تازہ تر ین

حج اور عید الاضحیٰ 2026 کب ہیں؟ (ایک بصری گائیڈ)

تقریباً 20 لاکھ مسلمان سالانہ حج کے مقدس سفر کے لیے مکہ مکرمہ جانے کی تیاری کر رہے ہیں، جو 25 مئی سے شروع ہوگا، یہ اعلان سعودی عرب میں ہلالِ ذوالحج کا چاند نظر آنے کے بعد کیا گیا۔

حج دنیا بھر کے مسلمانوں کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع ہے، اور یہ بہت سے افراد کے لیے زندگی میں ایک بار ادا کیا جانے والا روحانی سفر ہے۔ یہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے آخری رکن بھی ہے۔

مزید معلومات (Recommended Stories)

  1. حج کو بصری انداز میں سمجھایا گیا
  2. حج کا پانی: زمزم پر ایک سادہ تصویری گائیڈ
  3. حج کی وضاحت: مسلمانوں کے مقدس سفر کے اہم مناسک کا جائزہ
  4. “ماضی کے دنوں میں دنیا محفوظ تھی”: مغربی کنارے کے ایک خاندان کا پائیدار اتحاد

اس بصری وضاحتی رپورٹ میں Khabrain Digital کے مطابق ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان حج کیسے ادا کرتے ہیں، اس کے اہم مراحل، عبادات اور تیاریوں سمیت۔

حج کیا ہے؟
حج سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ کی طرف کیا جانے والا سالانہ مقدس سفر ہے۔ یہ اسلام کا پانچواں اور آخری رکن ہے، جس میں کلمۂ شہادت، پانچ وقت کی نماز، زکوٰۃ، اور رمضان کے روزے شامل ہیں۔

لفظ “حج” عربی جڑ “ح-ج-ج” سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے “ارادے کے ساتھ سفر کرنا” یا “ایک واضح مقصد کے لیے روانہ ہونا”۔

یہ ہر بالغ مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے، بشرطیکہ وہ جسمانی اور مالی طور پر اس سفر کی استطاعت رکھتا ہو۔

حج کب ادا کیا جاتا ہے؟

حج ذوالحجہ کے 8 سے 12 (یا 13) تاریخوں کے درمیان ادا کیا جاتا ہے، جو اسلامی کیلنڈر کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے۔

اس کا وقت رمضان کے اختتام کے تقریباً 70 دن بعد آتا ہے، تاہم یہ مدت چاند کے حساب سے کچھ کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

سال 2026 میں حج 25 مئی سے 27 مئی تک ادا کیا جائے گا، لیکن بہت سے حاجی اس سفر کی تیاری کے لیے ہفتوں پہلے ہی سعودی عرب پہنچ جاتے ہیں۔
چونکہ اسلامی کیلنڈر قمری نظام پر مبنی ہے، جس میں مہینے 29 یا 30 دن کے ہوتے ہیں اس لیے حج ہر سال عیسوی (Gregorian) کیلنڈر کے مقابلے میں تقریباً 10 سے 12 دن پہلے آ جاتا ہے۔

مسلمان حج کیوں ادا کرتے ہیں؟

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حج اللہ تعالیٰ کا براہِ راست حکم ہے، جیسا کہ قرآنِ مجید میں بیان کیا گیا ہے۔

حضرت محمد ﷺ کا “حجۃ الوداع” (632 عیسوی) اسلامی کیلنڈر کے دسویں سال میں اس عمل کی تصدیق کرتا ہے، اور قرآن میں بھی حج کا ذکر تقریباً ایک درجن بار آیا ہے۔

حج کا آغاز مکہ مکرمہ پہنچنے سے بھی پہلے ہو جاتا ہے۔

یہ ایک روحانی سفر ہے، جس میں مسلمان اللہ سے معافی مانگتے ہیں، اپنے گناہوں کی توبہ کرتے ہیں، اپنی روح کو پاک کرتے ہیں اور اللہ کے سامنے مکمل اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار کرتے ہیں۔

حج کیسے ادا کیا جاتا ہے؟
مسلمان حج کے پانچ دنوں کے دوران مختلف عبادات اور مناسک ادا کرتے ہیں، جنہیں درج ذیل مراحل میں بیان کیا جا سکتا ہے۔

دن 1
احرام: حج کے سفر کا آغاز

مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے حجاج ایک مقدس حالت میں داخل ہوتے ہیں جسے احرام کہا جاتا ہے۔ حج کی نیت کرنے کے بعد مرد دو سفید بغیر سلی ہوئی چادریں پہنتے ہیں جبکہ خواتین سادہ اور باوقار لباس اختیار کرتی ہیں۔

یہ سادہ لباس برابری، عاجزی اور اللہ کے سامنے اتحاد کی علامت ہے، جس میں قومیت، دولت اور سماجی حیثیت کے فرق ختم ہو جاتے ہیں۔

2. طواف: خانہ کعبہ کے گرد چکر لگانا

مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد حجاج خانہ کعبہ کے گرد چکر لگاتے ہیں، جو مسجد الحرام (بیت اللہ) میں واقع ایک مکعب شکل کی عمارت ہے اور قبلہ کی حیثیت رکھتی ہے، یعنی وہ سمت جس کی طرف مسلمان نماز کے دوران رخ کرتے ہیں۔

حجاج خانہ کعبہ کے گرد سات مرتبہ الٹی گھڑی کی سمت میں چکر لگاتے ہیں۔ یہ ایک مشترکہ نظم و ترتیب اللہ واحد کی عبادت میں اتحاد اور یکجہتی کی علامت ہے۔

3. سعی: صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگانا

اس کے بعد حجاج سعی کا عمل ادا کرتے ہیں، جس میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات مرتبہ آمد و رفت کی جاتی ہے۔

یہ عبادت اس تاریخی واقعے کی یاد دلاتی ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ حضرت ہاجرہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے مکہ کے صحرا میں پانی کی تلاش میں ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑتی تھیں، یہاں تک کہ زمزم کا چشمہ ظاہر ہوا۔

اسلامی روایت کے مطابق یہ چشمہ تقریباً 4000 سال سے اس خشک صحرا میں پاکیزہ پانی فراہم کر رہا ہے اور آج بھی حجاج کو سیراب کر رہا ہے۔


4. منیٰ: خیموں کا شہر

اس کے بعد حجاج منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں، جو خانہ کعبہ سے تقریباً 8 کلومیٹر (5 میل) مشرق میں واقع ہے، جہاں وہ رات عبادت، دعا اور غور و فکر میں گزارتے ہیں۔

منیٰ کو “خیموں کا شہر” بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں لاکھوں حجاج کی رہائش کے لیے تقریباً ایک لاکھ سفید خیموں کا وسیع انتظام موجود ہوتا ہے۔

دن 2

5. عرفات: حج کا مرکزی دن

حج کے دوسرے دن حجاج صبح سویرے منیٰ سے تقریباً 15 کلومیٹر (9 میل) دور جبلِ عرفات کے میدان میں پہنچتے ہیں۔ وہ دوپہر سے لے کر غروبِ آفتاب تک وقوفِ عرفہ میں وقت گزارتے ہیں، جس دوران وہ دعا، عبادت اور توبہ و استغفار کرتے ہیں۔

عرفات کا دن حج کا سب سے اہم رکن ہے اور اسے قیامت کے دن کی ایک جھلک بھی سمجھا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس دن روزہ رکھنے، عبادت کرنے اور غور و فکر کی ترغیب دی جاتی ہے۔

6. مزدلفہ: کھلے آسمان تلے قیام

غروبِ آفتاب کے بعد حجاج مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں، جو تقریباً 9 کلومیٹر (5.5 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔

وہاں پہنچ کر وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرتے ہیں اور اگلے دن کے مناسک کے لیے کنکریاں جمع کرتے ہیں۔

دن 3

اس دن دنیا بھر کے مسلمان Eid al-Adha کا پہلا دن مناتے ہیں، جسے قربانی کی عید بھی کہا جاتا ہے۔

صبح سویرے ہی حجاج مختلف مناسک کی ادائیگی شروع کرتے ہیں، جن کا آغاز منیٰ کی طرف واپس روانگی سے ہوتا ہے۔

7. ستونوں کو کنکریاں مارنا

حجاج منیٰ میں داخل ہوتے ہیں، جہاں وہ تین پتھر کے ستونوں میں سے سب سے بڑے ستون کو سات کنکریاں مارتے ہیں۔

یہ عمل “رمیِ جمرات” کہلاتا ہے اور اس سے مراد شیطان کو کنکریاں مارنا ہے، جو شیطانی وسوسوں اور اس کی ترغیبات کو رد کرنے کی علامت ہے۔

8. عید الاضحیٰ کے دوران قربانی

حجاج یا ان کی طرف سے مقرر کردہ افراد جانور کی قربانی پیش کرتے ہیں، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کی یاد میں کی جاتی ہے جب انہوں نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کیا۔

9. بال کٹوانا یا منڈوانا

مرد اپنے سر کے بال منڈواتے یا ترشواتے ہیں، جبکہ خواتین اپنے بالوں کا ایک چھوٹا سا حصہ کاٹتی ہیں۔ یہ عمل روحانی پاکیزگی اور نئے آغاز کی علامت ہے۔

10. طوافِ زیارت (مین طواف)

حجاج دوبارہ مکہ مکرمہ واپس آتے ہیں اور خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہیں، جس میں وہ سات مرتبہ اس کے گرد چکر لگاتے ہیں۔

اس کے بعد وہ سعی ادا کرتے ہیں، جس میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات مرتبہ آمد و رفت کی جاتی ہے۔

دن 4 اور 5

حجاج دوبارہ منیٰ واپس آتے ہیں اور دونوں دنوں میں تینوں جمرات (پتھر کے ستونوں) کو کنکریاں مارتے ہیں، جسے رمی کہا جاتا ہے۔

جو حجاج ایک اضافی دن قیام کرتے ہیں، وہ تینوں ستونوں کو دوبارہ کنکریاں مارنے کا عمل دہراتے ہیں۔

مکہ مکرمہ سے روانگی سے پہلے حجاج خانہ کعبہ کا آخری طواف کرتے ہیں، جسے طوافِ وداع کہا جاتا ہے، اور یہ مقدس مقام کو روحانی الوداع دینے کی علامت ہوتا ہے۔


حج کا اختتام مسلمان کیسے مناتے ہیں؟

مسلمان حج کے اختتام کو Eid al-Adha کے ذریعے مناتے ہیں، جو 10 ذوالحجہ کو منائی جاتی ہے اور کئی ممالک میں تین دن تک جاری رہتی ہے۔

اس دن کا آغاز نمازِ عید سے ہوتا ہے، جو سورج نکلنے کے کچھ دیر بعد ادا کی جاتی ہے۔ مسلمان مساجد یا کھلے میدانوں میں اکٹھے ہو کر اپنی بہترین لباس میں نماز ادا کرتے ہیں۔

دن کا باقی حصہ کھانے پینے، تحائف کے تبادلے، اور رشتہ داروں و دوستوں سے ملاقات میں گزرتا ہے۔ اس موقع پر “عید مبارک” کا پیغام عام طور پر دیا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے “برکت والی عید”۔

عید الاضحیٰ میں قربانی (قربانی) کا عمل بھی شامل ہوتا ہے، جس میں صاحبِ استطاعت مسلمان بھیڑ، بکری، گائے یا اونٹ کی قربانی کرتے ہیں۔ اس گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے، ایک رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے، اور ایک ضرورت مندوں کے لیے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain