(19 اپریل 2026): بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے امریکی طاقت کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا امریکا اگر ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین سے بھی نہیں الجھنا چاہیے، ٹرمپ نے دنیا پر اچھے سے ثابت کر دیا کہ امریکا جتنا طاقت ور سمجھا جاتا تھا اتنا ہے نہیں۔
انھوں نے کہا ٹرمپ نے دکھا دیا کہ امریکا مکمل طور پر ناقابلِ شکست طاقت نہیں ہے، امریکی قیادت سمجھتی تھی کہ وہ ایک سپر پاور ہیں، لیکن وہ کوئی سپر طاقت نہیں ہیں۔
بیلاروس کے صدر نے خبردار کیا کہ ’’اب سب یہ سمجھ چکے ہیں اور امریکا کا اصل دشمن چین ہے، اگر امریکا ایران جیسے ملک سے نمٹ نہیں سکا جیسا کہ وہ پہلے ہی پیش گوئی کرتے رہے ہیں، تو اسے چین کے ساتھ ٹکر نہیں لینی چاہیے، کیوں کہ وہ اس طرح کی طاقت کے ساتھ کبھی بھی نمٹ نہیں سکیں گے۔
لوکاشینکو نے مزید کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی امید دیتی ہے کہ جب امریکا کو یہ حقیقت سمجھ آ جائے گی تو اسے نہ صرف چین بلکہ روس کو بھی مدنظر رکھنا پڑے گا۔ روس ایک بہت وسیع علاقہ ہے، اس پر میزائلوں سے کوئی خاص اثر نہیں ڈالا جا سکتا۔ میزائل روس کے رقبے سے پہلے ختم ہو جائیں گے، یہی حقیقت ایران کے معاملے میں بھی سامنے آئی ہے۔
بیلاروس کے صدر نے کہا امریکا اصل میں تیل و گیس کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے، جن کے حصول کے لیے وہ ہر ممکن راستہ اختیار کرتا ہے، امریکا خود کو جمہوریت کا علم بردار کہتا ہے مگر وہاں حقیقی جمہوریت ہے نہ ہی انسانی حقوق کا احترام۔ وینزویلا، کیوبا اور مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیاں اصل آمریت ہیں۔ اسرائیل کے کہنے پر امریکا نے ہزاروں کلو میٹر دور ایک خودمختار ملک میں ایک اسکول پر بمباری کی، اس میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔






































