
حج کب ادا کیا جاتا ہے؟
حج ذوالحجہ کے 8 سے 12 (یا 13) تاریخوں کے درمیان ادا کیا جاتا ہے، جو اسلامی کیلنڈر کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے۔
اس کا وقت رمضان کے اختتام کے تقریباً 70 دن بعد آتا ہے، تاہم یہ مدت چاند کے حساب سے کچھ کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
سال 2026 میں حج 25 مئی سے 27 مئی تک ادا کیا جائے گا، لیکن بہت سے حاجی اس سفر کی تیاری کے لیے ہفتوں پہلے ہی سعودی عرب پہنچ جاتے ہیں۔
چونکہ اسلامی کیلنڈر قمری نظام پر مبنی ہے، جس میں مہینے 29 یا 30 دن کے ہوتے ہیں اس لیے حج ہر سال عیسوی (Gregorian) کیلنڈر کے مقابلے میں تقریباً 10 سے 12 دن پہلے آ جاتا ہے۔

مسلمان حج کیوں ادا کرتے ہیں؟
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حج اللہ تعالیٰ کا براہِ راست حکم ہے، جیسا کہ قرآنِ مجید میں بیان کیا گیا ہے۔
حضرت محمد ﷺ کا “حجۃ الوداع” (632 عیسوی) اسلامی کیلنڈر کے دسویں سال میں اس عمل کی تصدیق کرتا ہے، اور قرآن میں بھی حج کا ذکر تقریباً ایک درجن بار آیا ہے۔
حج کا آغاز مکہ مکرمہ پہنچنے سے بھی پہلے ہو جاتا ہے۔
یہ ایک روحانی سفر ہے، جس میں مسلمان اللہ سے معافی مانگتے ہیں، اپنے گناہوں کی توبہ کرتے ہیں، اپنی روح کو پاک کرتے ہیں اور اللہ کے سامنے مکمل اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار کرتے ہیں۔
حج کیسے ادا کیا جاتا ہے؟
مسلمان حج کے پانچ دنوں کے دوران مختلف عبادات اور مناسک ادا کرتے ہیں، جنہیں درج ذیل مراحل میں بیان کیا جا سکتا ہے۔

دن 1
احرام: حج کے سفر کا آغاز
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے حجاج ایک مقدس حالت میں داخل ہوتے ہیں جسے احرام کہا جاتا ہے۔ حج کی نیت کرنے کے بعد مرد دو سفید بغیر سلی ہوئی چادریں پہنتے ہیں جبکہ خواتین سادہ اور باوقار لباس اختیار کرتی ہیں۔
یہ سادہ لباس برابری، عاجزی اور اللہ کے سامنے اتحاد کی علامت ہے، جس میں قومیت، دولت اور سماجی حیثیت کے فرق ختم ہو جاتے ہیں۔

2. طواف: خانہ کعبہ کے گرد چکر لگانا
مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد حجاج خانہ کعبہ کے گرد چکر لگاتے ہیں، جو مسجد الحرام (بیت اللہ) میں واقع ایک مکعب شکل کی عمارت ہے اور قبلہ کی حیثیت رکھتی ہے، یعنی وہ سمت جس کی طرف مسلمان نماز کے دوران رخ کرتے ہیں۔
حجاج خانہ کعبہ کے گرد سات مرتبہ الٹی گھڑی کی سمت میں چکر لگاتے ہیں۔ یہ ایک مشترکہ نظم و ترتیب اللہ واحد کی عبادت میں اتحاد اور یکجہتی کی علامت ہے۔


















































