منشیات فروشی کےکیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی۔
انمول عرف پنکی نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز اسکول سہراب گوٹھ کراچی سے حاصل کی، ماڈلنگ اور اداکاری کے شوق میں 2006 میں لاہور شفٹ ہوئی، مینار پاکستان پر ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی بعد میں اسی کے ساتھ رہنے لگی۔
انمول عرف پنکی کے مطابق وہ ماڈلنگ اور اداکاری کے لیے فلموں کے ڈائریکٹرز کے دفاتر جاتی تھی، سابق پولیس افسر شوہر سے ملاقات بھی فلم ڈائریکٹر کے دفتر میں ہوئی، سابق شوہر نے ہی انہیں اپنے منشیات فروش گینک کا حصہ بنایا۔
انمول عرف پنکی نے بتایاکہ سابق شوہر کے ذریعے ہی اس کے گروپ ممبران سے ملاقات ہوئی، گروپ ممبر کے کہنے پر شوہر سے طلاق لی، علیحدگی کے بعد منشیات فروشی کا اپنا کام شروع کیا۔
انمول عرف پنکی کا بتانا تھاکہ گروپ ممبر خاتون نے سیاہ فام افریقی باشندے سے شادی کر رکھی ہے، گروپ ممبر خاتون کا سیاہ فام افریقی شوہرکوکین پاکستان اسمگل کرتا تھا، 2024 میں سی آئی اے لاہور نےگرفتار ہوئی، سابق شوہر کے لیےکام کے دوران منشیات بریف کیس میں رکھ کر کراچی کے ایک شخص کو پہنچاتی تھی، سابق شوہرکا نیٹ ورک راولپنڈی، لاہور اور کراچی تک پھیلا ہوا ہے، اس نےمجھے کراچی کا انچارج بنایا۔
پنکی کے مطابق شوہر سے علیحدگی کے بعد منشیات کی سپلائی کیلئے خاتون کو ملازم رکھا، لاہور کی ایک خاتون بھی کوکین سپلائی کرتی ہے، کراچی کے لیے 7 رائیڈرز پر مشتمل نیٹ ورک بنایا ہوا تھا، 4 رائیڈرزگرفتار ہوئے اور بعد میں کام چھوڑ دیا، 3 رائیڈرز اب بھی کام کررہے ہیں۔
انمول عرف پنکی نے یہ بھی بتایاکہ پیسوں کے لین دین کے لیے ایک شخص کے نام پربینک میں اکاؤنٹ بھی کھولا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کا پولیس نے اب تک ڈرگ ٹیسٹ نہیں کرایا، ملزمہ کا آج میڈیکل معائنہ کرایا گیا لیکن ڈرگ ٹیسٹ کیلئے سیمپل نہیں لیے گئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ڈرگ ٹیسٹ کیلئے بلڈ، یورین اور سر کے بال کے سیمپل لیبارٹری بھیجے جاتے ہیں، ڈرگ ٹیسٹ نہ ہونے سے ملزمہ کے منشیات استعمال کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکےگا۔
انمول عرف پنکی کے خلاف پولیس انکوائری میں لاہور میں درج 2020 اور 2022 کے مقدمہ کی ناقص تفتیش کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقدمے کے تفتیشی افسر نزاکت نے پنکی کو گرفتار نہیں کیا تھا، صفحہ مثل کے چالان میں انمول عرف پنکی کو اشتہاری بھی نہیں کیا گیا، چالان میں پنکی کی گرفتاری التوا میں رکھ کرگرفتار ملزم ریاض کوبری کروادیاگیا تھا، پنکی کے بھائی ریاض سے برآمد ہونے والی منشیات کا فرانزک بھی نہیں کروایاگیا۔
ذرائع کے مطابق پنکی کیخلاف مقدمےکا تفتیشی افسر نزاکت ریٹائرڈ ہوچکا ہے، لیگل افسران کی رائےکے بعد کیس کی تفتیش دوبارہ کی جائےگی۔





































