صنعا،ریاض(آئی این پی )یمنی حکومت کی مسلح
افواج نے اعلان کیا ہے کہ انہوںنے تعز کے مغرب میں ایسے مقامات دوبارہ اپنے قبضے میں لے لئے ہیں، جہاں انصار اللہ حوثی گروپ کے جنگجو داخل ہو گئے تھے جبکہ مزید نئے علاقوں کی جانب پیش قدمی جاری ہے،حملوں میں متعدد فوجی گاڑیاں تباہ اور درمیانے درجے کے اسلحے کے گولہ بارود کا ذخیرہ پھٹ گیا، کم از کم 10 مسلح افراد ہلاک ہوگئے جبکہ حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں فضائی حملے کئے ہیں ۔بی بی سی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے وابستہ یمنی خبر رساں ایجنسی سبا نے بتایا ہے کہ یمنی فورسز نے حوثیوں کے اجتماعات پر فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں، درمیانے درجے کے اسلحے کے گولہ بارود کا ذخیرہ پھٹ گیا اور کم از کم 10 مسلح افراد ہلاک ہوئے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ریاض کی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے حوثیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی جھڑپوں کے دوران بحیرہ احمر کے ساحل پر اپنی عسکری موجودگی بڑھانے کا عہد کیا ہے۔دوسری جانب حوثی باغیوں کے ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے تعز میں ان علاقوں کو نشانہ بنایا جہاں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے حالیہ دنوں میں یمنی حکومتی فورسز کے خلاف اہم فوجی پیشرفت کی ہے۔ حوثیوں کے ٹی وی چینل نے یہ بھی بتایا کہ سعودی فضائی حملوں میں شمالی یمن میں حوثیوں کے اہم گڑھ صعدہ میں بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اسی صوبے کے سرحدی علاقے منبہ میں توپ خانے سے فائرنگ کی گئی۔اس سے قبل حوثی ترجمان نے دعوی کیا تھا کہ گروپ نے جنوبی سعودی عرب میں فوجی اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ ادھر سعودی سول ڈیفنس نے مملکت کے جنوبی حصے کے چار شہروں میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر ابتدائی انتباہ جاری کیا۔ یہ انتباہ نجران، خمیس مشیط، جازان اور ابہا کے لیے تھا۔ بعد ازاں ادارے نے خطرہ ٹل جانے کی اطلاع دیتے ہوئے انتباہات واپس لے لئے ۔سعودی عرب کے ادارہ سول ڈیفنس نے یہ انتباہ ابہا اور خمیس مشیط کے قریبی علاقوں کیلئے جاری کیا، ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی گزشتہ ہفتے سے شدت اختیار کر گئی ہے۔20 جولائی کو حوثیوں نے سعودی ناکہ بندی کے جواب میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ادھر یمن کے حوثی گروپ کی باب المندب آبنائے کے قریب بڑھتی ہوئی موجودگی کے باعث اسرائیل نے اپنی بحری افواج کی تیاری اور نگرانی میں اضافہ کردیا ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو نے اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی سکیورٹی ادارے بحیرہ احمر کے ساحل پر حوثیوں کی پیش قدمی اور اہم سمندری گزرگاہ کے اطراف ان کی پوزیشن مضبوط ہونے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔اسرائیلی اندازوں کے مطابق یمنی حکومت کی فورسز کی پیریم جزیرے (میون آئی لینڈ ) سے پسپائی نے حوثیوں کی بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بڑھا دی ہے۔ یہ جزیرہ باب المندب کے داخلی راستے کے قریب واقع ہے اور اس کی جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے۔باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس راستے میں کشیدگی یا بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔اسرائیل کی جانب سے بحری تیاری میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی نے خطے میں بحری سلامتی کے خدشات مزید بڑھا دئیے ہیں۔
حوثی
