Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • صومالی بحری قزاقوں کا حملہ، ریسکیو آپریشن کے دوران 3 پاکستانی جاں بحق
    • اسرائیلی آبادکاروں کا مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں پر حملہ، خاندان کی گھر واپسی روک دی
    • عمران خان کی اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی سے 55 منٹ ملاقات
    • اکستان نے ایشین بال اینڈ ڈیک ہاکی چیمپئن شپ 2026 جیت لی
    • برنہم کا نیشنل کیئر سروس کیلئے پنشن ٹرپل لاک ختم کرنے کا اعلان
    • ایلون مسک کی اسپیس ایکس کا بڑا کارنامہ اسٹار شپ پہلی بار مدار میں پہنچ گیا
    • کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ایک ہی دن 6 ون ڈے سنچریاں اسکور
    • ایران دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنے گا، بحیرۂ عرب امریکی موجودگی سے پاک ہوگا: مجتبیٰ خامنہ ای
    • نئی دہلی میں 6 ہفتوں کیلئے تعمیراتی کام پر پابندی
    • یو اے ای میں پروازیں متاثر، کینیڈین ایئرلائن نے دبئی سروس معطل کردی
    • 3. پاکستانی اوپنر معاذ صداقت کی انٹرنیشنل لیگ سیزن 5 کیلئے رجسٹریشن
    • اے آئی سے مدد لینا مہنگا پڑگیا، کراچی کا شہری زیرِحراست
    • خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 7 دہشتگرد ہلاک
    • OGDCنےخواتین مینجمنٹ ٹرینی افسران کے دوسرے بیچ کا آغاز کر دیا
    • چکلالہ کینٹ بورڈ مختلیف علاقوں میں غیر معیاری خوراک کی کلھے عام فروخت جاری
    • تحصیل ٹیکسلا میں نائب تحصیلدار تعینات نہ ہونے سے سائلین در بدر
    • مری میں اسکول وین سڑک سے نیچے جا گری آگ لگنے سے 10 بچے جھلس گئے
    • بارش کے دوران اور بعد میں نکاسی آب آپریشن تیزی سے مکمل
    • جوبلی لائف انشورنس اور اولاڈوک کے درمیان اہم شراکت کا آغاز
    • اٹک، نویں جماعت کی طالبہ نے امتحان میں ناکامی پرزہریلی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    راوی چَین نہیں لکھ رہا

    By Daily Khabrainاکتوبر 15, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ڈاکٹر شاہد رشیدبٹ
    پاکستان کی درآمدات ایک بار پھر قابو سے باہر ہو رہی ہیں اور اندازوں کے بر عکس توقع کی جا رہی ہے کہ رواں برس پاکستان کی درآمدات 75ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔یہ پاکستان کے لیے یقینا ایک تشویش ناک صورتحال ہے اور اگر میں یہ کہوں کہ پاکستان کی معیشت ایک بار اوور ہیٹ کررہی ہے تو یہ غلط نہیں ہو گا۔پاکستان ایک بار پھر بیلنس آف پیمنٹ بحران کی جانب بڑھ رہا ہے جو کہ نہایت ہی بد قسمتی کی بات ہے۔میں اس حوالے سے پاکستان کی درآمدی اشیا ء کی فہرست دیکھ رہا تھا تو مجھے معلوم ہوا کہ پاکستان میں اس وقت بہت بڑی تعداد میں گاڑیاں درآمد کی جا رہی ہیں جس کے باعث درآمدی بل میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے علاوہ دیگر لگثری آئٹمز کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں میں بڑھتی ہو ئی تیل کی قیمتیں بھی پاکستان کے درآمدی بل میں اضافے کی وجہ ہیں۔
    آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ رواں سال پاکستان کا کرنٹ اکا ونٹ خسارہ 6سے 9ارب ڈالر تک رہے گا۔لیکن اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکا ونٹ خسارہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔اس صورتحال کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرانا بھی مناسب معلوم نہیں ہو تا،پاکستان کی معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں ایسی خرابیاں موجود ہیں جن کو دور کیے بغیر پاکستان کی معیشت درست سمت پر گامزن نہیں ہو سکتی ہے۔حکومت نے گاڑیوں کی فنانسنگ کے لیے تو مراعات دے رکھی ہیں اور 360ارب روپے بینکوں سے گا ڑیوں کی فنانسگ کے لیے استعمال کیے گئے ہیں، لیکن میرے خیال میں پاکستان کی صنعت کو ان مراعات کی زیادہ ضرورت ہے،پاکستان کی صنعتیں عالمی سطح پر زیادہ مساقبت نہیں رکھتی ہیں جو کہ پاکستان کے معاشی مسائل کی بڑی وجہ ہے پاکستان میں توانائی اور را میٹریل کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ پاکستان کی صنعتیں کسی صورت میں بھی چین،ہندوستان اور اب تو بنگلہ دیش کی صنعت سے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ر ہیں۔حکومت پاکستان کو، اور میں تو سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ بار بار پالیسیاں تبدیل نہ ہو ں،پاکستان کو اپنے تمام تر وسائل پیدا واری صلاحیت بڑھانے پر صرف کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت فوری طور پر اپنے غیر پیدا واری اخراجات کم سے کم سطح پر لائے اور تمام وسائل کا رخ برآمدات بڑھانے کی جانب موڑے۔
    پاکستان جس حجم کا ملک ہے اور جتنی پاکستان کی آبادی ہے پاکستان کی برآمدات اس وقت کم از کم 60سے 70ارب ڈالر تک ہونی چاہیے تھیں۔جو کہ ابھی 25ارب ڈالر کی سطح پر ہیں۔میں یہاں سنگاپور جیسے ملک کی مثال دیتا ہوں،سنگاپور کی کل آبادی اور کل رقبہ اسلام آباد شہر سے زیادہ نہیں ہو گا لیکن ان کی برآمدات 150ارب امریکی ڈالر ہیں اور سنگاپور کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ اور امیر ممالک میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان کو بھی سنگاپور کی طرز پر اپنی برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے کچھ شعبے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں،سی پیک منصوبے کے تحت بننے والے ایس ای زیز اس حوالے سے میری نظر میں خصوصی اہمیت کے حامل ہیں،لیکن بد قسمتی سے ابھی تک یہ خصوصی اقتصادی زونز ابھی تک فعال نہیں ہو سکے۔
    حکومت پاکستان کو چاہیے کہ جلد از جلد ان اقتصادی زونز کو فعال کیا جائے اور برآمدی صنعتوں کو فعال کیا جائے تاکہ پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے۔اس کے ساتھ ساتھ آئی ٹی نے گزشتہ چند سال کے دوران برآمدات کے حوالے سے کافی اچھی کا ر کردگی کا مظاہر ہ کیا ہے حکومت کو فوری طور پر آئی ٹی کے شعبے کو مراعات دینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ شعبہ تیز ی کے ساتھ پاکستان کی برآمدات بڑھانے کا باعث بنے۔مالی سال 2019ء کے دوران پاکستان کی آٹی کی درآمدات 1.44ارب ڈالر رہیں تھیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران 47فیصد اضافے کے ساتھ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئی ٹی کی برآمدات نے 2 ارب ڈالر کا سنگ میل عبور کیا۔رواں سال ہماری پوری کوشش ہو نی چاہیے کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4ارب امریکی ڈالر کا ہدف عبور کر جائیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ٹیکسٹائل کے روایتی شعبے پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
    گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات 15ارب ڈالر رہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات 20ارب ڈالر تک رہیں گی جو کہ یقینا گزشتہ سال کی نسبت ایک بڑا اضافہ ہو گا لیکن اس وقت پاکستان کی درآمدات کی جو صورتحال ہے پاکستان کو چاہیے کہ رواں سال ٹیکسٹائل برآمدات کے ہدف میں مزید اضافے کی کو شش کرے۔ٹیکسٹائل کے شعبے کو کپاس کی کمی کاسامنا ہے اور اگرچہ کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان میں کپاس کی پیدا وار میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔لیکن موجودہ صورتحال میں پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کپاس درآمد کرنا پڑ رہی ہے اور اس حوالے سے ٹیکسٹائل صنعت کا مطالبہ سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے حکومت نے انہیں ڈیوٹی فری کپاس درآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے،میری اس سلسلے میں حکومت سے یہی اپیل ہو گی کہ ٹیکسٹائل کی صنعت کو فوری طور پر ڈیوٹی فری کپاس کی درآمدت کی اجازت دی جائے ہر وہ اقدام کیا جائے جس سے کہ پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے میں مدد مل سکے۔حکومت کو ہر صورت اپنے اخراجات کم کرنا ہو ں گے غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم کرنا ہو گا۔اپنی پیدا وار اور بر آمدات میں جلد از جلد نمایاں اضافہ ہی پاکستان کے مسائل کو حل کر سکتا ہے،اللہ نہ کرے پاکستان ایک بار پھر بیلنس آف پیمنٹ کے بحران کا شکار ہو جائے لیکن ابھی جو آثار ہیں وہ یہی بتا رہے ہیں کہ را وی چین نہیں لکھ رہا ہے۔
    (سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      صومالی بحری قزاقوں کا حملہ، ریسکیو آپریشن کے دوران 3 پاکستانی جاں بحق

      اسرائیلی آبادکاروں کا مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں پر حملہ، خاندان کی گھر واپسی روک دی

      عمران خان کی اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی سے 55 منٹ ملاقات

      برنہم کا نیشنل کیئر سروس کیلئے پنشن ٹرپل لاک ختم کرنے کا اعلان

      ایلون مسک کی اسپیس ایکس کا بڑا کارنامہ اسٹار شپ پہلی بار مدار میں پہنچ گیا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.