سرگودھا(محمد کامران ملک رلززبوں حالیہائی سکاول اتقلالاباد کی طسے) وزیراعلیٰ پنجاب ایک نظر ادھر بھی،آئیے دیکھے کہ ہم فروغ تعلیم کے لیے کیسے کوشاں ہیں،تعداد کے لحاظ سے اے کیٹیگری کا گورنمنٹ گرلز ہائی سکول استقلال آباد بغیر کسی سکیورٹی گارڈ ،چوکیدار کے رواں دواں، 1800 طالبات کی زندگیاں اور سکول کی قیمتی اشیاء دائو پر لگا دی گئیں۔سکول کا واحد نائب قاصد عرصہ دراز سے کمشنر آفس میں تعینات،سیکرٹری ایجوکیشنکے عارضی ڈیوٹیوں کے خاتمے بارے واضح احکامات کے باوجود مذکورہ نائب قاصد سکول واپس نہ ہو سکا،سکول میں ترقیاتی کام بھی جاری،پرائمری و ہائی دو پورشن میں عمارتیں ہونے اور بغیر چوکیدار کے قیمتی میٹریل بھی چوری ہونے کا اندیشہ ۔ماضی میں بھی چوری ہونے کا انکشاف۔اہل علاقہ اور سکول انتظامیہ کا سکیورٹی گارڈز اور صبح و شام میں چوکیدار تعینات کرنے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائی سکول استقلال آباد جس میں طالبات کی تعداد 1800 کے قریب ہے اور سکول اے کیٹیگری میں فعال کرتا ہے ۔سکول کی عمارت بھی دو حصوں میں ہے’ پرائمری سیکشن اور ہائی سیکشن کی الگ الگ عمارتیں ہیں۔ 1800 کے قریب طالبات کے لیے کوئی سکیورٹی گارڈز نہ ہیں جبکہ سکول کے دونوں حصوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے صبح اور شام میں ایک بھی چوکیدار نہ ہے۔ سکول میں ترقیاتی کام بھی جاری ہے۔ قیمتی میٹریل بھی موقع پر موجود ہے۔ ماضی میں چوری ہو چکی ہے۔ سکول کا قیمتی ریکارڈ ‘اشیاء انتہائی غیر محفوظ ہیں ۔سکول کا واحد نائب قاصد اعجاز حسین سالہاسال سے کمشنر آفس میں اے ڈی سی جنرل کے پاس عارضی ڈیوٹی کر رہا ہے اور وہ صاحب موصوف اسے اس لیے ریلیز نہیں کرتے کہ وہ کافی (چائے) بہت اچھی بناتا ہے بلکہ اس کی عارضی ڈیوٹی بارے تصدیقی اور اس کی عارضی ڈیوٹی کو مذید برقرار رکھنے کے لیے کمشنر کی طرف سے لیٹر بھی لکھے جارہے ہیں حالانکہ سیکرٹری ایجوکیشن پنحاب نے عارضی ڈیوٹی بارے سخت احکامات جاری کر رکھے ہیں جن کی روشنی میں سی او ایجوکیشن نے بھی تمام ڈیوٹیاں کینسل کرنے کا لیٹر جاری کر رکھا ہے لیکن ان پر عملی عملدر آمد نہ ہو سکا ہے۔ دوسری طرف ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری کی جانب سے دو نائب قاصد ملازمین کے استقلال آباد سکول میں آرڈرز ہونے کے باوجود تاحال تک ان پر عمل در آمد نہ ہو سکا ہے۔ اہل علاقہ اور سکول انتظامیہ نے اس مسئلہ پر وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ سرگودھا ضلع کے اکثر سکولوں میں درجہ چہارم کے چھ چھ ملازمین تعینات ہیں اور ان سکولوں میں طالبات کی تعداد بھی بہت کم ہے اور وہ اے کیٹیگری میں فعال بھی نہ کرتے ہیں۔
