پشاور(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سادہ لباس افراد ہماری بیورو کریسی، پولیس، ڈی سیز اور ڈی پی اوز کو ڈرا اور دھمکا رہے ہیں،
باقی صفحہ 4بقیہ نمبر 24
ہماری سنوائی نہیں ہورہی جس پر پرامن احتجاج کرنا ہمارا آئینی و قانونی حق ہے یہ کسی کے باپ کا نہیں ہم سب کا پاکستان ہے۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین چار دنوں سے سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈے ہمارے کارکنوں، تنظیمی عہدے داروں اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، مواصلات و تعمیرات کے وزیر شکیل خان پر قاتلانہ حملہ اور انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی مگر ناکام رہے، کل ہمارے وزیر آبپاشی ریاض خان کے گھر پر بھی سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد پہنچے، ڈی آئی خان اور دیگر اضلاع میں بھی ہمارے کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ یہی سلوک کیا جا رہا ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ مردان میں ایم این اے فضل خان کو اغوا کیا گیا، فخر جہان کے گھر پر بھی نامعلوم افراد نے دھاوا بولا، ہمارے منتخب نمائندے اور وزرا نشانے پر ہیں، اگر صوبائی کابینہ کے وزرا بھی ان غنڈا گردوں سے محفوظ نہیں تو باقی پاکستان کا کیا حال ہوگا؟وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ لوگ عوامی طاقت سے ڈرے ہوئے ہیں، کوئی عقل رکھنے والا شخص اس طرح کے اقدامات نہیں کرتا، خیبر پختونخوا کے صوبائی کابینہ ارکان کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل قبول ہے، کچھ دن پہلے رانا ثنا اللہ کی طرف سے خیبر پختونخوا والوں کو دہشت گرد قرار دینے کے بیانات سامنے آئے، مریم صفدر کا یہ کہنا کہ انہیں بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ پاکستان کے باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے
