لاہور(کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ، افغان میڈیکل طلبہ و طالبات کو میڈیکل کالجز سے نکالنے کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کیلئے مقرر ، جسٹس خالد اسحاق 16 اکتوبر کو 30 سے زائد افغان طلبہ و طالبات کی درخواستوں پر سماعت کریں گے، عدالت نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کو نکالنے سے روکنے کے حکم امتناعی میں توسیع کر رکھی ہے جبکہ طلبہ کو تعلیمی پراجیکٹس پر کام جاری رکھنے کے حکم میں بھی توسیع کردی گئی ہے، عدالت نے افغان طلبہ کو میڈیکل کالجز سے نکالنے سے متعلق دونوں نوٹیفکیشنز پر عملدرآمد بھی معطل کر رکھا ہے، عدالت نے پی ایم ڈی سی کے وکیل کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دے رکھی ہے، درخواست گزار طلبہ نے مقف اختیار کیا کہ انہوں نے افغان مہاجرین کے کوٹے پر میرٹ کی بنیاد پر میڈیکل کالجز میں داخلے لئے تھے، پی ایم ڈی سی نے انہیں کالجز سے نکالنے کیلئے یکم ستمبر کو حتمی نوٹیفکیشن جاری کیا جس پر میڈیکل کالجز نے افغان طلبہ کو نکال دیا اور انہیں ہاسٹلز سے بھی بے دخل کردیا گیا، درخواست گزاروں کے مطابق حکومتی فیصلے سے طلبہ کا مستقبل متاثر ہوگا، عدالت سے پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشنز کالعدم قرار دینے اور افغان طلبہ کو تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
