دعا زہرا کے اغواء کے نکاح خوان گرفتار

لاہور: (ویب ڈیسک) پولیس نے دعا زہرا کا نکاح پڑھانے والے قاری حافظ غلام مصطفی کو حراست میں لے لیا۔
کراچی سے لاہور آنے والی دعا زہرا اغواء کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، دعا زہراء اغوا کے نکاح خوان قاری حافظ غلام مصطفی کو حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس کے مطابق قاری غلام مصطفی حسن مارکیٹ نیو سمن آباد لاہور کا رہائشی ہے، نکاح خواں نے دعا زہرا کا بوگس نکاح پڑھایا تھا ،سمن آباد پولیس نےتفتیش کے لئے قاری کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ کی حمزہ شہباز سے ملاقات

لاہور: (ویب ڈیسک) پنجاب اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ نواز شریف نے آصف زرداری کا مشکل فیصلہ تسلیم کیا، اپوزیشن نے وزارت اعلیٰ پلیٹ میں رکھ کر دی۔
انہوں ںے کہا کہ سابق گورنرعمر چیمہ کہتے ہیں کہ عثمان بزدار کا استعفیٰ نہیں تھا، میں عمر چیمہ سے کہتا ہوں کہ جلدی آئیں اور اپنی کرسی سنبھالیں۔
حسن مرتضیٰ نے کہا کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ عزت نہ دے تو دنیا بھی اسے عزت نہیں دیتی ہے۔ انہوں ںے کہا کہ پرویز الٰہی نے اپنے بچوں کے ہاتھوں رسوائی کا انتخاب کیا۔
پی پی رہنما نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر اور ایم پی ایز پر پرویز الہی ٰنے تشدد کر کے حملہ کروایا، پرویز الہٰی نے ایوان میں غنڈہ گردی کروائی۔
حسن مرتضیٰ نے واضح طور پر کہا کہ ملک میں دہشت گردی اور جلاؤ گھیراؤ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
واضح رہے کہ پی پی رہنما حسن مرتضیٰ نے آج وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے سید علی حیدر گیلانی اور مخدوم عثمان احمد محمود کے ہمراہ ملاقات بھی کی ہے جس میں سیاسی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

حلقہ بندیاں اگست کے دوسرے ہفتے تک مکمل کر لینگے: الیکشن کمیشن

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ حتمی حلقہ بندیاں رواں برس اگست کے دوسرے ہفتے تک مکمل کرلی جائیں گی۔
خیال رہے کہ سپیکر رولنگ از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کو طلب کیا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر نے فوری الیکشن کرانے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن سے قبل نئی حلقہ بندیاں کرانا ضروری ہے جس میں چار ماہ لگ سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیرصدات ہوا جس میں سیکریٹری الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے حوالے سے کام اور تازہ پیش رفت سے متعلق مکمل بریفنگ دی۔
الیکشن کمیشن کو بتاتا گیا کہ حلقہ بندی کمیٹیاں تمام قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقہ جات کی ابتدائی حلقہ بندی 25 مئی 2022 کو الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 19 کے تحت الیکشن کمیشن کو پیش کردیں گی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات و تجاویز پر الیکشن کمیشن یکم جولائی سے 30 جون 2022 تک سماعت اور فیصلے کرے گا۔ حمتی حلقہ بندی اگست کے دوسرے ہفتے میں شائع کردی جائے گی۔ کمیشن نے حلقہ بندیوں کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ تمام کام میرٹ اور قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ شیڈول کے مطابق مکمل کیا جائے۔

سندھ حکومت نے مزدوروں کیلئے بینظیرکارڈ متعارف کرا دیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سندھ حکومت نے صوبے بھر کے مزدوروں کے لیے بینظیر مزدورکارڈ کے نام سے نئے منصوبےکا آغاز کر دیا۔
بینظیر مزدور کارڈ کے اجرا کا اعلان سندھ کےصوبائی وزرا سعید غنی، شرجیل میمن، ناصر حسین شاہ اور دیگر نے سندھ ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ نادرا اور سوشل سکیورٹی کے ساتھ سندھ حکومت ایک ارب روپے کا منصوبہ لارہی ہے، یہ منصوبہ پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کے مطابق ہے، اب تک 37 ہزار بینظیر مزدور کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، ابتدائی طور پر سوا چھ لاکھ انڈسٹریل ورکرز جوسوشل سکیورٹی میں رجسٹرڈ ہیں وہ مستفید ہو سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں مزدوروں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے، مینوئل کارڈ کی وجہ سے مزدوروں کو فوائد نہیں ملتے اور کرپشن بھی ہوتی ہے، اس لیے مزدوروں کے لیے اسمارٹ کارڈ کا اجرا کیا گیا ہے تاکہ اس کارڈ پر ان کو سہولیات مل سکیں۔
سعید غنی نےکہا کہ اس حوالے سے نادرا کے ساتھ معاہدہ طے پایا ہےکہ وہ بینظیر مزدور کارڈ بنائیں گے، مزدور کا کارڈ اے ٹی ایم کارڈ بھی ہوگا، مزدوروں کے کارڈ کے لیے افرادی قوت بھی نادرا کی ہوگی، 162 نئے افراد اس پراجیکٹ کے لیے بھرتی ہوں گے جو نادرا بھرتی کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سوشل سکیورٹی میں ہیلتھ کی سہولت ہے اور سندھ میں پانچ بڑے اسپتال اور 92 ڈسپنسریاں موجود ہیں۔

کھانا کھلنے میں تاخیر پر شادی ہال میدان جنگ بن گیا

نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت میں شادی کی تقریبات کے دوران مضحکہ خیز واقعات کی خبریں اکثر سوشل میڈیا کی زینت بن جاتی ہیں جسے دیکھ کر لوگ دنگ رہ جاتے ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر مراد آباد میں پیش آیا جہاں شادی کی تقریب میں مہمان کھانے کا انتظار کرتے رہے لیکن کھانا نہیں کھولا گیا۔
بعدازاں کافی دیر تک کھانا نہ آیا تو میزبان ہال ملازمین پر ٹوٹ پڑے اور جس کے ہاتھ جو آیا وہ دے مارا۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شادی ہال میں کسی نے بیلٹ اتار کر حملے شروع کردیے تو کسی نے لاتوں اور گھونسیں مارے۔
واقعے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے تاہم جیسے ہی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے بھاری نفری شادی ہال روانہ کی۔
پولیس نے واقعے میں زخمی افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا بعدازاں زخمیوں نے تھانے پہنچ کر معاملے کی شکایت درج کروائی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے واقعے کا مقدمہ 4 افراد کے خلاف درج کرکے ان کی تلاش شروع کردی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ وائرل ویڈیو کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا اور ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

قطر: پاکستان اور آئی ایم ایف میں مذاکرات کا آغاز

دوحا: (ویب ڈیسک) قطر میں پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو گیا۔
دوحا میں عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) سے مذاکرات کیلئے پاکستانی سیکریٹری خزانہ، قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر بھی دوحا میں موجود ہیں۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا اور دیگر افسران آن لائن مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل 24 مئی کو دوحا پہنچیں گے۔
آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات میں سیکرٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ پاکستانی وفد کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وفد میں وزارت خزانہ، توانائی، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک نمائندے شریک ہیں۔ تکنیکی مذاکرات کے بعد پالیسی مذاکرات میں وزیر خزانہ بھی شریک ہوں گے۔
مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کامیابی کی صورت میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط جاری ہوگی۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے پیٹرول، بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی 86 روپے 71 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس وصولیوں کا سالانہ ہدف 1100 ارب روپے تک بڑھانے، بجلی اور گیس کے نرخ میں بھی اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ملکی معاشی ترقی کی شرح 6 فیصد کے قریب پہنچ گئی

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) حکومتی خلفشار، سیاسی رسہ کشی اور عالمی وبا کورونا کے خطرات کے باوجود رواں مالی سال ملکی معاشی ترقی کی شرح 6 فیصد کے قریب پہنچ گئی۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ملکی معیشت کا حجم 38 ہزار 755 ارب روپے تک پہنچ جائے گا جو کہ گزشتہ مالی سال 36 ہزار 573 ارب روپے تھا، ملکی معیشت میں لگ بھگ 60 فیصد حصہ رکھنے والے شعبے خدمات میں ترقی کی شرح 6 اعشاریہ 19 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ اس سیکٹر میں گزشتہ مالی سال ترقی کی شرح 5 اعشاریہ 74 فیصد تھی۔
اس کے علاوہ صنعتی ترقی کی شرح 7 اعشاریہ 19 فیصد رواں مالی سال رہی جو گزشتہ مالی سال 7 اعشاریہ 8 فیصد تھی۔
رپورٹ کے مطابق زرعی شعبہ میں ترقی کی شرح 4 اعشاریہ 4 فیصد رواں مالی سال متوقع ہے جبکہ گزشتہ مالی سال اس شعبے میں پھیلاؤ 3 اعشاریہ 48 فیصد رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق حکومت کی جانب سے صنعتوں کو سستے قرضوں کی فراہمی، کاروبار میں آسانی کے لیے اقدامات اور کاشتکاروں کھاد پر دی جانے والی سبسڈی سے معیشت کو فروغ ملا۔
رواں مالی سال کے علاوہ مالی سال 18-2017 صرف دو ایسے سال گزرے ہیں کہ جب معاشی ترقی کی رفتار 6 فیصد کے قریب ریکارڈ کی گئی۔

بلوچستان میں پھر سیاسی ہلچل، وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع

کوئٹہ:(ویب ڈیسک) بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر سیاسی ہلچل مچ گئی، وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق ایک مرتبہ پھر بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی ہے، یہ قرار داد سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال، پی ٹی آئی رہنما سردار یار محمد رند نے کروائی جبکہ قرارداد پر 14 ارکان کے دستخط ہیں۔
قرار داد پیش کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے رہنما سردار جمال کمال نے کہا کہ ہم چاہتے تھے موجودہ حکومت حالات کوبہترکرے۔ بلوچستان حکومت کی کارکردگی بہترنہیں تھی۔ 7ماہ سے ہمارے اوردوستوں کے بلوچستان حکومت پر تحفظات تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بار بار کہا اب ہم خاموش نہیں رہ سکتے، وفاق میں عدم اعتماد تحریک کے دوران ہمارا مختلف پارٹیوں سے رابطہ ہوا، ہم نے سیاسی پارٹیوں سے کہا بلوچستان کی بہتری کے لیے ہمارا ساتھ دینا ہے۔ ہمیں شوق نہیں ایک حکومت آئے اوردوسری چلی جائے، بلوچستان کے ساتھ زیادتی کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے تھے، عدم اعتماد تحریک میں 14 ارکان کے دستخط موجود ہیں، ہم وفاق میں اس ایک ایجنڈے کے ساتھ گئے تھے۔
جام کمال نے کہا کہ کئی بار کہا بلوچستان کے ساتھ ظلم کو برداشت نہیں کر سکتے، شہبازشریف، مولانا فضل الرحمان، زرداری سے ملاقات کے دوران تبدیلی لانے کا ہی بیانیا رکھا تھا، یہ نہیں ہوسکتا بلوچستان کے حالات خراب ہوں اورہم کہیں کہ حکومت مدت پوری کرے، کئی بار حکومت کو کہا آپ کی سنجیدگی نظرنہیں آ رہی۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی سردار یار محمد رند نے کہا کہ جام کمال سے ہمارے اختلاف تھے، ہم چاہتے تھے جو کام جام کمال نہیں کر سکے وہ عبدالقدوس بزنجو کو کرنے تھے، اب ہم سمجھتے ہیں جام کمال کی حکومت ان سے بہت بہتر تھی، بزنجوسے ذاتی کوئی اختلاف نہیں، ہم نے جام کمال پرکبھی کرپشن کا الزام نہیں لگایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پارلیمانی لیڈر ہوں، عمران خان کے ساتھ جدوجہد کی، عمران خان نے بلوچستان کی عوام کے ساتھ بہت زیادتی کی، مجھے افسوس ہے پی ٹی آئی کے پرانے کارکنوں کو نظر انداز کر دیا گیا، خان صاحب کے چہتے ٹائیگرز کو نوازا گیا، جوبات میری زبان سے نکلے گی اسے پورا کریں گے۔

کلاس روم کی کمی، اردو اور ہندی کیلئے بیک وقت ایک ہی بلیک بورڈ کا استعمال

نئی دہلی: (ویب ڈیسک) مودی کے دیس میں کلاس رومز کی کمی نے تشویشناک صورتحال اختیار کرلی، ریاست بہار کے سکول میں اردو اور ہندی پڑھانے کے لئے اساتذہ بیک وقت ایک ہی بلیک بورڈ استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست بہار کے کٹیہار کے ایک سکول کے کلاس روم میں انوکھا انتظام کیا گیا ، آدرش مڈل سکول کی اسسٹنٹ ٹیچر کماری پرینکا نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اردو پرائمری سکول کو 2017 میں واپس آدرش سکول میں منتقل کردیا گیا تھا، اس لیے ہندی اور اردو دونوں ایک ہی کلاس روم میں پڑھائی جاتی ہیں، دونوں زبانوں کے اسباق ایک ساتھ دو اساتذہ کے ذریعہ ہو رہے ہیں۔ ایک اور استاد بچوں کے گروپ میں نظم و ضبط برقرار رکھنے موجود ہوتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کماری پرینکا نے مزید کہا کہ بلیک بورڈ کے ایک آدھے حصے پر ہندی اور دوسرے آدھے حصے پر اردو بیک وقت پڑھائی جاتی ہے، ہمارے سکول میں کافی کلاس رومز نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم طلباء کو ایک ہی کمرے میں پڑھاتے ہیں۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کامیشور گپتا نے کہا کہ اگر آدرش مڈل سکول میں طلبہ کا داخلہ کم ہے تو اردو پرائمری سکول کو ایک کلاس روم دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات نہیں ہے کہ ایک ہی کمرے میں ایک ہی بلیک بورڈ پر مختلف کلاسوں کے بچوں کو پڑھایا جائے۔

خیبرپختون خوا میں کم آمدنی والے گھرانوں کو مفت راشن کیلئے فوڈ کارڈ کا اجراء

پشاور: (ویب ڈیسک) خیبرپختون خوا میں مستحق خاندانوں کو راشن کے لئے 2100 روپے ماہانہ دیئے جائیں گے، جس کے لئے فورڈ کارڈ کا اجرا کردیا گیا ہے۔
خیبرپختوان میں کم آمدن والے خاندانوں کے لئے ایک اچھی اور بڑی خبر یہ ہے کہ وزیر اعلی محمود خان نے صوبے کے کم آمدنی والے گھرانوں کو مفت راشن کی فراہمی کے لئے فوڈ کارڈ اسکیم کا اجراء کردیا ہے، اس اسکیم کے تحت 25 ہزار سے کم ماہانہ آمدنی والے گھرانوں کو بنیادی آشیائے خوردونوش کی خریداری کے لئے نقد رقم فراہم کی جائے گی۔
انصاف فوڈ کارڈ اسکیم کے ذریعے مستحق خاندانوں کو ماہانہ 2100 روپے دیئے جائیں گے، اسکیم سے 50 لاکھ افراد اور 10 لاکھ خاندان مستفید ہوں گے، جب کہ اس اسکیم پر سالانہ 26 ارب روپے لاگت آئے گی۔
اسکیم پر عملدرآمد کے لئے محکمہ خوراک اور بینک آف خیبر کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط۔ کی تقریب وزیر اعلی ہاوس میں منعقد ہوئی جس میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان تقریب کے مہمان خصوصی تھے، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ اسکیم کے بعد فوڈ کارڈ اسکیم پی ٹی حکومت کا ایک اور تاریخی اور غریب پرور منصوبہ ہے، صوبائی حکومت نے نادار لوگوں کو تعاون فراہم کرنے کا ایک اور وعدہ پورا کیا، ابتدائی طور پر صوبے کے کم آمدنی والے 10 لاکھ گھرانوں کو اشیائے خوردونوش کی خریداری کے لئے معاونت فراہم کی جائے گی، اگلے مرحلے میں مزید خاندانوں کو بھی اسکیم میں شامل کیا جائے گا، یکم جولائی سے اسکیم کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔