Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان میں 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکے کی تجویز
    • سینئرکو باہر بٹھانے میں کوئی برائی نہیں، جو ٹیم کیلئے اچھا ہے وہی کھیلےگا: بابراعظم
    • قومی ویمن فاسٹ بولر ایمن انور کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
    • امریکا کا دنیا بھر میں امیگرنٹ ویزا اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ
    • خاران میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسزکی کارروائیاں جاری
    • یو ایس اوپن مکسڈ ڈبلز: نوواک جوکووچ اور آرینا سبالینکا کا سفر تمام
    • پاکستان کی فتح کے بعد بنگلہ دیش کا بڑا قدم چینی J-10C طیاروں کی خریداری پر غور
    • ٹرمپ کا سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدے پر بڑا اقدام، اسرائیل کو تسلیم کرنے سے جوڑ دیا
    • آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی بار نمبر ون بن گئے
    • عید میلاد النبی ﷺ کی آمد پر پشاور گونج اٹھا، روایتی توپوں کی سلامی
    • پمز اسپتال آتشزدگی کا معاملہ، وزیراعظم شہباز شریف نے سیکریٹری صحت محمد اسلم گھوری کو عہدے سے ہٹا دیا
    • آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان میں معاہدے کی تیاریاں امریکا کا ثانوی پابندیاں نہ لگانے کا فیصلہ
    • یمنی دارالحکومت صنعاء جشنِ میلاد النبی ﷺ کے موقع پر سبز روشنیوں سے جگمگا اٹھا
    • عید میلاد النبی ﷺ پر ملک بھر میں دعائیں، جلوس اور خصوصی تقریبات کا انعقاد
    • افغانستان کو انسانی امداد کی فراہمی، 355 کنٹینرز کی کلیئرنس پر یونیسف کا پاکستان کسٹمز کو خراجِ تحسین
    • پمز میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ای ڈی کی تصدیق
    • پاکستان میں 12 ربیع الاول کی تیاریاں عروج پر، ملک بھر میں جشنِ میلاد النبی ﷺ کی تیاریاں مکمل
    • بابر اعظم کی انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم میں واپسی
    • میراڈونا کے ’ہینڈ آف گاڈ‘ گول والی گیند 94 کروڑ پاکستانی روپوں میں نیلام
    • پاکستان کا چین کے ساتھ روبوٹکس کے شعبے میں نئی شراکت داری کے امکانات کا جائزہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    گلگت بلتستان کابینہ کا علی سد پارہ کیلئے سول ایوارڈ کی سفارش کا فیصلہ

    By Daily Khabrainفروری 23, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    گلگت بلتستان کابینہ نے موسم سرما میں کے-2 کی چوٹی سرکرنے کی کوشش کے دوران جاں بحق ہونے والے کوہ پیما محمد علی سد پارہ کے لیے وفاق سے سول ایوارڈ کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    کابینہ اجلاس علی سدپارہ کے قومی خدمات کے ایک نکاتی ایجنڈے پر منعقد ہوا۔

    مزیدپڑھیں: کے-2 مہم جوئی کے دوران لاپتا کوہ پیما علی سدپارہ کی موت کی تصدیق

    گلگت بلتستان کابینہ میں علی سد پارہ کی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور وفاق سے سول ایوارڈ کے لیے سفارش کا فیصلہ کیا۔

    کابینہ اجلاس میں مرحوم کے خاندان کو 30 لاکھ روپے دینے کی بھی منظوری دی گئی۔

    علاوہ ازیں گلگت بلتستان کابینہ نے علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کو محکمہ سیاحت میں ملازمت دینے کا اعلان کیا ہے۔

    کابینہ میں انسٹیوٹ آف اسپورٹس اینڈ ماؤنٹینرنگ کا نام علی سدپارہ سے منسوب کرنے کی منظوری بھی دیدی گئی۔

    علاوہ ازیں کوہ پیما محمد علی سدپارہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے حوالے سے منعقدہ کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ محمد علی سدپارہ نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔

    انہوں نے کہا کہ محمد علی سدپارہ کے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور کوہ پیمائی کو فروغ دینے اور کوہ پیماؤں کی فلاح وبہبود کے لیے پالیسیز بنائی جائیں گی۔

    خالد خورشید نے کہا کہ محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ کو کوہ پیمائی میں بین الاقوامی سطح کی تربیت کرائی جائے گئیں جس کے بعد علی سدپارہ انسٹیٹیوٹ فار ایڈونچر سپورٹس، ماونٹئرنگ اینڈ راک کلائمبنگ میں کوہ پیمائی کی تربیت دے گا۔

    وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ کوہ پیمائی سے وابطہ ایسے تمام ہمارے گمنام ہیروز جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود گلگت بلتستان کا نام روشن کیا ان سب کی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    خیال رہے کہ 18 فروری کو موسم سرما میں کے-2 کی چوٹی سرکرنے کی کوشش کے دوران لاپتا ہونے والے کوہ پیماؤں محمد علی سد پارہ، جان اسنوری اور جان پابلو مہر کی موت کی سرکاری طور پر تصدیق کردی تھی۔

    لاپتا کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجا ناصر علی خان نے محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ اور دیگر کوہ پیماؤں کے اہلِ خانہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کیا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ محمد علی سدپارہ اور دیگر کوہ پیماؤں کی لاش مل گئی ہے یا نہیں؟

    یاد رہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما محمد علی سد پارہ، آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے جان پابلو موہر سے اس وقت رابطہ منقطع ہوگیا تھا جب انہوں نے 4 اور 5 فروری کی درمیانی شب بیس کیمپ تھری سے کے-ٹو کی چوٹی تک پہنچنے کے سفر کا آغاز کیا تھا۔

    پاکستان کے محمد علی سدپارہ، چلی کے جان پابلو مہر اور آئس لینڈ کے جان اسنوری موسم سرما کے دوران کے-2 کی چوٹی سر کرنے کے مشن کے دوران 4 اور 5 فروری کی درمیانی شب لاپتا ہوگئے تھے۔

    تینوں کوہ پیماؤں کو آخری مرتبہ کے-2 کے مشکل ترین مقام بوٹل نیک پر دیکھا گیا تھا، جس کے بعد سے موسم کی خراب صورتحال ان کی تلاش اور ریسکیو کی کوششوں میں مسلسل رکاوٹ بنی رہی۔

    محمد علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ بھی ‘بوٹل نیک’ (کے ٹو کا خطرناک ترین مقام) کے نام سے مشہور مقام تک ان تینوں کوہ پیماؤں کے ہمراہ تھے لیکن آکسیجن ریگولیٹر میں مسائل کے سبب کیمپ 3 پر واپس آئے تھے۔

    تینوں کوہ پیماؤں کا 5 فروری کی رات کو بیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہوا اور ان کی ٹیم کو جب ان کی جانب سے رپورٹ موصول ہونا بند ہوگئی تو 6 فروری کو وہ لاپتا قرار پائے تھے۔

    بعدازاں کوہ پیماؤں کا سراغ لگانے کے لیے فضائی اور زمینی سطح پر متعدد کوششیں کی گئی جو کہ خراب موسم کے باعث ناکام ثابت ہوئیں۔

    14 فروری کو تلاش کے مشن نے انکشاف کیا تھا کہ ایس اے آر ٹیکنالوجی کے استعمال، اسناد و اوقات کا جائزہ لینے اور سیٹیلائٹ تصاویر کا معائنہ کرنے کے بعد جو سراغ ملے تھے وہ ایک سلیپنگ بیگ، پھٹے ہوئے ٹینٹس یا سلیپنگ پیڈز نکلے اور ان میں سے کچھ بھی لاپتا کوہ پیماؤں سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔

    یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے جان پابلو موہر موسمِ سرما میں کے-ٹو سر کرنے کی دوسری مہم کے دوران لاپتا ہوئے تھے۔

    اس سے قبل 24 جنوری کو محمد علی سدپارہ، ساجد علی سدپارہ اور جان اسنوری نے کو کے -ٹو سر کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا لیکن 25 جنوری کی دوپہر کو 6 ہزار 831 میٹرز پر پہنچنے کے بعد موسم کی خراب صورتحال کی وجہ سے انہوں نے مہم چھوڑ کر بیس کیمپ کی جانب واپسی کا سفر شروع کیا تھا اور فروری میں دوبارہ کے-ٹو سر کرنے کی مہم کا اعلان کیا تھا۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      پاکستان میں 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکے کی تجویز

      خاران میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسزکی کارروائیاں جاری

      عید میلاد النبی ﷺ کی آمد پر پشاور گونج اٹھا، روایتی توپوں کی سلامی

      تازہ ترین

      پمز میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ای ڈی کی تصدیق

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.