Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • 12ہزارغیر قانونی تارکین کو انکے ملک واپس بھیجا گیا:سعودی عرب
    • سندھ طاس معاہدے پر عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی کامیابی ہے: چینی اخبار
    • ابتدائی رپورٹ تیار کرکٹر امام الحق پر پابندی کا امکان
    • جنگ ستمبر کا 13 واں روز، پاکستانی فوج کا باؤ ریلوے سٹیشن پر قبضہ
    • غزہ میں نسل کشی اور اسرائیلی اے آئی نظام پر بنائی گئی ڈاکیومینٹری نے اسپیشل ایوارڈ جیت لیا
    • فضل الرحمن کبھی بی پی ٹی آئی سے نہیں ملیں گے: اختیارولی خان
    • انجینئرز ملکی دفاع سمیت تمام شعبوں میں ریڑھ کی ہڈی ہیں: گورنر سندھ
    • ایل نینو مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ
    • ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز سے نئے بحری راستوں پر اتفاق
    • بلوچلستان میں کوئلہ کی زیریلی گیس بھرنے سے 3 مزدور جان بحق
    • ریاست مخالف بیانیہ’ بلوچستان کے 100 سرکاری ملازمین برطرف
    • محمود اچکزئی کی اختر مینگل سے ملاقات’ بلوچستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال
    • آئی ایم ایف مشن کی رواں ماہ پاکستان آمد کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی
    • نادرا نے پیدائش، وفات اور شادی کے سرٹیفکیٹ گھر بیٹھے حاصل کرنیکی سہولت متعارف کرادی
    • پاکستان تحریک انصاف میانوالی کے سر گرم لیڈران اور کارکنان کے خلاف گھیرا تنگ
    • کروڑوں سال پرانے ڈائنا سور کے قدموں کے نشانات دریافت
    • آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملہ، ایک شخص جاں بحق،3زخمی
    • عراقی فورسز نے سعودی عرب میں پائپ لائن پر حملے میں استعمال مقام کا پتہ لگا لیا
    • جنوبی لبنان ‘ اسرائیلی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی،مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا
    • حوثیوں کا سعودیہ میں فوجی اڈے پر میزائل ڈرون حملہ ریاض کا جوابی وار یمن کا باغیوں کے 5 ڈرونز گرانے کادعویٰ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    چراغ جلتے نہیں ہیں، چنار جلتے ہیں

    By Daily Khabrainفروری 4, 2022
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    حیات عبداللہ
    اہلِ کشمیر کی دل گیر آہیں اور لِیرولِیر نوحے، سنگلاخ خمیر سے بنے عالمی ضمیر سے ٹکرا کر لَوٹ آتے ہیں۔کشمیری حسب و نسب کے حامل پاکستانی سیاست دانوں کے بھارت کے ساتھ وابستہ ہٹّے کٹّے مفادات اور وہاں پر سانڈھ بنے ذاتی کاروبار نے ان کی فہم کو غلام، بصارتوں کو ناتواں اور منطقوں کو بالکل ہی اندھا بنا کر رکھ دیا ہے۔بھارتی مَحبّت کے کاجل سے آراستہ اِن کے کٹیلے نَین اور ذاتی مفادات کے بدنما غازے سے لتھڑے احساسات، اتنے شرمیلے بن چکے ہیں کہ ان کی قوتِ گویائی تک مسلوب ہو کر رہ گئی ہے۔پاکستان کی تاریخ میں مسئلہ ء کشمیر پر اتنے سرد مزاج اور ٹھنڈے پیٹ رکھنے والے سیاست دان تو اِس سے قبل کبھی نہیں دیکھنے، سُننے میں آئے۔جب بھی پاکستانی سیاسی پہلوان کشمیر پر کوئی بیان دیتے ہیں تو وہ اتنا نپا تُلا ہوتا ہے کہ جس سے بھارت کے دل اور احساسات پر کسی قسم کی ناگواری کا بوجھ نہیں پڑتا۔اِتنے مصلحت آمیز بیانات کہ جس سے بھارت کے ماتھے پر کوئی ایک لکیر بھی نمودار تک نہیں ہوتی۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی سیاست دانوں کے سُرخ لبوں کی نازکی، دلوں کی نرماہٹ اور فراستوں کی نزاکتوں سے بھارت خوب واقف ہے۔کشمیر کو اپنی شہہ رگ بھی کہا جاتا ہے اور اس شہہ رگ کو بھارت کے قبضے میں دیکھ کے بے چینی پر مشتمل کوئی ایک لمحہ، گھبراہٹ سے وابستہ کوئی ایک پَل اور بے کلی پر مبنی کوئی ایک ثانیہ بھی اِن سیاست دانوں کی زندگیوں میں آج تک دِکھائی نہ دیا۔عمران خان نے بھی محض ایک بار عالمی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے سوا کچھ بھی نہ کیا۔
    بھارت کی ہمہ قسم کی بہیمیت پر کسی پشیمانی اور پچھتاوے کی بجائے بھارتی سیاست دان بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ”کشمیر کی صورتِ حال بھارت کا اندرونی معاملہ ہے“ اگر واقعی یہ بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے تو بھارت کے اِس”اندرون“ میں پاکستان زندہ باد کے نعرے کیوں لگ رہے ہیں؟ اگر یہ بھارت کا داخلی مسئلہ ہے تو اس کے”اندر“ بھارت کی بجائے پاکستان کی مَحبّت کس طرح داخل ہو گئی ہے؟ اگر واقعی یہ بھارت کا اپنا مسئلہ ہے تو گولیوں کی بوچھاڑ میں درندہ صفت فوجیوں کے سامنے کشمیری لوگ سینہ تان کر”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے نعرے کیوں لگاتے ہیں؟ عقیدتوں سے سَرسبز، سُندر جذبوں اور کومل وفاؤں سے شاداب ان رشتوں کا کوئی ایک سلسلہ بھارت کے لیے نمودار کیوں نہیں ہوتا؟ اگر بھارت کے اس”اندرون“ میں پاکستان کے ساتھ مَحبّتوں کے تلاطم خیز طوفان، آشفتہ سَری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تو اس کا مطلب ہے کہ بھارت کو اپنے”بیرون“کی بھی فکر کرنی چاہیے، اس لیے کہ”اندرون“ جس کا ہوتا ہے، ہزاروں قربانیوں کے بعد ہی سہی”بیرون“ بھی اُسی کا ہو کر رہتا ہے۔
    اگر بدخواہ بھارت کی سفّاکیت کے باعث کشمیریوں کے خون کی ارزانی اور بے توقیری دنیا دیکھ رہی ہے تو کشمیریوں کے جذبوں کی جولانی میں حرّیّت کی تڑپ کی فراوانی نے بھی دنیا کو ورطہ ء حیرت میں ڈال دیا ہے۔بات صرف حرّیّت کے بے پایاں جذبوں تک موقوف اور محدود نہیں، ان کے دل کے صحنوں میں پاکستان کے لیے جو مَحبّت انگیز یاسمین مہکتے ہیں، ان کو دیکھ کر بھی دنیا سٹپٹا کر رہ گئی ہے۔برہان مظفّر وانیؒ کی شہادت کے بعد سے اب تک سیکڑوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں، آج بھی بھارتی جبر و استبداد کے باعث ہزاروں کشمیری زخمون سے لہولہان ہیں، بعض کی حالت اتنی نازک ہے کہ زندگی اور موت کے درمیان کش مکش میں مبتلا ہیں۔شاہدہ لطیف نے کچھ ایسا ہی منظر اِس طرح بیان کیا ہے۔
    یہ کیسی آگ ہے ابرِ بہار جلتے ہیں
    چراغ جلتے نہیں ہیں، چنار جلتے ہیں
    اگرچہ سیکڑوں افراد بصارت سے محروم ہو چکے ہیں لیکن ان کے جذبے بڑے ہی بصیرت افروز ہیں، وہ پاکستان کے ساتھ وفاؤں کے ایسے جنون اور بندھن میں بندھے ہیں کہ بصارت چِھن جانے کے باوجود، پاکستان کی طرف آس اور امید کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔
    خوش رنگ مقبوضہ جمّوں وکشمیر کو صرف بھارتی فوج ہی نہیں بلکہ آر ایس ایس کے غنڈے اور تربیت یافتہ بدمعاش عورتیں بھی بڑے دھڑلّے کے ساتھ تلواریں اور لاٹھیاں اٹھا کر مظاہرہ کرتی ہیں۔ہمدم کاشمیری کے دو شعر ہیں۔
    وحشت ہے بہت کم، تو ہے زنجیر زیادہ
    چھوٹا سا مرا خواب ہے تعبیر زیادہ
    کیا جان میری صرف سُلگنے کے لیے ہے
    کیجے نہ مرے جسم کی تفسیر زیادہ
    بھارت اور اس کے بہی خواہوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی کی جو راہیں شہید متعیّن کرتے ہیں، ان پر چلنے سے یہ گولیاں کب روک سکتی ہیں؟ حرّیّت کی جن راہوں پر برہان مظفّر وانیؒ اور ابوالقاسمؒ جیسے شہدا اپنے خون سے جو شمع روشن کر گئے، ان پر آٹھ لاکھ تو کیا اَسّی لاکھ بھارتی فوج بھی بٹھا دی جائے تو ان راہوں کو مسدود نہیں کیا جا سکتا۔شہادتوں کے یہ سلسلے، جذبوں میں خلوص کی انتہائیں اور ولولوں میں تازگی، پختگی اور استقلال کو دوام بخشتے ہیں۔شہادتوں کو پہاڑوں، وادیوں، صحراؤں اور ریگستانوں میں کھوجتے ان نوجوانوں کے سینے ستایش کی افزایش سے پاک و پوتر ہوتے ہیں۔ان کے دلوں میں اُگنے والی تمنّائیں، جاہ ومنصب کی آلایشوں سے تہی ہوتی ہیں۔کیا دنیا اندھی ہے کہ اسے دِکھائی نہیں دے رہا کہ کشمیر کے لوگ، شہدا کے مطہّر و مقدّس جسموں کو پاکستانی پرچموں میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں؟ شہدا نے شہادتوں کے پھول کِھلائے تو اہلِ کشمیر نے پاکستان کے ساتھ چاہتوں کے سلسلوں کو اتنا دراز کیا کہ ہر طرح کی صعوبتوں اور مصیبتوں کے باوجود انھوں نے اس اَن مول رشتہ ء اخوّت کو فروزاں کیے رکھا۔آج کشمیر پر دو ٹوک موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔آخر ہم اپنی شہہ رگ کو کب تک بھارت جیسے سفاک اور عیّار دشمن کے شکنجوں میں دیکھتے رہیں گے؟
    (کالم نگارقومی وسماجی امور پر لکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      لاہور میں کہیں ہلکی، کہیں زیادہ بارش اگلے 3 دن مزید بارش

      سابق پاکستانی ہاکی کپتان خالد محمود 84 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

      27 ستمبر احتجاج؛ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کیلیے رابطے، سیاسی سرگرمیاں تیز

      خوبصورت بننے کا شوق جان لیوا ثابت ہوا، کاسمیٹک سرجری کے دوران معروف انفلوئنسر ہلاک

      سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی، عالمی مارکیٹ میں قیمت 4,400ڈالر سے نیچے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.