انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے فاسٹ بولر برائیڈن کارس کے حالیہ نائٹ کلب تنازع کے بعد انگلش کرکٹ میں سخت کارروائی پر زور دیا ہے۔ وان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ایسی سزا ہونی چاہیے جو انگلینڈ کی موجودہ ٹیم کے ساتھ ساتھ نچلی سطح پر کھیلنے والے نوجوان کرکٹرز کے لیے بھی واضح مثال قائم کرے۔
31 سالہ برائیڈن کارس کو ہفتے کی شب ڈربی میں اپنے ڈرہم کے ساتھی کھلاڑیوں کے ہمراہ ایک نائٹ کلب کے باہر مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ایک شخص کو شراب کے نشے میں بد نظمی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا، تاہم کچھ دیر بعد اسے رہا کردیا گیا اور علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔
واقعے کے بعد انگلینڈ کی کرکٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں۔ تحقیقات کے دوران کارس کو پاکستان کے خلاف لارڈز میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے انگلینڈ اسکواڈ سے باہر کردیا گیا، جبکہ ان کی جگہ نوجوان فاسٹ بولر سونی بیکر کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
مائیکل وان نے انگلینڈ میں کھلاڑیوں کے حالیہ ڈسپلن سے متعلق واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انگلینڈ کے متعدد سینٹرل کنٹریکٹ کھلاڑی رات گئے پیش آنے والے مختلف واقعات میں ملوث رہے یا ان واقعات کے موقع پر موجود تھے۔ ان میں ہیری بروک، بین ڈکٹ، بین اسٹوکس اور گس ایٹکنسن جیسے اہم کھلاڑی بھی شامل رہے ہیں۔
وان کے مطابق اگر ایسے معاملات بار بار پیش آتے ہیں تو صرف معمولی تنبیہ کافی نہیں ہوگی، بلکہ ٹیم مینجمنٹ کو ایسا واضح پیغام دینا ہوگا جس سے کھلاڑی اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیں۔
سابق انگلش اسپنر فل ٹفنل نے بھی سخت کارروائی کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چند میچز کے لیے معطلی جیسی سزا کھلاڑیوں کو نظم و ضبط کی اہمیت کا احساس دلانے میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
برائیڈن کارس انگلینڈ کے اہم فاسٹ بولرز میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اکتوبر 2024 میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا اور اس کے بعد سے انگلینڈ کے لیے 58 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی پاکستان کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے بولنگ اٹیک کے لیے اہم تبدیلی سمجھی جارہی ہے۔
دوسری جانب انگلینڈ کے کپتان جو روٹ کو بھی ٹیم کے نظم و ضبط، رات گئے ہونے والی سرگرمیوں اور شراب نوشی سے متعلق سوالات کا سامنا ہے۔ کارس کا معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انگلش کرکٹ میں کھلاڑیوں کے رویے اور آف دی فیلڈ سرگرمیوں پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔
#khabraindigital #Bry

