پاکستان نے افغان نائب صدر کے الزامات کو مسترد کر دیا

پاکستان نے افغانستان کے نائب صدر امر اللہ صالح کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ نے افضان ائیر فورس سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا۔

افغان نائب صدر امر اللہ صالح کے پاکستان پر الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ  افغانستان نے چمن سیکٹر کی دوسری جانب اپنی سرزمین پر فضائی آپریشن سے آگاہ کیا، پاکستان کی جانب سے افغان حکومت کو اپنی سرزمین پر اقدام کے حق پر مثبت جواب دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اپنے فوجیوں اور آبادی کی حفاظت کے لیے تمام ضروری پیشگی اقدامات کیے، پاک فضائیہ نے افغان ائیر فورس سے کسی قسم کا کوئی رابطہ کیا اور نا پیغام رسانی کی۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم خودمختار افغان سرزمین پر کسی بھی ایکشن کے لیے خود افغان حکومت کےحق کو جائز تصور کرتے ہیں، افغان نائب صدر کے الزامات بے بنیاد اور افغان قیادت میں افغان عوام کی منشا کے مطابق مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کی سنجیدہ کوششوں سے انحراف ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ڈی ٹریک کرنے والوں کی موجودگی کے باوجود پاکستان افغان امن عمل کی کامیابی کے لیے مدد کرتا رہے گا۔

داسو حادثہ: وزیراعظم کا چینی ہم منصب سے چینی باشندوں کی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس

اسلام آباد:  وزیراعظم عمران خان نے چینی ہم منصب سے رابطہ کر کے داسو واقعے میں چینی باشندوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور واقعے کی جامع تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

 وزیراعظم آفس اسلام آباد کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے چینی ہم منصب لی کی کیانگ کو ٹیلی فون کیا اور داسو ڈیم پر کام کرنے والے عملے کی بس کو پیش آنے والے حادثے میں چینی باشندوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ہلاک ہونے والے چینی باشندوں کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، واقعے میں زخمی ہونے والے چینی شہریوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے چینی ہم منصب کو یقین دلایا کہ اس واقعے کی مکمل اور جامع تحقیقات میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود چینی شہریوں، ورکرز، منصوبوں اور اداروں کی سیکورٹی حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور چین کی مضبوط دوستی نے ہر دور کے چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ بھی دشمن قوتوں کو پاک چین برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

مسئلہ افغانستان کا حل : پاکستان ، ازبکستان ، تاجکستان ، ایران ، ترکی کا نیا بلاک بنے گا : عمران خان اور ازبک صدر میں اتفاق

ازبکستان، پاکستان سے افریقہ کی مارکیٹوں تک جاسکتا،بھارت سے تعلق بہتر ہوگئے تو وہاں تک رسائی بھی ہوگی،افغانستان کے راستے ریلوے منصوبہ مکمل کرنا ہوگا:وزیراعظم ، ہم وسطی ایشیا تک پہنچنا چاہتے ،ازبک صدر کیساتھ پریس کانفرنس،45کروڑ 30لاکھ ڈالر کے معاہدے ‘بیوروکریسی اورتاجروں بارے نیب قانون تبدیل کررہے : خطاب

تاشقند(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان ازبکستان کے دو روزہ دورے پر بدھ کو تاشقند پہنچ گئے جہاں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ افغانستان کے راستے پاکستان تا ازبکستان ریلوے منصوبہ بنانا ہوگا جبکہ دورہ کے دوران پاکستان اور ازبکستان کے مابین تجارت و سرمایہ کاری سمیت کئی شعبوں میں تعاون کے معاہدے ہوئے اور وزیراعظم عمران خان، ازبک صدر کے مابین افغانستان کے مسئلے پر پاکستان، ازبکستان، تاجکستان، ایران اور ترکی پر مشتمل نیا بلاک بنانے پر اتفاق ہوا ۔ تفصیلات کے مطابق ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ عارفوف نے تاشقند ایئرپورٹ پر وزیراعظم کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ دورہ کے دوران وزیر اعظم نے ازبکستان پاکستان بزنس فورم کا افتتاح کیا۔ ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ نے بھی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا جبکہ وزیراعظم عمران خان اور ازبک صدر کے درمیان دو گھنٹے کی ون آن ون ملاقات ہوئی۔ بعد میں وزرائے خارجہ بھی ملاقات میں شریک ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں افغانستان کے معاملے پر نیا بلاک تشکیل دینے پر اتفاق کر لیا گیا ، اس نئے بلاک میں پاکستان، ازبکستان، تاجکستان، ایران اور ترکی شامل ہوں گے ۔ یہ بلاک افغان مسئلے کے پرامن حل کیلئے کوششیں کرے گا۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ازبک قیادت کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ثقافت اور سیاسی شعبوں میں تفصیلی مذاکرات ہوئے ہیں، سمرقند اور بخارا کی تاریخ سے مجھ سمیت ہر پاکستانی بخوبی واقف ہے ۔ ازبک قیادت نیا ازبکستان اور ہم نیا پاکستان کے لئے کوشاں ہیں، ازبکستان اور پاکستان معاشی ترقی کے ایک ہی سفر پر چل رہے ہیں، پاکستان اور ازبکستان نے مل کر اپنے عوام کو غربت کی دلدل سے نکالنا ہے ۔ 130پاکستانی تاجروں کا ایک بڑا وفد ان کے ساتھ تاشقند آیا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی، مزید کاروباری افراد بھی ازبکستان آنا چاہتے ہیں یہ ہمارے مضبوط تعلقات کا آغاز ہے جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا ،پاکستان میں سرمایہ کاری و تجارت کے وسیع مواقع ہیں ،ہم جیوسٹرٹیجک سے جیو اکنامک کی طرف جارہے ہیں ۔ازبکستان کے ساتھ مضبوط تجارتی شراکت داری کے قیام کے خواہاں ہیں کیونکہ ازبکستان وسطی ایشیا کا ایک بڑا ملک ہے ۔ ازبکستان کے جدید زرعی آلات اور صحت کے شعبے میں تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں،پاکستان زراعت کو ترقی دینے کے لئے اقدامات کررہا ہے خاص کر کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئے ازبکستان کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ پاکستان 22 کروڑ عوام کا ملک ہے جس کی خطے میں جغرافیائی اہمیت ہے ۔ بھارت سے تعلقات بہتر ہوں گے تو ازبکستان کو بھارت تک رسائی ہوگی۔ ازبکستان پاکستان کے راستے مشرق وسطیٰ تک تجارتی رسائی حاصل کر سکتا ہے جبکہ پاکستان وسطی ایشیا کے ممالک سے رابطے بڑھانے کا خواہاں ہے ، ازبکستان کے ساتھ فضائی اور زمینی روابط کو فروغ دینا چاہتے ہیں، پاکستان میں سرمایہ کاری و تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں، ازبکستان اور وسط ایشیا تک تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لئے پاکستان سے مزار شریف ریلوے لائن منصوبے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، ہم اس منصوبے کو جلد سے جلد آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے ۔ ازبک قیادت کے ساتھ افغانستان کی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے ، افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کے خواہاں ہیں اور ہم نے یہ عزم ظاہر کیا کہ پاکستان، ازبکستان، تاجکستان، ایران اور ترکی افغانستان میں امن عمل میں سہولت کنندہ کا کردار ادا کریں گے ، افغانستان کے عوام ہمارے بھائی ہیں بطور ہمسائے ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں، افغانستان کو خانہ جنگی سے بچانے کے لئے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں، پہلے مرحلے میں پاک افغان وزرائے خارجہ ملاقات کریں گے ، بعد ازاں سربراہ سطح پر بات ہو گی۔ازبک صدر نے کہا کہ عمران خان اوران کے وفدکی آمدکاخیرمقدم کرتے ہیں،پاکستان جنوبی ایشیاکااہم ملک ہے ،پاکستان کیساتھ سیاسی،اقتصادی،تجارتی روابط کافروغ چاہتے ہیں،پاکستان کیساتھ برادرانہ تعلقات تاریخی،ثقافتی،مذہبی بنیادوں پرقائم ہیں۔دریں اثنا پاک ازبک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور دوطرفہ روابط کے مزید فروغ سے خطے میں ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی، پاکستان وسطی ایشیا کو دیگر دنیا کے ساتھ ملانے اور تجارت کا محور بننے کی بھرپور صلاحیت کا حامل ہے ، پاکستان ازبکستان کو اپنی بندرگاہوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک رسائی دے سکتا ہے ، ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارت سے لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو گا، افغانستان میں پرامن سیاسی حل کے خواہاں ہیں، افغانستان میں امن خطے کے لئے اہم ہے ، افغانستان میں حالات بہتر ہونے سے افغانستان کے راستے پاکستان ،ازبکستان ریلوے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ یہ منصوبہ ازبکستان کو پاکستان کے 22 کروڑ افراد کے ساتھ ملائے گا اور پھر ہماری بندر گاہوں کے ذریعے افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے بھی آگے بڑی مارکیٹوں تک رسائی کاموقع میسر آئے گااور پاکستان ازبکستان کے راستے وسطی ایشیا سے منسلک ہو گا جو کہ وسطی ایشیا کی بڑی ریاست ہے اور ازبکستان ہمیں وسط ایشیا اور اس سے آگے تک رسائی دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔ افغانستان میں امن اور وہاں پر سیاسی حل کے لئے پر امید ہیں کیونکہ افغانستان کے راستے رابطوں سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا۔ کاروباری طبقہ اس سے مستفید ہو گا اور لوگوں کا معیار زندگی بھی بلند ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے وہ ازبکستان کی تاریخ سے ازبکستان کے لوگوں سے بھی زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی بزنس کمیونٹی سے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اورازبکستان کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے وسیع مواقع ہیں، بیوروکریسی اورتاجروں کے حوالے سے نیب کاقانون تبدیل کررہے ہیں،وفاقی کابینہ میں عوامی فلاح کے منصوبوں پرفیصلے کیے جاتے ہیں، ڈریپ میں کافی مسائل ہیں،حل کیلئے کوشاں ہیں، پاکستان میں فارماسیوٹیکل شعبے میں کافی صلاحیت ہے ،پاکستان اورازبکستان کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے وسیع مواقع ہیں،وزیرخزانہ تاجروں کے مسائل سمجھتے ہیں۔اس سے قبل تاشقند میں دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ۔ اس موقع پر ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت مختلف معاہدوں پر بھی دستخط کئے گئے ۔ دونوں ممالک کے مابین سٹرٹیجک پارٹنرشپ کے معاہدے پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف اور وزیراعظم عمران خان نے دستخط کئے ۔ تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے سمجھوتوں پر بھی دستخط کئے گئے ۔ دونوں ملکوں نے تاجروں اور سیاحوں کے وفود کیلئے ویزا عمل آسان بنانے کے معاہدے ، ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے ، عسکری تعلیم کے شعبے میں تعاون کے پروٹوکول، ثقافتی روابط کے معاہدے ، کسٹمز کے شعبے میں تعاون کے معاہدے اور دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ تزویراتی شراکت داری کے قیام کے معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ازبکستان کے پہلے دن45 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے معاہدے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم کے دورہ تاشقند کے دوران پہلے دن بزنس فورم کا اجلاس ہوا ہے جس میں پاکستان سے 130 کے لگ بھگ، اہم بزنس ہائوسز کے نمائندگان نے شرکت کی اور ان کی بزنس ٹو بزنس، ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ازبکستان کے کاروباری افراد میں پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کا اشتیاق دیکھنے میں آیا۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان کے اعزاز میں ازبکستان کے صدارتی محل میں باضابطہ استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ وزیراعظم کا کوکسارے صدارتی محل آمد پر پرتپا ک خیرمقدم کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔وزیراعظم عمران خان نے ازبکستان کی آزادی اور انسان دوستی کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی ۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کی ملاقات بھی آج متوقع ہے ، ازبک صدر نے دونوں ممالک کے سربراہان کو کانفرنس میں بلایا ہے ۔

سیکیورٹی فورسز کا کرم ایجنسی میں آپریشن، 5 مغوی مزدور بازیاب

راولپنڈی: سیکیورٹی فورسز نے کرم ایجنسی میں آپریشن کرتے ہوئے مزید 5 مغوی مزدور رہا کرالیے، موبائل ٹاور پر کام کرنے والے 16 میں سے 10 مزدور پہلے بازیاب ہوچکے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے کرم کے علاقے میں اغوا کیے جانے والے مزدوروں کی بازیابی کے لیے آپریشن کیا، جس میں مزید پانچ مزدور رہا کرالیے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع کرم کے علاقے میں موبائل ٹاور پر کام کرنے والے 16 مزدور 26 جون کو اغوا کیے گئے تھے، مزدوروں کی بازیابی کے لیے سیکیورٹی فورسز نے مختلف جگہوں پر آپریشنز کیے۔ خفیہ اطلاعات پر کیے جانے والے ان آپریشنز کے دوران 27 جون کو 10 مزدور بازیاب کرائے گئے تھے اور ان 10 مزدوروں کے ساتھ ایک جاں بحق مزدور کا جسد خاکی بھی ملا تھا۔

اسی طرح 13 جولائی کو ہونے والے آپریشن میں 3 دہشت گرد مارے گئے تھے اور آپریشن میں کیپٹن باسط اور سپاہی حضرت بلال شہید ہوئے تھے اور اب بقیہ پانچ مزدوروں کو بھی بازیاب کرالیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کا اغواء کار دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کو پکڑنے کے لیے آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز بےگناہ اور معصوم شہریوں کی حفاظت کے لیے کوشاں ہیں، دہشت گردی کی جنگ میں فورسز کا بھرپور ساتھ دینے والی عوام کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

افغانستان میں کیا ہوگا

جاوید افضل
دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی دانشوروں کے ایک گروپ نے ایک کتاب(Next hundred years) اگلے سو سال لکھی یعنی دنیا میں 2045ء تک کیا ہوگا علاوہ تحقیق کے امریکہ کی سربراہی میں اتحادی مغربی ممالک کی طرف سے ایک پالیسی بیان اپنایا گیا کہ جرمنی اور جاپان کی طرح کوئی نظریہ(تھیوری) دنیامیں عروج حاصل نہ کرسکے گی نہ ہی کوئی ملک اور علاقہ تعصباتی طورپر منظم ہو کر مغربی سرمایہ داری نظام کو چیلنج کرسکے گا اس وقت روس میں کمیونزم نظام ان کے لئے خطرہ تھا جن کے لئے ان ممالک نے امریکی سربراہی میں مشرق بعید میں جنگ کی اور چین‘ویٹ نام‘ کوریا اورلاؤس کمبوڈیا دیگر ممالک میں بھی تباہی کی اسی پالیسی کے تحت امریکہ نے پاکستان اور افغان مجاہدین سے مل کر روس کے ٹکڑے کردئیے یہ امریکہ کی ایک جارحانہ پالیسی ہے یعنیFragmentation of worldدنیا کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا اور کمزور ملکوں کے ان کے وسائل پر قبضہ کرنا جیساکہ لیبیا‘ عراق شام کے گیس اور تیل کے وسائل افریقی اور لاطینی ممالک میں امریکی مداخلت وغیرہ امریکہ افغانستان میں مزید گروہ بندی پیدا کرکے خانہ جنگی کو تیز کردے گا خود داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں اور افغان اتحادی کوSafe haven فضائی تحفظ مہیا کرے گا اس خطے میں جو علاقائی ہم آہنگی چین کے بیلٹ اینڈروڈ منصوبہ سے پیدا ہونے کا امکان ہے کو روک دے گا کیونکہ یہ ممالک افغانستان میں ایک طویل پروکسی جنگ میں الجھ جائیں گے۔ وہ پاکستان کے بلوچستان شمالی علاقہ جات اور افغان سرحد پر جاری بد امنی کو مزید ہوا دے گا۔ پشتون اوربلو چ فیکٹرمیں تیزی پیدا کرے گا لیکن پاکستان کے آگے یورپ افریقہ اورمڈل ایسٹ کے وسائل اورپیچھے چائنہ بنگلہ دیش انڈیا‘ روس اورروس کے زیر اثر ممالک جن کو چائنا خوش قسمتی سے روڈ اینڈ بیلٹ پروگرام سے جوڑ رہا ہے۔ پاکستان تجارتی حب بن رہا ہے اس منصوبہ کو افغان خانہ جنگی کے ذریعے نقصان پہنچائے گا امریکہ نے صرف حکمت عملی تبدیل کی ہے۔ وہ افغانستان میں اپنی پالیسی کے ذریعے موجود رہے گا۔
پاکستان کی افغان پالیسی کا اگر جائزہ لیا جائے تو آپ کو حیرت ہوگی کہ اس پا لیسی اور اسلامائزیشن کامعمار ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ پاکستان کی افغان پالیسی ایک خود مختار اور آزاد افغانستان ہے۔ جس پر پاکستان دشمن فورسز قابض نہ ہوں پاکستان اور افغانستان قدرتی طورپر اسی طرح جڑے ہوئے ہیں اس پالیسی کے لئے پاکستان نے بے پناہ قربانی دی ہے۔
بھٹو نے شہنشاہ ایران سے مل کر اور افغانستان میں سردار داؤد کے انقلاب کی حمایت کرکے تینوں ممالک کا ایک مسلم بلاک بنانے کی کوشش کی تھی شہنشاہ ایران اورذوالفقار علی بھٹو نے اس مقصد کے لئے کابل کادورہ کیا اورکابل یونیورسٹی میں بھی اسلامی قیادت کے سٹوڈنٹ لیڈر پیدا کیے جو بعد میں جہادی لیڈر بنے۔ ان میں برہان الّدین ربانی‘ صبغت اللہ‘ گلبدین حکمت یار‘ یونس خالص‘احمدشاہ مسعود تھے جبکہ روس کے حامی بائیں بازو کے لیڈر نور محمد ترکئی‘حفیظ اللہ امین ببرک کارمل ”شعلہ وطن“ نام کے ایک اخبار اور تنظیم سے وابستہ تھے۔ امریکی گروپ میں زلمے خلیل زادہ‘ حامد کرزئی‘ اشرف غنی وغیرہ تھے۔یہ1970اور1980ء کی دہائی کے کابل یونیورسٹی کے لیڈر ابھی تک قائم ہیں۔ پاکستان کے حامی جمعیت اسلامی اتحاد اوردیگر گروپ بھٹو نے بنوائے تھے۔ ان تینوں ممالک کے بلاک بننے اور روس مخالف گروپ کے کابل میں آجانے کے رد عمل میں روس نے افغانستان میں مسلح مداخلت کی۔ شہنشاہ ایران اور ذوالفقار علی بھٹو بھی ختم کردئیے گئے لیکن ہمارے دفاعی ادارے اس پالیسی سے پیچھے نہ ہٹ سکے۔ بھٹو کو امریکی خواہش پرختم کرکے اس پالیسی کے ذریعے امریکیوں کو یرغمال بناکرروسی ریچھ کو زخم خوردہ کرکے ماسکو تک بھگا دیا یہ ایک انتہائی گہری پیچیدہ ناقابل فہم اورمروجہ دفاعی طریقوں سے ہٹ کرپالیسی ہے اس میں اس کو بنانے والے بھی قربان ہوگئے۔
9/11کے بعد امریکہ افغانستان پرقبضہ کرکے ہمارے بارڈر پر روس کی طرح28ممالک کے اتحاد کے ساتھ آگیا ہم کس طرح برداشت کرسکتے تھے کہ ایک مسلمان ملک محکوم ہو جائے اور ہماری خودمختاری اور ایٹمی اثاثوں کوخطرہ پیدا ہوجائے ہم نے اسی پیچیدہ اور ناقابل فہم پالسی کے ذریعے ایک دفعہ پھر امریکہ کویرغمال بنالیا ہم امریکہ کے سامنے لیٹ گئے اوربظاہر اپنی خود مختاری اور اور افغانستان میں اپنے حامی جہادی گروپوں کی قربانی دے کر ہم امریکہ کے اندر گھس گئے۔ اب امریکہ کو سمجھ آیاہے اوراس نے حکمت عملی تبدیل کرلی ہے۔ شام کی طرح افغانستان مختلف ٹکڑوں اوردھڑوں میں تقسیم کر رہا ہے اور علاقائی ممالک کو جنگ میں مصروف کررہاہے اور پاکستان کو مشکلات پیش آئیں گی جب امریکہ اقوام متحدہ سے مینڈیٹ لے گا اور ہمیں پابندیوں کاسامنا ہوگا۔ افغانستان طاقتورجنگجو دھڑے امریکہ سے تعاون کرکے اور ایران کی مدد سے زیادہ طاقتور ہوگئے ہیں۔ مثلاً ہرات میں اسماعیل خان کی حزب وحدت خلیلی کی جنبش ملی۔ شمال میں شوریٰ نظاررشید دوستم کی ازبک اور ترکی فیکٹر کے ساتھ اوراحمد شاہ کادھڑایہ سارے طالبان اور پاکستان مخالف ہیں افغان فوج زیادہ تر ان پرمشتمل ہے امریکہ کے اتحادی بھی ہیں پاکستان کوشش کررہاہے کہ کوئی قابل قبول حل نکل آئے لیکن یہ ناممکن ہے۔
افغانستان ٹکڑوں میں تقسیم ہورہا ہے اوروہاں کوئی صورتحال ہو ہماری افغانستان کے ساتھ سرحد اور افغان بلوچ علاقوں میں بدامنی پیدا کی جائے گی اس کا حل علاقائی ہم آہنگی ہے جوکہ روس‘چین‘ ایران اور انڈیا کے ایک پیج پر آنے سے ہوگی اورریہ خطہ اقتصادی ترقی کرے گا۔اگر ایسا ہو جائے یعنی انڈیا پاکستان میں صلح سے دونوں ممالک استحکام ہوگا اوردونوں ممالک کے90 فیصد مسائل حل ہوجائیں گے۔ انڈیا‘ چین‘برما‘بنگلہ دیش روسی ممالک3ارب آبادی والے ممالک کے بذریعہ ریل اورٹرک کے گیس اورتیل مشرق وسطیٰ افریقہ اور یورپ کو پاکستان کے ذریعے جارہے ہیں خوش قسمتی سے چائنہ ان کو ملا رہاہے۔ افغانستان کا حل انڈیا پاکستان میں صلح اور علاقائی ممالک کی اقوام متحدہ کے ذریعے افواج کی تعیناتی ہے جو افغانستان مستحکم نظام کی ضمانت ہے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی اورمعاشی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

تیسری عالمی جنگ حقیقت یا قیاس آرائی

محمدنعیم قریشی
دس جولائی کے روز پاکستان کے معروف اخبار روزنامہ ”خبریں“ میں پینٹاگون کے بیان کی لگی شہ سرخی نے غالباً سب ہی کو چونکا دیا ہے جس میں امریکا عالمی قوتوں کو خبردار کررہا ہے کہ دنیا میں تیسری عالمی جنگ چھڑنے کاخدشہ ہے،اس بیان میں امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ چین ایک ایسا بمبار تیارکررہاہے جو چین کو زمینی،سمندری اور ہوا کہ ذریعے اسلحہ فائر کرنے کی صلاحیت دے گاجبکہ ایک جگہ یہ بھی لکھا تھا کہ روس اور چین دس سال سے جدید اسلحہ بنارہے ہیں،قارئین کرام! میں سمجھتا ہوں کہ امریکا کا یہ بیان دنیا بھر میں خوف پیدا کرنے کی ایک سازش توہوسکتاہے مگر اس کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ امریکا خود اقرار کررہاہے کہ اب بڑی طاقتوں کے پاس ایسے ہتھیار موجود ہیں جو ایک نئی عالمی جنگ میں ایک دوسرے کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں،امریکا تو چند ایک ملکوں کی جانب اشارہ کررہاہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ نیوکلیئر بم صرف ایک امریکا کے پاس ہی نہیں ہے بلکہ یہ روس،چین، اسرائیل، انڈیا، نارتھ کوریا سمیت پاکستان کے پاس بھی موجود ہے بلکہ ان ممالک میں تو اب اس سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیاروں پر کام ہورہا ہے وقت کے ساتھ ساتھ ان خطرناک ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں بھی بے پناہ اضافہ ہورھاہے،میں سمجھتا ہوں کہ امریکا کو شاید اس بات کا دکھ ہے کہ دنیا اس قسم کا اسلحہ کیوں بنارہی ہے یعنی وہ خود بنالے تو ٹھیک ہے کوئی دوسرا اپنی حفاظت کے لیے ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے! بظاہر تو ایسا ہی لگتاہے کہ امریکا دنیابھر میں بڑھتی ہوئی ایٹمی قوتوں سے خوفزدہ ہوچکاہے اور ان قوتوں کے سامنے اپنی طاقت کو کم ہوتا ہوادیکھ رہاہے،لہذاہم ماضی کی جانب دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں سے ہمیں سوائے تباہی،خون خرابہ اور ہلاکتوں کے کچھ نہ ملا ہے کیونکہ دنیا اب یہ بھی جان چکی ہے کہ اس طرح کی بڑی جنگوں سے مسائل اور معاملات حل نہیں ہوتے لہٰذا امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے اس قسم کی بات کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔اس سے قبل بھی امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے نومبر2017میں ایک امریکی جریدے کو انٹریو دیتے ہوئے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کردیاتھا جس میں کہاگیا تھا کہ تیسری عالمی جنگ کا راستہ ہموار رہورہاہے،اور ایران سے اس نقطہ جنگ کا آغاز ہوگا اور اس جنگ میں اسرائیل بھی شامل ہوگا، اور امریکا کی جانب سے ماضی میں ہم نے دیکھا کہ عراق میں موجود ایران کی ایک پاور فل شخصیت جسے ایرانی بہت مانتے تھے قاسم سلیمانی کو ایک ڈرون حملے میں ماردیا گیا،جو کہ امریکی صدر کا براہ راست حکم تھا اس ڈرون نے ایک خو دمختار ریاست اور اس کی طاقت کو للکارا تھاجس پر ایران نے بھی امریکا سے کڑا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا،لہٰذا اس قسم کے بیانات کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ امریکاخود ہی اس تیسری عالمی جنگ کی راہ ہموارکررہاہے جسے اسلحے کی دوڑ اور پوری دنیا میں اپنی طاقت کو منوانے کابخار لاحق ہے۔
دوسری جانب ماضی کی دو بڑی جنگوں کو چلانے میں بھی ایسے ہی طاقتور ممالک کا بنیادی کردار تھا جو ابھی تک تباہیوں کے اثرات محسوس کرتے ہیں اور یہ جان چکے ہیں اس میں کسی ایک ملک کی جیت ہوہی نہیں سکتی ماسوائے ہر سو تباہی کے ہر چند کہ دنیا ابھی دوسری جنگ عظیم کے زخم نہیں بھول پائی ہے خود امریکا کے عوام بھی نائن الیون کا خوف ابھی تک سر پر لیئے بیٹھے ہیں۔اس طرح امریکا سمیت جاپان جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک میں آج بھی ایسے لوگ مل جائیں گے جوجنگ کا نام سنتے ہی خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور محفوظ جگہوں پر چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے سوال تو امریکا سے ہی کیا جاسکتا ہے کہ اگر تیسری جنگ ہو بھی گئی تو کیا امریکا اس کو آگے بڑھائے گا۔؟ آج کے دور میں ایسے خوفناک ہتھیار وجود میں آچکے ہیں جو گزشتہ جنگوں میں بھی نہیں تھے اور جو ہتھیار آج ہیں اس کا استعمال اگر ہوتا ہے توکسی بھی چھوٹے یا بڑے ملک کا بخیریت رہنا ممکن ہی نہیں ہے اور یہ بات ان تمام طاقتور ممالک کو اچھی طرح معلوم ہے کہ تیسری عالمی جنگ کے حتمی نتائج صرف تباہی ہے جس میں مارنے والا اور دفاع کرنے والا کوئی بھی نہیں بچے گا، یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت سپر طاقتیں اپنے اپنے سیاسی انداز میں محدود جنگوں کا طریقہ اختیار کیئے ہوئے ہیں یعنی پراکسی واراور غیر ریاستی عناصر کے ذریعے اپنے مخالف ملکوں میں عدم استحکام پیدا کرنا سوشل میڈیا کا استعمال اور خفیہ کارروائیاں کرکے اپنے مقاصد کو حاصل کرنا ان طریقوں میں شامل ہے،اس کے لیے اپنے ناپسندیدہ ممالک پر اقتصادی پابندیاں لگانایا پھر کسی اور ملک کے سیاسی تنازعوں میں دخل اندازی دے کر اپنی مرضی کی حکومتیں بنانا اب طاقتور ممالک کا سیاسی حربہ یا طریق کار بن چکاہے ان طاقتور ممالک میں اس قسم کی حرکتیں کرنے میں امریکا سرفہرست رہاہے جو ماضی میں پاکستان کی حکومتیں بنانے اور بگاڑنے میں اپنا اہم کرداراداکرتارہاہے جو بیس سال سے افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول میں لگا رہا یہ اور بات ہے کہ وہ اپنے لیے کوئی فائدے نہیں حاصل نہیں کرسکاہے لہٰذا اس ناکامی کے زمرے میں بھی امریکا کا یہ بیان دیکھا جاسکتاہے اور ممکن ہے کہ اس شکست کی وجہ سے ایشیاء کے ساتھ امریکا کے کچھ علاقوں میں سیاسی فسادات کا خطرہ ہو اور اس خدشے نے خود امریکا کو ہی خوفزدہ کیا ہو کیونکہ اس قسم کے جھگڑوں سے بڑی طاقتور قوتیں فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتی ہیں یعنی جو یہ چاہیے گی کہ متاثرہ علاقوں میں ان کی مرضی کی حکومتیں اور قوانین بن سکیں اور ان بڑی طاقتوں کا اقتصادی تحفظ ہو اور ان کے مخالفین کو وہاں جگہ نہ مل سکے،لہذا میری نظر میں اس قسم کی علاقائی جنگیں ہوسکتی ہیں جن کے اثرات بین الاقوامی ہونگے جس سے پوری دنیا عدم استحکام کا شکار ہوسکتی ہے،اوراس تحریر میں جن چھوٹی چھوٹی محدود جنگوں کا ذکر کیا گیا ان میں افغانستان کی جنگ سب کے سامنے ہے جب کہ دیگر علاقائی جنگوں میں سیریا،عراق،شام،یمن اور لیبیا میں سیاسی خلفشار موجود ہے اور ان ملکوں کو عدم استحکام اور نقصان پہچانے میں بھی امریکا سمیت دیگر بڑی طاقتوں کا اہم کردار ہے۔
آخر میں یہ ہی کہوں گا کہ اب دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ ماضی کی جنگوں کی نسبت ہتھیار ہی نہیں بدلے دنیا کا نقشہ بھی تبدیل ہوچکاہے اس لیے اس نئے دور میں کسی بھی عالمی جنگ کا اندیشہ خاصہ مشکل دکھائی دیتاہے مگر جنگی جنون اور پوری دنیا میں ٹھیکیدار بننے کا شوق رکھنے والے ممالک کی وجہ سے یہ تیسری جنگ ناممکن بھی نہیں ہے کیونکہ ایک کہاوت بہت مشہور ہے کہ طاقت کا گھمنڈ آدمی کو اندھا کردیتاہے۔
(کالم نگار مختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

افغانستان‘ مستقبل کے امکانات

لیفٹیننٹ جنرل(ر)نعیم خالد لودھی
افغانستان کی صورتحال روز بروز تبدیل ہورہی ہے اور ہر طرح کے تجزیہ نگار اپنی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق آراء پیش کررہے ہیں۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جو بھی ہمارا ذہنی رجحان ہو ہم اپنا تبصرہ اس کے مطابق پیش کردیتے ہیں۔ کچھ لوگ ذہنی طور پر طالبان کے خلاف کہوں یا یہ کہوں کہ وہ ان کی سوچ سے مطابقت نہیں رکھتے لہٰذا وہ ہر واقعے کو اس عینک سے دیکھتے ہیں اور حالات وواقعات کو توڑ مروڑ کر اپنی سوچ کے مطابق پیش کردیتے ہیں۔ یہی حال دوسری طرف کے لوگوں کا بھی ہے جو طالبان کی حمایت میں زمین وآسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ ان حالات میں اصل صورتحال کا معلوم کرنا نہایت مشکل ہوگیا ہے لیکن کچھ ایسے اشارے بھی ملتے ہیں جن پر سب متفق ہیں۔ آج ہم ایک ایسی چیزوں کا ذکر زیر نظر کالم میں کریں گے جو کچھ یوں ہیں۔
1۔پہلی بات تو یہ ہے کہ جس پر لوگ قریب قریب متفق ہیں وہ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے سیاسی اور معاشی ہزیمت کا شکار ہو کر افغانستان سے باامر مجبوری نکل رہے ہیں۔
2۔یہ کہ افغان طالبان کی جرأت‘ اولی العزمی اور عسکری مہارت کے سبھی لوگ معترف ہیں۔
3۔افغانستان میں فوجی توازن بڑے پیمانے پر افغان طالبان کے اس وقت حق میں ہے جب تک کہ کوئی بیرونی قوت افغان حکومت کو سہارا نہ دے اور یہ بات بھی سبھی مانتے ہیں کہ افغان طالبان نے بہت تیزی سے ملک میں آدھے سے زیادہ حصہ پر اپنا تسلط قائم کرلیا ہے۔
4۔ابھی تک گھمسان کی جنگ کے بجائے افغان طالبان نے بہت سا علاقہ گفت وشنید اور مقامی لوگوں کی رضامندی سے حاصل کیا ہے جس کا یہ مطلب بھی بنتا ہے کہ افغان طالبان کو بہت بڑے پیمانے پر افغان عوام کی حمایت بھی حاصل ہوتی جارہی ہے۔
5۔جب ہم افغانستان کے ہمسایہ ممالک پر نظر ڈوراتے ہیں تو یہ بات ابھر کر سامنے آتی ہے کہ وہ سب جنگ کو ہوا دینے کے بجائے قیام امن کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ خاص طور پر پاکستان اور ایران کے رویوں میں بہت بڑی تبدیلی نظر آرہی ہے۔
6۔وسطیٰ ایشیائی ریاستیں بھی لگ بھگ اسی راستے پر گامزن ہیں۔
7۔یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ چین اور روس افغانستان کے امن میں دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں اور وہ یہاں سرمایہ کاری کرنے کے بھی متمنی ہیں۔
اوپر بیان کردہ نکات کے ساتھ اگر یہ حقائق بھی شامل کر لیے جائیں کہ افغان طالبان کے وفود نے چین‘ روس‘ ایران وغیرہ کے دورے بھی شروع کردیئے ہیں اور ان کے نمائندے ذبیح اللہ مجاہد اور سہیل شاہین کو سنیں تو انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ وہ کس قدر لچک اور نرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
دو‘ تین مزید باتیں توجہ طلب ہیں کہ طالبان بار بار اس بات کا اعادہ کررہے ہیں کہ وہ حکومت سازی کے عمل اور مستقبل میں حکومتی ڈھانچے میں اور لوگوں کی شمولیت اور ان سے مشاورت بھی چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے ضامن بھی ہوں گے‘ تمام سفارتخانے محفوظ رہیں گے‘ خواتین اپنی ملازمتوں وغیرہ پر جا سکیں گی۔ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی منقطع نہیں کیا جائے گا غرضیکہ طالبان کے حوالے سے دنیا بھر کے جو بھی شکوک وشبہات ہیں ان کا وہ تسلی بخش جواب دے رہے ہیں اور ماضی کی غلطیوں کے ازالے کا وعدہ بھی کررہے ہیں۔
ایک خبر یہ بھی سننے میں آئی ہے کہ برطانوی حکومت نے یہ اعلان کیا ہے کہ طالبان کی حکومت اگر قائم ہو بھی جائے تو وہ ان کے ساتھ تعلقات قائم کریں گے۔ لہٰذا تمام قرآئن اور اندازے اس سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آئندہ افغانستان میں بننے والی حکومت میں طالبان سب سے بڑے حصہ دار ہوں گے اور دنیا ان کو تسلیم کرنے کیلئے بھی تیار نظر آتی ہے اور اگر کوئی خانہ جنگی ہوئی بھی تو وہ مختصر دورانیے کی ہوگی۔ چین اور روس جیسے ممالک جب سرمایہ کاری کریں گے تو تمام خطہ ترقی کے راستے پر چل پڑے گا۔ پاکستان اس سے بے پناہ استفادہ کر سکے گا۔ نہ صرف یہاں پرامن کی صورتحال بہتر ہو جائے گی بلکہ سی پیک اور باقی کے ترقیاتی منصوبے بھی تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوگی کہ آنے والی افغان حکومت حتیٰ الامکان پاکستان دشمن قوتوں (مثلاً بی ایل اے‘ تحریک طالبان پاکستان‘ داعش وغیرہ) کو اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دے گی۔ اس کے علاوہ چین‘ روس اور دیگر ممالک کی سرمایہ کاری بھی اس خطہ میں ترقی کا باعث بنے گی اور اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ کچھ مغربی ممالک (جرمنی‘ برطانیہ وغیرہ اور کچھ مڈل ایسٹ کے ممالک جن میں سعودی عرب‘ یو اے ای‘ قطر وغیرہ شامل ہیں) بھی یہاں پر سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کر سکتے ہیں۔
لب لباب میری معروضات کا یہ ہوگا کہ تمام قوتوں نے تاریخ سے سبق شاید لیا ہوگا۔ نہ تو افغان طالبان آج سے20سال پہلے والے طالبان ہیں اور نہ ہی پاکستان اور ایران اور دیگر ہمسایہ ممالک پہلے والی سوچ رکھتے ہیں اور سیاسی اور معاشی خلا پُر کرنے والے چین اور روس جیسے ممالک بھی موجود ہیں۔
لہٰذا جو لوگ افغانستان میں امن نہیں چاہتے مثلاً بھارت‘ منشیات فروش‘ اسلحے کے سوداگر داعش‘ ٹی ٹی پی وغیرہ بہت کمزور ہیں ان قوتوں کے مقابلے پر جو امن کیلئے کوشاں ہیں ان میں سب سے آگے افغان عوام جن کو پوری تائید حاصل ہے‘ پاکستان‘ ایران‘ چین اور روس کی لہٰذا میری دانست میں جس قیامت صغریٰ کا نقشہ پیش کیا جارہا ہے وہ انشاء اللہ بپا نہیں ہوگی اور یہ خطہ امن اور خوشحالی کے سفر پر تیزی سے رواں دواں ہونے والا ہے۔
(کالم نگار سابق کورکمانڈر اور وفاقی
سیکرٹری دفاع رہے ہیں)
٭……٭……٭

ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے

ضیا بلوچ
جس طرح کہ ہر شخص بخوبی جانتا ہے کہ آج کل آزاد کشمیر میں انتخابی مہم زوروشور سے جاری ہے۔ دنیا کی اس حسین وادی کا موسم اور پھل ہی نہیں اس کے لوگ بھی خوبصورت ہیں۔ کشمیریوں کی شاندار روایات اور ان کے رویے بھی بہترین ہیں۔ یہ زبردست مہمان نواز ہیں اور آج کل انتخابی مہم کی وجہ سے ان پاکستانی سیاستدانوں کی میزبانی کر رہے ہیں جن کے نزدیک “گالی دینا ان کا کلچر ہے”۔ کشمیر میں انتخابی مہم چلانے والے پاکستانی مہمان اپنے اس کلچر کا خوب مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کشمیر میں انتخابی مہم سیاست دانوں کی نئی نسل چلا رہی ہے۔
راحت اندوری نے کہا تھا
نئے کردار آتے جا رہے ہیں
مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے
پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کشمیر میں مہم کا آغاز کیا لیکن کسی ضروری کام کے باعث انہیں فوری امریکہ جانا پڑ گیا اب آصفہ بھٹو ان کی جانشینی کے لیے تیار ہیں۔ویسے پیپلز پارٹی کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ بارہا اقتدار میں رہنے والی پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کے پاس ایک بھی لیڈر نہیں جو بلاول کے بعد کشمیر میں جا کر انتخابی مہم چلا سکے. دوسری طرف مسلم لیگ ن کا بھی یہی حال ہے۔شہباز شریف کو چاہنے کے باوجود بھی فرنٹ فٹ پر نہیں آنے دیا جا رہا اور انہیں قیادت کے حوالے سے مسلسل پیچھے دھکیلا جا رہا ہے. مریم نواز اپنے والد کی وراثت کو بلا شرکت غیرے سنبھالے ہوئے ہیں اور شہباز شریف دور بیٹھے کہہ رہے ہیں۔
ہم وفا کر کے بھی تنہا رہ گئے
رسا چغتائی کا شعر ہے
عشق میں بھی سیاستیں نکلیں
قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا
تحریک انصاف کی طرف سے وزراء علی امین گنڈاپور،مراد سعید و دیگر انتخابی جلسوں کو اس انداز میں گرما رہے ہیں کہ ذولفقار علی بھٹو کو غدار،نواز شریف کو ڈاکو،مریم نواز کو ڈاکو رانی جیسے گھٹیا خطابات دئیے جا رہے ہیں. اور تو کچھ نہیں ہو رہا بس سیاسی ماحول مزید آلودہ اور تعفن زدہ ہو رہا ہے۔ جواب میں وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کو متوالے اور جیالے ”گنداپور“ کہہ کر اپنے مخصوص سیاسی کلچر کی ترجمانی کر رہے ہیں۔شیخ رشید تحریک انصاف کی الیکشن مہم کو بیک فٹ پر رہ کر پروان چڑھا رہے ہیں۔
گویا خوب موج مستی ہو رہی ہے۔اظہر عنایتی نے کہا تھا
وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے
عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر میں تین جلسوں سے خطاب کرنا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر مریم نواز‘ عمران خان کی آمد سے قبل ہی ان کے لیے پلیٹ فارم تیار کر رہی ہیں۔ اتنا تذکرہ حکومتی وزراء نے عمران خان کے کشمیر آنے کا نہیں کیا جتنا مریم نواز عوام کو یہ ترغیب دینے میں کر رہی ہیں کہ عمران خان کشمیر آئیں تو ان کا استقبال نہ کرنا۔ ن لیگی لیڈر کے پُرجوش ہونے سے لگتا ہے کہ عمران خان کے آزاد کشمیر کے جلسے نہ صرف بڑے بلکہ تاریخی ہوں گے۔
سیاست دانوں سے میری گزارش ہوگی کہ جم کے اور ٹکا کے انتخابی مہم چلائیں مخالفین کو خوب رگیدیں کیونکہ ہمیں اچھا لگے یا نہیں پر یہی ہمارا سیاسی کلچر ہے لیکن خدارا اخلاقیات کا کچھ لحاظ ضرور کریں. وہ یہ بھی سوچ لیں کہ وہ ایک دوسرے کی سیاسی جماعتوں سے ہی نکل کر آئے ہیں… اور پھر انہوں نے جلد یا بدیر انہی میں واپس جانا ہے… بقول بشیر بدر
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
دوسری طرف آزاد کشمیر کے عوام سے کہوں گا کہ یہ سب تماشا 25 جولائی کو ختم ہو جانا ہے۔مہمانوں نے واپس چلے جانا ہے لیکن آپ نے ایک ساتھ رہنا ہے… مخالفتیں اتنی آگے نہ لے جائیں کہ واپسی کا راستہ نہ رہے۔ ویسے بھی خادم ندیم کا شعر ہے کہ
ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے
یہ کسی سے بھی محبت نہیں کرنے والے
(کالم نگار قومی و سیاسی امور پر لکھتے ہیں)
٭……٭……٭

عیدالاضحیٰ پر پبلک ٹرانسپورٹ بند ہوگی، معاون خصوصی صحت

لاہور: وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ پر پبلک ٹرانسپورٹ بند ہوگی تاہم ہماری توجہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند کرنے کے بجائے متاثرہ علاقوں پر ہے۔

معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اپنی ٹوئٹ میں کورونا کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ ملک میں کورونا کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں، کراچی میں مثبت کیسز کی شرح 19، پشاور میں 9.4، اسلام آباد میں 6.2 جب کہ لاہور میں 3.8 فیصد ہے، عوام نے ویکسین بھی لگوا رکھی ہے تب تب بھی ماسک پہنیں۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ کوئی بھی وائرس جب آتا ہے تواس کی اقسام بھی سامنے آتی ہیں، کورونا کی اقسام کو ایک ملک سے دوسرے ملک جانے سے نہیں روکا جاسکتا،اس کو کم کیا جاسکتاہے لیکن مکمل ختم نہیں کیا جاسکتا۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کورونا کیسز کی تعداد زیادہ ہے تاہم پنجاب میں کورونا کیسز کی تعداد دیگر صوبوں کی نسبت کم ہے، ہماری توجہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند کرنے کے بجائے متاثرہ علاقوں پر ہے، متاثرہ علاقوں میں زیادہ پابندیاں لگائی جائیں گی، عید الاضحیٰ پر پبلک ٹرانسپورٹ بند ہوگی، سیاحت کے مقام پر ویکسینیشن والے افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ہمیں کورونا کے ساتھ چلناہے اور اس کے لئے احتیاط ضروری ہے،ہم الیکشن مہم سے اختلاف نہیں کرسکتے لیکن کشمیر کے جلسوں میں ماسک کا استعمال نہیں کیا جارہا، ماسک کا استعمال کورونا سمیت دیگر بیماریوں سے بچاتا ہے۔

پنجاب میں پہلی تا پانچویں جماعت تک ناظرہ قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار

پنجاب میں پہلی تا پانچویں جماعت تک ناظرہ قرآن پاک کی تعلیم لازمی مضمون قرار دے دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری، نجی اسکولز میں پہلی تا پانچویں جماعت تک قرآن پاک کی ناظرہ تعلیم لازمی ہوگی۔