تازہ تر ین

گوشت اور ڈیری میں موجود لیوسین کا حیران کن فائدہ سامنے آ گیا

کیمبرج یونیورسٹی کے محققین نے حال ہی میں ایک نیا طریقہ کار دریافت کیا ہے جس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ’لیوسین‘ نامی امینو ایسڈ کس طرح مائٹوکونڈریا کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔

سائنس ڈیلی میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق مائٹوکونڈریا کو اکثر خلیے کے ’’پاور ہاؤس‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے کیوں کہ یہ وہ توانائی پیدا کرتے ہیں جس کی جسم کو اپنے افعال سرانجام دینے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ یہ باریک اسٹرکچرز خلیات کی توانائی کی ضروریات کے مطابق مسلسل اپنی سرگرمیوں کو تبدیل کرتی رہتی ہیں۔

سائنس دان طویل عرصے سے یہ جانتے ہیں کہ غذائی عناصر اس عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن خلیات ان غذائی عناصر کو کیسے محسوس کرتے ہیں اور ان پر کیا ردعمل دیتے ہیں، یہ بات اب تک واضح نہیں تھی۔

اب، نئے طریقہ کار کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ لیوسین توانائی کی پیداوار میں شامل بنیادی پروٹینوں کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے جس سے خلیات زیادہ کارکردگی کے ساتھ توانائی پیدا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

گوشت اور ڈیری میں لیوسین


لیوسین ایک ضروری امینو ایسڈ ہے یعنی جسم اسے خود پیدا نہیں کر سکتا اور اسے خوراک سے حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ پروٹین سے بھرپور غذاؤں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ ان غذاؤں میں گوشت، ڈیری مصنوعات، پھلیاں اور دالیں شامل ہیں۔

لیوسین پروٹین بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن نئی تحقیق نے اس کے ایک اور اہم کام کا انکشاف کیا ہے، محققین نے دریافت کیا ہے کہ لیوسین مائٹوکونڈریا کی بیرونی سطح پر موجود کچھ پروٹینز کو ٹوٹنے سے روکتا ہے۔ یہ پروٹین مائٹوکونڈریا تک اہم میٹابولک مالیکیولز کو منتقل کرنے میں مدد کرتے ہیں جس سے توانائی کی مسلسل اور موثر پیداوار ممکن ہوتی ہے۔

ان پروٹینز کو ٹوٹنے سے بچا کر لیوسین مائٹوکونڈریا کو اعلیٰ سطح پر کام کرنے کے قابل بناتا ہے اور خلیات کو ان کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

SEL1L پروٹین کا کردار


محققین نے ایک کلیدی پروٹین کی بھی نشاندہی کی ہے جسے SEL1L کہا جاتا ہے جو اس عمل کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ عام حالات میں SEL1L خلیے کے معیار کی نگرانی کے نظام کے ایک حصے کے طور پر کام کرتا ہے جہاں یہ خراب یا غلط طریقے سے تہہ شدہ پروٹینز کی نشان دہی کرتا ہے اور انھیں تلف کرنے کے لیے نشان زد کرتا ہے۔

مطالعے کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ لیوسین SEL1L کی سرگرمی کو روکتا ہے۔ نتیجے کے طور پر مائٹوکونڈریا کے پروٹینوں کا ٹوٹنا کم ہو جاتا ہے جس سے مائٹوکونڈریا کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور خلیاتی توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔

محققین نے مزید کہا کہ لیوسین اور SEL1L کی سطحوں میں ترمیم کرنا توانائی کی پیداوار کو بڑھانے کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ لیکن اس حوالے سے احتیاط برتنا ضروری ہے کیوں کہ SEL1L خراب پروٹینز کے جمع ہونے کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے جو طویل مدت میں خلیے کی صحت کے لیے ضروری ہے۔

کینسر اور میٹابولک بیماریاں


محققین کی ٹیم نے انسانی پھیپھڑوں کے کینسر کے خلیات کا بھی معائنہ کیا اور دریافت کیا کہ کینسر سے وابستہ کچھ تبدیلیاں (میوٹیشنز) جو لیوسین کے میٹابولزم کو متاثر کرتی ہیں کینسر کے خلیات کی بقا کو بہتر بناتی ہیں۔ یہ نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ راستہ مستقبل میں کینسر کی تحقیق اور علاج کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس ریسرچ اسٹڈی کی قیادت انسٹی ٹیوٹ آف جینیٹکس اور CECAD ایجنگ ریسرچ ایکسی لینس کلسٹر کے پروفیسر تھورسٹن ہوپ نے کی، اور یہ جریدے ’’نیچر سیل بائیولوجی‘‘ میں شائع ہوا ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain