فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش آنے والے مہینوں میں عالمی سطح پر خوراک کے شدید بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
ادارے کے مطابق ہرمز کے راستے عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اور کھاد کی سپلائی کا ایک تہائی حصہ گزرتا تھا، تاہم ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد یہ اہم گزرگاہ مؤثر طور پر بند ہو گئی ہے۔
ایف اے او نے خبردار کیا کہ اس صورت حال کے باعث خاص طور پر گرمیوں کی فصلوں کے لیے کھاد کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ادارے نے متبادل زمینی و بحری راستوں، خصوصاً جزیرہ نما عرب سے بحیرہ احمر تک راستے استعمال کرنے پر زور دیا، جبکہ ممالک سے اپیل کی کہ توانائی اور کھاد کی برآمدات پر پابندیاں نہ لگائی جائیں اور غذائی امداد کو تجارتی پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا جائے۔
ایف اے او کے چیف اکنامسٹ میکسیمو ٹوریرو کے مطابق یہ صرف عارضی مسئلہ نہیں بلکہ “زرعی و غذائی نظام کو باقاعدہ جھٹکا” ہے، جو مرحلہ وار سامنے آ رہا ہے۔
ادارے کے مطابق بحران کی شدت مختلف مراحل سے گزرے گی، جن میں توانائی کی قلت، کھاد اور بیجوں کی کمی، پیداوار میں کمی، اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور بالآخر خوراک کی مہنگائی شامل ہیں۔
ایف اے او نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو آئندہ 6 سے 12 ماہ میں مکمل عالمی خوراک بحران پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ ادارے کا عالمی فوڈ پرائس انڈیکس پہلے ہی مسلسل تین ماہ سے بڑھ رہا ہے۔






































