الرجی کی علامات میں چھینکیں آنا، ناک کا بہنا اور آنکھوں میں خارش کا یونا شامل ہیں۔