امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی ‘ٹیسلا’ کی گاڑیاں خریدنے والے افراد اب اپنے فیصلے پر پچھتاوے اور ندامت کا اظہار انوکھے انداز میں کررہے ہیں۔
ٹیسلا گاڑیوں کے مالکان کی جانب سے اپنے گاڑیوں کے بمپر پر لگایا جانے والا اسٹیکر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس میں لکھا ہے کہ ‘یہ میں نے تب خریدی تھی جب ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ایلون مسک کتنا بددماغ شخص ہے’۔
سوشل میڈیا پر ایسی کئی ٹیسلا گاڑیوں پر چسپاں اِس اسٹیکر کی وائرل تصاویر نے ٹیسلا کمپنی اور اس کے متنازعہ سی ای او ایلون مسک کے بارے میں نئی بحث کو جنم دیدیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پُرزور حامی ایلون مسک کی شخصیت سے ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کیلئے اس حکمت عملی کو خوب سراہا ہے، جنہوں نے اپنے حالیہ طرزعمل سے امریکی معاشرے میں نفرت انگیز رویوں کو خوب ہوا دی ہے۔
ایلون مسک کے متنازع خیالات خاص طور پر تب سے لوگوں کے سامنے زیادہ واضح انداز میں آشکار ہونے لگے ہیں جب سے انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس (ٹوئٹر)’ کو خریدا ہے، جس کے بعد سے لوگ یہ سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ کیا کسی کمپنی یا برانڈ کو اس کے سی ای او کے نظریات سے علیحدہ رکھتے ہوئے پرکھنا چاہیے یا نہیں؟
گزشتہ 2 برس کے دوران ایلون مسک اپنے سیاسی خیالات کا اظہار زیادہ واضح انداز میں کررہے ہیں، سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ایکس (ٹوئٹر) پر جھگڑنے، ٹرانسجینڈر مخالف جذبات کو ہوا دینے اور ڈیموکریٹس کیخلاف نفرت انگیز بیان بازی کرنے سمیت انکے متنازع بیانات کی فہرست کافی طویل ہے۔
اسی تناظر میں کئی لوگوں نے اعتراف کیا ہے کہ ایلون مسک کے رویے نے انہیں ٹیسلا گاڑی خریدنے یا ماضی میں خریدنے کے بعد اب اسے اپنی زیرملکیت رکھنے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
رواں سال کے آغاز میں 5 ہزار سے زائد ٹیسلا مالکان پر کیے گئے بلومبرگ سروے میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ اُن میں سے بہت سے لوگ ایلون مسک کی آن لائن مصروفیات اور متنازعہ خیالات کے سبب عدم اطمینان کا شکار ہیں، جبکہ ایلون مسک کے منفی عوامی تاثر نے کئی ممکنہ خریداروں کو ٹیسلا گاڑیاں خریدنے سے گریز پر مجبور کردیا ہے۔

