جدہ’ روم (آئی این پی)جدہ میں سعودی اتحاد کا چوتھا منصوبہ بندی اجلاس ہوا،جس میں خلیج عدن،آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر سمیت اہم عالمی آبی گزرگاہوں میں بحری آمدورفت یقینی بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں دوست ممالک کے 154بحری کمانڈرز اور سفیروں نیشرکت کی،سعودی کمانڈرعبداللہ بن سالم الشہری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کا تحفظ اجتماعی ذمہ داری ہے،عالمی بحری سلامتی کولاحق ہرخطریکا سدباب کیاجائیگا،کثیرملکی بحری دفاعی اتحاد کی آپریشنل صلاحیت مکمل طور پر بحال ہے۔ سعودی عرب کے شہروں جدہ، طائف اور ینبوع میں خطرے کی وارننگ جاری کی گئی۔ گزشتہ رات العلا، خمیس مشیط، جازان اور ابھا کے لیے بھی وارننگ جاری کی گئی۔کچھ دیر بعد سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے خطرہ ٹلنے اور وارننگ واپس لینے کا اعلان کردیا گیا۔علاوہ ازیں سعودی وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور مقیم افراد کو سوشل میڈیا اور مختلف پلیٹ فارمز پر پیغامات یا معلومات شیئر کرنے سے قبل ان کی تصدیق کرنے کی ہدایت کی ہے۔سعودی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسی معلومات کو آگے منتقل نہ کریں جن کے درست ہونے کی تصدیق نہ ہوئی ہو۔سعودی عرب کے طائف ایئر بیس پر ہونے والے حوثی حملوں کے دوران ایک اطالوی لڑاکا طیارے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔اطالوی دفاعی وزیر گائیڈو کروزیتو نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی حملے میں لڑاکا طیارے کو نقصان پہنچا ہے تاہم کسی فوجی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی طیارے کے ساتھ موجود دیگر اثاثوں یا مقامی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔وزارتِ دفاع کے مطابق حملے کے وقت طیارہ ایئر بیس کے ایک دور دراز اور مرکزی تنصیب سے الگ حصے میں موجود تھا۔دھماکے کے شدید اثرات کے باوجود حفاظتی پروٹوکولز کے باعث علاقائی دفاعی کارروائیوں کے لیے وہاں تعینات اہلکار محفوظ رہے۔یہ حملہ یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کی تازہ لہر کا حصہ ہے، جس کے دوران سعودی عرب بھر میں فوجی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
